Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آ گئے ہیں، ان کے دل کے پردے باریک، دل نرم ہوتے ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں۔ اور غندر نے بیان کیا اس حدیث کو شعبہ سے، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن ذكوان، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتاكم اهل اليمن، هم ارق افيدة والين قلوبا، الايمان يمان والحكمة يمانية، والفخر والخيلاء في اصحاب الابل، والسكينة والوقار في اهل الغنم ". وقال غندر عن شعبة، عن سليمان، سمعت ذكوان، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابن بلال نے، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمن کا ہے اور فتنہ ( دین کی خرابی ) ادھر سے ہے اور ادھر ہی سے شیطان کے سر کا کونا نمودار ہو گا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن ثور بن زيد، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الايمان يمان، والفتنة ها هنا، ها هنا يطلع قرن الشيطان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل رقیق القلب ہیں، دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتاكم اهل اليمن، اضعف قلوبا وارق افيدة، الفقه يمان، والحكمة يمانية
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مشہور صحابی تشریف لائے اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا یہ نوجوان لوگ ( جو تمہارے شاگرد ہیں ) اسی طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں کسی سے تلاوت کے لیے کہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: علقمہ! تم پڑھو، زید بن حدیر، زیاد بن حدیر کے بھائی، بولے آپ علقمہ سے تلاوت قرآن کے لیے فرماتے ہیں حالانکہ وہ ہم سب سے اچھے قاری نہیں ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے حق میں فرمائی تھی۔ خیر علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے سورۃ مریم کی پچاس آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہو کیسا پڑھتا ہے؟ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا بہت خوب پڑھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو آیت بھی میں جس طرح پڑھتا ہوں علقمہ بھی اسی طرح پڑھتا ہے، پھر انہوں نے خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، تو کہا: کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ یہ انگوٹھی پھینک دی جائے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج کے بعد آپ یہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے انگوٹھی اتار دی۔ اسی حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، قال كنا جلوسا مع ابن مسعود، فجاء خباب فقال يا ابا عبد الرحمن، ايستطيع هولاء الشباب ان يقرءوا كما تقرا قال اما انك لو شيت امرت بعضهم يقرا عليك قال اجل. قال اقرا يا علقمة. فقال زيد بن حدير اخو زياد بن حدير اتامر علقمة ان يقرا وليس باقرينا قال اما انك ان شيت اخبرتك بما قال النبي صلى الله عليه وسلم في قومك وقومه. فقرات خمسين اية من سورة مريم، فقال عبد الله كيف ترى قال قد احسن. قال عبد الله ما اقرا شييا الا وهو يقروه، ثم التفت الى خباب وعليه خاتم من ذهب فقال الم يان لهذا الخاتم ان يلقى قال اما انك لن تراه على بعد اليوم، فالقاه. رواه غندر عن شعبة
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قبیلہ دوس تو تباہ ہوا۔ اس نے نافرمانی اور انکار کیا ( اسلام قبول نہیں کیا ) آپ اللہ سے ان کے لیے دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے یہاں لے آ۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ابن ذكوان، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال جاء الطفيل بن عمرو الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان دوسا قد هلكت، عصت وابت، فادع الله عليهم. فقال " اللهم اهد دوسا وات بهم
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں اپنے وطن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چلا تو راستے میں، میں نے یہ شعر پڑھا ( ترجمہ ) ”کیسی ہے تکلیف کی لمبی یہ رات، خیر اس نے کفر سے دی ہے نجات“ اور میرا غلام راستے میں بھاگ گیا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بیعت کی، ابھی آپ کے پاس میں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوہریرہ! یہ ہے تمہارا غلام! میں نے کہا اللہ کے لیے میں نے اس کو اب آزاد کر دیا۔
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، حدثنا اسماعيل، عن قيس، عن ابي هريرة، قال لما قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم قلت في الطريق: يا ليلة من طولها وعنايها على انها من دارة الكفر نجت وابق غلام لي في الطريق، فلما قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم فبايعته، فبينا انا عنده اذ طلع الغلام، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا هريرة هذا غلامك ". فقلت هو لوجه الله تعالى. فاعتقته
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ( ان کی دور خلافت میں ) ایک وفد کی شکل میں آئے۔ وہ ایک ایک شخص کو نام لے لے کر بلاتے جاتے تھے ) میں نے ان سے کہا کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں؟ اے امیرالمؤمنین! فرمایا کیا تمہیں بھی نہیں پہچانوں گا، تم اس وقت اسلام لائے جب یہ سب کفر پر قائم تھے۔ تم نے اس وقت توجہ کی جب یہ سب منہ موڑ رہے تھے۔ تم نے اس وقت وفا کی جب یہ سب بے وفائی کر رہے تھے اور اس وقت پہچانا جب ان سب نے انکار کیا تھا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے کہا بس اب مجھے کوئی پرواہ نہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن عمرو بن حريث، عن عدي بن حاتم، قال اتينا عمر في وفد، فجعل يدعو رجلا رجلا ويسميهم فقلت اما تعرفني يا امير المومنين قال بلى، اسلمت اذ كفروا، واقبلت اذ ادبروا، ووفيت اذ غدروا، وعرفت اذ انكروا. فقال عدي فلا ابالي اذا
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ہم نے عمرہ کا احرام باندھا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ ہدی ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لے اور جب تک دونوں کے ارکان نہ ادا کر لے احرام نہ کھولے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب مکہ آئی تو مجھ کو حیض آ گیا۔ اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی کر سکی۔ میں نے اس کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر کھول لے اور کنگھا کر لے۔ اس کے بعد حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب ہم حج ادا کر چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم سے ( عمرہ کی ) نیت کرنے کے لیے بھیجا اور میں نے عمرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس چھوٹے ہوئے عمرہ کی قضاء ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ انہوں نے بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کے بعد احرام کھول دیا۔ پھر منیٰ سے واپسی کے بعد انہوں نے دوسرا طواف ( حج کا ) کیا، لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، فاهللنا بعمرة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان معه هدى فليهلل بالحج مع العمرة، ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا ". فقدمت معه مكة وانا حايض، ولم اطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة، فشكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انقضي راسك، وامتشطي واهلي بالحج ودعي العمرة ". ففعلت فلما قضينا الحج ارسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم مع عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق الى التنعيم فاعتمرت فقال " هذه مكان عمرتك ". قالت فطاف الذين اهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة، ثم حلوا، ثم طافوا طوافا اخر بعد ان رجعوا من منى، واما الذين جمعوا الحج والعمرة فانما طافوا طوافا واحدا
مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ( عمرہ کرنے والا ) صرف بیت اللہ کے طواف سے حلال ہو سکتا ہے۔ ( ابن جریج نے کہا ) میں نے عطاء سے پوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ مسئلہ کہاں سے نکالا؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ثم محلها إلى البيت العتيق» ( سورۃ الحج ) سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی وجہ سے جو آپ نے اپنے اصحاب کو حجۃ الوداع میں احرام کھول دینے کے لیے دیا تھا میں نے کہا کہ یہ حکم تو عرفات میں ٹھہرنے کے بعد کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ مذہب تھا کہ عرفات میں ٹھہرنے سے پہلے اور بعد ہر حال میں جب طواف کر لے تو احرام کھول ڈالنا درست ہے۔
حدثني عمرو بن علي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن جريج، قال حدثني عطاء، عن ابن عباس، اذا طاف بالبيت فقد حل. فقلت من اين قال هذا ابن عباس قال من قول الله تعالى {ثم محلها الى البيت العتيق} ومن امر النبي صلى الله عليه وسلم اصحابه ان يحلوا في حجة الوداع. قلت انما كان ذلك بعد المعرف. قال كان ابن عباس يراه قبل وبعد
مجھ سے بیان بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، انہیں شعبہ نے خبر دی، ان سے قیس بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے طارق بن شہاب سے سنا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بطحاء ( سنگریزی زمین ) میں قیام کئے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا تم نے حج کا احرام باندھ لیا؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا ( اس طرح ) کہ میں بھی اسی طرح احرام باندھتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے ( عمرہ کرنے کے لیے ) بیت اللہ کا طواف کر، پھر صفا اور مروہ کی سعی کر، پھر حلال ہو جا۔ چنانچہ میں بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر کے قبیلہ قیس کی ایک عورت کے گھر آیا اور انہوں نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔
حدثني بيان، حدثنا النضر، اخبرنا شعبة، عن قيس، قال سمعت طارقا، عن ابي موسى الاشعري رضى الله عنه قال قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم بالبطحاء فقال " احججت ". قلت نعم. قال " كيف اهللت ". قلت لبيك باهلال كاهلال رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال " طف بالبيت وبالصفا والمروة ثم حل ". فطفت بالبيت وبالصفا والمروة، واتيت امراة من قيس ففلت راسي
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم کو انس بن عیاض نے خبر دی، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ ( عمرہ کرنے کے بعد ) حلال ہو جائیں ( یعنی احرام کھول دیں ) حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ( یا رسول اللہ! ) پھر آپ کیوں نہیں حلال ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا دیا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، اخبرنا انس بن عياض، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، ان ابن عمر، اخبره ان حفصة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم امر ازواجه ان يحللن عام حجة الوداع، فقالت حفصة فما يمنعك فقال " لبدت راسي وقلدت هديي، فلست احل حتى انحر هديي
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، (دوسری سند) (اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے کہا) اور مجھ سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہیں سلیمان بن یسار نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مسئلہ پوچھا، فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اللہ کا جو فریضہ اس کے بندوں پر ہے ( یعنی حج ) میرے والد پر بھی فرض ہو چکا ہے لیکن بڑھاپے کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے۔ تو کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! کر سکتی ہو۔
حدثنا ابو اليمان، قال حدثني شعيب، عن الزهري، وقال، محمد بن يوسف حدثنا الاوزاعي، قال اخبرني ابن شهاب، عن سليمان بن يسار، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان امراة، من خثعم استفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع والفضل بن عباس رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان فريضة الله على عباده ادركت ابي شيخا كبيرا لا يستطيع ان يستوي على الراحلة، فهل يقضي ان احج عنه قال " نعم
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے سریج بن نعمان نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قصواء اونٹنی پر پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما بھی تھے آپ نے کعبہ کے پاس اپنی اونٹنی بٹھا دی اور عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کعبہ کی کنجی لاؤ، وہ کنجی لائے اور دروازہ کھولا۔ آپ اندر داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی اندر گئے، پھر دروازہ اندر سے بند کر لیا اور دیر تک اندر ( نماز اور دعاؤں میں مشغول ) رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو لوگ اندر جانے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے لگے اور میں سب سے آگے بڑھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ دروازے کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے۔ دو قطاروں میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے کی قطار کے دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی۔ کعبہ کا دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کی طرف تھا اور چہرہ مبارک اس طرف تھا، جدھر دروازے سے اندر جاتے ہوئے چہرہ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کے اور دیوار کے درمیان ( تین ہاتھ کا فاصلہ تھا ) ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ پوچھنا میں بھول گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعت نماز پڑھی تھی۔ جس جگہ آپ نے نماز پڑھی تھی وہاں سرخ سنگ مرمر بچھا ہوا تھا۔
حدثني محمد، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا فليح، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال اقبل النبي صلى الله عليه وسلم عام الفتح وهو مردف اسامة على القصواء. ومعه بلال وعثمان بن طلحة حتى اناخ عند البيت، ثم قال لعثمان " ايتنا بالمفتاح "، فجاءه بالمفتاح ففتح له الباب، فدخل النبي صلى الله عليه وسلم واسامة وبلال وعثمان، ثم اغلقوا عليهم الباب، فمكث نهارا طويلا ثم خرج، وابتدر الناس الدخول، فسبقتهم فوجدت بلالا قايما من وراء الباب فقلت له اين صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال صلى بين ذينك العمودين المقدمين. وكان البيت على ستة اعمدة سطرين، صلى بين العمودين من السطر المقدم، وجعل باب البيت خلف ظهره، واستقبل بوجهه الذي يستقبلك حين تلج البيت بينه وبين الجدار، قال ونسيت ان اساله كم صلى وعند المكان الذي صلى فيه مرمرة حمراء
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صفیہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر حائضہ ہو گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا ابھی ہمیں ان کی وجہ سے رکنا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو مکہ لوٹ کر طواف زیارت کر چکی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے چلنا چاہئیے ( طواف وداع کی ضرورت نہیں ) ۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثني عروة بن الزبير، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرتهما ان صفية بنت حيى زوج النبي صلى الله عليه وسلم حاضت في حجة الوداع فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احابستنا هي ". فقلت انها قد افاضت يا رسول الله وطافت بالبيت. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فلتنفر
حدثنا يحيى بن سليمان، قال اخبرني ابن وهب، قال حدثني عمر بن محمد، ان اباه، حدثه عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنا نتحدث بحجة الوداع والنبي صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا، ولا ندري ما حجة الوداع، فحمد الله واثنى عليه ثم ذكر المسيح الدجال فاطنب في ذكره وقال " ما بعث الله من نبي الا انذر امته، انذره نوح والنبيون من بعده، وانه يخرج فيكم، فما خفي عليكم من شانه فليس يخفى عليكم ان ربكم ليس على ما يخفى عليكم ثلاثا، ان ربكم ليس باعور، وانه اعور عين اليمنى، كان عينه عنبة طافية ". " الا ان الله حرم عليكم دماءكم واموالكم، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا، الا هل بلغت ". قالوا نعم. قال " اللهم اشهد، ثلاثا، ويلكم، او ويحكم، انظروا لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض
حدثنا يحيى بن سليمان، قال اخبرني ابن وهب، قال حدثني عمر بن محمد، ان اباه، حدثه عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنا نتحدث بحجة الوداع والنبي صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا، ولا ندري ما حجة الوداع، فحمد الله واثنى عليه ثم ذكر المسيح الدجال فاطنب في ذكره وقال " ما بعث الله من نبي الا انذر امته، انذره نوح والنبيون من بعده، وانه يخرج فيكم، فما خفي عليكم من شانه فليس يخفى عليكم ان ربكم ليس على ما يخفى عليكم ثلاثا، ان ربكم ليس باعور، وانه اعور عين اليمنى، كان عينه عنبة طافية ". " الا ان الله حرم عليكم دماءكم واموالكم، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا، الا هل بلغت ". قالوا نعم. قال " اللهم اشهد، ثلاثا، ويلكم، او ويحكم، انظروا لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کئے اور ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا۔ اس حج کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حج نہیں کیا۔ یہ حج، حجۃ الوداع تھا۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ دوسرا حج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہجرت سے پہلے ) مکہ میں کیا تھا۔
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، قال حدثني زيد بن ارقم، ان النبي صلى الله عليه وسلم غزا تسع عشرة غزوة، وانه حج بعد ما هاجر حجة واحدة لم يحج بعدها حجة الوداع. قال ابو اسحاق وبمكة اخرى
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ ہرم بن عمرو بن جریر نے بیان کیا اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جریر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا لوگوں کو خاموش کر دو، پھر فرمایا، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في حجة الوداع لجرير " استنصت الناس " فقال " لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اصل حالت پر گھوم کر آ گیا ہے۔ اس دن کی طرح جب اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ دیکھو! سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں۔ چار ان میں سے حرمت والے مہینے ہیں۔ تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ( اور چوتھا ) رجب مضر جو جمادی الاولیٰ اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے۔ ( پھر آپ نے دریافت فرمایا ) یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور ان کے رسول کو بہتر علم ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا شاید آپ مشہور نام کے سوا اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا: کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم بولے کہ کیوں نہیں۔ پھر دریافت فرمایا اور یہ شہر کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی اور نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکھیں گے، جو مشہور نام کے علاوہ ہو گا۔، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ مکہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں ( یہ مکہ ہی ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اور یہ دن کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا شاید اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مشہور نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ یوم النحر ( قربانی کا دن ) نہیں ہے؟ ہم بولے کہ کیوں نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس تمہارا خون اور تمہارا مال۔ محمد نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا، اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن کا تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں اور تم بہت جلد اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ ہاں، پس میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ ہاں اور جو یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ جسے وہ پہنچائیں ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جو یہاں بعض سننے والوں سے زیادہ اس ( حدیث ) کو یاد رکھ سکتا ہو۔ محمد بن سیرین جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیا میں نے پہنچا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ابن ابي بكرة، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الزمان قد استدار كهيية يوم خلق السموات والارض، السنة اثنا عشر شهرا منها اربعة حرم ثلاثة متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم، ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان، اى شهر هذا " قلنا الله ورسوله اعلم. فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. قال " اليس ذو الحجة ". قلنا بلى. قال " فاى بلد هذا ". قلنا الله ورسوله اعلم، فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. قال " اليس البلدة ". قلنا بلى. قال " فاى يوم هذا " قلنا الله ورسوله اعلم، فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. قال " اليس يوم النحر ". قلنا بلى. قال " فان دماءكم واموالكم قال محمد واحسبه قال واعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا وستلقون ربكم، فسيسالكم عن اعمالكم، الا فلا ترجعوا بعدي ضلالا، يضرب بعضكم رقاب بعض، الا ليبلغ الشاهد الغايب، فلعل بعض من يبلغه ان يكون اوعى له من بعض من سمعه فكان محمد اذا ذكره يقول صدق محمد صلى الله عليه وسلم ثم قال الا هل بلغت. مرتين
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے کہ چند یہودیوں نے کہا کہ اگر یہ آیت ہمارے یہاں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن عید منایا کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کون سی آیت؟ انہوں نے کہا «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي» ”آج میں نے تم پر اپنے دین کو مکمل کیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی تھی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہوئے تھے ( یعنی حجۃ الوداع میں ) ۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان الثوري، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، ان اناسا، من اليهود قالوا لو نزلت هذه الاية فينا لاتخذنا ذلك اليوم عيدا. فقال عمر اية اية فقالوا {اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي}. فقال عمر اني لاعلم اى مكان انزلت، انزلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم واقف بعرفة