Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے تو کچھ لوگ ہم میں سے عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھے، کچھ حج کا اور کچھ عمرہ اور حج دونوں کا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حج کا احرام باندھا تھا۔ جو لوگ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے یا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا، وہ قربانی کے دن حلال ہوئے تھے۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ( کے لیے ہم نکلے ) ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ہم سے امام مالک نے بیان کیا، اسی طرح جو پہلے مذکور ہوا۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ( کے لیے ہم نکلے ) ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ہم سے امام مالک نے بیان کیا، اسی طرح جو پہلے مذکور ہوا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الاسود، محمد بن عبد الرحمن بن نوفل عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمنا من اهل بعمرة، ومنا من اهل بحجة، ومنا من اهل بحج وعمرة، واهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج، فاما من اهل بالحج او جمع الحج والعمرة فلم يحلوا حتى يوم النحر. حدثنا عبد الله بن يوسف اخبرنا مالك وقال مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع. حدثنا اسماعيل حدثنا مالك مثله
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے، ان سے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کے والد سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ بیماری نے مجھے موت کے منہ میں لا ڈالا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے، میرا مرض اس حد کو پہنچ گیا ہے اور میرے پاس مال ہے، جس کی وارث خالی میری ایک لڑکی ہے، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا، آدھا کر دوں۔ فرمایا کہ نہیں۔ میں نے فرمایا کیا پھر تہائی کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اگر اس سے اللہ کی رضا مقصود رہی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی تمہیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ( بیماری کی وجہ سے ) کیا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ( مدینہ ) نہیں جا سکوں گا؟ فرمایا اگر تم نہیں جا سکے تب بھی اگر تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوئی عمل کرو گے تو تمہارا درجہ اللہ کے یہاں اور بلند ہو گا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور تم سے کچھ لوگوں ( مسلمانوں ) کو نفع پہنچے گا اور کچھ لوگوں ( اسلام کے دشمنوں ) کو نقصان پہنچے گا۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو کامل فرما اور انہیں پیچھے نہ ہٹا لیکن نقصان میں تو سعد بن خولہ رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے ظاہر فرمایا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابراهيم هو ابن سعد حدثنا ابن شهاب، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال عادني النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع من وجع، اشفيت منه على الموت، فقلت يا رسول الله بلغ بي من الوجع ما ترى، وانا ذو مال ولا يرثني الا ابنة لي واحدة افاتصدق بثلثى مالي قال " لا ". قلت افاتصدق بشطره قال " لا ". قلت فالثلث قال " والثلث كثير، انك ان تذر ورثتك اغنياء خير من ان تذرهم عالة يتكففون الناس، ولست تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله الا اجرت بها، حتى اللقمة تجعلها في في امراتك ". قلت يا رسول الله ااخلف بعد اصحابي قال " انك لن تخلف فتعمل عملا تبتغي به وجه الله الا ازددت به درجة ورفعة، ولعلك تخلف حتى ينتفع بك اقوام ويضر بك اخرون، اللهم امض لاصحابي هجرتهم، ولا تردهم على اعقابهم. لكن البايس سعد ابن خولة رثى له رسول الله صلى الله عليه وسلم ان توفي بمكة
مجھ سے ابراہیم بن منذر خزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا تھا۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما اخبرهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حلق راسه في حجة الوداع
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے بعض اصحاب نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈوایا تھا اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے صرف ترشوا لیا تھا۔
حدثنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا محمد بن بكر، حدثنا ابن جريج، اخبرني موسى بن عقبة، عن نافع، اخبره ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم حلق في حجة الوداع واناس من اصحابه وقصر بعضهم
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے شہاب نے بیان کیا (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں کھڑے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ یہ حجۃ الوداع کا موقع تھا۔ ان کا گدھا صف کے کچھ حصے سے گزرا، پھر وہ اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن ابن شهاب،. وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، حدثني عبيد الله بن عبد الله، ان عبد الله بن عباس رضى الله عنهما اخبره انه، اقبل يسير على حمار، ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم بمنى في حجة الوداع يصلي بالناس، فسار الحمار بين يدى بعض الصف، ثم نزل عنه، فصف مع الناس
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( سفر میں ) رفتار کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیچ کی چال چلتے تھے اور جب کشادہ جگہ ملتی تو اس سے تیز چلتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثني ابي قال، سيل اسامة وانا شاهد، عن سير النبي، صلى الله عليه وسلم في حجته. فقال العنق، فاذا وجد فجوة نص
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے عبداللہ بن یزید خطمی نے اور انہیں ابوایوب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشاء ملا کر ایک ساتھ پڑھی تھیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عدي بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد الخطمي، ان ابا ايوب، اخبره انه، صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع المغرب والعشاء جميعا
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے ساتھیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے سواری کے جانوروں کی درخواست کروں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ جیش عسرت ( یعنی غزوہ تبوک ) میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے لیے سواری کے جانوروں کا انتظام کرا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ غصہ میں تھے اور میں اسے معلوم نہ کر سکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار سے میں بہت غمگین واپس ہوا۔ یہ خوف بھی تھا کہ کہیں آپ سواری مانگنے کی وجہ سے خفا نہ ہو گئے ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی خبر دی، لیکن ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، وہ پکار رہے تھے، اے عبداللہ بن قیس! میں نے جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دو جوڑے اور یہ دو جوڑے اونٹ کے لے جاؤ۔ آپ نے چھ اونٹ عنایت فرمائے۔ ان اونٹوں کو آپ نے اسی وقت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدا تھا اور فرمایا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کو دے دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے یا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے انہیں دیا ہے، ان پر سوار ہو جاؤ۔ میں ان اونٹوں کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے یہ عنایت فرمائے ہیں لیکن اللہ کی قسم! کہ اب تمہیں ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس چلنا پڑے گا، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار فرمانا سنا تھا، کہیں تم یہ خیال نہ کر بیٹھو کہ میں نے تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے متعلق غلط بات کہہ دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہاری سچائی میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن اگر آپ کا اصرار ہے تو ہم ایسا بھی کر لیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو لے کر ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو دینے سے انکار کیا تھا لیکن پھر عنایت فرمایا۔ ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کی تھی۔
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال ارسلني اصحابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اساله الحملان لهم، اذ هم معه في جيش العسرة وهى غزوة تبوك فقلت يا نبي الله، ان اصحابي ارسلوني اليك لتحملهم. فقال " والله لا احملكم على شىء ". ووافقته، وهو غضبان ولا اشعر، ورجعت حزينا من منع النبي صلى الله عليه وسلم، ومن مخافة ان يكون النبي صلى الله عليه وسلم وجد في نفسه على، فرجعت الى اصحابي فاخبرتهم الذي قال النبي صلى الله عليه وسلم، فلم البث الا سويعة اذ سمعت بلالا ينادي اى عبد الله بن قيس. فاجبته، فقال اجب رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعوك، فلما اتيته، قال " خذ هذين القرينين وهذين القرينين لستة ابعرة ابتاعهن حينيذ من سعد فانطلق بهن الى اصحابك فقل ان الله او قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحملكم على هولاء فاركبوهن ". فانطلقت اليهم بهن، فقلت ان النبي صلى الله عليه وسلم يحملكم على هولاء ولكني والله لا ادعكم حتى ينطلق معي بعضكم الى من سمع مقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تظنوا اني حدثتكم شييا لم يقله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا لي انك عندنا لمصدق، ولنفعلن ما احببت. فانطلق ابو موسى بنفر منهم حتى اتوا الذين سمعوا قول رسول الله صلى الله عليه وسلم منعه اياهم، ثم اعطاءهم بعد، فحدثوهم بمثل ما حدثهم به ابو موسى
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سمیر قفان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے مصعب بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اور ابوداؤد طیالسی نے اس حدیث کو یوں بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے اور انہوں نے کہا میں نے مصعب سے سنا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن الحكم، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى تبوك، واستخلف عليا فقال اتخلفني في الصبيان والنساء قال " الا ترضى ان تكون مني بمنزلة هارون من موسى الا انه ليس نبي بعدي ". وقال ابو داود حدثنا شعبة عن الحكم سمعت مصعبا
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ مجھے صفوان بن یعلٰی بن امیہ نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ عسرت میں شریک تھا۔ بیان کیا کہ یعلٰی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مجھے اپنے تمام عملوں میں اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے۔ عطاء نے بیان کیا، ان سے صفوان نے بیان کیا کہ یعلٰی رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا اور ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ عطاء نے بیان کیا کہ مجھے صفوان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ان دونوں میں سے کس نے اپنے مقابل کا ہاتھ کاٹا تھا، یہ مجھے یاد نہیں ہے۔ بہرحال جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے جو کھینچا تو کاٹنے والے کے آگے کا ایک دانت بھی ساتھ چلا آیا۔ وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کے ٹوٹنے پر کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ عطاء نے بیان کیا میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا وہ تیرے منہ میں اپنا ہاتھ رہنے دیتا تاکہ تو اسے اونٹ کی طرح چبا جاتا۔
حدثنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا محمد بن بكر، اخبرنا ابن جريج، قال سمعت عطاء، يخبر قال اخبرني صفوان بن يعلى بن امية، عن ابيه، قال غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم العسرة قال كان يعلى يقول تلك الغزوة اوثق اعمالي عندي. قال عطاء فقال صفوان قال يعلى فكان لي اجير فقاتل انسانا فعض احدهما يد الاخر، قال عطاء فلقد اخبرني صفوان ايهما عض الاخر فنسيته، قال فانتزع المعضوض يده من في العاض، فانتزع احدى ثنيتيه، فاتيا النبي صلى الله عليه وسلم فاهدر ثنيته. قال عطاء وحسبت انه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " افيدع يده في فيك تقضمها، كانها في في فحل يقضمها
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے، ( جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے لڑکوں میں وہ ہی کعب رضی اللہ عنہ کو راستے میں پکڑ کر چلا کرتے تھے ) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکنے کا واقعہ سنا۔ انہوں نے بتایا کہ غزوہ تبوک کے سوا اور کسی غزوہ میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہ ہوا ہوں۔ البتہ غزوہ بدر میں بھی شریک نہیں ہوا تھا لیکن جو لوگ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کی خفگی کا اظہار نہیں فرمایا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر صرف قریش کے قافلے کی تلاش میں نکلے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی پہلی تیاری کے بغیر، آپ کی دشمنوں سے ٹکر ہو گئی اور میں لیلہ عقبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ یہ وہی رات ہے جس میں ہم نے ( مکہ میں ) اسلام کے لیے عہد کیا تھا اور مجھے تو یہ غزوہ بدر سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگرچہ بدر کا لوگوں کی زبانوں پر چرچہ زیادہ ہے۔ میرا واقعہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں کبھی اتنا قوی اور اتنا صاحب مال نہیں ہوا تھا جتنا اس موقع پر تھا۔ جبکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کے غزوے میں شریک نہیں ہو سکا تھا۔ اللہ کی قسم! اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو اونٹ جمع نہیں ہوئے تھے لیکن اس موقع پر میرے پاس دو اونٹ موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ اس کے لیے ذومعنی الفاظ استعمال کیا کرتے تھے لیکن اس غزوہ کا جب موقع آیا تو گرمی بڑی سخت تھی، سفر بھی بہت لمبا تھا، بیابانی راستہ اور دشمن کی فوج کی کثرت تعداد! تمام مشکلات سامنے تھیں۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے اس غزوہ کے متعلق بہت تفصیل کے ساتھ بتا دیا تھا تاکہ اس کے مطابق پوری طرح سے تیاری کر لیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سمت کی بھی نشاندہی کر دی جدھر سے آپ کا جانے کا ارادہ تھا۔ مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت تھے۔ اتنے کہ کسی رجسٹر میں سب کے ناموں کا لکھنا بھی مشکل تھا۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کوئی بھی شخص اگر اس غزوے میں شریک نہ ہونا چاہتا تو وہ یہ خیال کر سکتا تھا کہ اس کی غیر حاضری کا کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ سوا اس کے کہ اس کے متعلق وحی نازل ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس غزوہ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو پھل پکنے کا زمانہ تھا اور سایہ میں بیٹھ کر لوگ آرام کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تیاریوں میں مصروف تھے اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی۔ لیکن میں روزانہ سوچا کرتا تھا کہ کل سے میں بھی تیاری کروں گا اور اس طرح ہر روز اسے ٹالتا رہا۔ مجھے اس کا یقین تھا کہ میں تیاری کر لوں گا۔ مجھے آسانیاں میسر ہیں، یوں ہی وقت گزرتا رہا اور آخر لوگوں نے اپنی تیاریاں مکمل بھی کر لیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ بھی ہو گئے۔ اس وقت تک میں نے تیاری نہیں کی تھی۔ اس موقع پر بھی میں نے اپنے دل کو یہی کہہ کر سمجھا لیا کہ کل یا پرسوں تک تیاری کر لوں گا اور پھر لشکر سے جا ملوں گا۔ کوچ کے بعد دوسرے دن میں نے تیاری کے لیے سوچا لیکن اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ پھر تیسرے دن کے لیے سوچا اور اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ یوں ہی وقت گزر گیا اور اسلامی لشکر بہت آگے بڑھ گیا۔ غزوہ میں شرکت میرے لیے بہت دور کی بات ہو گئی اور میں یہی ارادہ کرتا رہا کہ یہاں سے چل کر انہیں پا لوں گا۔ کاش! میں نے ایسا کر لیا ہوتا لیکن یہ میرے نصیب میں نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر نکلتا تو مجھے بڑا رنج ہوتا کیونکہ یا تو وہ لوگ نظر آتے جن کے چہروں سے نفاق ٹپکتا تھا یا پھر وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور اور ضعیف قرار دے دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں کسی سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن جب آپ تبوک پہنچ گئے تو وہیں ایک مجلس میں آپ نے دریافت فرمایا کہ کعب نے کیا کیا؟ بنو سلمہ کے ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! اس کے غرور نے اسے آنے نہیں دیا۔ ( وہ حسن و جمال یا لباس پر اترا کر رہ گیا ) اس پر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بولے تم نے بری بات کہی۔ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہمیں ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے ہیں تو اب مجھ پر فکر سوار ہوا اور میرا ذہن کوئی ایسا جھوٹا بہانہ تلاش کرنے لگا جس سے میں کل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی سے بچ سکوں۔ اپنے گھر کے ہر عقلمند آدمی سے اس کے متعلق میں نے مشورہ لیا لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے بالکل قریب آ چکے ہیں تو غلط خیالات میرے ذہن سے نکل گئے اور مجھے یقین ہو گیا کہ اس معاملہ میں جھوٹ بول کر میں اپنے کو کسی طرح محفوظ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں نے سچی بات کہنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ جب آپ کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو یہ آپ کی عادت تھی کہ پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے۔ جب آپ اس عمل سے فارغ ہو چکے تو آپ کی خدمت میں لوگ آنے لگے جو غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور قسم کھا کھا کر اپنے عذر بیان کرنے لگے۔ ایسے لوگوں کی تعداد اسی کے قریب تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہر کو قبول فرما لیا، ان سے عہد لیا۔ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کیا۔ اس کے بعد میں حاضر ہوا۔ میں نے سلام کیا تو آپ مسکرائے۔ آپ کی مسکراہٹ میں خفگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ، میں چند قدم چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تم غزوہ میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔ کیا تم نے کوئی سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے عرض کیا، میرے پاس سواری موجود تھی۔ اللہ کی قسم! اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی دنیادار شخص کے سامنے آج بیٹھا ہوتا تو کوئی نہ کوئی عذر گھڑ کر اس کی خفگی سے بچ سکتا تھا، مجھے خوبصورتی کے ساتھ گفتگو کا سلیقہ معلوم ہے۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اگر آج میں آپ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بیان کر کے آپ کو راضی کر لوں تو بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا۔ اس کے بجائے اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی بات بیان کر دوں تو یقیناً آپ کو میری طرف سے خفگی ہو گی لیکن اللہ سے مجھے معافی کی پوری امید ہے۔ نہیں، اللہ کی قسم! مجھے کوئی عذر نہیں تھا، اللہ کی قسم اس وقت سے پہلے کبھی میں اتنا فارغ البال نہیں تھا اور پھر بھی میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہو سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچی بات بتا دی۔ اچھا اب جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں خود کوئی فیصلہ کر دے۔ میں اٹھ گیا اور میرے پیچھے بنو سلمہ کے کچھ لوگ بھی دوڑے ہوئے آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! ہمیں تمہارے متعلق یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سے پہلے تم نے کوئی گناہ کیا ہے اور تم نے بڑی کوتاہی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ویسا ہی کوئی عذر نہیں بیان کیا جیسا دوسرے نہ شریک ہونے والوں نے بیان کر دیا تھا۔ تمہارے گناہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار ہی کافی ہو جاتا۔ اللہ کی قسم! ان لوگوں نے مجھے اس پر اتنی ملامت کی کہ مجھے خیال آیا کہ واپس جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی جھوٹا عذر کر آؤں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کیا میرے علاوہ کسی اور نے بھی مجھ جیسا عذر بیان کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں دو حضرات نے اسی طرح معذرت کی جس طرح تم نے کی ہے اور انہیں جواب بھی وہی ملا ہے جو تمہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ ان کے نام کیا ہیں؟ انہوں نے بتا کیا کہ مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دو ایسے صحابہ کا نام انہوں نے لے دیا تھا جو صالح تھے اور بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا طرز عمل میرے لیے نمونہ بن گیا۔ چنانچہ انہوں نے جب ان بزرگوں کا نام لیا تو میں اپنے گھر چلا آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی، بہت سے لوگ جو غزوے میں شریک نہیں ہوئے تھے، ان میں سے صرف ہم تین تھے! لوگ ہم سے الگ رہنے لگے اور سب لوگ بدل گئے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ ہم سے ساری دنیا بدل گئی ہے۔ ہمارا اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ پچاس دن تک ہم اسی طرح رہے، میرے دو ساتھیوں نے تو اپنے گھروں سے نکلنا ہی چھوڑ دیا، بس روتے رہتے تھے لیکن میرے اندر ہمت تھی کہ میں باہر نکلتا تھا، مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھوما کرتا تھا لیکن مجھ سے بولتا کوئی نہ تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی حاضر ہوتا تھا، آپ کو سلام کرتا، جب آپ نماز کے بعد مجلس میں بیٹھتے، میں اس کی جستجو میں لگا رہتا تھا کہ دیکھوں سلام کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہونٹ ہلے یا نہیں، پھر آپ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگ جاتا اور آپ کو کنکھیوں سے دیکھتا رہتا جب میں اپنی نماز میں مشغول ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھتے لیکن جونہی میں آپ کی طرف دیکھتا آپ رخ مبارک پھیر لیتے۔ آخر جب اس طرح لوگوں کی بےرخی بڑھتی ہی گئی تو میں ( ایک دن ) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے اور مجھے ان سے بہت گہرا تعلق تھا، میں نے انہیں سلام کیا، لیکن اللہ کی قسم! انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا، ابوقتادہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ اور اس کے رسول سے مجھے کتنی محبت ہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اللہ کی قسم دے کر لیکن اب بھی وہ خاموش تھے، پھر میں نے اللہ کا واسطہ دے کر ان سے یہی سوال کیا۔ اس مرتبہ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اس پر میرے آنسو پھوٹ پڑے۔ میں واپس چلا آیا اور دیوار پر چڑھ کر ( نیچے، باہر اتر آیا ) انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن میں مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ شام کا ایک کاشتکار جو غلہ بیچنے مدینہ آیا تھا، پوچھ رہا تھا کہ کعب بن مالک کہاں رہتے ہیں؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تو وہ میرے پاس آیا اور ملک غسان کا ایک خط مجھے دیا، اس خط میں یہ تحریر تھا۔ ”امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہار ے صاحب ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے ساتھ زیادتی کرنے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کوئی ذلیل نہیں پیدا کیا ہے کہ تمہارا حق ضائع کیا جائے، تم ہمارے پاس آ جاؤ، ہم تمہارے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کریں گے۔“ جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا کہ یہ ایک اور امتحان آ گیا۔ میں نے اس خط کو تنور میں جلا دیا۔ ان پچاس دنوں میں سے جب چالیس دن گزر چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی میرے پاس آئے اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی کے بھی قریب نہ جاؤ۔ میں نے پوچھا میں اسے طلاق دے دوں یا پھر مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ انہوں نے بتایا کہ نہیں صرف ان سے جدا ہو، ان کے قریب نہ جاؤ میرے دونوں ساتھیوں کو ( جنہوں نے میری طرح معذرت کی تھی ) بھی یہی حکم آپ نے بھیجا تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اب اپنے میکے چلی جاؤ اور اس وقت تک وہیں رہو جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا کوئی فیصلہ نہ کر دے۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہلال بن امیہ ( جن کا مقاطعہ ہوا تھا ) کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہلال بن امیہ بہت ہی بوڑھے اور کمزور ہیں، ان کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ہے، کیا اگر میں ان کی خدمت کر دیا کروں تو آپ ناپسند فرمائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف وہ تم سے صحبت نہ کریں۔ انہوں نے عرض کی۔ اللہ کی قسم! وہ تو کسی چیز کے لیے حرکت بھی نہیں کر سکتے۔ جب سے یہ خفگی ان پر ہوئی ہے وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ان کے آنسو تھمنے میں نہیں آتے۔ میرے گھر کے بعض لوگوں نے کہا کہ جس طرح ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو ان کی خدمت کرتے رہنے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی ہے، آپ بھی اسی طرح کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لیجئے۔ میں نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لوں گا، میں جوان ہوں، معلوم نہیں جب سے اجازت لینے جاؤں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمائیں۔ اس طرح دس دن اور گزر گئے اور جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت فرمائی تھی اس کے پچاس دن پورے ہو گئے۔ پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ چکا اور اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا، اس طرح جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، میرا دم گھٹا جا رہا تھا اور زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود میرے لیے تنگ ہوتی جا رہی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی، جبل سلع پر چڑھ کر کوئی بلند آواز سے کہہ رہا تھا، اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب فراخی ہو جائے گی۔ فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ لوگ میرے یہاں بشارت دینے کے لیے آنے لگے اور میرے دو ساتھیوں کو بھی جا کر بشارت دی۔ ایک صاحب ( زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ) اپنا گھوڑا دوڑائے آ رہے تھے، ادھر قبیلہ اسلم کے ایک صحابی نے پہاڑی پر چڑھ کر ( آواز دی ) اور آواز گھوڑے سے زیادہ تیز تھی۔ جن صحابی نے ( سلع پہاڑی پر سے ) آواز دی تھی، جب وہ میرے پاس بشارت دینے آئے تو اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس بشارت کی خوشی میں، میں نے انہیں دے دئیے۔ اللہ کی قسم کہ اس وقت ان دو کپڑوں کے سوا ( دینے کے لائق ) اور میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی۔ پھر میں نے ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جوق در جوق لوگ مجھ سے ملاقات کرتے جاتے تھے اور مجھے توبہ کی قبولیت پر بشارت دیتے جاتے تھے، کہتے تھے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی قبولیت مبارک ہو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، آخر میں مسجد میں داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ چاروں طرف صحابہ کا مجمع تھا۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑ کر میری طرف بڑھے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! ( وہاں موجود ) مہاجرین میں سے کوئی بھی ان کے سوا، میرے آنے پر کھڑا نہیں ہوا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا: ( چہرہ مبارک خوشی اور مسرت دمک اٹھا تھا ) اس مبارک دن کے لیے تمہیں بشارت ہو جو تمہاری عمر کا سب سے مبارک دن ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے؟ فرمایا نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر خوش ہوتے تو چہرہ مبارک روشن ہو جاتا تھا، ایسا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔ آپ کی مسرت ہم تو چہرہ مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔ پھر جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں، میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کچھ مال اپنے پاس بھی رکھ لو، یہ زیادہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لوں گا۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی۔ اب میں اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا سچ کے سوا اور کوئی بات زبان پر نہ لاؤں گا۔ پس اللہ کی قسم! جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ عہد کیا، میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا جسے اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے اتنا نوازا ہو، جتنی نوازشات اس کی مجھ پر سچ بولنے کی وجہ سے ہیں۔ جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ عہد کیا، پھر آج تک کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت ( ہمارے بارے میں ) نازل کی تھی۔ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی، مہاجرین اور انصار کی توبہ قبول کی“ اس کے ارشاد «وكونوا مع الصادقين» تک اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے لیے ہدایت کے بعد، میری نظر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس سچ بولنے سے بڑھ کر اللہ کا مجھ پر اور کوئی انعام نہیں ہوا کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا اور اس طرح اپنے کو ہلاک نہیں کیا۔ جیسا کہ جھوٹ بولنے والے ہلاک ہو گئے تھے۔ نزول وحی کے زمانہ میں جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے اتنی شدید وعید فرمائی جتنی شدید کسی دوسرے کے لیے نہیں فرمائی ہو گی۔ فرمایا ہے «سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم» ارشاد «فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين» تک۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ چنانچہ ہم تین، ان لوگوں کے معاملے سے جدا رہے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسم کھا لی تھی اور آپ نے ان کی بات مان بھی لی تھی، ان سے بیعت بھی لی تھی اور ان کے لیے طلب مغفرت بھی فرمائی تھی۔ ہمارا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وعلى الثلاثة الذين خلفوا» سے یہی مراد ہے کہ ہمار ا مقدمہ ملتوی رکھا گیا اور ہم ڈھیل میں ڈال دئیے گئے۔ یہ نہیں مراد ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ گئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے رہے جنہوں نے قسمیں کھا کر اپنے عذر بیان کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عذر قبول کر لیے۔
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام حجر سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کی بستیوں سے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جب گزرنا ہو تو روتے ہوئے ہی گزرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک پر چادر ڈال لی اور بڑی تیزی کے ساتھ چلنے لگے، یہاں تک کہ اس وادی سے نکل آئے۔
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال لما مر النبي صلى الله عليه وسلم بالحجر قال " لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا انفسهم، ان يصيبكم ما اصابهم الا ان تكونوا باكين ". ثم قنع راسه واسرع السير حتى اجاز الوادي
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا کہ اس «معذب» قوم کی بستی سے جب تمہیں گزرنا ہی ہے تو تم روتے ہوئے گزرو، کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آ جائے جو ان پر آیا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحاب الحجر " لا تدخلوا على هولاء المعذبين الا ان تكونوا باكين، ان يصيبكم مثل ما اصابهم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے نافع بن جبیر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے نافع بن جبیر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حدثنا يحيى بن بكير، عن الليث، عن عبد العزيز بن ابي سلمة، عن سعد بن ابراهيم، عن نافع بن جبير، عن عروة بن المغيرة، عن ابيه المغيرة بن شعبة، قال ذهب النبي صلى الله عليه وسلم لبعض حاجته، فقمت اسكب عليه الماء لا اعلمه الا قال في غزوة تبوك فغسل وجهه، وذهب يغسل ذراعيه فضاق عليه كم الجبة، فاخرجهما من تحت جبته فغسلهما ثم مسح على خفيه
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے اور ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ جب آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو ( مدینہ کی طرف اشارہ کر کے ) فرمایا کہ یہ «طابة» ہے اور یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان، قال حدثني عمرو بن يحيى، عن عباس بن سهل بن سعد، عن ابي حميد، قال اقبلنا مع النبي صلى الله عليه وسلم من غزوة تبوك حتى اذا اشرفنا على المدينة قال " هذه طابة، وهذا احد، جبل يحبنا ونحبه
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے قطع کیا وہ ( اپنے دل سے ) تمہارے ساتھ ساتھ تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ ان کا قیام اس وقت بھی مدینہ میں ہی رہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ مدینہ میں رہتے ہوئے بھی ( اپنے دل سے تمہارے ساتھ تھے ) وہ کسی عذر کی وجہ سے رک گئے تھے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا حميد الطويل، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رجع من غزوة تبوك فدنا من المدينة فقال " ان بالمدينة اقواما ما سرتم مسيرا ولا قطعتم واديا الا كانوا معكم ". قالوا يا رسول الله وهم بالمدينة قال " وهم بالمدينة، حبسهم العذر
ہم سے اسحاق بن رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( شاہ فارس ) کسریٰ کے پاس اپنا خط عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو دے کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے گورنر کو دے دیں ( جو کسریٰ کا عالم تھا ) کسریٰ نے جب آپ کا خط مبارک پڑھا تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
حدثنا اسحاق، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان ابن عباس، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بكتابه الى كسرى مع عبد الله بن حذافة السهمي، فامره ان يدفعه الى عظيم البحرين، فدفعه عظيم البحرين الى كسرى، فلما قراه مزقه فحسبت ان ابن المسيب قال فدعا عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يمزقوا كل ممزق
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ جمل کے موقع پر وہ جملہ میرے کام آ گیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں ارادہ کر چکا تھا کہ اصحاب جمل، عائشہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے لشکر کے ساتھ شریک ہو کر ( علی رضی اللہ عنہ کی ) فوج سے لڑوں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت و تاج بنایا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو۔
حدثنا عثمان بن الهيثم، حدثنا عوف، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال لقد نفعني الله بكلمة سمعتها من، رسول الله صلى الله عليه وسلم ايام الجمل، بعد ما كدت ان الحق باصحاب الجمل فاقاتل معهم قال لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اهل فارس قد ملكوا عليهم بنت كسرى قال " لن يفلح قوم ولوا امرهم امراة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے یاد ہے جب میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ سفیان نے ایک مرتبہ ( «مع الغلمان» کے بجائے ) «مع الصبيان.» بیان کیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، عن السايب بن يزيد، يقول اذكر اني خرجت مع الغلمان الى ثنية الوداع نتلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال سفيان مرة مع الصبيان
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے یاد ہے، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن السايب، اذكر اني خرجت مع الصبيان نتلقى النبي صلى الله عليه وسلم الى ثنية الوداع مقدمه من غزوة تبوك
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب بن مالك وكان قايد كعب من بنيه حين عمي قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حين تخلف عن قصة، تبوك قال كعب لم اتخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها الا في غزوة تبوك، غير اني كنت تخلفت في غزوة بدر، ولم يعاتب احدا تخلف، عنها انما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد عير قريش، حتى جمع الله بينهم وبين عدوهم على غير ميعاد ولقد شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة العقبة حين تواثقنا على الاسلام، وما احب ان لي بها مشهد بدر، وان كانت بدر اذكر في الناس منها، كان من خبري اني لم اكن قط اقوى ولا ايسر حين تخلفت عنه في تلك الغزوة، والله ما اجتمعت عندي قبله راحلتان قط حتى جمعتهما في تلك الغزوة، ولم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد غزوة الا ورى بغيرها، حتى كانت تلك الغزوة، غزاها رسول الله صلى الله عليه وسلم في حر شديد، واستقبل سفرا بعيدا ومفازا وعدوا كثيرا، فجلى للمسلمين امرهم ليتاهبوا اهبة غزوهم، فاخبرهم بوجهه الذي يريد، والمسلمون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم كثير، ولا يجمعهم كتاب حافظ يريد الديوان قال كعب فما رجل يريد ان يتغيب الا ظن ان سيخفى له ما لم ينزل فيه وحى الله، وغزا رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك الغزوة حين طابت الثمار والظلال، وتجهز رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون معه، فطفقت اغدو لكى اتجهز معهم فارجع ولم اقض شييا، فاقول في نفسي انا قادر عليه. فلم يزل يتمادى بي حتى اشتد بالناس الجد، فاصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون معه ولم اقض من جهازي شييا، فقلت اتجهز بعده بيوم او يومين ثم الحقهم، فغدوت بعد ان فصلوا لاتجهز، فرجعت ولم اقض شييا، ثم غدوت ثم رجعت ولم اقض شييا، فلم يزل بي حتى اسرعوا وتفارط الغزو، وهممت ان ارتحل فادركهم، وليتني فعلت، فلم يقدر لي ذلك، فكنت اذا خرجت في الناس بعد خروج رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفت فيهم، احزنني اني لا ارى الا رجلا مغموصا عليه النفاق او رجلا ممن عذر الله من الضعفاء، ولم يذكرني رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بلغ تبوك، فقال وهو جالس في القوم بتبوك " ما فعل كعب ". فقال رجل من بني سلمة يا رسول الله، حبسه برداه ونظره في عطفه. فقال معاذ بن جبل بيس ما قلت، والله يا رسول الله، ما علمنا عليه الا خيرا. فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال كعب بن مالك فلما بلغني انه توجه قافلا حضرني همي، وطفقت اتذكر الكذب واقول بماذا اخرج من سخطه غدا واستعنت على ذلك بكل ذي راى من اهلي، فلما قيل ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد اظل قادما زاح عني الباطل، وعرفت اني لن اخرج منه ابدا بشىء فيه كذب، فاجمعت صدقه، واصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم قادما، وكان اذا قدم من سفر بدا بالمسجد فيركع فيه ركعتين ثم جلس للناس، فلما فعل ذلك جاءه المخلفون، فطفقوا يعتذرون اليه، ويحلفون له، وكانوا بضعة وثمانين رجلا فقبل منهم رسول الله صلى الله عليه وسلم علانيتهم، وبايعهم واستغفر لهم، ووكل سرايرهم الى الله، فجيته فلما سلمت عليه تبسم تبسم المغضب، ثم قال " تعال ". فجيت امشي حتى جلست بين يديه، فقال لي " ما خلفك الم تكن قد ابتعت ظهرك ". فقلت بلى، اني والله لو جلست عند غيرك من اهل الدنيا، لرايت ان ساخرج من سخطه بعذر، ولقد اعطيت جدلا، ولكني والله لقد علمت لين حدثتك اليوم حديث كذب ترضى به عني ليوشكن الله ان يسخطك على، ولين حدثتك حديث صدق تجد على فيه اني لارجو فيه عفو الله، لا والله ما كان لي من عذر، والله ما كنت قط اقوى ولا ايسر مني حين تخلفت عنك. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما هذا فقد صدق، فقم حتى يقضي الله فيك ". فقمت وثار رجال من بني سلمة فاتبعوني، فقالوا لي والله ما علمناك كنت اذنبت ذنبا قبل هذا، ولقد عجزت ان لا تكون اعتذرت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بما اعتذر اليه المتخلفون، قد كان كافيك ذنبك استغفار رسول الله صلى الله عليه وسلم لك، فوالله ما زالوا يونبوني حتى اردت ان ارجع فاكذب نفسي، ثم قلت لهم هل لقي هذا معي احد قالوا نعم، رجلان قالا مثل ما قلت، فقيل لهما مثل ما قيل لك. فقلت من هما قالوا مرارة بن الربيع العمري وهلال بن امية الواقفي. فذكروا لي رجلين صالحين قد شهدا بدرا فيهما اسوة، فمضيت حين ذكروهما لي، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين عن كلامنا ايها الثلاثة من بين من تخلف عنه، فاجتنبنا الناس وتغيروا لنا حتى تنكرت في نفسي الارض، فما هي التي اعرف، فلبثنا على ذلك خمسين ليلة، فاما صاحباى فاستكانا وقعدا في بيوتهما يبكيان، واما انا فكنت اشب القوم واجلدهم، فكنت اخرج فاشهد الصلاة مع المسلمين واطوف في الاسواق، ولا يكلمني احد، واتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلم عليه وهو في مجلسه بعد الصلاة، فاقول في نفسي هل حرك شفتيه برد السلام على ام لا ثم اصلي قريبا منه فاسارقه النظر، فاذا اقبلت على صلاتي اقبل الى، واذا التفت نحوه اعرض عني، حتى اذا طال على ذلك من جفوة الناس مشيت حتى تسورت جدار حايط ابي قتادة وهو ابن عمي واحب الناس الى، فسلمت عليه، فوالله ما رد على السلام، فقلت يا ابا قتادة، انشدك بالله هل تعلمني احب الله ورسوله فسكت، فعدت له فنشدته فسكت، فعدت له فنشدته. فقال الله ورسوله اعلم. ففاضت عيناى وتوليت حتى تسورت الجدار، قال فبينا انا امشي بسوق المدينة اذا نبطي من انباط اهل الشام ممن قدم بالطعام يبيعه بالمدينة يقول من يدل على كعب بن مالك فطفق الناس يشيرون له، حتى اذا جاءني دفع الى كتابا من ملك غسان، فاذا فيه اما بعد فانه قد بلغني ان صاحبك قد جفاك، ولم يجعلك الله بدار هوان ولا مضيعة، فالحق بنا نواسك. فقلت لما قراتها وهذا ايضا من البلاء. فتيممت بها التنور فسجرته بها، حتى اذا مضت اربعون ليلة من الخمسين اذا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتيني فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك ان تعتزل امراتك فقلت اطلقها ام ماذا افعل قال لا بل اعتزلها ولا تقربها. وارسل الى صاحبى مثل ذلك، فقلت لامراتي الحقي باهلك فتكوني عندهم حتى يقضي الله في هذا الامر. قال كعب فجاءت امراة هلال بن امية رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله، ان هلال بن امية شيخ ضايع ليس له خادم فهل تكره ان اخدمه قال " لا ولكن لا يقربك ". قالت انه والله ما به حركة الى شىء، والله ما زال يبكي منذ كان من امره ما كان الى يومه هذا. فقال لي بعض اهلي لو استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في امراتك كما اذن لامراة هلال بن امية ان تخدمه فقلت والله لا استاذن فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم وما يدريني ما يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا استاذنته فيها وانا رجل شاب فلبثت بعد ذلك عشر ليال حتى كملت لنا خمسون ليلة من حين نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كلامنا، فلما صليت صلاة الفجر صبح خمسين ليلة، وانا على ظهر بيت من بيوتنا، فبينا انا جالس على الحال التي ذكر الله، قد ضاقت على نفسي، وضاقت على الارض بما رحبت، سمعت صوت صارخ اوفى على جبل سلع باعلى صوته يا كعب بن مالك، ابشر. قال فخررت ساجدا، وعرفت ان قد جاء فرج، واذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بتوبة الله علينا حين صلى صلاة الفجر، فذهب الناس يبشروننا، وذهب قبل صاحبى مبشرون، وركض الى رجل فرسا، وسعى ساع من اسلم فاوفى على الجبل وكان الصوت اسرع من الفرس، فلما جاءني الذي سمعت صوته يبشرني نزعت له ثوبى، فكسوته اياهما ببشراه، والله ما املك غيرهما يوميذ، واستعرت ثوبين فلبستهما، وانطلقت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيتلقاني الناس فوجا فوجا يهنوني بالتوبة، يقولون لتهنك توبة الله عليك. قال كعب حتى دخلت المسجد، فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس حوله الناس فقام الى طلحة بن عبيد الله يهرول حتى صافحني وهناني، والله ما قام الى رجل من المهاجرين غيره، ولا انساها لطلحة، قال كعب فلما سلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يبرق وجهه من السرور " ابشر بخير يوم مر عليك منذ ولدتك امك ". قال قلت امن عندك يا رسول الله ام من عند الله قال " لا، بل من عند الله ". وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سر استنار وجهه حتى كانه قطعة قمر، وكنا نعرف ذلك منه، فلما جلست بين يديه قلت يا رسول الله، ان من توبتي ان انخلع من مالي صدقة الى الله والى رسول الله. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسك عليك بعض مالك فهو خير لك ". قلت فاني امسك سهمي الذي بخيبر، فقلت يا رسول الله، ان الله انما نجاني بالصدق، وان من توبتي ان لا احدث الا صدقا ما بقيت، فوالله ما اعلم احدا من المسلمين ابلاه الله في صدق الحديث منذ ذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم احسن مما ابلاني، ما تعمدت منذ ذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم الى يومي هذا كذبا، واني لارجو ان يحفظني الله فيما بقيت وانزل الله على رسوله صلى الله عليه وسلم {لقد تاب الله على النبي والمهاجرين} الى قوله {وكونوا مع الصادقين} فوالله ما انعم الله على من نعمة قط بعد ان هداني للاسلام اعظم في نفسي من صدقي لرسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا اكون كذبته، فاهلك كما هلك الذين كذبوا، فان الله قال للذين كذبوا حين انزل الوحى شر ما قال لاحد، فقال تبارك وتعالى {سيحلفون بالله لكم اذا انقلبتم} الى قوله {فان الله لا يرضى عن القوم الفاسقين}. قال كعب وكنا تخلفنا ايها الثلاثة عن امر اوليك الذين قبل منهم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين حلفوا له، فبايعهم واستغفر لهم وارجا رسول الله صلى الله عليه وسلم امرنا حتى قضى الله فيه، فبذلك قال الله {وعلى الثلاثة الذين خلفوا} وليس الذي ذكر الله مما خلفنا عن الغزو انما هو تخليفه ايانا وارجاوه امرنا عمن حلف له واعتذر اليه، فقبل منه