Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
مجھ سے یعقوب نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان کے دادا سے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا بدر کی لڑائی کے موقع پر میں صف میں کھڑا ہوا تھا۔ میں نے مڑ کے دیکھا تو میری داہنی اور بائیں طرف دو نوجوان کھڑے تھے۔ ابھی میں ان کے متعلق کوئی فیصلہ بھی نہ کر پایا تھا کہ ایک نے مجھ سے چپکے سے پوچھا تاکہ اس کا ساتھی سننے نہ پائے۔ چچا! مجھے ابوجہل کو دکھا دو۔ میں نے کہا بھتیجے! تم اسے دیکھ کر کیا کرو گے؟ اس نے کہا، میں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عہد کیا ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو یا اسے قتل کر کے رہوں گا یا پھر خود اپنی جان دے دوں گا۔ دوسرے نوجوان نے بھی اپنے ساتھی سے چھپاتے ہوئے مجھ سے یہی بات پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان دونوں نوجوانوں کے درمیان میں کھڑے ہو کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اشارے سے انہیں ابوجہل دکھا دیا۔ جسے دیکھتے ہی وہ دونوں باز کی طرح اس پر جھپٹے اور فوراً ہی اسے مار گرایا۔ یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔
حدثني يعقوب، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن جده، قال قال عبد الرحمن بن عوف اني لفي الصف يوم بدر اذ التفت، فاذا عن يميني وعن يساري فتيان حديثا السن، فكاني لم امن بمكانهما، اذ قال لي احدهما سرا من صاحبه يا عم ارني ابا جهل. فقلت يا ابن اخي، وما تصنع به قال عاهدت الله ان رايته ان اقتله او اموت دونه. فقال لي الاخر سرا من صاحبه مثله قال فما سرني اني بين رجلين مكانهما، فاشرت لهما اليه، فشدا عليه مثل الصقرين حتى ضرباه، وهما ابنا عفراء
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمر بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں شامل تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس جاسوس بھیجے اور ان کا امیر عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا جو عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا ہوتے ہیں۔ جب یہ لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان مقام ہدہ پر پہنچے تو بنی ہذیل کے ایک قبیلہ کو ان کے آنے کی اطلاع مل گئی۔ اس قبیلہ کا نام بنی لحیان تھا۔ اس کے سو تیرانداز ان صحابہ رضی اللہ عنہم کی تلاش میں نکلے اور ان کے نشان قدم کے اندازے پر چلنے لگے۔ آخر اس جگہ پہنچ گئے جہاں بیٹھ کر ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے کھجور کھائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ یثرب ( مدینہ ) کی کھجور ( کی گٹھلیاں ) ہیں۔ اب پھر وہ ان کے نشان قدم کے اندازے پر چلنے لگے۔ جب عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ان کے آنے کو معلوم کر لیا تو ایک ( محفوظ ) جگہ پناہ لی۔ قبیلہ والوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور کہا کہ نیچے اتر آؤ اور ہماری پناہ خود قبول کر لو تو تم سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے کسی آدمی کو بھی ہم قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا۔ مسلمانو! میں کسی کافر کی پناہ میں نہیں اتر سکتا۔ پھر انہوں نے دعا کی، اے اللہ! ہمارے حالات کی خبر اپنے نبی کو کر دے آخر قبیلہ والوں نے مسلمانوں پر تیر اندازی کی اور عاصم رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ بعد میں ان کے وعدہ پر تین صحابہ اتر آئے۔ یہ حضرات خبیب، زید بن دثنہ اور ایک تیسرے صحابی تھے۔ قبیلہ والوں نے جب ان تینوں صحابیوں پر قابو پا لیا تو ان کی کمان سے تانت نکال کر اسی سے انہیں باندھ دیا۔ تیسرے صحابی نے کہا، یہ تمہاری پہلی دغا بازی ہے میں تمہارے ساتھ کبھی نہیں جا سکتا۔ میرے لیے تو انہیں کی زندگی نمونہ ہے۔ آپ کا اشارہ ان صحابہ کی طرف تھا جو ابھی شہید کئے جا چکے تھے۔ کفار نے انہیں گھسیٹنا شروع کیا اور زبردستی کی لیکن وہ کسی طرح ان کے ساتھ جانے پر تیار نہ ہوئے۔ ( تو انہوں نے ان کو بھی شہید کر دیا ) اور خبیب رضی اللہ عنہ اور زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے گئے اور ( مکہ میں لے جا کر ) انہیں بیچ دیا۔ یہ بدر کی لڑائی کے بعد کا واقعہ ہے۔ حارث بن عامر بن نوفل کے لڑکوں نے خبیب رضی اللہ کو خرید لیا۔ انہوں ہی نے بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ کچھ دنوں تک تو وہ ان کے یہاں قید رہے آخر انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ انہیں دنوں حارث کی کسی لڑکی سے انہوں نے زیر ناف بال صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا۔ اس نے دے دیا۔ اس وقت اس کا ایک چھوٹا سا بچہ ان کے پاس ( کھیلتا ہوا ) اس عورت کی بےخبری میں چلا گیا۔ پھر جب وہ ان کی طرف آئی تو دیکھا کہ بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے۔ اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے انہوں نے بیان کیا کہ یہ دیکھتے ہی وہ اس درجہ گھبرا گئی کہ خبیب رضی اللہ عنہ نے اس کی گھبراہٹ کو دیکھ لیا اور بولے، کیا تمہیں اس کا خوف ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ یقین رکھو کہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ ان خاتون نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی قیدی خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن انگور کے ایک خوشہ سے انہیں انگور کھاتے دیکھا جو ان کے ہاتھ میں تھا حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں اس وقت کوئی پھل بھی نہیں تھا۔ وہ بیان کرتی تھیں کہ وہ تو اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی روزی تھی جو اس نے خبیب رضی اللہ عنہ کے لیے بھیجی تھی۔ پھر بنو حارثہ انہیں قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے جانے لگے تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دے دو۔ انہوں نے اس کی اجازت دی تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تمہیں یہ خیال نہ ہونے لگتا کہ مجھے گھبراہٹ ہے ( موت سے ) تو اور زیادہ دیر تک پڑھتا۔ پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ ہلاک کر اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ اور یہ اشعار پڑھے ”جب میں اسلام پر قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر پچھاڑا جائے گا اور یہ تو صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو میرے جسم کے ایک ایک جوڑ پر ثواب عطا فرمائے گا۔“ اس کے بعد ابوسروعہ عقبہ بن حارث ان کی طرف بڑھا اور اس نے انہیں شہید کر دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل حسن سے ہر اس مسلمان کے لیے جسے قید کر کے قتل کیا جائے ( قتل سے پہلے دو رکعت ) نماز کی سنت قائم کی ہے۔ ادھر جس دن ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبت آئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اسی دن اس کی خبر دے دی تھی۔ قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے ہیں تو ان کے پاس اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی ایسا حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے۔ کیونکہ انہوں نے بھی ( بدر میں ) ان کے ایک سردار ( عقبہ بن ابی معیط ) کو قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی لاش پر بادل کی طرح بھڑوں کی ایک فوج بھیج دی اور انہوں نے آپ کی لاش کو کفار قریش کے ان آدمیوں سے بچا لیا اور وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ بھی نہ کاٹ سکے اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے سامنے لوگوں نے مرارہ بن ربیع عمری رضی اللہ عنہ اور ہلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ ( جو غزوہ تبوک میں نہیں جا سکے تھے ) کہ وہ صالح صحابیوں میں سے ہیں اور بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ذکر کیا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما جو بدری صحابی تھے، بیمار ہیں۔ دن چڑھ چکا تھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما سوار ہو کر ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اتنے میں جمعہ کا وقت قریب ہو گیا اور وہ جمعہ کی نماز ( مجبوراً ) نہ پڑھ سکے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ليث، عن يحيى، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما ذكر له ان سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل وكان بدريا مرض في يوم جمعة فركب اليه بعد ان تعالى النهار واقتربت الجمعة، وترك الجمعة
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے ان کے واقعہ کے متعلق پوچھو کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تھا تو آپ نے ان کو کیا جواب دیا تھا؟ چنانچہ انہوں نے میرے والد کو اس کے جواب میں لکھا کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ ان کا تعلق بنی عامر بن لوئی سے تھا اور وہ بدر کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ پھر حجۃ الوداع کے موقع پر ان کی وفات ہو گئی تھی اور اس وقت وہ حمل سے تھیں۔ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما کی وفات کے کچھ ہی دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ نفاس کے دن جب وہ گزار چکیں تو نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے انہوں نے اچھے کپڑے پہنے۔ اس وقت بنو عبدالدار کے ایک صحابی ابوالسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے یہاں گئے اور ان سے کہا، میرا خیال ہے کہ تم نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے یہ زینت کی ہے۔ کیا نکاح کرنے کا خیال ہے؟ لیکن اللہ کی قسم! جب تک ( سعد رضی اللہ عنہ کی وفات پر ) چار مہینے اور دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح کے قابل نہیں ہو سکتیں۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ابوالسنابل نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں نے شام ہوتے ہی کپڑے پہنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ معلوم کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں بچہ پیدا ہونے کے بعد عدت سے نکل چکی ہوں اور اگر میں چاہوں تو نکاح کر سکتی ہوں۔ اس روایت کی متابعت اصبغ نے ابن وہب سے کی ہے، ان سے یونس نے بیان کیا اور لیث نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ( انہوں نے بیان کیا کہ ) ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے بنو عامر بن لوئی کے غلام محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان نے خبر دی کہ محمد بن ایاس بن بکیر نے انہیں خبر دی اور ان کے والد ایاس بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔
وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان اباه، كتب الى عمر بن عبد الله بن الارقم الزهري، يامره ان يدخل، على سبيعة بنت الحارث الاسلمية، فيسالها عن حديثها وعن ما قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم حين استفتته، فكتب عمر بن عبد الله بن الارقم الى عبد الله بن عتبة يخبره ان سبيعة بنت الحارث اخبرته انها كانت تحت سعد ابن خولة، وهو من بني عامر بن لوى، وكان ممن شهد بدرا، فتوفي عنها في حجة الوداع وهى حامل، فلم تنشب ان وضعت حملها بعد وفاته، فلما تعلت من نفاسها تجملت للخطاب، فدخل عليها ابو السنابل بن بعكك رجل من بني عبد الدار فقال لها ما لي اراك تجملت للخطاب ترجين النكاح فانك والله ما انت بناكح حتى تمر عليك اربعة اشهر وعشر. قالت سبيعة فلما قال لي ذلك جمعت على ثيابي حين امسيت، واتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته عن ذلك، فافتاني باني قد حللت حين وضعت حملي، وامرني بالتزوج ان بدا لي. تابعه اصبغ عن ابن وهب عن يونس. وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، وسالناه، فقال اخبرني محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، مولى بني عامر بن لوى ان محمد بن اياس بن البكير، وكان، ابوه شهد بدرا اخبره
مجھ سے اسحاق بن ابرہیم نے بیان کیا، ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی نے اپنے والد (رفاعہ بن رافع) سے، جو بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے انہوں نے پوچھا کہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں کا آپ کے یہاں درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سب سے افضل یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ جو فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ان کا بھی درجہ یہی ہے۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا جرير، عن يحيى بن سعيد، عن معاذ بن رفاعة بن رافع الزرقي، عن ابيه وكان ابوه من اهل بدر قال جاء جبريل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما تعدون اهل بدر فيكم قال من افضل المسلمين او كلمة نحوها قال وكذلك من شهد بدرا من الملايكة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے معاذ بن رفاعہ بن رافع نے کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے اور ( ان کے والد ) رافع رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے تو آپ اپنے بیٹے ( رفاعہ ) سے کہا کرتے تھے کہ بیعت عقبہ کے برابر بدر کی شرکت سے مجھے زیادہ خوشی نہیں ہے۔ بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن يحيى، عن معاذ بن رفاعة بن رافع،، وكان، رفاعة من اهل بدر، وكان رافع من اهل العقبة، فكان يقول لابنه ما يسرني اني شهدت بدرا بالعقبة قال سال جبريل النبي صلى الله عليه وسلم. بهذا
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی اور انہوں نے معاذ بن رفاعہ سے سنا کہ ایک فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ یزید بن ہاد نے انہیں خبر دی کہ جس دن معاذ بن رفاعہ نے ان سے یہ حدیث بیان کی تھی تو وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ یزید نے بیان کیا کہ معاذ نے کہا تھا کہ پوچھنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا يزيد، اخبرنا يحيى، سمع معاذ بن رفاعة، ان ملكا، سال النبي صلى الله عليه وسلم. وعن يحيى، ان يزيد بن الهاد اخبره انه كان معه يوم حدثه معاذ هذا الحديث، فقال يزيد فقال معاذ ان السايل هو جبريل عليه السلام
مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور ہتھیار لگائے ہوئے۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم بدر " هذا جبريل اخذ براس فرسه عليه اداة الحرب
مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوزید رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور انہوں نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی، وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔
حدثني خليفة، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه قال مات ابو زيد ولم يترك عقبا، وكان بدريا
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا ان سے قاسم بن محمد نے، ان سے عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ نے کہ ابوسعید بن مالک خدری رضی اللہ عنہ سفر سے واپس آئے تو ان کے گھر والے قربانی کا گوشت ان کے سامنے لائے، انہوں نے کہا کہ میں اسے اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لوں۔ چنانچہ وہ اپنی والدہ کی طرف سے اپنے ایک بھائی کے پاس معلوم کرنے گئے۔ وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں سے تھے یعنی قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں وہ حکم منسوخ کر دیا گیا تھا جس میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کی گئی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن ابن خباب، ان ابا سعيد بن مالك الخدري رضى الله عنه قدم من سفر، فقدم اليه اهله لحما من لحوم الاضحى فقال ما انا باكله حتى اسال، فانطلق الى اخيه لامه وكان بدريا قتادة بن النعمان فساله، فقال انه حدث بعدك امر نقض لما كانوا ينهون عنه من اكل لحوم الاضحى بعد ثلاثة ايام
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں میری مڈبھیڑ عبیدہ بن سعید بن عاص سے ہو گئی۔ اس کا سارا جسم لوہے میں غرق تھا اور صرف آنکھ دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی کنیت ابوذات الکرش تھی۔ کہنے لگا کہ میں ابوذات الکرش ہوں۔ میں نے چھوٹے برچھے سے اس پر حملہ کیا اور اس کی آنکھ ہی کو نشانہ بنایا۔ چنانچہ اس زخم سے وہ مر گیا۔ ہشام نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اپنا پاؤں اس کے اوپر رکھ کر پورا زور لگایا اور بڑی دشواری سے وہ برچھا اس کی آنکھ سے نکال سکا۔ اس کے دونوں کنارے مڑ گئے تھے۔ عروہ نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کا وہ برچھا طلب فرمایا تو انہوں نے وہ پیش کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انہوں نے اسے واپس لے لیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا۔ انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہوں نے اسے لے لیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس اور اس کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے لے لیا اور ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ وہ شہید کر دیئے گئے۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال قال الزبير لقيت يوم بدر عبيدة بن سعيد بن العاص وهو مدجج لا يرى منه الا عيناه، وهو يكنى ابو ذات الكرش، فقال انا ابو ذات الكرش. فحملت عليه بالعنزة، فطعنته في عينه فمات. قال هشام فاخبرت ان الزبير قال لقد وضعت رجلي عليه ثم تمطات، فكان الجهد ان نزعتها وقد انثنى طرفاها. قال عروة فساله اياها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاه، فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها، ثم طلبها ابو بكر فاعطاه، فلما قبض ابو بكر سالها اياه عمر فاعطاه اياها، فلما قبض عمر اخذها، ثم طلبها عثمان منه فاعطاه اياها، فلما قتل عثمان وقعت عند ال علي، فطلبها عبد الله بن الزبير، فكانت عنده حتى قتل
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے، وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھ سے بیعت کرو۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو ادريس، عايذ الله بن عبد الله ان عبادة بن الصامت، وكان، شهد بدرا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بايعوني
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، انہیں ابن شہاب زہری نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں تھے، نے سالم رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ سے شادی کرا دی تھی۔ سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون کے غلام تھے۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسی کی طرف اسے منسوب کر کے پکارتے اور منہ بولا بیٹا اس کی میراث کا بھی وارث ہوتا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ادعوهم لآبائهم» ”انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو۔“ تو سہلہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ پھر تفصیل سے راوی نے حدیث بیان کی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان ابا حذيفة وكان ممن شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم تبنى سالما، وانكحه بنت اخيه هند بنت الوليد بن عتبة وهو مولى لامراة من الانصار كما تبنى رسول الله صلى الله عليه وسلم زيدا، وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس اليه، وورث من ميراثه حتى انزل الله تعالى {ادعوهم لابايهم} فجاءت سهلة النبي صلى الله عليه وسلم، فذكر الحديث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے، ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جس رات میری شادی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی صبح کو میرے یہاں تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے، جیسے اب تم یہاں میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ چند بچیاں دف بجا رہی تھیں اور وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جن میں ان کے ان خاندان والوں کا ذکر تھا جو بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے۔ انہیں میں ایک لڑکی نے یہ مصرع بھی پڑھا کہ ہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو کل ہونے والی بات کو جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ پڑھو، بلکہ جو پہلے پڑھ رہی تھیں وہی پڑھو۔
حدثنا علي، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا خالد بن ذكوان، عن الربيع بنت معوذ، قالت دخل على النبي صلى الله عليه وسلم غداة بني على، فجلس على فراشي كمجلسك مني، وجويريات يضربن بالدف، يندبن من قتل من ابايهن يوم بدر حتى قالت جارية وفينا نبي يعلم ما في غد. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقولي هكذا، وقولي ما كنت تقولين
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب (زہری) نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک تھے کہ فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ ان کی مراد جاندار کی تصویر سے تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري،. حدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن محمد بن ابي عتيق، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان ابن عباس رضى الله عنهما قال اخبرني ابو طلحة رضى الله عنه صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان قد شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " لا تدخل الملايكة بيتا فيه كلب ولا صورة ". يريد التماثيل التي فيها الارواح
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم کو احمد بن صالح نے خبر دی، ان سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، انہیں علی بن حسین (امام زین العابدین) نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کی غنیمت میں سے مجھے ایک اور اونٹنی ملی تھی اور اسی جنگ کی غنیمت میں سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو خمس کے طور پر حصہ مقرر کیا تھا اس میں سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اونٹنی عنایت فرمائی تھی۔ پھر میرا ارادہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا لاؤں۔ اس لیے بنی قینقاع کے ایک سنار سے بات چیت کی کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر گھاس لائیں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ دوں گا اور اس کی قیمت ولیمہ کی دعوت میں لگاؤں گا۔ میں ابھی اپنی اونٹنی کے لیے پالان، ٹوکرے اور رسیاں جمع کر رہا تھا۔ اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے حجرہ کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں جن انتظامات میں تھا جب وہ پورے ہو گئے تو ( اونٹنیوں کو لینے آیا ) وہاں دیکھا کہ ان کے کوہان کسی نے کاٹ دیئے ہیں اور کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا، یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ ابھی اسی حجرہ میں انصار کے ساتھ شراب نوشی کی ایک مجلس میں موجود ہیں۔ ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے دوست احباب ہیں۔ گانے والی نے گاتے ہوئے جب یہ مصرع پڑھا۔ ہاں، اے حمزہ! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں، تو حمزہ رضی اللہ عنہ نے کود کر اپنی تلوار تھامی اور ان دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے غم کو پہلے ہی جان لیا اور فرمایا کہ کیا بات پیش آئی؟ میں بولا: یا رسول اللہ! آج جیسی تکلیف کی بات کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں کو پکڑ کے ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر ڈالی ہے۔ وہ یہیں ایک گھر میں شراب کی مجلس جمائے بیٹھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک منگوائی اور اسے اوڑھ کر آپ تشریف لے چلے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ساتھ ہولئے۔ جب اس گھر کے قریب آپ تشریف لے گئے اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا اس پر انہیں تنبیہ فرمائی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ شراب کے نشے میں مست تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھائی، پھر ذرا اور اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں پر دیکھنے لگے، پھر اور نظر اٹھائی اور آپ کے چہرہ پر دیکھنے لگے۔ پھر کہنے لگے، تم سب میرے باپ کے غلام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ وہ اس وقت بیہوش ہیں۔ اس لیے آپ فوراً الٹے پاؤں اس گھر سے باہر نکل آئے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔
مجھ سے محمد بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا کہ یہ روایت ہمیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ اصبہانی نے لکھ کر بھیجی، انہوں نے عبداللہ بن معقل سے سنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے جنازے پر تکبیریں کہیں اور کہا کہ وہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔
حدثني محمد بن عباد، اخبرنا ابن عيينة، قال انفذه لنا ابن الاصبهاني سمعه من ابن معقل، ان عليا رضى الله عنه كبر على سهل بن حنيف فقال انه شهد بدرا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے شوہر خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں تھے اور بدر کی لڑائی میں انہوں نے شرکت کی تھی اور مدینہ میں ان کی وفات ہو گئی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری ملاقات عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے حفصہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اس کا نکاح میں آپ سے کر دوں۔ انہوں نے کہا کہ میں سوچوں گا۔ اس لیے میں چند دنوں کے لیے ٹھہر گیا، پھر انہوں نے کہا کہ میری رائے یہ ہوئی ہے کہ ابھی میں نکاح نہ کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میری ملاقات ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ان سے بھی میں نے یہی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کر دوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کا یہ طریقہ عمل عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ میرے لیے باعث تکلیف ہوا۔ کچھ دنوں میں نے اور توقف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حفصہ رضی اللہ عنہا کا پیغام بھیجا اور میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو انہوں نے کہا، شاید آپ کو میرے اس طرز عمل سے تکلیف ہوئی ہو گی کہ جب آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور آپ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے متعلق مجھ سے بات کی تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ ہاں تکلیف ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی بات کا میں نے صرف اس لیے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے ) حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا ( مجھ سے مشورہ لیا تھا کہ میں اس سے نکاح کر لوں ) اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا۔ اگر آپ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دیتے تو بیشک میں ان سے نکاح کر لیتا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، انه سمع عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يحدث ان عمر بن الخطاب حين تايمت حفصة بنت عمر من خنيس بن حذافة السهمي وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قد شهد بدرا توفي بالمدينة قال عمر فلقيت عثمان بن عفان فعرضت عليه حفصة فقلت ان شيت انكحتك حفصة بنت عمر. قال سانظر في امري. فلبثت ليالي، فقال قد بدا لي ان لا اتزوج يومي هذا. قال عمر فلقيت ابا بكر فقلت ان شيت انكحتك حفصة بنت عمر. فصمت ابو بكر، فلم يرجع الى شييا، فكنت عليه اوجد مني على عثمان، فلبثت ليالي، ثم خطبها رسول الله صلى الله عليه وسلم فانكحتها اياه، فلقيني ابو بكر فقال لعلك وجدت على حين عرضت على حفصة فلم ارجع اليك قلت نعم. قال فانه لم يمنعني ان ارجع اليك فيما عرضت الا اني قد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد ذكرها، فلم اكن لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولو تركها لقبلتها
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ابان نے، ان سے عبداللہ بن یزید انصاری نے، انہوں نے ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ عقبہ بن عمرو انصاری سے سنا کہ ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ابان نے، ان سے عبداللہ بن یزید انصاری نے، انہوں نے ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ عقبہ بن عمرو انصاری سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے۔“
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، عن عدي، عن عبد الله بن يزيد، سمع ابا مسعود البدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نفقة الرجل على اهله صدقة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا کہ امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز سے انہوں نے ان کے عہد خلافت میں یہ حدیث بیان کی کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب کوفہ کے امیر تھے، تو انہوں نے ایک دن عصر کی نماز میں دیر کی۔ اس پر زید بن حسن کے نانا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ ان کے یہاں گئے۔ وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والے صحابہ میں سے تھے اور کہا: آپ کو معلوم ہے کہ جبرائیل علیہ السلام ( نماز کا طریقہ بتانے کے لیے ) آئے اور آپ نے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے نماز پڑھی، پانچوں وقت کی نمازیں۔ پھر فرمایا کہ اسی طرح مجھے حکم ملا ہے۔ بشیر بن ابی مسعود بھی یہ حدیث اپنے والد سے بیان کرتے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، سمعت عروة بن الزبير، يحدث عمر بن عبد العزيز في امارته اخر المغيرة بن شعبة العصر وهو امير الكوفة، فدخل ابو مسعود عقبة بن عمرو الانصاري جد زيد بن حسن شهد بدرا فقال لقد علمت نزل جبريل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم خمس صلوات ثم قال هكذا امرت. كذلك كان بشير بن ابي مسعود يحدث عن ابيه
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم، اخبرنا ابن شهاب، قال اخبرني عمر بن اسيد بن جارية الثقفي، حليف بني زهرة وكان من اصحاب ابي هريرة عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة عينا، وامر عليهم عاصم بن ثابت الانصاري، جد عاصم بن عمر بن الخطاب، حتى اذا كانوا بالهدة بين عسفان ومكة ذكروا لحى من هذيل يقال لهم بنو لحيان، فنفروا لهم بقريب من ماية رجل رام، فاقتصوا اثارهم حتى وجدوا ماكلهم التمر في منزل نزلوه فقالوا تمر يثرب. فاتبعوا اثارهم، فلما حس بهم عاصم واصحابه لجيوا الى موضع، فاحاط بهم القوم، فقالوا لهم انزلوا فاعطوا بايديكم ولكم العهد والميثاق ان لا نقتل منكم احدا. فقال عاصم بن ثابت ايها القوم، اما انا فلا انزل في ذمة كافر. ثم قال اللهم اخبر عنا نبيك صلى الله عليه وسلم. فرموهم بالنبل، فقتلوا عاصما، ونزل اليهم ثلاثة نفر على العهد والميثاق، منهم خبيب وزيد بن الدثنة، ورجل اخر، فلما استمكنوا منهم اطلقوا اوتار قسيهم فربطوهم بها. قال الرجل الثالث هذا اول الغدر، والله لا اصحبكم، ان لي بهولاء اسوة. يريد القتلى، فجرروه وعالجوه، فابى ان يصحبهم، فانطلق بخبيب وزيد بن الدثنة حتى باعوهما بعد وقعة بدر، فابتاع بنو الحارث بن عامر بن نوفل خبيبا، وكان خبيب هو قتل الحارث بن عامر يوم بدر، فلبث خبيب عندهم اسيرا حتى اجمعوا قتله، فاستعار من بعض بنات الحارث موسى يستحد بها فاعارته، فدرج بنى لها وهى غافلة حتى اتاه، فوجدته مجلسه على فخذه والموسى بيده قالت ففزعت فزعة عرفها خبيب فقال اتخشين ان اقتله ما كنت لافعل ذلك قالت والله ما رايت اسيرا قط خيرا من خبيب، والله لقد وجدته يوما ياكل قطفا من عنب في يده، وانه لموثق بالحديد، وما بمكة من ثمرة وكانت تقول انه لرزق رزقه الله خبيبا، فلما خرجوا به من الحرم ليقتلوه في الحل قال لهم خبيب دعوني اصلي ركعتين. فتركوه فركع ركعتين، فقال والله لولا ان تحسبوا ان ما بي جزع لزدت، ثم قال اللهم احصهم عددا، واقتلهم بددا، ولا تبق منهم احدا. ثم انشا يقول فلست ابالي حين اقتل مسلما على اى جنب كان لله مصرعي وذلك في ذات الاله وان يشا يبارك على اوصال شلو ممزع ثم قام اليه ابو سروعة عقبة بن الحارث، فقتله وكان خبيب هو سن لكل مسلم قتل صبرا الصلاة، واخبر اصحابه يوم اصيبوا خبرهم، وبعث ناس من قريش الى عاصم بن ثابت حين حدثوا انه قتل ان يوتوا بشىء منه يعرف، وكان قتل رجلا عظيما من عظمايهم، فبعث الله لعاصم مثل الظلة من الدبر، فحمته من رسلهم، فلم يقدروا ان يقطعوا منه شييا. وقال كعب بن مالك ذكروا مرارة بن الربيع العمري وهلال بن امية الواقفي، رجلين صالحين قد شهدا بدرا
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس،. حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن الزهري، اخبرنا علي بن حسين، ان حسين بن علي عليهم السلام اخبره ان عليا قال كانت لي شارف من نصيبي من المغنم يوم بدر، وكان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاني مما افاء الله عليه من الخمس يوميذ، فلما اردت ان ابتني بفاطمة عليها السلام بنت النبي صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا في بني قينقاع ان يرتحل معي فناتي باذخر، فاردت ان ابيعه من الصواغين فنستعين به في وليمة عرسي، فبينا انا اجمع لشارفى من الاقتاب والغراير والحبال، وشارفاى مناخان الى جنب حجرة رجل من الانصار، حتى جمعت ما جمعت فاذا انا بشارفى قد اجبت اسنمتها، وبقرت خواصرهما، واخذ من اكبادهما، فلم املك عينى حين رايت المنظر، قلت من فعل هذا قالوا فعله حمزة بن عبد المطلب، وهو في هذا البيت، في شرب من الانصار، عنده قينة واصحابه فقالت في غنايها الا يا حمز للشرف النواء، فوثب حمزة الى السيف، فاجب اسنمتهما، وبقر خواصرهما، واخذ من اكبادهما قال علي فانطلقت حتى ادخل على النبي صلى الله عليه وسلم وعنده زيد بن حارثة، وعرف النبي صلى الله عليه وسلم الذي لقيت فقال " ما لك ". قلت يا رسول الله، ما رايت كاليوم، عدا حمزة على ناقتى، فاجب اسنمتهما، وبقر خواصرهما وها هو ذا في بيت معه شرب، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم بردايه، فارتدى ثم انطلق يمشي، واتبعته انا وزيد بن حارثة، حتى جاء البيت الذي فيه حمزة، فاستاذن عليه فاذن له، فطفق النبي صلى الله عليه وسلم يلوم حمزة فيما فعل، فاذا حمزة ثمل محمرة عيناه، فنظر حمزة الى النبي صلى الله عليه وسلم ثم صعد النظر، فنظر الى ركبته، ثم صعد النظر، فنظر الى وجهه، ثم قال حمزة وهل انتم الا عبيد لابي فعرف النبي صلى الله عليه وسلم انه ثمل، فنكص رسول الله صلى الله عليه وسلم على عقبيه القهقرى، فخرج وخرجنا معه