Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
اور ابراہیم بن طہمان نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں ( جو بصرہ میں ہے ) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) ۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا، میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا۔ لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا ( برکت کی دعا فرمائی ) ۔ پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ ( رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے ) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا ( اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور ( زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ) آئے۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ”مسلمانو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے تم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جاؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو۔ باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہا کرو، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی، اس کو تم سے شرم آتی تھی ( کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا۔“ ابوعثمان ( جعدی بن دینار ) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔
وقال ابراهيم عن ابي عثمان واسمه الجعد عن انس بن مالك، قال مر بنا في مسجد بني رفاعة فسمعته يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا مر بجنبات ام سليم دخل عليها فسلم عليها، ثم قال كان النبي صلى الله عليه وسلم عروسا بزينب فقالت لي ام سليم لو اهدينا لرسول الله صلى الله عليه وسلم هدية فقلت لها افعلي. فعمدت الى تمر وسمن واقط، فاتخذت حيسة في برمة، فارسلت بها معي اليه، فانطلقت بها اليه فقال لي " ضعها ". ثم امرني فقال " ادع لي رجالا سماهم وادع لي من لقيت ". قال ففعلت الذي امرني فرجعت فاذا البيت غاص باهله، فرايت النبي صلى الله عليه وسلم وضع يديه على تلك الحيسة، وتكلم بها ما شاء الله، ثم جعل يدعو عشرة عشرة، ياكلون منه، ويقول لهم " اذكروا اسم الله، ولياكل كل رجل مما يليه ". قال حتى تصدعوا كلهم عنها، فخرج منهم من خرج، وبقي نفر يتحدثون قال وجعلت اغتم، ثم خرج النبي صلى الله عليه وسلم نحو الحجرات، وخرجت في اثره فقلت انهم قد ذهبوا. فرجع فدخل البيت، وارخى الستر، واني لفي الحجرة، وهو يقول {يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي الا ان يوذن لكم الى طعام غير ناظرين اناه ولكن اذا دعيتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسين لحديث ان ذلكم كان يوذي النبي فيستحيي منكم والله لا يستحيي من الحق}. قال ابو عثمان قال انس انه خدم رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين
مجھ سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے ( اپنی بہن ) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ لے لیا تھا، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا ( اور پانی نہیں تھا ) اس لیے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے۔ واللہ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآں یہ کہ مسلمانوں کے لیے برکت اور بھلائی ہوئی۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها انها استعارت من اسماء قلادة، فهلكت، فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناسا من اصحابه في طلبها، فادركتهم الصلاة فصلوا بغير وضوء، فلما اتوا النبي صلى الله عليه وسلم شكوا ذلك اليه، فنزلت اية التيمم. فقال اسيد بن حضير جزاك الله خيرا، فوالله ما نزل بك امر قط، الا جعل لك منه مخرجا، وجعل للمسلمين فيه بركة
ہم سے سعد بن حفص طلحی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لیے جب آئے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو ( اولاد ) ہمیں تو عطا کرے۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لیے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اما لو ان احدهم يقول حين ياتي اهله باسم الله، اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا، ثم قدر بينهما في ذلك، او قضي ولد، لم يضره شيطان ابدا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لائے تھے، آپ ان کے دولہا بنے تھے۔ پھر آپ نے لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ( کھانے کے بعد بھی ) دیر تک وہیں بیٹھے ( باتیں کرتے رہے ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ اس لیے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا۔ جب آپ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثني الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني انس بن مالك رضى الله عنه انه كان ابن عشر سنين مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، فكان امهاتي يواظبنني على خدمة النبي صلى الله عليه وسلم فخدمته عشر سنين، وتوفي النبي صلى الله عليه وسلم وانا ابن عشرين سنة، فكنت اعلم الناس بشان الحجاب حين انزل، وكان اول ما انزل في مبتنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بزينب ابنة جحش، اصبح النبي صلى الله عليه وسلم بها عروسا، فدعا القوم فاصابوا من الطعام، ثم خرجوا وبقي رهط منهم عند النبي صلى الله عليه وسلم فاطالوا المكث، فقام النبي صلى الله عليه وسلم فخرج وخرجت معه لكى يخرجوا، فمشى النبي صلى الله عليه وسلم ومشيت، حتى جاء عتبة حجرة عايشة، ثم ظن انهم خرجوا فرجع ورجعت معه، حتى اذا دخل على زينب فاذا هم جلوس لم يقوموا، فرجع النبي صلى الله عليه وسلم ورجعت معه، حتى اذا بلغ عتبة حجرة عايشة، وظن انهم خرجوا، فرجع ورجعت معه فاذا هم قد خرجوا فضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيني وبينه بالستر، وانزل الحجاب
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو آپ کے لیے چھوڑ دوں گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال حدثني حميد، انه سمع انسا رضى الله عنه قال سال النبي صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن بن عوف وتزوج امراة من الانصار " كم اصدقتها ". قال وزن نواة من ذهب. وعن حميد سمعت انسا قال لما قدموا المدينة نزل المهاجرون على الانصار فنزل عبد الرحمن بن عوف على سعد بن الربيع فقال اقاسمك مالي وانزل لك عن احدى امراتى. قال بارك الله لك في اهلك ��مالك. فخرج الى السوق فباع واشترى فاصاب شييا من اقط وسمن فتزوج فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اولم ولو بشاة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا جیسا ولیمہ اپنی بیویوں میں سے کسی کا نہیں کیا، ان کا ولیمہ آپ نے ایک بکری کا کیا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، قال ما اولم النبي صلى الله عليه وسلم على شىء من نسايه، ما اولم على زينب اولم بشاة
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے شعیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔
حدثنا مسدد، عن عبد الوارث، عن شعيب، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتق صفية، وتزوجها وجعل عتقها صداقها، واولم عليها بحيس
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھانے کے لیے بلایا۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا زهير، عن بيان، قال سمعت انسا، يقول بنى النبي صلى الله عليه وسلم بامراة فارسلني فدعوت رجالا الى الطعام
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ثابت بنانی نے، کہ انس رضی اللہ عنہ کے سامنے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جیسا اپنی بیویوں میں سے کسی کے لیے ولیمہ کرتے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ولیمہ ایک بکری سے کیا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، قال ذكر تزويج زينب ابنة جحش عند انس فقال ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم اولم على احد من نسايه ما اولم عليها اولم بشاة
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا ولیمہ دو مد ( تقریباً پونے دو سیر ) جَو سے کیا تھا۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن منصور ابن صفية، عن امه، صفية بنت شيبة قالت اولم النبي صلى الله عليه وسلم على بعض نسايه بمدين من شعير
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر بلایا جائے تو اسے آنا چاہئے۔ معلوم ہوا کہ دعوت ولیمہ کا قبول کرنا ضروری ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعي احدكم الى الوليمة فلياتها
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے یبان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیدی کو چھڑاؤ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو اور بیمار کی عیادت کرو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني منصور، عن ابي وايل، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فكوا العاني، واجيبوا الداعي، وعودوا المريض
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید نے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے منع فرمایا۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے ( یرحمک اللہ یعنی اللہ تم پر رحم کرے کہنا ) قسم کو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، سب کو سلام کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا تھا اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن استعمال کرنے، ریشمی گدے، قسیہ ( ریشمی کپڑا ) استبرق ( موٹے ریشم کا کپڑا ) اور دیباج ( ایک ریشمی کپڑا ) کے استعمال سے منع فرمایا تھا۔ ابوعوانہ اور شیبانی نے اشعث کی روایت سے لفظ «إفشاء السلام.» میں ابوالاحوص کی متابعت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن الربيع، حدثنا ابو الاحوص، عن الاشعث، عن معاوية بن سويد، قال البراء بن عازب رضى الله عنهما امرنا النبي صلى الله عليه وسلم بسبع، ونهانا عن سبع، امرنا بعيادة المريض، واتباع الجنازة، وتشميت العاطس، وابرار القسم، ونصر المظلوم، وافشاء السلام، واجابة الداعي، ونهانا عن خواتيم الذهب، وعن انية الفضة، وعن المياثر، والقسية، والاستبرق والديباج. تابعه ابو عوانة والشيباني عن اشعث في افشاء السلام
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب ضروری جو کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں ( صبح کو ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی پلایا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال دعا ابو اسيد الساعدي رسول الله صلى الله عليه وسلم في عرسه، وكانت امراته يوميذ خادمهم وهى العروس، قال سهل تدرون ما سقت رسول الله صلى الله عليه وسلم انقعت له تمرات من الليل، فلما اكل سقته اياه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة، رضى الله عنه انه كان يقول شر الطعام طعام الوليمة يدعى لها الاغنياء، ويترك الفقراء، ومن ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کے کھر کی دعوت دی جائے تو میں اسے بھی قبول کروں گا اور اگر مجھے وہ کھر بھی ہدیہ میں دیئے جائیں تو میں اسے قبول کروں گا۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو دعيت الى كراع لاجبت، ولو اهدي الى ذراع لقبلت
ہم سے علی بن عبداللہ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ولیمہ کی جب تمہیں دعوت دی جائے تو قبول کرو۔ بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگر روزے سے ہوتے جب بھی ولیمہ کی دعوت یا کسی دوسری دعوت میں شرکت کرتے تھے۔
حدثنا علي بن عبد الله بن ابراهيم، حدثنا الحجاج بن محمد، قال قال ابن جريج اخبرني موسى بن عقبة، عن نافع، قال سمعت عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجيبوا هذه الدعوة اذا دعيتم لها ". قال كان عبد الله ياتي الدعوة في العرس وغير العرس وهو صايم
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو کسی شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے مارے جلدی سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یا اللہ! ( تو گواہ رہ ) تم لوگ سب لوگوں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہو۔
حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال ابصر النبي صلى الله عليه وسلم نساء وصبيانا مقبلين من عرس، فقام ممتنا فقال " اللهم انتم من احب الناس الى
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ لیے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا یہاں کیسے آیا؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کے ( بنانے والوں کو ) قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویر سازی کی ہے اسے زندہ بھی کرو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں ان میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں آتے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها اخبرته انها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما راها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب فلم يدخل، فعرفت في وجهه الكراهية فقلت يا رسول الله اتوب الى الله والى رسوله، ماذا اذنبت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بال هذه النمرقة ". قالت فقلت اشتريتها لك لتقعد عليها وتوسدها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم احيوا ما خلقتم ". وقال " ان البيت الذي فيه الصور لا تدخله الملايكة
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دعوت دی، اس موقعہ پر کھانا ان کی دلہن ام اسید ہی نے تیار کیا تھا اور انہوں نے ہی مردوں کے سامنے کھانا رکھا۔ انہوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دی تھی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہی اس کا شربت بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( تحفہ کے طور پر ) پینے کے لیے پیش کیا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل، قال لما عرس ابو اسيد الساعدي دعا النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه، فما صنع لهم طعاما ولا قربه اليهم الا امراته ام اسيد، بلت تمرات في تور من حجارة من الليل، فلما فرغ النبي صلى الله عليه وسلم من الطعام اماثته له فسقته، تتحفه بذلك