Loading...

Loading...
کتب
۱۰۰ احادیث
مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد انہوں نے تنہائی میں عدت گزاری۔ عدت کے دن جب ختم ہو گئے تو ان کے پہلے شوہر نے ہی پھر معقل رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔ معقل کو اس پر بڑی غیرت آئی۔ انہوں نے کہا جب وہ عدت گزار رہی تھی تو اسے اس پر قدرت تھی ( کہ دوران عدت میں رجعت کر لیں لیکن ایسا نہیں کیا ) اور اب میرے پاس نکاح کا پیغام بھیجتا ہے۔ چنانچہ وہ ان کے اور اپنی بہن کے درمیان میں حائل ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن» ”اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں تو تم انہیں مت روکو۔“ آخر آیت تک پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یہ آیت سنائی تو انہوں نے ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔
وحدثني محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، حدثنا الحسن، ان معقل بن يسار، كانت اخته تحت رجل فطلقها، ثم خلى عنها حتى انقضت عدتها، ثم خطبها فحمي معقل من ذلك انفا فقال خلى عنها وهو يقدر عليها، ثم يخطبها فحال بينه وبينها، فانزل الله {واذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فلا تعضلوهن} الى اخر الاية، فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرا عليه، فترك الحمية واستقاد لامر الله
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو اس وقت وہ حائضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ رجعت کر لیں اور انہیں اس وقت تک اپنے ساتھ رکھیں جب تک وہ اس حیض سے پاک ہونے کے بعد پھر دوبارہ حائضہ نہ ہوں۔ اس وقت بھی ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور جب وہ اس حیض سے بھی پاک ہو جائیں تو اگر اس وقت انہیں طلاق دینے کا ارادہ ہو تو طہر میں اس سے پہلے کہ ان سے ہمبستری کریں، طلاق دیں۔ پس یہی وہ وقت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر اس کے ( مطلقہ ثلاثہ کے ) بارے میں سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے سے وہ کہتے کہ اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر تمہاری بیوی تم پر حرام ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمہارے سوا دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔ «غير قتيبة» ( ابوالجہم ) کے اس حدیث میں لیث سے یہ اضافہ کیا ہے کہ ( انہوں نے بیان کیا کہ ) مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دے دی ہو۔ ( تو تم اسے دوبارہ اپنے نکاح میں لا سکتے ہو ) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، ان ابن عمر بن الخطاب رضى الله عنهما طلق امراة له وهى حايض تطليقة واحدة، فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يراجعها، ثم يمسكها حتى تطهر، ثم تحيض عنده حيضة اخرى، ثم يمهلها حتى تطهر من حيضها، فان اراد ان يطلقها فليطلقها حين تطهر من قبل ان يجامعها، فتلك العدة التي امر الله ان تطلق لها النساء. وكان عبد الله اذا سيل عن ذلك قال لاحدهم ان كنت طلقتها ثلاثا فقد حرمت عليك، حتى تنكح زوجا غيره. وزاد فيه غيره عن الليث حدثني نافع قال ابن عمر لو طلقت مرة او مرتين، فان النبي صلى الله عليه وسلم امرني بهذا
ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، کہا مجھ سے یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس وقت وہ حائضہ تھیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر اپنی بیوی سے رجوع کر لیں۔ پھر جب طلاق کا صحیح وقت آئے تو طلاق دیں ( یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ) میں نے پوچھا کہ کیا اس طلاق کا بھی شمار ہوا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر کوئی طلاق دینے والا شرع کے احکام بجا لانے سے عاجز ہو یا احمق بیوقوف ہو ( تو کیا طلاق نہیں پڑے گی؟ ) ۔
حدثنا حجاج، حدثنا يزيد بن ابراهيم، حدثنا محمد بن سيرين، حدثني يونس بن جبير، سالت ابن عمر فقال طلق ابن عمر امراته وهى حايض، فسال عمر النبي صلى الله عليه وسلم فامره ان يراجعها، ثم يطلق من قبل عدتها، قلت فتعتد بتلك التطليقة قال ارايت ان عجز واستحمق
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن حميد بن نافع، عن زينب ابنة ابي سلمة، انها اخبرته هذه الاحاديث الثلاثة، قالت زينب دخلت على ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي ابوها ابو سفيان بن حرب، فدعت ام حبيبة بطيب فيه صفرة خلوق او غيره فدهنت منه جارية، ثم مست بعارضيها، ثم قالت والله ما لي بالطيب من حاجة، غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث ليال، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا۔ ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور ام المؤمنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا۔ اس کے بعد کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے ( کہ اس کا سوگ ) چار مہینے دس دن کا ہے۔
قالت زينب فدخلت على زينب ابنة جحش حين توفي اخوها، فدعت بطيب فمست منه، ثم قالت اما والله ما لي بالطيب من حاجة غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على المنبر " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث ليال الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
قالت زينب وسمعت ام سلمة، تقول جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابنتي توفي عنها زوجها وقد اشتكت عينها افتكحلها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ". مرتين او ثلاثا كل ذلك يقول لا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هي اربعة اشهر وعشر، وقد كانت احداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على راس الحول
حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ”سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی؟“ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ «تفتض به» کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی۔
قال حميد فقلت لزينب وما ترمي بالبعرة على راس الحول فقالت زينب كانت المراة اذا توفي عنها زوجها دخلت حفشا، ولبست شر ثيابها، ولم تمس طيبا حتى تمر بها سنة، ثم توتى بدابة حمار او شاة او طاير فتفتض به، فقلما تفتض بشىء الا مات، ثم تخرج فتعطى بعرة فترمي، ثم تراجع بعد ما شاءت من طيب او غيره. سيل مالك ما تفتض به قال تمسح به جلدها
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے حمید بن نافع نے، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ ( زمانہ عدت میں ) نہ لگاؤ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہیں بدترین کپڑے میں وقت گزارنا پڑتا تھا، یا ( راوی کو شک تھا کہ یہ فرمایا کہ ) بدترین گھر میں وقت ( عدت ) گزارنا پڑتا تھا۔ جب اس طرح ایک سال پورا ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس پر مینگنی پھینکتی ( جب عدت سے باہر آتی ) پس سرمہ نہ لگاؤ۔ یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر جائیں۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا حميد بن نافع، عن زينب ابنة ام سلمة، عن امها، ان امراة، توفي زوجها فخشوا على عينيها فاتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستاذنوه في الكحل فقال " لا تكحل قد كانت احداكن تمكث في شر احلاسها او شر بيتها، فاذا كان حول فمر كلب رمت ببعرة، فلا حتى تمضي اربعة اشهر وعشر
اور میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، وہ ام حبیبہ سے بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ( کی وفات ) کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
وسمعت زينب ابنة ام سلمة، تحدث عن ام حبيبة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة مسلمة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد فوق ثلاثة ايام، الا على زوجها اربعة اشهر وعشرا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بنت علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں منع کیا گیا ہے کہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، حدثنا سلمة بن علقمة، عن محمد بن سيرين، قالت ام عطية نهينا ان نحد اكثر من ثلاث الا بزوج
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگاتے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا ( دھاگا ) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی۔
حدثني عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية، قالت كنا ننهى ان نحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا، ولا نكتحل، ولا نطيب، ولا نلبس ثوبا مصبوغا، الا ثوب عصب، وقد رخص لنا عند الطهر اذا اغتسلت احدانا من محيضها في نبذة من كست اظفار، وكنا ننهى عن اتباع الجنايز
ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے وہ اس کے سوگ میں نہ سرمہ لگائے نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے مگر یمن کا دھاری دار کپڑا ( جو بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو ) ۔
حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن هشام، عن حفصة، عن ام عطية، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد فوق ثلاث، الا على زوج، فانها لا تكتحل ولا تلبس ثوبا مصبوغا الا ثوب عصب
امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ انصاری نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ( کسی میت پر ) خاوند کے سوا تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے اور ( فرمایا کہ ) خوشبو کا استعمال نہ کرے، سوا طہر کے وقت جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود ( قسط ) اور ( مقام ) اظفار ( کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے ) ، ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ «قسط» اور «الكست» ایک ہی چیز ہیں، جیسے ”کافور“ اور ”قافور“ دونوں ایک ہیں۔
وقال الانصاري حدثنا هشام، حدثتنا حفصة، حدثتني ام عطية، نهى النبي صلى الله عليه وسلم " ولا تمس طيبا الا ادنى طهرها اذا طهرت، نبذة من قسط واظفار ". قال ابو عبد الله القسط والكست مثل الكافور والقافور
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شبل بن عباد نے، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے آیت کریمہ «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی، پہلے واجب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ( ان پر لازم ہے کہ ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک ( گھر سے ) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔“ اس باب میں جسے وہ ( بیویاں ) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہری رہے اور اگر چاہے ( چار مہینے دس دن کی عدت ) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم» تک یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ کا یہی منشا ہے۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلے تھی، اب بھی اس پر واجب ہے۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور ( اسی طرح اس آیت نے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج» یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔“ ( کو بھی منسوخ کر دیا ہے ) ۔ عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے ( شوہر کے ) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلا جناح عليكم فيما فعلن» الخ، یعنی ”پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔“ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے ( شوہر کی طرف سے ) مکان کا انتظام نہیں ہو گا۔
حدثني اسحاق بن منصور، اخبرنا روح بن عبادة، حدثنا شبل، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، {والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا} قال كانت هذه العدة تعتد عند اهل زوجها واجبا، فانزل الله {والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا الى الحول غير اخراج فان خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في انفسهن من معروف} قال جعل الله لها تمام السنة سبعة اشهر وعشرين ليلة وصية ان شاءت سكنت في وصيتها، وان شاءت خرجت، وهو قول الله تعالى {غير اخراج فان خرجن فلا جناح عليكم} فالعدة كما هي، واجب عليها، زعم ذلك عن مجاهد. وقال عطاء قال ابن عباس نسخت هذه الاية عدتها عند اهلها، فتعتد حيث شاءت، وقول الله تعالى {غير اخراج}. وقال عطاء ان شاءت اعتدت عند اهلها، وسكنت في وصيتها، وان شاءت خرجت لقول الله {فلا جناح عليكم فيما فعلن}. قال عطاء ثم جاء الميراث فنسخ السكنى، فتعتد حيث شاءت، ولا سكنى لها
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، ان سے حمید بن نافع نے بیان، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
حدثنا محمد بن كثير، عن سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر بن عمرو بن حزم، حدثني حميد بن نافع، عن زينب ابنة ام سلمة، عن ام حبيبة ابنة ابي سفيان، لما جاءها نعي ابيها دعت بطيب، فمسحت ذراعيها وقالت ما لي بالطيب من حاجة. لولا اني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، کاہن کی کمائی اور زانیہ عورت کے زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمایا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب، وحلوان الكاهن، ومهر البغي
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گدوانے والی، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال لعن النبي صلى الله عليه وسلم الواشمة، والمستوشمة، واكل الربا وموكله، ونهى عن ثمن الكلب، وكسب البغي، ولعن المصورين
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں محمد بن جحادہ نے، انہیں ابوحازم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے زنا کی کمائی سے منع فرمایا۔
حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن محمد بن جحادة، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كسب الاماء
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے اور ان سے سعید بن کبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کرے گا؟ لیکن دونوں نے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے اسے جو تم میں سے ایک جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن دونوں نے پھر توبہ سے انکار کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے کہا کہ یہاں حدیث میں ایک چیز اور ہے میں نے تمہیں اسے بیان کرتے نہیں دیکھا۔ وہ یہ ہے کہ ( تہمت لگانے والے ) شوہر نے کہا تھا کہ میرا مال ( مہر ) دلوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تمہارا مال ہی نہیں رہا، اگر تم سچے بھی ہو تو تم اس سے خلوت کر چکے ہوا اور اگر جھوٹے ہو تب تو تم کو بطریق اولیٰ کچھ نہ ملنا چاہیئے۔
حدثنا عمرو بن زرارة، اخبرنا اسماعيل، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عمر رجل قذف امراته فقال فرق نبي الله صلى الله عليه وسلم بين اخوى بني العجلان وقال " الله يعلم ان احدكما كاذب، فهل منكما تايب ". فابيا، فقال " الله يعلم ان احدكما كاذب، فهل منكما تايب ". فابيا، ففرق بينهما. قال ايوب فقال لي عمرو بن دينار في الحديث شىء لا اراك تحدثه قال قال الرجل مالي. قال " لا مال لك، ان كنت صادقا فقد دخلت بها، وان كنت كاذبا فهو ابعد منك
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ کے یہاں ہو گا۔ تم میں سے ایک تو یقیناً جھوٹا ہے۔ تمہارے یعنی ( شوہر کے ) لیے اسے ( بیوی کو ) حاصل کرنے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔ شوہر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں رہا۔ اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تھا تو وہ اس کے بدلہ میں ہے کہ تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کی تھی اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تب تو اور زیادہ تجھ کو کچھ نہ ملنا چاہیئے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال للمتلاعنين " حسابكما على الله، احدكما كاذب، لا سبيل لك عليها ". قال يا رسول الله مالي. قال " لا مال لك، ان كنت صدقت عليها، فهو بما استحللت من فرجها، وان كنت كذبت عليها، فذاك ابعد وابعد لك منها