Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نخعی نے، ان سے علقمہ بن یسعی نے اور ان سے ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ کی دو آیتیں ( «امن الرسول» سے آخر تک ) ایسی ہیں کہ جو شخص رات میں انہیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ پھر میں نے خود ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی۔
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن علقمة، عن ابي مسعود البدري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايتان من اخر سورة البقرة من قراهما في ليلة كفتاه ". قال عبد الرحمن فلقيت ابا مسعود وهو يطوف بالبيت، فسالته فحدثنيه
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں محمود بن ربیع نے خبر دی کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور وہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انصار میں سے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني محمود بن الربيع، ان عتبان بن مالك، وكان، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ممن شهد بدرا من الانصار انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے احمد نے بیان کیا جو صالح کے بیٹے ہیں، کہا ہم سے عنبسہ ابن خالد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے بیان کیا اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے شریف لوگوں میں سے تھے، محمود بن ربیع کی حدیث کے متعلق پوچھا جس کی روایت انہوں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے کی تھی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔
حدثنا احمد هو ابن صالح حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، قال ابن شهاب ثم سالت الحصين بن محمد وهو احد بني سالم وهو من سراتهم عن حديث، محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك، فصدقة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، وہ قبیلہ بنی عدی کے سب لوگوں میں بڑے تھے اور ان کے والد عامر بن ربیعہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ ( انہوں نے بیان کیا کہ ) عمر رضی اللہ عنہ نے قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بحرین کا عامل بنایا تھا، وہ قدامہ رضی اللہ عنہ بھی بدر کے معرکے میں شریک تھے اور عبداللہ بن عمر اور حفصہ رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عبد الله بن عامر بن ربيعة، وكان، من اكبر بني عدي وكان ابوه شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم ان عمر استعمل قدامة بن مظعون على البحرين، وكان شهد بدرا، وهو خال عبد الله بن عمر وحفصة رضى الله عنهم
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية، عن مالك، عن الزهري، ان سالم بن عبد الله، اخبره قال اخبر رافع بن خديج عبد الله بن عمر، ان عميه، وكانا، شهدا بدرا اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء المزارع. قلت لسالم فتكريها انت قال نعم، ان رافعا اكثر على نفسه
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية، عن مالك، عن الزهري، ان سالم بن عبد الله، اخبره قال اخبر رافع بن خديج عبد الله بن عمر، ان عميه، وكانا، شهدا بدرا اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء المزارع. قلت لسالم فتكريها انت قال نعم، ان رافعا اكثر على نفسه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد لیثی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رفاعہ بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے۔ وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن حصين بن عبد الرحمن، قال سمعت عبد الله بن شداد بن الهاد الليثي، قال رايت رفاعة بن رافع الانصاري، وكان شهد بدرا
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک مروزی نے خبر دی، کہا ہم کو معمر اور یونس دونوں نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنی عامر بن لوی کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ ( نے بیان کیا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین، وہاں کا جزیہ لانے کے لیے بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کی تھی اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا تھا، پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال ایک لاکھ درہم لے کر آئے۔ جب انصار کو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر ہوئی تو انہوں نے فجر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو تمام انصار آپ کے سامنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تمہیں یہ اطلاع مل گئی ہے کہ ابوعبیدہ مال لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہیں خوشخبری ہو اور جس سے تمہیں خوشی ہو گی اس کی امید رکھو۔ اللہ کی قسم! مجھے تمہارے متعلق محتاجی سے ڈر نہیں لگتا، مجھے تو اس کا خوف ہے کہ دنیا تم پر بھی اسی طرح کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلوں پر کشادہ کی گئی تھی، پھر پہلوں کی طرح اس کے لیے تم آپس میں رشک کرو گے اور جس طرح وہ ہلاک ہو گئے تھے تمہیں بھی یہ چیز ہلاک کر کے رہے گی۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، ويونس، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، انه اخبره ان المسور بن مخرمة اخبره ان عمرو بن عوف وهو حليف لبني عامر بن لوى، وكان شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث ابا عبيدة بن الجراح الى البحرين ياتي بجزيتها، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو صالح اهل البحرين، وامر عليهم العلاء بن الحضرمي، فقدم ابو عبيدة بمال من البحرين فسمعت الانصار بقدوم ابي عبيدة، فوافوا صلاة الفجر مع النبي صلى الله عليه وسلم، فلما انصرف تعرضوا له، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين راهم ثم قال " اظنكم سمعتم ان ابا عبيدة قدم بشىء ". قالوا اجل يا رسول الله. قال " فابشروا واملوا ما يسركم، فوالله ما الفقر اخشى عليكم، ولكني اخشى ان تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من قبلكم، فتنافسوها كما تنافسوها، وتهلككم كما اهلكتهم
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان يقتل الحيات كلها. حتى حدثه ابو لبابة البدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن قتل جنان البيوت، فامسك عنها
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان يقتل الحيات كلها. حتى حدثه ابو لبابة البدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن قتل جنان البيوت، فامسك عنها
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کے چند لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی اور عرض کیا کہ آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں تو ہم اپنے بھانجے عباس رضی اللہ عنہ کا فدیہ معاف کر دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی قسم! ان کے فدیہ سے ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔“
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فليح، عن موسى بن عقبة، قال ابن شهاب حدثنا انس بن مالك، ان رجالا، من الانصار استاذنوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا ايذن لنا فلنترك لابن اختنا عباس فداءه. قال " والله لا تذرون منه درهما
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے، ان سے زہری نے، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے، ان سے عبیداللہ بن عدی نے اور ان سے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے۔ (دوسری سند) امام بخاری نے کہا اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے، ان سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے، اپنے چچا (محمد بن مسلم بن شہاب) سے بیان کیا، انہیں عطاء بن یزید لیثی ثم الجندعی نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی اور انہیں مقداد بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ نے، وہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہنے لگے ”میں اللہ پر ایمان لے آیا۔“ تو کیا یا رسول اللہ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسے قتل نہ کرنا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ پہلے میرا ایک ہاتھ بھی کاٹ چکا ہے؟ اور یہ اقرار میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی یہی فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا، کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر ڈالا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہو گا اور تمہارا مقام وہ ہو گا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اس کلمہ کا اقرار نہیں کیا تھا۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن عبيد الله بن عدي، عن المقداد بن الاسود، حدثني اسحاق، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، قال اخبرني عطاء بن يزيد الليثي، ثم الجندعي ان عبيد، الله بن عدي بن الخيار اخبره ان المقداد بن عمرو الكندي، وكان حليفا لبني زهرة، وكان ممن شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبره انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ارايت ان لقيت رجلا من الكفار فاقتتلنا، فضرب احدى يدى بالسيف فقطعها، ثم لاذ مني بشجرة فقال اسلمت لله. ااقتله يا رسول الله بعد ان قالها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله ". فقال يا رسول الله، انه قطع احدى يدى، ثم قال ذلك بعد ما قطعها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله، فان قتلته فانه بمنزلتك قبل ان تقتله، وانك بمنزلته قبل ان يقول كلمته التي قال
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا ”کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کے ساتھ کیا ہوا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے لیے روانہ ہوئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کی لاش ٹھنڈی ہونے والی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ابوجہل تم ہی ہو؟ ابن علیہ نے بیان کیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا کہ تو ابوجہل ہے؟ اس پر اس نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا جسے تم نے آج قتل کر دیا ہے؟ سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ یا اس نے یوں کہا، ”جسے اس کی قوم نے قتل کر دیا ہے؟ ( کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا ) کہا کہ ابومجلز نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا، کاش! ایک کسان کے سوا مجھے کسی اور نے مارا ہوتا۔
حدثني يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن علية، حدثنا سليمان التيمي، حدثنا انس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر " من ينظر ما صنع ابو جهل ". فانطلق ابن مسعود، فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى برد، فقال انت ابا جهل قال ابن علية قال سليمان هكذا قالها انس. قال انت ابا جهل قال وهل فوق رجل قتلتموه قال سليمان او قال قتله قومه. قال وقال ابو مجلز قال ابو جهل فلو غير اكار قتلني
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہمیں ساتھ لے کر ہمارے انصاری بھائیوں کے یہاں چلیں۔ پھر ہماری ملاقات دو نیک ترین انصاری صحابیوں سے ہوئی جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی۔ عبیداللہ نے کہا، پھر میں نے اس حدیث کا تذکرہ عروہ بن زبیر سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں صحابی عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی رضی اللہ عنہما تھے۔
حدثنا موسى، حدثنا عبد الواحد، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، حدثني ابن عباس، عن عمر رضى الله عنهم لما توفي النبي صلى الله عليه وسلم قلت لابي بكر انطلق بنا الى اخواننا من الانصار. فلقينا منهم رجلان صالحان شهدا بدرا. فحدثت عروة بن الزبير فقال هما عويم بن ساعدة، ومعن بن عدي
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے اسماعیل ابن ابی خالد سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے کہ بدری صحابہ کا ( سالانہ ) وظیفہ پانچ پانچ ہزار تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں انہیں ( بدری صحابہ کو ) ان صحابیوں پر فضیلت دوں گا جو ان کے بعد ایمان لائے۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، سمع محمد بن فضيل، عن اسماعيل، عن قيس، كان عطاء البدريين خمسة الاف خمسة الاف. وقال عمر لافضلنهم على من بعدهم
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں محمد بن جبیر نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا، آپ مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ پہلا موقع تھا جب میرے دل میں ایمان نے قرار پکڑا۔
حدثني اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن محمد بن جبير، عن ابيه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالطور، وذلك اول ما وقر الايمان في قلبي
اور لیث نے یحییٰ بن سعید انصاری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ پہلا فساد جب برپا ہوا یعنی عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تو اس نے اصحاب بدر میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا۔ پھر جب دوسرا فساد برپا ہوا یعنی حرہ کا، تو اس نے اصحاب حدیبیہ میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا۔ پھر تیسرا فساد برپا ہوا تو وہ اس وقت تک نہیں گیا جب تک لوگوں میں کچھ بھی خوبی یا عقل باقی تھی۔
وعن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في اسارى بدر " لو كان المطعم بن عدي حيا ثم كلمني في هولاء النتنى لتركتهم له ". وقال الليث عن يحيى، عن سعيد بن المسيب، وقعت الفتنة الاولى يعني مقتل عثمان فلم تبق من اصحاب بدر احدا، ثم وقعت الفتنة الثانية يعني الحرة فلم تبق من اصحاب الحديبية احدا ثم وقعت الثالثة فلم ترتفع وللناس طباخ
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تہمت کے متعلق سنا۔ ان میں سے ہر ایک نے مجھ سے اس واقعہ کا کوئی حصہ بیان کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ میں اور ام مسطح باہر قضائے حاجت کو جا رہے تھے کہ ام مسطح رضی اللہ عنہا اپنی چادر میں الجھ کر پھسل پڑیں۔ اس پر ان کی زبان سے نکلا، مسطح کا برا ہو۔ میں نے کہا، آپ نے اچھی بات نہیں کہی۔ ایک ایسے شخص کو آپ برا کہتی ہیں جو بدر میں شریک ہو چکا ہے۔ پھر انہوں نے تہمت کا واقعہ بیان کیا۔
حدثنا الحجاج بن منهال، حدثنا عبد الله بن عمر النميري، حدثنا يونس بن يزيد، قال سمعت الزهري، قال سمعت عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله، عن حديث، عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم كل حدثني طايفة من الحديث قالت فاقبلت انا وام مسطح فعثرت ام مسطح في مرطها فقالت تعس مسطح. فقلت بيس ما قلت، تسبين رجلا شهد بدرا فذكر حديث الافك
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا بیان تھا۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ جب ( بدر کے ) کفار مقتولین کنویں میں ڈالے جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم نے اس چیز کو پا لیا جس کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟“ موسیٰ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسے لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کچھ میں نے ان سے کہا ہے اسے خود تم نے بھی ان سے زیادہ بہتر طریقہ پر نہیں سنا ہو گا۔“ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ قریش ( صحابہ ) کے جتنے لوگ بدر میں شریک ہوئے تھے اور جن کا حصہ بھی ( اس غنیمت میں ) لگا تھا، ان کی تعداد اکیاسی تھی۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے تھے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے ( ان مہاجرین کے حصے ) تقسیم کئے تھے اور ان کی تعداد سو تھی اور زیادہ بہتر علم اللہ کو ہے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فليح بن سليمان، عن موسى بن عقبة، عن ابن شهاب، قال هذه مغازي رسول الله صلى الله عليه وسلم. فذكر الحديث، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يلقيهم " هل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا ". قال موسى قال نافع قال عبد الله قال ناس من اصحابه يا رسول الله تنادي ناسا امواتا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما انتم باسمع لما قلت منهم ". قال ابو عبد الله فجميع من شهد بدرا من قريش ممن ضرب له بسهمه احد وثمانون رجلا، وكان عروة بن الزبير يقول قال الزبير قسمت سهمانهم فكانوا ماية، والله اعلم
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کے دن مہاجرین کے سو حصے لگائے گئے تھے۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن الزبير، قال ضربت يوم بدر للمهاجرين بماية سهم