Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پیر کے دن مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے۔ آپ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کا پردہ اٹھا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھ رہے تھے۔ صحابہ رضی للہ عنہم نماز میں صف باندھے کھڑے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر ہنس پڑے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تاکہ صف میں آ جائیں۔ آپ نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لانا چاہتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، قریب تھا کہ مسلمان اس خوشی کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر انہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنی نماز توڑنے ہی کو تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ نماز پوری کر لو، پھر آپ حجرہ کے اندر تشریف لے گئے اور پردہ ڈال لیا۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال حدثني انس بن مالك رضى الله عنه ان المسلمين، بينا هم في صلاة الفجر من يوم الاثنين وابو بكر يصلي لهم لم يفجاهم الا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كشف ستر حجرة عايشة، فنظر اليهم وهم في صفوف الصلاة. ثم تبسم يضحك، فنكص ابو بكر على عقبيه ليصل الصف، وظن ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد ان يخرج الى الصلاة فقال انس وهم المسلمون ان يفتتنوا في صلاتهم فرحا برسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار اليهم بيده رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اتموا صلاتكم، ثم دخل الحجرة وارخى الستر
مجھ سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں، اللہ کی بہت سی نعمتوں میں ایک نعمت مجھ پر یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں اور میری باری کے دن ہوئی۔ آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت میرے اور آپ کے تھوک کو ایک ساتھ جمع کیا تھا کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ گھر میں آئے تو ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کو دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں، اس لیے میں نے آپ سے پوچھا، یہ مسواک آپ کے لیے لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے اشارہ سے اثبات میں جواب دیا، میں نے وہ مسواک ان سے لے لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چبا نہ سکے، میں نے پوچھا آپ کے لیے میں اسے نرم کر دوں؟ آپ نے سر کے اشارہ سے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے مسواک نرم کر دی۔ آپ کے سامنے ایک بڑا پیالہ تھا، چمڑے کا یا لکڑی کا ( راوی حدیث ) عمر کو اس سلسلے میں شک تھا، اس کے اندر پانی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار اپنے ہاتھ اس کے اندر داخل کرتے اور پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے «لا إله إلا الله» ۔ موت کے وقت شدت ہوتی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اٹھا کر کہنے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ رحلت فرما گئے اور آپ کا ہاتھ جھک گیا۔
حدثني محمد بن عبيد، حدثنا عيسى بن يونس، عن عمر بن سعيد، قال اخبرني ابن ابي مليكة، ان ابا عمرو، ذكوان مولى عايشة اخبره ان عايشة كانت تقول ان من نعم الله على ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي في بيتي وفي يومي، وبين سحري ونحري، وان الله جمع بين ريقي وريقه عند موته، دخل على عبد الرحمن وبيده السواك وانا مسندة رسول الله صلى الله عليه وسلم فرايته ينظر اليه، وعرفت انه يحب السواك فقلت اخذه لك فاشار براسه ان نعم، فتناولته فاشتد عليه وقلت الينه لك فاشار براسه ان نعم، فلينته، وبين يديه ركوة او علبة يشك عمر فيها ماء، فجعل يدخل يديه في الماء فيمسح بهما وجهه يقول " لا اله الا الله، ان للموت سكرات ". ثم نصب يده فجعل يقول " في الرفيق الاعلى ". حتى قبض ومالت يده
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے رہتے تھے کہ کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر تھے، پھر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کی اجازت دے دی اور آپ کی وفات انہیں کے گھر میں ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدہ کے مطابق میرے یہاں آپ کے قیام کی باری تھی۔ رحلت کے وقت سر مبارک میرے سینے پر تھا اور میرا تھوک آپ کے تھوک کے ساتھ ملا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ میں استعمال کے قابل مسواک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دے دو۔ انہوں نے مسواک مجھے دے دی۔ میں نے اسے اچھی طرح چبایا اور جھاڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، پھر آپ نے وہ مسواک کی، اس وقت آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني سليمان بن بلال، حدثنا هشام بن عروة، اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسال في مرضه الذي مات فيه يقول " اين انا غدا اين انا غدا " يريد يوم عايشة، فاذن له ازواجه يكون حيث شاء، فكان في بيت عايشة حتى مات عندها، قالت عايشة فمات في اليوم الذي كان يدور على فيه في بيتي، فقبضه الله وان راسه لبين نحري وسحري، وخالط ريقه ريقي ثم قالت دخل عبد الرحمن بن ابي بكر ومعه سواك يستن به فنظر اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له اعطني هذا السواك يا عبد الرحمن. فاعطانيه فقضمته، ثم مضغته فاعطيته رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستن به وهو مستند الى صدري
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں، میری باری کے دن ہوئی۔ آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ جب آپ بیمار پڑے تو ہم آپ کی صحت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس بیماری میں بھی میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اور آپ کا سر آسمان کی طرف اٹھا ہوا تھا «في الرفيق الأعلى في الرفيق الأعلى» اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک تازہ ٹہنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ ٹہنی میں نے ان سے لے لی۔ پہلے میں نے اسے چبایا، پھر صاف کر کے آپ کو دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مسواک کی، جس طرح پہلے آپ مسواک کیا کرتے تھے اس سے بھی اچھی طرح سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک مجھے عنایت فرمائی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا، یا ( راوی نے یہ بیان کیا کہ ) مسواک آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو اس دن جمع کر دیا جو آپ کی دنیا کی زندگی کا سب سے آخری اور آخرت کی زندگی کا سب سے پہلا دن تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها قالت توفي النبي صلى الله عليه وسلم في بيتي وفي يومي، وبين سحري ونحري، وكانت احدانا تعوذه بدعاء اذا مرض، فذهبت اعوذه، فرفع راسه الى السماء وقال " في الرفيق الاعلى في الرفيق الاعلى ". ومر عبد الرحمن بن ابي بكر وفي يده جريدة رطبة، فنظر اليه النبي صلى الله عليه وسلم فظننت ان له بها حاجة فاخذتها، فمضغت راسها ونفضتها فدفعتها اليه، فاستن بها كاحسن ما كان مستنا ثم ناولنيها فسقطت يده او سقطت من يده فجمع الله بين ريقي وريقه في اخر يوم من الدنيا واول يوم من الاخرة
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة، ان عايشة، اخبرته ان ابا بكر رضى الله عنه اقبل على فرس من مسكنه بالسنح حتى نزل، فدخل المسجد فلم يكلم الناس حتى دخل على عايشة، فتيمم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مغشى بثوب حبرة، فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله وبكى. ثم قال بابي انت وامي، والله لا يجمع الله عليك موتتين، اما الموتة التي كتبت عليك فقد متها. قال الزهري وحدثني ابو سلمة، عن عبد الله بن عباس، ان ابا بكر، خرج وعمر يكلم الناس فقال اجلس يا عمر، فابى عمر ان يجلس. فاقبل الناس اليه وتركوا عمر، فقال ابو بكر اما بعد من كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فان محمدا قد مات، ومن كان منكم يعبد الله فان الله حى لا يموت، قال الله {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل} الى قوله {الشاكرين} وقال والله لكان الناس لم يعلموا ان الله انزل هذه الاية حتى تلاها ابو بكر، فتلقاها منه الناس كلهم فما اسمع بشرا من الناس الا يتلوها. فاخبرني سعيد بن المسيب ان عمر قال والله ما هو الا ان سمعت ابا بكر تلاها فعقرت حتى ما تقلني رجلاى، وحتى اهويت الى الارض حين سمعته تلاها ان النبي صلى الله عليه وسلم قد مات
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة، ان عايشة، اخبرته ان ابا بكر رضى الله عنه اقبل على فرس من مسكنه بالسنح حتى نزل، فدخل المسجد فلم يكلم الناس حتى دخل على عايشة، فتيمم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مغشى بثوب حبرة، فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله وبكى. ثم قال بابي انت وامي، والله لا يجمع الله عليك موتتين، اما الموتة التي كتبت عليك فقد متها. قال الزهري وحدثني ابو سلمة، عن عبد الله بن عباس، ان ابا بكر، خرج وعمر يكلم الناس فقال اجلس يا عمر، فابى عمر ان يجلس. فاقبل الناس اليه وتركوا عمر، فقال ابو بكر اما بعد من كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فان محمدا قد مات، ومن كان منكم يعبد الله فان الله حى لا يموت، قال الله {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل} الى قوله {الشاكرين} وقال والله لكان الناس لم يعلموا ان الله انزل هذه الاية حتى تلاها ابو بكر، فتلقاها منه الناس كلهم فما اسمع بشرا من الناس الا يتلوها. فاخبرني سعيد بن المسيب ان عمر قال والله ما هو الا ان سمعت ابا بكر تلاها فعقرت حتى ما تقلني رجلاى، وحتى اهويت الى الارض حين سمعته تلاها ان النبي صلى الله عليه وسلم قد مات
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة، ان عايشة، اخبرته ان ابا بكر رضى الله عنه اقبل على فرس من مسكنه بالسنح حتى نزل، فدخل المسجد فلم يكلم الناس حتى دخل على عايشة، فتيمم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مغشى بثوب حبرة، فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله وبكى. ثم قال بابي انت وامي، والله لا يجمع الله عليك موتتين، اما الموتة التي كتبت عليك فقد متها. قال الزهري وحدثني ابو سلمة، عن عبد الله بن عباس، ان ابا بكر، خرج وعمر يكلم الناس فقال اجلس يا عمر، فابى عمر ان يجلس. فاقبل الناس اليه وتركوا عمر، فقال ابو بكر اما بعد من كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فان محمدا قد مات، ومن كان منكم يعبد الله فان الله حى لا يموت، قال الله {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل} الى قوله {الشاكرين} وقال والله لكان الناس لم يعلموا ان الله انزل هذه الاية حتى تلاها ابو بكر، فتلقاها منه الناس كلهم فما اسمع بشرا من الناس الا يتلوها. فاخبرني سعيد بن المسيب ان عمر قال والله ما هو الا ان سمعت ابا بكر تلاها فعقرت حتى ما تقلني رجلاى، وحتى اهويت الى الارض حين سمعته تلاها ان النبي صلى الله عليه وسلم قد مات
حدثني عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عايشة، وابن، عباس ان ابا بكر رضى الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته
حدثني عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عايشة، وابن، عباس ان ابا بكر رضى الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته
حدثني عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عايشة، وابن، عباس ان ابا بكر رضى الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا عبداللہ بن ابی شیبہ کی حدیث کی طرح، لیکن انہوں نے اپنی اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں ہم آپ کے منہ میں دوا دینے لگے تو آپ نے اشارہ سے دوا دینے سے منع کیا۔ ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا پینے سے ( بعض اوقات ) جو ناگواری ہوتی ہے یہ بھی اسی کا نتیجہ ہے ( اس لیے ہم نے اصرار کیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں جتنے آدمی ہیں سب کے منہ میں میرے سامنے دوا ڈالی جائے۔ صرف عباس رضی اللہ عنہ اس سے الگ ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ اس کام میں شریک نہیں تھے۔ اس کی روایت ابن ابی الزناد نے بھی کی، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔
حدثنا علي، حدثنا يحيى، وزاد، قالت عايشة لددناه في مرضه فجعل يشير الينا ان لا تلدوني فقلنا كراهية المريض للدواء. فلما افاق قال " الم انهكم ان تلدوني ". قلنا كراهية المريض للدواء. فقال " لا يبقى احد في البيت الا لد وانا انظر الا العباس، فانه لم يشهدكم ". رواه ابن ابي الزناد عن هشام عن ابيه عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم کو ازہر بن سعد سمان نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، انہیں ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس کا ذکر آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو کوئی ( خاص ) وصیت کی تھی؟ تو انہوں نے بتلایا کون کہتا ہے، میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی، آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ نے طشت منگوایا، پھر ایک طرف جھک گئے اور آپ کی وفات ہو گئی۔ اس وقت مجھے بھی کچھ معلوم نہیں ہوا، پھر علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے کب وصی بنا دیا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، اخبرنا ازهر، اخبرنا ابن عون، عن ابراهيم، عن الاسود، قال ذكر عند عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم اوصى الى علي، فقالت من قاله لقد رايت النبي صلى الله عليه وسلم واني لمسندته الى صدري، فدعا بالطست فانخنث فمات، فما شعرت، فكيف اوصى الى علي
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو وصی بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ لوگوں پر وصیت کرنا کیسے فرض ہے یا وصیت کرنے کا کیسے حکم ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے کتاب اللہ کے مطابق عمل کرتے رہنے کی وصیت کی تھی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا مالك بن مغول، عن طلحة، قال سالت عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما اوصى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لا. فقلت كيف كتب على الناس الوصية او امروا بها قال اوصى بكتاب الله
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن حکیم) نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑے تھے، نہ دینار، نہ کوئی غلام نہ باندی، سوا اپنے سفید خچر کے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوا کرتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور کچھ وہ زمین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مجاہدوں اور مسافروں کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن الحارث، قال ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا امة، الا بغلته البيضاء التي كان يركبها، وسلاحه، وارضا جعلها لابن السبيل صدقة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ شدت مرض کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی بہت بڑھ گئی تھی۔ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا نے کہا: آہ، ابا جان کو کتنی بے چینی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ آج کے بعد تمہارے ابا جان کی یہ بے چینی نہیں رہے گی۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں، ہائے ابا جان! آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، ہائے ابا جان! آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ ہم جبرائیل علیہ السلام کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دفن کر دئیے گئے تو آپ رضی اللہ عنہا نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا ”انس! تمہارے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش پر مٹی ڈالنے کے لیے کس طرح آمادہ ہو گئے تھے۔“
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، قال لما ثقل النبي صلى الله عليه وسلم جعل يتغشاه، فقالت فاطمة عليها السلام واكرب اباه. فقال لها " ليس على ابيك كرب بعد اليوم ". فلما مات قالت يا ابتاه، اجاب ربا دعاه، يا ابتاه من جنة الفردوس ماواه، يا ابتاه الى جبريل ننعاه. فلما دفن قالت فاطمة عليها السلام يا انس، اطابت انفسكم ان تحثوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم التراب
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے کئی اہل علم کی موجودگی میں خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت صحت میں فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کی روح قبض کرنے سے پہلے انہیں جنت میں ان کی قیام گاہ دکھائی گئی، پھر اختیار دیا گیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وقت آپ پر غشی طاری ہو گئی۔ جب ہوش میں آئے تو آپ نے اپنی نظر گھر کی چھت کی طرف اٹھا لی اور فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» ”اے اللہ! مجھے اپنی بارگاہ میں انبیاء اور صدیقین سے ملا دے۔“ میں اسی وقت سمجھ گئی کہ اب آپ ہمیں پسند نہیں کر سکتے اور مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو آپ حالت صحت میں ہم سے بیان کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا وہ یہی تھا کہ «اللهم الرفيق الأعلى» ۔
حدثنا بشر بن محمد، حدثنا عبد الله، قال يونس قال الزهري اخبرني سعيد بن المسيب، في رجال من اهل العلم ان عايشة قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول وهو صحيح " انه لم يقبض نبي حتى يرى مقعده من الجنة، ثم يخير ". فلما نزل به وراسه على فخذي غشي عليه، ثم افاق، فاشخص بصره الى سقف البيت ثم قال " اللهم الرفيق الاعلى ". فقلت اذا لا يختارنا. وعرفت انه الحديث الذي كان يحدثنا وهو صحيح قالت فكانت اخر كلمة تكلم بها " اللهم الرفيق الاعلى
حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن عايشة، وابن، عباس رضى الله عنهم ان النبي صلى الله عليه وسلم لبث بمكة عشر سنين ينزل عليه القران، وبالمدينة عشرا
حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن عايشة، وابن، عباس رضى الله عنهم ان النبي صلى الله عليه وسلم لبث بمكة عشر سنين ينزل عليه القران، وبالمدينة عشرا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے بھی اسی طرح خبر دی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي وهو ابن ثلاث وستين. قال ابن شهاب واخبرني سعيد بن المسيب مثله
ہم سے قبیصہ بن عتبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے یہاں تیس صاع جَو کے بدلے میں گروی رکھی ہوئی تھی۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت توفي النبي صلى الله عليه وسلم ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين. {يعني صاعا من شعير}