Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں ابوہاشم نے، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ بیان کرتے تھے کہ یہ آیت ( «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ) انہیں چھ آدمیوں کے بارے میں، بدر کی لڑائی کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ پہلی حدیث کی طرح راوی نے اسے بھی بیان کیا۔
حدثنا يحيى بن جعفر، اخبرنا وكيع، عن سفيان، عن ابي هاشم، عن ابي مجلز، عن قيس بن عباد، سمعت ابا ذر رضى الله عنه يقسم لنزلت هولاء الايات في هولاء الرهط الستة يوم بدر. نحوه
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ ( کافروں کی طرف سے ) ۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو هاشم، عن ابي مجلز، عن قيس، قال سمعت ابا ذر، يقسم قسما ان هذه الاية {هذان خصمان اختصموا في ربهم } نزلت في الذين برزوا يوم بدر حمزة وعلي وعبيدة بن الحارث وعتبة وشيبة ابنى ربيعة والوليد بن عتبة
مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن منصور سلولی نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ یوسف بن اسحاق نے اور ان سے ان کے دادا ابواسحاق سبیعی نے کہ ایک شخص نے براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور میں سن رہا تھا کہ کیا علی رضی اللہ عنہ بدر کی جنگ میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں انہوں نے تو مبارزت کی تھی اور غالب رہے تھے۔
حدثني احمد بن سعيد ابو عبد الله، حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا ابراهيم بن يوسف، عن ابيه، عن ابي اسحاق، سال رجل البراء وانا اسمع، قال اشهد علي بدرا قال بارز وظاهر
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے والد ابراہیم نے ان کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ امیہ بن خلف سے ( ہجرت کے بعد ) میرا عہد نامہ ہو گیا تھا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر انہوں نے اس کے اور اس کے بیٹے ( علی ) کے قتل کا ذکر کیا۔ بلال نے ( جب اسے دیکھ لیا تو ) کہا کہ اگر آج امیہ بچ نکلا تو میں آخرت میں عذاب سے بچ نہیں سکوں گا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني يوسف بن الماجشون، عن صالح بن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، عن جده عبد الرحمن، قال كاتبت امية بن خلف، فلما كان يوم بدر، فذكر قتله وقتل ابنه، فقال بلال لا نجوت ان نجا امية
ہم سے عبدان بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابواسحٰق نے، انہیں اسود نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ مکہ میں ) سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا تو جتنے لوگ وہاں موجود تھے سب سجدہ میں گر گئے۔ سوائے ایک بوڑھے کے کہ اس نے ہتھیلی میں مٹی لے کر اپنی پیشانی پر اسے لگا لیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل ہوا۔
حدثنا عبدان بن عثمان، قال اخبرني ابي، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا {والنجم} فسجد بها، وسجد من معه، غير ان شيخا اخذ كفا من تراب فرفعه الى جبهته فقال يكفيني هذا. قال عبد الله فلقد رايته بعد قتل كافرا
مجھے ابراہیم بن موسیٰ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کے جسم پر تلوار کے تین ( گہرے ) زخموں کے نشانات تھے۔ ایک ان کے مونڈھے پر تھا ( اور اتنا گہرا تھا ) کہ میں بچپن میں اپنی انگلیاں ان میں داخل کر دیا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ ان میں سے دو زخم بدر کی لڑائی میں آئے تھے اور ایک جنگ یرموک میں۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ( حجاج ظالم کے ہاتھوں سے ) شہید کر دیا گیا تو مجھ سے عبدالملک بن مروان نے کہا: اے عروہ! کیا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار تم پہچانتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں، پہچانتا ہوں۔ اس نے پوچھا اس کی نشانی بتاؤ؟ میں نے کہا کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر اس کی دھار کا ایک حصہ ٹوٹ گیا تھا، جو ابھی تک اس میں باقی ہے۔ عبدالملک نے کہا کہ تم نے سچ کہا ( پھر اس نے نابغہ شاعر کا یہ مصرع پڑھا ) فوجوں کے ساتھ لڑتے لڑتے ان کی تلوارں کی دھاریں کی جگہ سے ٹوٹ گی ہیں“ پھر عبدالملک نے وہ تلوار عروہ کو واپس کر دی ‘ ہشام نے بیان کیا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ اس تلوار کی قیمت تین ہزار درہم تھی۔ وہ تلوار ہمارے ایک عزیز ( عثمان بن عروہ ) نے قیمت دے کر لے لی تھی میری بڑی آرزو تھی کہ کاش! وہ تلوار میرے حصے میں آتی۔
اخبرني ابراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن هشام، عن عروة، قال كان في الزبير ثلاث ضربات بالسيف، احداهن في عاتقه، قال ان كنت لادخل اصابعي فيها. قال ضرب ثنتين يوم بدر، وواحدة يوم اليرموك. قال عروة وقال لي عبد الملك بن مروان حين قتل عبد الله بن الزبير يا عروة، هل تعرف سيف الزبير قلت نعم. قال فما فيه قلت فيه فلة فلها يوم بدر. قال صدقت. بهن فلول من قراع الكتايب ثم رده على عروة. قال هشام فاقمناه بيننا ثلاثة الاف، واخذه بعضنا، ولوددت اني كنت اخذته
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ ان سے علی بن مسہر نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔ ہشام نے کہا کہ ( میرے والد ) عروہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔
حدثنا فروة، عن علي، عن هشام، عن ابيه، قال كان سيف الزبير محلى بفضة. قال هشام وكان سيف عروة محلى بفضة
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ‘ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ انہیں ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے یرموک کی جنگ میں کہا آپ حملہ کرتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کرتے انہوں نے کہا کہ اگر میں نے ان پر زور کا حملہ کر دیا تو پھر تم لوگ پیچھے رہ جاؤ گے سب بولے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ چنانچہ زبیر رضی اللہ عنہ نے دشمن ( رومی فوج ) پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس وقت ان کے ساتھ کوئی ایک بھی ( مسلمان ) نہیں رہا پھر ( مسلمان فوج کی طرف ) آنے لگے تو رومیوں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور مونڈھے پر دو کاری زخم لگائے، جو زخم بدر کی لڑائی کے موقع پر ان کو لگا تھا وہ ان دونوں زخموں کے درمیان میں پڑ گیا تھا۔ عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ جب میں چھوٹا تھا تو ان زخموں میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ یرموک کی لڑائی کے موقع پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ گئے تھے، اس وقت ان کی عمر کل دس سال کی تھی اس لیے ان کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے ایک صاحب کی حفاظت میں دے دیا تھا۔
حدثنا احمد بن محمد، حدثنا عبد الله، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، ان اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا للزبير يوم اليرموك الا تشد فنشد معك فقال اني ان شددت كذبتم. فقالوا لا نفعل، فحمل عليهم حتى شق صفوفهم، فجاوزهم وما معه احد، ثم رجع مقبلا، فاخذوا بلجامه، فضربوه ضربتين على عاتقه بينهما ضربة ضربها يوم بدر. قال عروة كنت ادخل اصابعي في تلك الضربات العب وانا صغير. قال عروة وكان معه عبد الله بن الزبير يوميذ وهو ابن عشر سنين، فحمله على فرس وكل به رجلا
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا، ہم سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دئیے گئے۔ عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدان جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے جنگ بدر کے خاتمہ کے تیسرے دن آپ کے حکم سے آپ کی سوای پر کجاوہ باندھا گیا اور آپ روانہ ہوئے آپ کے اصحاب بھی آپ کے ساتھ تھے صحابہ نے کہا، غالباً آپ کسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں آخر آپ اس کنویں کے کنارے آ کر کھڑے ہو گئے اور کفار قریش کے مقتولین سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر آپ انہیں آواز دینے لگے کہ اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بیشک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہو گیا تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جو وعدہ ( عذاب کا ) تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے: یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں؟ جن میں کوئی جان نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔“ قتادہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا تھا ( اس وقت ) تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی بات سنا دیں ان کی توبیخ ‘ ذلت ‘ نامرادی اور حسرت و ندامت کے لیے۔
حدثني عبد الله بن محمد، سمع روح بن عبادة، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، قال ذكر لنا انس بن مالك عن ابي طلحة، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم امر يوم بدر باربعة وعشرين رجلا من صناديد قريش فقذفوا في طوي من اطواء بدر خبيث مخبث، وكان اذا ظهر على قوم اقام بالعرصة ثلاث ليال، فلما كان ببدر اليوم الثالث، امر براحلته فشد عليها رحلها، ثم مشى واتبعه اصحابه وقالوا ما نرى ينطلق الا لبعض حاجته، حتى قام على شفة الركي، فجعل يناديهم باسمايهم واسماء ابايهم " يا فلان بن فلان، ويا فلان بن فلان، ايسركم انكم اطعتم الله ورسوله فانا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا، فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا ". قال فقال عمر يا رسول الله، ما تكلم من اجساد لا ارواح لها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفس محمد بيده، ما انتم باسمع لما اقول منهم ". قال قتادة احياهم الله حتى اسمعهم قوله توبيخا وتصغيرا ونقيمة وحسرة وندما
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ‘ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ‘ قرآن مجید کی آیت «الذين بدلوا نعمة الله كفرا» ( سورۃ ابراہیم 28 ) کے بارے میں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم! یہ کفار قریش تھے۔ عمرو نے کہا کہ اس سے مراد قریش تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت تھے۔ کفار قریش نے اپنی قوم کو جنگ بدر کے دن «دار البوار» یعنی دوزخ میں جھونک دیا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما {الذين بدلوا نعمة الله كفرا} قال هم والله كفار قريش. قال عمرو هم قريش ومحمد صلى الله عليه وسلم نعمة الله {واحلوا قومهم دار البوار } قال النار يوم بدر
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، قال ذكر عند عايشة رضى الله عنها ان ابن عمر رفع الى النبي صلى الله عليه وسلم " ان الميت يعذب في قبره ببكاء اهله ". فقالت انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه ليعذب بخطييته وذنبه، وان اهله ليبكون عليه الان ". قالت وذاك مثل قوله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على القليب وفيه قتلى بدر من المشركين، فقال لهم ما قال انهم ليسمعون ما اقول. انما قال " انهم الان ليعلمون ان ما كنت اقول لهم حق ". ثم قرات {انك لا تسمع الموتى} {وما انت بمسمع من في القبور} تقول حين تبوءوا مقاعدهم من النار
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، قال ذكر عند عايشة رضى الله عنها ان ابن عمر رفع الى النبي صلى الله عليه وسلم " ان الميت يعذب في قبره ببكاء اهله ". فقالت انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه ليعذب بخطييته وذنبه، وان اهله ليبكون عليه الان ". قالت وذاك مثل قوله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على القليب وفيه قتلى بدر من المشركين، فقال لهم ما قال انهم ليسمعون ما اقول. انما قال " انهم الان ليعلمون ان ما كنت اقول لهم حق ". ثم قرات {انك لا تسمع الموتى} {وما انت بمسمع من في القبور} تقول حين تبوءوا مقاعدهم من النار
حدثني عثمان، حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال وقف النبي صلى الله عليه وسلم على قليب بدر فقال {هل وجدتم ما وعد ربكم حقا ثم قال انهم الان يسمعون ما اقول} فذكر لعايشة فقالت انما قال النبي صلى الله عليه وسلم " انهم الان ليعلمون ان الذي كنت اقول لهم هو الحق ". ثم قرات {انك لا تسمع الموتى} حتى قرات الاية
حدثني عثمان، حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال وقف النبي صلى الله عليه وسلم على قليب بدر فقال {هل وجدتم ما وعد ربكم حقا ثم قال انهم الان يسمعون ما اقول} فذكر لعايشة فقالت انما قال النبي صلى الله عليه وسلم " انهم الان ليعلمون ان الذي كنت اقول لهم هو الحق ". ثم قرات {انك لا تسمع الموتى} حتى قرات الاية
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ حارثہ بن سراقہ انصاری رضی اللہ عنہ جو ابھی نوعمر لڑکے تھے ‘ بدر کے دن شہید ہو گئے تھے ( پانی پینے کے لیے حوض پر آئے تھے کہ ایک تیر نے شہید کر دیا ) پھر ان کی والدہ ( ربیع بنت النصر ‘ انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ مجھے حارثہ سے کتنا پیار تھا۔ اگر وہ اب جنت میں ہے تو میں اس پر صبر کروں گی اور اللہ تعالیٰ کی امید رکھوں گی اور اگر کہیں دوسری جگہ ہے تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں کس حال میں ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تم پر رحم کرے، کیا دیوانی ہو رہی ہو، کیا وہاں کوئی ایک جنت ہے؟ بہت سی جنتیں ہیں اور تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں ہے۔“
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن حميد، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول اصيب حارثة يوم بدر وهو غلام، فجاءت امه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله، قد عرفت منزلة حارثة مني، فان يكن في الجنة اصبر واحتسب، وان تك الاخرى ترى ما اصنع فقال " ويحك اوهبلت اوجنة واحدة هي انها جنان كثيرة، وانه في جنة الفردوس
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے حسین بن عبدالرحمٰن سے سنا ‘ انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ‘ انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے ‘ ابومرثد رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر بھیجا۔ ہم سب شہسوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ سیدھے چلے جاؤ۔ جب روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی ‘ وہ ایک خط لیے ہوئے ہے جسے حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین کے نام بھیجا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ کا پتہ دیا تھا ہم نے وہیں اس عورت کو ایک اونٹ پر جاتے ہوئے پا لیا۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط دے دو۔ وہ کہنے لگی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بیٹھا کر اس کی تلاشی لی تو واقعی ہمیں بھی کوئی خط نہیں ملا۔ لیکن ہم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی خط نکال ورنہ ہم تجھے ننگا کر دیں گے۔ جب اس نے ہمارا یہ سخت رویہ دیکھا تو ازار باندھنے کی جگہ کی طرف اپنا ہاتھ لے گئی وہ ایک چادر میں لپٹی ہوئی تھی اور اس نے خط نکال کر ہم کو دے دیا ہم اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ( یعنی حاطب بن ابی بلتعہ نے ) اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے دغا کی ہے آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ حاطب رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کی قسم! یہ وجہ ہرگز نہیں تھی کہ اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان باقی نہیں رہا تھا میرا مقصد تو صرف اتنا تھا کہ قریش پر اس طرح میرا ایک احسان ہو جائے اور اس کی وجہ سے وہ ( مکہ میں باقی رہ جانے والے ) میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں۔ آپ کے اصحاب میں جتنے بھی حضرات ( مہاجرین ) ہیں ان سب کا قبیلہ وہاں موجود ہے اور اللہ ان کے ذریعے ان کے اہل و مال کی حفاظت کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچی بات بتا دی ہے اور تم لوگوں کو چاہئے کہ ان کے متعلق اچھی بات ہی کہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا کہ اس شخص نے اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں سے دغا کی ہے آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا یہ بدر والوں میں سے نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات کو پہلے ہی سے جانتا تھا اور وہ خود فرما چکا ہے کہ ”تم جو چاہو کرو، تمہیں جنت ضرور ملے گی۔“ ( یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا عبد الله بن ادريس، قال سمعت حصين بن عبد الرحمن، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي رضى الله عنه قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم وابا مرثد والزبير وكلنا فارس قال " انطلقوا حتى تاتوا روضة خاخ، فان بها امراة من المشركين، معها كتاب من حاطب بن ابي بلتعة الى المشركين ". فادركناها تسير على بعير لها حيث قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا الكتاب. فقالت ما معنا كتاب. فانخناها فالتمسنا فلم نر كتابا، فقلنا ما كذب رسول الله صلى الله عليه وسلم، لتخرجن الكتاب او لنجردنك. فلما رات الجد اهوت الى حجزتها وهى محتجزة بكساء فاخرجته، فانطلقنا بها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر يا رسول الله، قد خان الله ورسوله والمومنين، فدعني فلاضرب عنقه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما حملك على ما صنعت ". قال حاطب والله ما بي ان لا اكون مومنا بالله ورسوله صلى الله عليه وسلم اردت ان يكون لي عند القوم يد يدفع الله بها عن اهلي ومالي، وليس احد من اصحابك الا له هناك من عشيرته من يدفع الله به عن اهله وماله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق، ولا تقولوا له الا خيرا ". فقال عمر انه قد خان الله ورسوله والمومنين، فدعني فلاضرب عنقه. فقال " اليس من اهل بدر ". فقال " لعل الله اطلع الى اهل بدر فقال اعملوا ما شيتم فقد وجبت لكم الجنة، او فقد غفرت لكم ". فدمعت عينا عمر وقال الله ورسوله اعلم
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا ‘ ان سے حمزہ بن ابی اسید اور زبیر بن منذر بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر ہمیں ہدایت فرمائی تھی کہ جب کفار تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر چلانا اور ( جب تک وہ دور رہیں ) اپنے تیروں کو بچائے رکھنا۔
حدثني عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا عبد الرحمن بن الغسيل، عن حمزة بن ابي اسيد، والزبير بن المنذر بن ابي اسيد، عن ابي اسيد رضى الله عنه قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر " اذا اكثبوكم فارموهم واستبقوا نبلكم
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے ‘ ان سے حمزہ بن ابی اسید اور منذر بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی کہ جب کفار تمہارے قریب آ جائیں یعنی حملہ و ہجوم کریں ( اتنے کہ تمہارے نشانے کی زد میں آ جائیں ) تو پھر ان پر تیر برسانے شروع کرنا اور ( جب تک وہ تم سے قریب نہ ہوں ) اپنے تیر کو محفوظ رکھنا۔
حدثني محمد بن عبد الرحيم، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا عبد الرحمن بن الغسيل، عن حمزة بن ابي اسيد، والمنذر بن ابي اسيد، عن ابي اسيد رضى الله عنه قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر " اذا اكثبوكم يعني كثروكم فارموهم، واستبقوا نبلكم
مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی لڑائی میں تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو سردار مقرر کیا تھا اس لڑائی میں ہمارے ستر آدمی شہید ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابیوں سے بدر کی لڑائی میں ایک سو چالیس مشرکین کو نقصان پہنچا تھا۔ ستر ان میں سے قتل کر دئیے گئے اور ستر قیدی بنا کر لائے گئے اس پر ابوسفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی کی مثال ڈول کی سی ہے۔
حدثني عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، قال سمعت البراء بن عازب رضى الله عنهما قال جعل النبي صلى الله عليه وسلم على الرماة يوم احد عبد الله بن جبير، فاصابوا منا سبعين، وكان النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه اصابوا من المشركين يوم بدر اربعين وماية سبعين اسيرا وسبعين قتيلا. قال ابو سفيان يوم بيوم بدر، والحرب سجال
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید نے ‘ ان سے ان کے دادا نے ‘ اس سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خیر و بھلائی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں احد کی لڑائی کے بعد عطا فرمائی اور خلوص عمل کا ثواب وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کی لڑائی کے بعد عطا فرمایا۔
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى،، اراه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " واذا الخير ما جاء الله به من الخير بعد، وثواب الصدق الذي اتانا بعد يوم بدر