Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
اور یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اور یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
وقال يونس عن الزهري، قال عروة قالت عايشة رضى الله عنها كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في مرضه الذي مات فيه " يا عايشة ما ازال اجد الم الطعام الذي اكلت بخيبر، فهذا اوان وجدت انقطاع ابهري من ذلك السم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «والمرسلات عرفا» کی قرآت کر رہے تھے، اس کے بعد پھر آپ نے ہمیں کبھی نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما عن ام الفضل بنت الحارث، قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب ب {المرسلات عرفا} ثم ما صلى لنا بعدها حتى قبضه الله
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ آپ کو ( مجالس میں ) اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا کہ اس جیسے تو ہمارے بچے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ طرز عمل جس وجہ سے اختیار کیا، وہ آپ کو معلوم بھی ہے؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ( یعنی ) «إذا جاء نصر الله والفتح» کے متعلق پوچھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( آیت میں ) اسی کی اطلاع دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو تم نے بتایا وہی میں بھی اس آیت کے متعلق جانتا ہوں۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان عمر بن الخطاب رضى الله عنه يدني ابن عباس فقال له عبد الرحمن بن عوف ان لنا ابناء مثله. فقال انه من حيث تعلم. فسال عمر ابن عباس عن هذه الاية {اذا جاء نصر الله والفتح} فقال اجل رسول الله صلى الله عليه وسلم اعلمه اياه، فقال ما اعلم منها الا ما تعلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا معلوم بھی ہے جمعرات کے دن کیا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں تیزی پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ لاؤ، میں تمہارے لیے وصیت نامہ لکھ دوں کہ تم اس پر چلو گے تو اس کے بعد پھر تم کبھی صحیح راستے کو نہ چھوڑو گے لیکن یہ سن کر وہاں اختلاف پیدا ہو گیا، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نزاع نہ ہونا چاہئیے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ کیا آپ شدت مرض کی وجہ سے بے معنی کلام فرما رہے ہیں؟ ( جو آپ کی شان اقدس سے بعید ہے ) پھر آپ سے بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ پس آپ سے صحابہ پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ ( یہاں شور و غل نہ کرو ) میں جس کام میں مشغول ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو۔ اس کے بعد آپ نے صحابہ کو تین چیزوں کی وصیت کی، فرمایا کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔ ایلچی ( جو قبائل کے تمہارے پاس آئیں ) ان کی اس طرح خاطر کیا کرنا جس طرح میں کرتا آیا ہوں اور تیسری بات ابن عباس نے یا سعید نے بیان نہیں کی یا سعید بن جبیر نے یا سلیمان نے کہا میں تیسری بات بھول گیا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان، عن سليمان الاحول، عن سعيد بن جبير، قال قال ابن عباس يوم الخميس وما يوم الخميس اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه فقال " ايتوني اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده ابدا ". فتنازعوا، ولا ينبغي عند نبي تنازع، فقالوا ما شانه اهجر استفهموه فذهبوا يردون عليه. فقال " دعوني فالذي انا فيه خير مما تدعوني اليه ". واوصاهم بثلاث قال " اخرجوا المشركين من جزيرة العرب، واجيزوا الوفد بنحو ما كنت اجيزهم ". وسكت عن الثالثة، او قال فنسيتها
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا تو گھر میں بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لاؤ، میں تمہارے لیے ایک دستاویز لکھ دوں، اگر تم اس پر چلتے رہے تو پھر تم گمراہ نہ ہو سکو گے۔ اس پر ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی سختی ہو رہی ہے، تمہارے پاس قرآن موجود ہے۔ ہمارے لیے تو اللہ کی کتاب بس کافی ہے۔ پھر گھر والوں میں جھگڑا ہونے لگا، بعض نے تو یہ کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز لکھنے کی دے دو کہ اس پر آپ ہدایت لکھوا دیں اور تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو۔ بعض لوگوں نے اس کے خلاف دوسری رائے پر اصرار کیا۔ جب شور و غل اور نزاع زیادہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے جاؤ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ مصیبت سب سے بڑی یہ تھی کہ لوگوں نے اختلاف اور شور کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ہدایت نہیں لکھنے دی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما حضر رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي البيت رجال، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هلموا اكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده ". فقال بعضهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد غلبه الوجع وعندكم القران، حسبنا كتاب الله. فاختلف اهل البيت واختصموا، فمنهم من يقول قربوا يكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده. ومنهم من يقول غير ذلك، فلما اكثروا اللغو والاختلاف قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قوموا ". قال عبيد الله فكان يقول ابن عباس ان الرزية كل الرزية ما حال بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين ان يكتب لهم ذلك الكتاب لاختلافهم ولغطهم
حدثنا يسرة بن صفوان بن جميل اللخمي، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة عليها السلام في شكواه الذي قبض فيه، فسارها بشىء، فبكت، ثم دعاها فسارها بشىء فضحكت فسالنا عن ذلك. فقالت سارني النبي صلى الله عليه وسلم انه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت، ثم سارني فاخبرني اني اول اهله يتبعه فضحكت
حدثنا يسرة بن صفوان بن جميل اللخمي، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة عليها السلام في شكواه الذي قبض فيه، فسارها بشىء، فبكت، ثم دعاها فسارها بشىء فضحكت فسالنا عن ذلك. فقالت سارني النبي صلى الله عليه وسلم انه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت، ثم سارني فاخبرني اني اول اهله يتبعه فضحكت
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ آپ آیت «مع الذين أنعم الله عليهم» کی تلاوت فرما رہے تھے ( یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے ) مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن سعد، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت اسمع انه لا يموت نبي حتى يخير بين الدنيا والاخرة، فسمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول في مرضه الذي مات فيه واخذته بحة يقول {مع الذين انعم الله عليهم} الاية، فظننت انه خير
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الموت میں باربار فرماتے تھے۔ ” ( «اللهم» ) «الرفيق الأعلى» اے اللہ! مجھے میرے رفقاء ( انبیاء اور صدیقین ) میں پہنچا دے ( جو اعلیٰ علیین میں رہتے ہیں ) ۔“
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، عن سعد، عن عروة، عن عايشة، قالت لما مرض النبي صلى الله عليه وسلم المرض الذي مات فيه جعل يقول " في الرفيق الاعلى
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہ عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تندرستی کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی گئی تو پہلے جنت میں اس کی قیام گاہ اسے ضرور دکھا دی گئی، پھر اسے اختیار دیا گیا ( راوی کو شک تھا کہ لفظ «يحيا» ہے یا «يخير»، دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے ) پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے اور وقت قریب آ گیا تو سر مبارک عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر تھا اور آپ پر غشی طاری ہو گئی تھی، جب کچھ ہوش ہوا تو آپ کی آنکھیں گھر کی چھت کی طرف اٹھ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «اللهم في الرفيق الأعلى» ۔ میں سمجھ گئی کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ( یعنی دنیاوی زندگی کو ) پسند نہیں فرمائیں گے۔ مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تندرستی کے زمانے میں فرمائی تھی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال عروة بن الزبير ان عايشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صحيح يقول " انه لم يقبض نبي قط حتى يرى مقعده من الجنة ثم يحيا او يخير ". فلما اشتكى وحضره القبض وراسه على فخذ عايشة غشي عليه، فلما افاق شخص بصره نحو سقف البيت ثم قال " اللهم في الرفيق الاعلى ". فقلت اذا لا يجاورنا. فعرفت انه حديثه الذي كان يحدثنا وهو صحيح
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے صخر بن جویریہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد (قاسم بن محمد) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ( ان کے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک استعمال کے لیے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کی طرف دیکھتے رہے۔ چنانچہ میں نے ان سے مسواک لے لی اور اسے اپنے دانتوں سے چبا کر اچھی طرح جھاڑنے اور صاف کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ آپ نے وہ مسواک استعمال کی جتنے عمدہ طریقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسواک کر رہے تھے، میں نے آپ کو اتنی اچھی طرح مسواک کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ مسواک سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی اٹھائی اور فرمایا۔ «في الرفيق الأعلى» تین مرتبہ، اور آپ کا انتقال ہو گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان میں تھا۔
حدثنا محمد، حدثنا عفان، عن صخر بن جويرية، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، دخل عبد الرحمن بن ابي بكر على النبي صلى الله عليه وسلم وانا مسندته الى صدري، ومع عبد الرحمن سواك رطب يستن به، فابده رسول الله صلى الله عليه وسلم بصره، فاخذت السواك فقصمته ونفضته وطيبته، ثم دفعته الى النبي صلى الله عليه وسلم فاستن به، فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم استن استنانا قط احسن منه، فما عدا ان فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم رفع يده او اصبعه ثم قال " في الرفيق الاعلى ". ثلاثا ثم قضى، وكانت تقول مات بين حاقنتي وذاقنتي
مجھ سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو اپنے اوپر معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) پڑھ کر دم کر لیا کرتے تھے اور اپنے جسم پر اپنے ہاتھ پھیر لیا کرتے تھے، پھر جب وہ مرض آپ کو لاحق ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو میں معوذتین پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی اور ہاتھ پر دم کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرا کرتی تھی۔
حدثني حبان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة، ان عايشة رضى الله عنها اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اشتكى نفث على نفسه بالمعوذات ومسح عنه بيده فلما اشتكى وجعه الذي توفي فيه طفقت انفث على نفسه بالمعوذات، التي كان ينفث، وامسح بيد النبي صلى الله عليه وسلم عنه
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، وفات سے کچھ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پشت سے ان کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ آپ نے کان لگا کر سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے ہیں «اللهم اغفر لي وارحمني، وألحقني بالرفيق» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور میرے رفیقوں سے مجھے ملا۔“
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد العزيز بن مختار، حدثنا هشام بن عروة، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، ان عايشة، اخبرته انها، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم واصغت اليه قبل ان يموت، وهو مسند الى ظهره يقول " اللهم اغفر لي وارحمني، والحقني بالرفيق
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا، ان سے ہلال بن ابی حمید وزان نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھلی رکھی جاتی لیکن آپ کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی سجدہ نہ کیا جانے لگے۔
حدثنا الصلت بن محمد، حدثنا ابو عوانة، عن هلال الوزان، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي لم يقم منه " لعن الله اليهود، اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". قالت عايشة لولا ذلك لابرز قبره. خشي ان يتخذ مسجدا
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اٹھنا بیٹھنا دشوار ہو گیا اور آپ کے مرض نے شدت اختیار کر لی تو تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے آپ نے میرے گھر میں ایام مرض گزارنے کے لیے اجازت مانگی۔ سب نے جب اجازت دے دی تو آپ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے، آپ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے۔ جن دو صحابہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہارا لیے ہوئے تھے، ان میں ایک عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے اور ایک اور صاحب۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کی خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دی تو انہوں نے بتلایا، معلوم ہے وہ دوسرے صاحب جن کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا، کون ہیں؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا مجھے تو نہیں معلوم ہے۔ انہوں نے بتلایا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں آ گئے اور تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات مشکیزے پانی کے بھر کر لاؤ اور مجھ پر ڈال دو، ممکن ہے اس طرح میں لوگوں کو کچھ نصیحت کرنے کے قابل ہو جاؤں۔ چنانچہ ہم نے آپ کو آپ کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک لگن میں بٹھایا اور انہیں مشکیزوں سے آپ پر پانی دھارنے لگے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے روکا کہ بس ہو چکا، بیان کیا کہ پھر آپ لوگوں کے مجمع میں گئے اور نماز پڑھائی اور لوگوں کو خطاب کیا۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم واشتد به وجعه استاذن ازواجه ان يمرض في بيتي، فاذن له، فخرج وهو بين الرجلين تخط رجلاه في الارض، بين عباس بن عبد المطلب وبين رجل اخر. قال عبيد الله فاخبرت عبد الله بالذي قالت عايشة، فقال لي عبد الله بن عباس هل تدري من الرجل الاخر الذي لم تسم عايشة قال قلت لا. قال ابن عباس هو علي. وكانت عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم تحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما دخل بيتي واشتد به وجعه قال " هريقوا على من سبع قرب لم تحلل اوكيتهن لعلي اعهد الى الناس ". فاجلسناه في مخضب لحفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، ثم طفقنا نصب عليه من تلك القرب، حتى طفق يشير الينا بيده ان قد فعلتن قالت ثم خرج الى الناس فصلى لهم وخطبهم
واخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عايشة، وعبد الله بن عباس، رضى الله عنهم قالا لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة له على وجهه، فاذا اغتم كشفها عن وجهه وهو كذلك يقول " لعنة الله على اليهود والنصارى، اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". يحذر ما صنعوا
واخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عايشة، وعبد الله بن عباس، رضى الله عنهم قالا لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة له على وجهه، فاذا اغتم كشفها عن وجهه وهو كذلك يقول " لعنة الله على اليهود والنصارى، اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". يحذر ما صنعوا
مجھے عبیداللہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، میں نے اس معاملہ ( یعنی ایام مرض میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے ) کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باربار پوچھا۔ میں باربار آپ سے صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ جو شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ) آپ کی جگہ پر کھڑا ہو گا، لوگ اس سے کبھی محبت نہیں رکھ سکتے بلکہ میرا خیال تھا کہ لوگ اس سے بدفالی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم نہ دیں۔ اس کی روایت ابن عمر، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
اخبرني عبيد الله، ان عايشة، قالت لقد راجعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك، وما حملني على كثرة مراجعته الا انه لم يقع في قلبي ان يحب الناس بعده رجلا قام مقامه ابدا، ولا كنت ارى انه لن يقوم احد مقامه الا تشاءم الناس به، فاردت ان يعدل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ابي بكر. رواه ابن عمر وابو موسى وابن عباس رضى الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان ( سر رکھے ہوئے ) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی شدت سکرات ) دیکھنے کے بعد اب میں کسی کے لیے بھی نزع کی شدت کو برا نہیں سمجھتی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني ابن الهاد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت مات النبي صلى الله عليه وسلم وانه لبين حاقنتي وذاقنتي، فلا اكره شدة الموت لاحد ابدا بعد النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے خبر دی اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تین صحابہ میں سے ایک تھے جن کی ( غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کی ) توبہ قبول ہوئی تھی۔ انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر آئے۔ یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ سے پوچھا: ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آج مزاج کیا ہے؟ صبح انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ اب آپ کو افاقہ ہے۔ پھر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کے کہا کہ تم، اللہ کی قسم تین دن کے بعد زندگی گزارنے پر تم مجبور ہو جاؤ گے۔ اللہ کی قسم، مجھے تو ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے صحت نہیں پا سکیں گے۔ موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے۔ اب ہمیں آپ کے پاس چلنا چاہئیے اور آپ سے پوچھنا چاہئیے کہ ہمارے بعد خلافت کسے ملے گی۔ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر کوئی دوسرا مستحق ہو گا تو وہ بھی معلوم ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق اپنے خلیفہ کو ممکن ہے کچھ وصیتیں کر دیں لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر ہم نے اس وقت آپ سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور آپ نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کر دیں گے۔ میں تو ہرگز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھوں گا۔
حدثني اسحاق، اخبرنا بشر بن شعيب بن ابي حمزة، قال حدثني ابي، عن الزهري، قال اخبرني عبد الله بن كعب بن مالك الانصاري وكان كعب بن مالك احد الثلاثة الذين تيب عليهم ان عبد الله بن عباس اخبره ان علي بن ابي طالب رضى الله عنه خرج من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجعه الذي توفي فيه، فقال الناس يا ابا حسن، كيف اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اصبح بحمد الله باريا، فاخذ بيده عباس بن عبد المطلب، فقال له انت والله بعد ثلاث عبد العصا، واني والله لارى رسول الله صلى الله عليه وسلم سوف يتوفى من وجعه هذا، اني لاعرف وجوه بني عبد المطلب عند الموت، اذهب بنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلنساله فيمن هذا الامر، ان كان فينا علمنا ذلك، وان كان في غيرنا علمناه فاوصى بنا. فقال علي انا والله لين سالناها رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنعناها لا يعطيناها الناس بعده، واني والله لا اسالها رسول الله صلى الله عليه وسلم