Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، قال قال ابو هريرة ياثر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والظن، فان الظن اكذب الحديث، ولا تجسسوا، ولا تحسسوا، ولا تباغضوا، وكونوا اخوانا ". ولا يخطب الرجل على خطبة اخيه حتى ينكح او يترك
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، قال قال ابو هريرة ياثر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والظن، فان الظن اكذب الحديث، ولا تجسسوا، ولا تحسسوا، ولا تباغضوا، وكونوا اخوانا ". ولا يخطب الرجل على خطبة اخيه حتى ينكح او يترك
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زھری نے، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، انه سمع عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يحدث ان عمر بن الخطاب حين تايمت حفصة قال عمر لقيت ابا بكر فقلت ان شيت انكحتك حفصة بنت عمر. فلبثت ليالي ثم خطبها رسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيني ابو بكر فقال انه لم يمنعني ان ارجع اليك فيما عرضت الا اني قد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد ذكرها فلم اكن لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو تركها لقبلتها. تابعه يونس وموسى بن عقبة وابن ابي عتيق عن الزهري
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے، وہ مسلمان ہو گئے اور خطبہ دیا، نہایت فصیح و بلیغ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن زيد بن اسلم، قال سمعت ابن عمر، يقول جاء رجلان من المشرق فخطبا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان من البيان لسحر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، کہ ربیع بنت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں۔ اتنے میں، ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتے ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا خالد بن ذكوان، قال قالت الربيع بنت معوذ ابن عفراء. جاء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل حين بني على، فجلس على فراشي كمجلسك مني، فجعلت جويريات لنا يضربن بالدف ويندبن من قتل من ابايي يوم بدر، اذ قالت احداهن وفينا نبي يعلم ما في غد. فقال " دعي هذه، وقولي بالذي كنت تقولين
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر ( سونے کے مہر پر ) نکاح کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر نکاح کیا ہے اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، ان عبد الرحمن بن عوف، تزوج امراة على وزن نواة، فراى النبي صلى الله عليه وسلم بشاشة العرس فساله فقال اني تزوجت امراة على وزن نواة. وعن قتادة عن انس ان عبد الرحمن بن عوف تزوج امراة على وزن نواة من ذهب
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا میں نے ابوحازم سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس میں ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں آپ اب جو چاہیں کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے آپ جو چاہیں کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا، آپ جو چاہیں کریں۔ اس کے بعد ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ایک لوہے کی انگوٹھی بھی اگر مل جائے لے آؤ۔ وہ گئے اور تلاش کیا، پھر واپس آ کر عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں پایا، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ قرآن ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ میرے پاس فلاں فلاں سورتیں ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن پر کیا جو تم کو یاد ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، سمعت ابا حازم، يقول سمعت سهل بن سعد الساعدي، يقول اني لفي القوم عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ قامت امراة فقالت يا رسول الله انها قد وهبت نفسها لك فر فيها رايك فلم يجبها شييا ثم قامت فقالت يا رسول الله انها قد وهبت نفسها لك فر فيها رايك فلم يجبها شييا ثم قامت الثالثة فقالت انها قد وهبت نفسها لك فر فيها رايك فقام رجل فقال يا رسول الله انكحنيها. قال " هل عندك من شىء ". قال لا. قال " اذهب فاطلب ولو خاتما من حديد ". فذهب فطلب ثم جاء فقال ما وجدت شييا ولا خاتما من حديد. فقال " هل معك من القران شىء ". قال معي سورة كذا وسورة كذا. قال " اذهب فقد انكحتكها بما معك من القران
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے ان سے ابوحازم نے اور ان سے صحابی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا کہ نکاح کر، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی پر ہی ہو۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل " تزوج ولو بخاتم من حديد
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر اور ان سے عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام شرطوں میں وہ شرطیں سب سے زیادہ پوری کی جانے کے لائق ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔ یعنی نکاح کی شرطیں ضرور پوری کرنی ہوں گی۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك حدثنا ليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احق ما اوفيتم من الشروط ان توفوا به ما استحللتم به الفروج
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ان سے زکریا نے جو ابوزائدہ کے صاحبزادے ہیں، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنی کسی ( سوکن ) بہن کی طلاق کی شرط اس لیے لگائے تاکہ اس کے حصہ کا پیالہ بھی خود انڈیل لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں ہو گا۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن زكرياء هو ابن ابي زايدة عن سعد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تسال طلاق اختها لتستفرغ صحفتها، فانما لها ما قدر لها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان کو مالک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس بن مالک نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انصارکی ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسے مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، رضى الله عنه ان عبد، الرحمن بن عوف جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وبه اثر صفرة فساله رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره انه تزوج امراة من الانصار قال " كم سقت اليها ". قال زنة نواة من ذهب. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اولم ولو بشاة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ ( کھانے سے فراغت کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، جیسا کہ نکاح کے بعد آپ کا دستور تھا۔ پھر آپ امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور انہوں نے آپ کے لیے دعا کی۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو دو صحابہ کو دیکھا ( کہ ابھی بیٹھے ہوئے تھے ) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لے گئے۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا کسی اور نے خبر دی کہ وہ دونوں صحابی بھی چلے گئے ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حميد، عن انس، قال اولم النبي صلى الله عليه وسلم بزينب فاوسع المسلمين خيرا فخرج كما يصنع اذا تزوج فاتى حجر امهات المومنين يدعو ويدعون {له} ثم انصرف فراى رجلين فرجع لا ادري اخبرته او اخبر بخروجهما
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد هو ابن زيد عن ثابت، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم راى على عبد الرحمن بن عوف اثر صفرة قال " ما هذا ". قال اني تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب. قال " بارك الله لك، اولم ولو بشاة
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ ( ام رومان بنت عامر ) میرے پاس آئیں اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں۔ گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں۔ انہوں نے ( مجھ کو اور میری ماں کو ) یوں دعا دی «بارك وبارك الله» ”اللہ کرے تم اچھی ہو تمہارا نصیبہ اچھا ہو۔“
حدثنا فروة، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم فاتتني امي فادخلتني الدار، فاذا نسوة من الانصار في البيت فقلن على الخير والبركة، وعلى خير طاير
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، ان سے معمر بن راشد نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ انبیاء میں سے ایک نبی ( یوشع علیہ السلام یا داؤد علیہ السلام ) نے غزوہ کیا اور ( غزوہ سے پہلے ) اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ چلے جس نے کسی نئی عورت سے شادی کی ہو اور اس کے ساتھ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی صحبت نہ کی ہو۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن المبارك، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " غزا نبي من الانبياء فقال لقومه لا يتبعني رجل ملك بضع امراة وهو يريد ان يبني بها ولم يبن بها
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عروہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال کی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں۔
حدثنا قبيصة بن عقبة، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن عروة، تزوج النبي صلى الله عليه وسلم عايشة وهى ابنة ست وبنى بها وهى ابنة تسع ومكثت عنده تسعا
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( راستہ میں ) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ( کہا کہ ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے ( کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔)
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، قال اقام النبي صلى الله عليه وسلم بين خيبر والمدينة ثلاثا يبنى عليه بصفية بنت حيى فدعوت المسلمين الى وليمته، فما كان فيها من خبز ولا لحم، امر بالانطاع فالقي فيها من التمر والاقط والسمن فكانت وليمته، فقال المسلمون احدى امهات المومنين او مما ملكت يمينه فقالوا ان حجبها فهى من امهات المومنين، وان لم يحجبها فهى مما ملكت يمينه فلما ارتحل وطى لها خلفه ومد الحجاب بينها وبين الناس
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انس سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔
حدثني فروة بن ابي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم فاتتني امي فادخلتني الدار، فلم يرعني الا رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( جب انہوں نے شادی کی ) فرمایا تم نے جھالر دار چادریں بھی لی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس جھالر دار چادریں کہاں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلد ہی میسر ہو جائیں گی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، حدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل اتخذتم انماطا ". قلت يا رسول الله وانى لنا انماط. قال " انها ستكون
ہم سے فضیل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہارے پاس لہو ( دف بجانے والا ) نہیں تھا، انصار کو دف پسند ہے۔
حدثنا الفضل بن يعقوب، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا اسراييل، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها زفت امراة الى رجل من الانصار فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " يا عايشة ما كان معكم لهو فان الانصار يعجبهم اللهو