Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعامر عقدی نے خبر دی، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میرے لیے نبیذ یعنی کھجور کا شربت بنایا جاتا ہے۔ میں وہ میٹھے رہنے تک پیا کرتا ہوں۔ بعض وقت بہت پی لیتا ہوں اور لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھا رہتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں فضیحت نہ ہو۔ ( لوگ کہنے لگیں کہ یہ نشہ باز ہے ) اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے آئے نہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے نہ ہوتے تو ذلت اور شرمندگی حاصل ہوتی ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان میں مشرکین کے قبائل پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینے ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وہ احکام و ہدایات سنا دیں کہ اگر ہم ان پر عمل کرتے رہیں تو جنت میں داخل ہوں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی وہ ہدایات پہنچا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ پر ایمان لانے کا، تمہیں معلوم ہے اللہ پر ایمان لانا کسے کہتے ہیں؟ اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنے کا، زکٰوۃ دینے کا، رمضان کے روزے رکھنے اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں یعنی کدو کے تونبے میں اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن میں اور سبز لاکھی برتن میں اور روغنی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع کرتا ہوں۔
حدثني اسحاق، اخبرنا ابو عامر العقدي، حدثنا قرة، عن ابي جمرة، قلت لابن عباس رضى الله عنهما ان لي جرة ينتبذ لي نبيذ، فاشربه حلوا في جر ان اكثرت منه، فجالست القوم، فاطلت الجلوس خشيت ان افتضح فقال قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " مرحبا بالقوم غير خزايا ولا الندامى ". فقالوا يا رسول الله، ان بيننا وبينك المشركين من مضر، وانا لا نصل اليك الا في اشهر الحرم، حدثنا بجمل من الامر، ان عملنا به دخلنا الجنة، وندعو به من وراءنا. قال " امركم باربع، وانهاكم عن اربع، الايمان بالله، هل تدرون ما الايمان بالله شهادة ان لا اله الا الله، واقام الصلاة، وايتاء الزكاة وصوم رمضان، وان تعطوا من المغانم الخمس، وانهاكم عن اربع ما انتبذ في الدباء، والنقير، والحنتم، والمزفت
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ بیان کرتے تھے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کے قبائل پڑتے ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آپ چند ایسی باتیں بتلا دیجئیے کہ ہم بھی ان پر عمل کریں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں، انہیں بھی اس کی دعوت دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ( میں تمہیں حکم دیتا ہوں ) اللہ پر ایمان لانے کا یعنی اس کی گواہی دینے کا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی انگلی سے ) ایک اشارہ کیا، اور نماز قائم کرنے کا، زکٰوۃ دینے کا اور اس کا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرتے رہنا اور میں تمہیں دباء، نقیر، مزفت اور حنتم کے برتنوں کے استعمال سے روکتا ہوں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي جمرة، قال سمعت ابن عباس، يقول قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله انا هذا الحى من ربيعة، وقد حالت بيننا وبينك كفار مضر، فلسنا نخلص اليك الا في شهر حرام، فمرنا باشياء ناخذ بها وندعو اليها من وراءنا. قال " امركم باربع وانهاكم عن اربع، الايمان بالله شهادة ان لا اله الا الله وعقد واحدة واقام الصلاة، وايتاء الزكاة، وان تودوا لله خمس ما غنمتم، وانهاكم عن الدباء، والنقير والحنتم والمزفت
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے، کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی اور بکر بن مضر نے یوں بیان کیا کہ عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث سے روایت کیا، ان سے بکیر نے اور ان سے کریب (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام) نے بیان کیا کہ ابن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ ام المؤمنین سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق ان سے پوچھنا اور یہ کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ انہیں پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھنے سے روکا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ان دو رکعتوں کے پڑھنے پر عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( ان کے دور خلافت میں ) لوگوں کو مارا کرتا تھا۔ کریب نے بیان کیا کہ پھر میں ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کا پیغام پہنچایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس کے متعلق ام سلمہ سے پوچھو، میں نے ان حضرات کو آ کر اس کی اطلاع دی تو انہوں نے مجھ کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، وہ باتیں پوچھنے کے لیے جو عائشہ سے انہوں نے پچھوائی تھیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ عصر کے بعد دو رکعتوں سے منع کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عصر کی نماز پڑھی، پھر میرے یہاں تشریف لائے، میرے پاس اس وقت قبیلہ بنو حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ یہ دیکھ کر میں نے خادمہ کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور اسے ہدایت کر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہو جانا اور عرض کرنا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا ہے: یا رسول اللہ! میں نے تو آپ سے ہی سنا تھا اور آپ نے عصر کے بعد ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے منع کیا تھا لیکن میں آج خود آپ کو دو رکعت پڑھتے دیکھ رہی ہوں۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ کریں تو پھر پیچھے ہٹ جانا۔ خادمہ نے میری ہدایت کے مطابق کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر جب آپ فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوامیہ کی بیٹی! عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق تم نے سوال کیا ہے، وجہ یہ ہوئی تھی کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے یہاں اپنی قوم کا اسلام لے کر آئے تھے اور ان کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں میں نہیں پڑھ سکا تھا یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، اخبرني عمرو،. وقال بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث، عن بكير، ان كريبا، مولى ابن عباس حدثه ان ابن عباس وعبد الرحمن بن ازهر والمسور بن مخرمة ارسلوا الى عايشة رضى الله عنها فقالوا اقرا عليها السلام منا جميعا، وسلها عن الركعتين بعد العصر، وانا اخبرنا انك تصليها، وقد بلغنا ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنها، قال ابن عباس وكنت اضرب مع عمر الناس عنهما. قال كريب فدخلت عليها، وبلغتها ما ارسلوني، فقالت سل ام سلمة. فاخبرتهم، فردوني الى ام سلمة بمثل ما ارسلوني الى عايشة، فقالت ام سلمة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عنهما، وانه صلى العصر ثم دخل على وعندي نسوة من بني حرام من الانصار، فصلاهما، فارسلت اليه الخادم فقلت قومي الى جنبه فقولي تقول ام سلمة يا رسول الله الم اسمعك تنهى عن هاتين الركعتين فاراك تصليهما. فان اشار بيده فاستاخري. ففعلت الجارية، فاشار بيده، فاستاخرت عنه، فلما انصرف قال " يا بنت ابي امية، سالت عن الركعتين بعد العصر، انه اتاني اناس من عبد القيس بالاسلام من قومهم، فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر، فهما هاتان
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، (یہ طہمان کے بیٹے ہیں۔) ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد یعنی مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلا جمعہ جواثی کی مسجد عبدالقیس میں قائم ہوا۔ جواثی بحرین کا ایک گاؤں تھا۔
حدثني عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا ابو عامر عبد الملك، حدثنا ابراهيم هو ابن طهمان عن ابي جمرة، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال اول جمعة جمعت بعد جمعة جمعت في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد عبد القيس بجواثى. يعني قرية من البحرين
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ( سرداروں میں سے ) ایک شخص ثمامہ بن اثال نامی کو پکڑ کر لائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا ثمامہ تو کیا سمجھتا ہے؟ ( میں تیرے ساتھ کیا کروں گا؟ ) انہوں نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میرے پاس خیر ہے ( اس کے باوجود ) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک شخص کو قتل کریں گے جو خونی ہے، اس نے جنگ میں مسلمانوں کو مارا اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو ( احسان کرنے والے کا ) شکر ادا کرتا ہے لیکن اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے، دوسرے دن آپ نے پھر پوچھا: ثمامہ اب تو کیا سمجھتا ہے؟ انہوں نے کہا، وہی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں، کہ اگر آپ نے احسان کیا تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر ادا کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے، تیسرے دن پھر آپ نے ان سے پوچھا: اب تو کیا سمجھتا ہے ثمامہ؟ انہوں نے کہا کہ وہی جو میں آپ سے پہلے کہہ چکا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو ( رسی کھول دی گئی ) تو وہ مسجد نبوی سے قریب ایک باغ میں گئے اور غسل کر کے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور پڑھا «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله» اور کہا اے محمد! اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ میرے لیے برا نہیں تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مجھے برا نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے سواروں نے مجھے پکڑا تو میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا۔ اب آپ کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی اور عمرہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ مکہ پہنچے تو کسی نے کہا کہ تم بےدین ہو گئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لے آیا ہوں اور اللہ کی قسم! اب تمہارے یہاں یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن اثال، فربطوه بسارية من سواري المسجد، فخرج اليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما عندك يا ثمامة ". فقال عندي خير يا محمد، ان تقتلني تقتل ذا دم، وان تنعم تنعم على شاكر، وان كنت تريد المال فسل منه ما شيت. حتى كان الغد ثم قال له " ما عندك يا ثمامة ". قال ما قلت لك ان تنعم تنعم على شاكر. فتركه حتى كان بعد الغد، فقال " ما عندك يا ثمامة ". فقال عندي ما قلت لك. فقال " اطلقوا ثمامة "، فانطلق الى نخل قريب من المسجد فاغتسل ثم دخل المسجد فقال اشهد ان لا اله الا الله، واشهد ان محمدا رسول الله، يا محمد والله ما كان على الارض وجه ابغض الى من وجهك، فقد اصبح وجهك احب الوجوه الى، والله ما كان من دين ابغض الى من دينك، فاصبح دينك احب الدين الى، والله ما كان من بلد ابغض الى من بلدك، فاصبح بلدك احب البلاد الى، وان خيلك اخذتني وانا اريد العمرة، فماذا ترى فبشره رسول الله صلى الله عليه وسلم وامره ان يعتمر، فلما قدم مكة قال له قايل صبوت. قال لا، ولكن اسلمت مع محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا والله لا ياتيكم من اليمامة حبة حنطة حتى ياذن فيها النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، کہا ہم کو نافع بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسیلمہ کذاب آیا، اس دعویٰ کے ساتھ کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بعد ( اپنا نائب و خلیفہ ) بنا دیں تو میں ان کی اتباع کر لوں۔ اس کے ساتھ اس کی قوم ( بنو حنیفہ ) کا بہت بڑا لشکر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔ جہاں مسیلمہ اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھا، آپ وہیں جا کر ٹھہر گئے اور آپ نے اس سے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی مانگے گا تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور تو اللہ کے اس فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو تیرے بارے میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ تو نے اگر میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔ اب تیری باتوں کا جواب میری طرف سے ثابت بن قیس دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن عبد الله بن ابي حسين، حدثنا نافع بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم مسيلمة الكذاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يقول ان جعل لي محمد من بعده تبعته. وقدمها في بشر كثير من قومه، فاقبل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وفي يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قطعة جريد حتى وقف على مسيلمة في اصحابه، فقال " لو سالتني هذه القطعة ما اعطيتكها ولن تعدو امر الله فيك، ولين ادبرت ليعقرنك الله، واني لاراك الذي اريت فيه ما رايت، وهذا ثابت يجيبك عني ". ثم انصرف عنه. قال ابن عباس فسالت عن قول، رسول الله صلى الله عليه وسلم " انك ارى الذي اريت فيه ما اريت ". فاخبرني ابو هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم رايت في يدى سوارين من ذهب، فاهمني شانهما، فاوحي الى في المنام ان انفخهما، فنفختهما فطارا فاولتهما كذابين يخرجان بعدي، احدهما العنسي، والاخر مسيلمة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، کہا ہم کو نافع بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسیلمہ کذاب آیا، اس دعویٰ کے ساتھ کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بعد ( اپنا نائب و خلیفہ ) بنا دیں تو میں ان کی اتباع کر لوں۔ اس کے ساتھ اس کی قوم ( بنو حنیفہ ) کا بہت بڑا لشکر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔ جہاں مسیلمہ اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھا، آپ وہیں جا کر ٹھہر گئے اور آپ نے اس سے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی مانگے گا تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور تو اللہ کے اس فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو تیرے بارے میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ تو نے اگر میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔ اب تیری باتوں کا جواب میری طرف سے ثابت بن قیس دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن عبد الله بن ابي حسين، حدثنا نافع بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم مسيلمة الكذاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يقول ان جعل لي محمد من بعده تبعته. وقدمها في بشر كثير من قومه، فاقبل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وفي يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قطعة جريد حتى وقف على مسيلمة في اصحابه، فقال " لو سالتني هذه القطعة ما اعطيتكها ولن تعدو امر الله فيك، ولين ادبرت ليعقرنك الله، واني لاراك الذي اريت فيه ما رايت، وهذا ثابت يجيبك عني ". ثم انصرف عنه. قال ابن عباس فسالت عن قول، رسول الله صلى الله عليه وسلم " انك ارى الذي اريت فيه ما اريت ". فاخبرني ابو هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم رايت في يدى سوارين من ذهب، فاهمني شانهما، فاوحي الى في المنام ان انفخهما، فنفختهما فطارا فاولتهما كذابين يخرجان بعدي، احدهما العنسي، والاخر مسيلمة
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خواب میں میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے۔ یہ مجھ پر بڑا شاق گزرا۔ اس کے بعد مجھے وحی کی گئی کہ میں ان میں پھونک ماروں۔ میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں، میں ہوں یعنی صاحب صنعاء ( اسود عنسی ) اور صاحب یمامہ ( مسیلمہ کذاب ) ۔“
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا نايم اتيت بخزاين الارض، فوضع في كفي سواران من ذهب، فكبرا على فاوحي الى ان انفخهما، فنفختهما فذهبا فاولتهما الكذابين اللذين انا بينهما صاحب صنعاء، وصاحب اليمامة
حدثنا الصلت بن محمد، قال سمعت مهدي بن ميمون، قال سمعت ابا رجاء العطاردي، يقول كنا نعبد الحجر، فاذا وجدنا حجرا هو اخير منه القيناه واخذنا الاخر، فاذا لم نجد حجرا جمعنا جثوة من تراب، ثم جينا بالشاة فحلبناه عليه، ثم طفنا به، فاذا دخل شهر رجب قلنا منصل الاسنة. فلا ندع رمحا فيه حديدة ولا سهما فيه حديدة الا نزعناه والقيناه شهر رجب. وسمعت ابا رجاء، يقول كنت يوم بعث النبي صلى الله عليه وسلم غلاما ارعى الابل على اهلي، فلما سمعنا بخروجه فررنا الى النار الى مسيلمة الكذاب
حدثنا الصلت بن محمد، قال سمعت مهدي بن ميمون، قال سمعت ابا رجاء العطاردي، يقول كنا نعبد الحجر، فاذا وجدنا حجرا هو اخير منه القيناه واخذنا الاخر، فاذا لم نجد حجرا جمعنا جثوة من تراب، ثم جينا بالشاة فحلبناه عليه، ثم طفنا به، فاذا دخل شهر رجب قلنا منصل الاسنة. فلا ندع رمحا فيه حديدة ولا سهما فيه حديدة الا نزعناه والقيناه شهر رجب. وسمعت ابا رجاء، يقول كنت يوم بعث النبي صلى الله عليه وسلم غلاما ارعى الابل على اهلي، فلما سمعنا بخروجه فررنا الى النار الى مسيلمة الكذاب
ہم سے سعید بن محمد جرمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے ان کے والد ابراہیم بن سعد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن عبیدہ بن نشیط نے، دوسرے موقع پر (ابن عبیدہ رضی اللہ عنہ) کے نام کی تصریح ہے یعنی عبداللہ اور ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب مسیلمہ کذاب مدینہ آیا تو بنت حارث کے گھر اس نے قیام کیا، کیونکہ بنت حارث بن کریز اس کی بیوی تھی۔ یہی عبداللہ بن عبداللہ بن دعامر کی ماں ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں تشریف لائے ( تبلیغ کے لیے ) آپ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ثابت رضی اللہ عنہ وہی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کے نام سے مشہور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آ کر ٹھہر گئے اور اس سے گفتگو کی اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ مسیلمہ نے کہا کہ میں اس شرط پر مسلمان ہوتا ہوں کہ آپ کے بعد مجھ کو حکومت ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے یہ چھڑی مانگو گے تو میں یہ بھی نہیں دے سکتا اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تم وہی ہو جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ یہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں اور میری طرف سے تمہاری باتوں کا یہی جواب دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔
حدثنا سعيد بن محمد الجرمي، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن عبيدة بن نشيط وكان في موضع اخر اسمه عبد الله ان عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال بلغنا ان مسيلمة الكذاب قدم المدينة، فنزل في دار بنت الحارث، وكان تحته بنت الحارث بن كريز، وهى ام عبد الله بن عامر، فاتاه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وهو الذي يقال له خطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قضيب، فوقف عليه فكلمه فقال له مسيلمة ان شيت خليت بيننا وبين الامر، ثم جعلته لنا بعدك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو سالتني هذا القضيب ما اعطيتكه واني لاراك الذي اريت فيه ما اريت، وهذا ثابت بن قيس وسيجيبك عني ". فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم. قال عبيد الله بن عبد الله سالت عبد الله بن عباس عن رويا، رسول الله صلى الله عليه وسلم التي ذكر فقال ابن عباس ذكر لي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم اريت انه وضع في يدى سواران من ذهب، ففظعتهما وكرهتهما، فاذن لي فنفختهما فطارا، فاولتهما كذابين يخرجان ". فقال عبيد الله احدهما العنسي الذي قتله فيروز باليمن، والاخر مسيلمة الكذاب
ہم سے سعید بن محمد جرمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے ان کے والد ابراہیم بن سعد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن عبیدہ بن نشیط نے، دوسرے موقع پر (ابن عبیدہ رضی اللہ عنہ) کے نام کی تصریح ہے یعنی عبداللہ اور ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب مسیلمہ کذاب مدینہ آیا تو بنت حارث کے گھر اس نے قیام کیا، کیونکہ بنت حارث بن کریز اس کی بیوی تھی۔ یہی عبداللہ بن عبداللہ بن دعامر کی ماں ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں تشریف لائے ( تبلیغ کے لیے ) آپ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ثابت رضی اللہ عنہ وہی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کے نام سے مشہور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آ کر ٹھہر گئے اور اس سے گفتگو کی اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ مسیلمہ نے کہا کہ میں اس شرط پر مسلمان ہوتا ہوں کہ آپ کے بعد مجھ کو حکومت ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے یہ چھڑی مانگو گے تو میں یہ بھی نہیں دے سکتا اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تم وہی ہو جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ یہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں اور میری طرف سے تمہاری باتوں کا یہی جواب دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔
حدثنا سعيد بن محمد الجرمي، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن عبيدة بن نشيط وكان في موضع اخر اسمه عبد الله ان عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال بلغنا ان مسيلمة الكذاب قدم المدينة، فنزل في دار بنت الحارث، وكان تحته بنت الحارث بن كريز، وهى ام عبد الله بن عامر، فاتاه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وهو الذي يقال له خطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قضيب، فوقف عليه فكلمه فقال له مسيلمة ان شيت خليت بيننا وبين الامر، ثم جعلته لنا بعدك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو سالتني هذا القضيب ما اعطيتكه واني لاراك الذي اريت فيه ما اريت، وهذا ثابت بن قيس وسيجيبك عني ". فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم. قال عبيد الله بن عبد الله سالت عبد الله بن عباس عن رويا، رسول الله صلى الله عليه وسلم التي ذكر فقال ابن عباس ذكر لي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم اريت انه وضع في يدى سواران من ذهب، ففظعتهما وكرهتهما، فاذن لي فنفختهما فطارا، فاولتهما كذابين يخرجان ". فقال عبيد الله احدهما العنسي الذي قتله فيروز باليمن، والاخر مسيلمة الكذاب
مجھ سے عباس بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نجران کے دو سردار عاقب اور سید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور پھر بھی ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم پنپ نہیں سکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں رہ سکیں گی۔ پھر ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو کچھ آپ مانگیں ہم جزیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ کوئی امین بھیج دیجئیے، جو بھی آدمی ہمارے ساتھ بھیجیں وہ امین ہونا ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہو گا بلکہ پورا پورا امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، آپ نے فرمایا کہ ابوعبیدہ بن الجراح! اٹھو۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔
حدثني عباس بن الحسين، حدثنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، قال جاء العاقب والسيد صاحبا نجران الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يريدان ان يلاعناه، قال فقال احدهما لصاحبه لا تفعل، فوالله لين كان نبيا فلاعنا، لا نفلح نحن ولا عقبنا من بعدنا. قالا انا نعطيك ما سالتنا، وابعث معنا رجلا امينا، ولا تبعث معنا الا امينا. فقال " لابعثن معكم رجلا امينا حق امين ". فاستشرف له اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " قم يا ابا عبيدة بن الجراح ". فلما قام قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا امين هذه الامة
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سے سنا، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور ان سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار آدمی بھیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا آدمی بھیجوں گا جو ہر حیثیت سے امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم منتظر تھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت ابا اسحاق، عن صلة بن زفر، عن حذيفة رضى الله عنه قال جاء اهل نجران الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا ابعث لنا رجلا امينا. فقال " لابعثن اليكم رجلا امينا حق امين ". فاستشرف له الناس، فبعث ابا عبيدة بن الجراح
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں امین ( امانتدار ) ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح ہیں۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن خالد، عن ابي قلابة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لكل امة امين، وامين هذه الامة ابو عبيدة بن الجراح
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ انہوں نے محمد بن المنکدر سے سنا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا جب میرے پاس بحرین سے روپیہ آئے گا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر روپیہ دوں گا، لیکن بحرین سے جس وقت روپیہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی تھی۔ اس لیے وہ روپیہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہوں نے اعلان کروا دیا کہ اگر کسی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض یا کسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو تو وہ میرے پاس آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان کے یہاں آ گیا اور انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین سے میرے پاس روپیہ آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر دوں گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق کہا لیکن انہوں نے اس مرتبہ مجھے نہیں دیا۔ میں پھر ان کے یہاں گیا اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ میں تیسری مرتبہ گیا، اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ اس لیے میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے یہاں ایک مرتبہ آیا۔ آپ نے نہیں دیا، پھر آیا اور آپ نے نہیں دیا۔ پھر تیسری مرتبہ آیا ہوں اور آپ اس مرتبہ بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اگر آپ کو مجھے دینا ہے تو دے دیجئیے ورنہ صاف کہہ دیجئیے کہ میرا دل دینے کو نہیں چاہتا، میں بخیل ہوں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ میرے معاملہ میں بخل کر لو، بھلا بخل سے بڑھ کر اور کیا عیب ہو سکتا ہے۔ تین مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا اور کہا میں نے تمہیں جب بھی ٹالا تو میرا ارادہ یہی تھا کہ بہرحال تمہیں دینا ہے۔ اور اسی سند سے عمرو بن دینار سے روایت ہے، ان سے محمد بن علی باقر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر روپیہ دیا اور کہا کہ اسے گن لو۔ میں نے گنا تو پانچ سو تھا۔ فرمایا کہ دو مرتبہ اتنا ہی اور لے لو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، سمع ابن المنكدر، جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو قد جاء مال البحرين لقد اعطيتك هكذا وهكذا ثلاثا ". فلم يقدم مال البحرين حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قدم على ابي بكر امر مناديا فنادى من كان له عند النبي صلى الله عليه وسلم دين او عدة فلياتني. قال جابر فجيت ابا بكر، فاخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو جاء مال البحرين اعطيتك هكذا وهكذا ثلاثا ". قال فاعطاني. قال جابر فلقيت ابا بكر بعد ذلك فسالته، فلم يعطني، ثم اتيته فلم يعطني، ثم اتيته الثالثة فلم يعطني، فقلت له قد اتيتك فلم تعطني، ثم اتيتك فلم تعطني، ثم اتيتك فلم تعطني، فاما ان تعطيني، واما ان تبخل عني. فقال اقلت تبخل عني واى داء ادوا من البخل قالها ثلاثا ما منعتك من مرة الا وانا اريد ان اعطيك. وعن عمرو عن محمد بن علي سمعت جابر بن عبد الله يقول جيته، فقال لي ابو بكر عدها. فعددتها فوجدتها خمسماية، فقال خذ مثلها مرتين
مجھ سے عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں اور میرے بھائی ابورحم یا ابوبردہ یمن سے آئے تو ہم ( ابتداء میں ) بہت دنوں تک یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات دن بہت آیا جایا کرتے تھے اور ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
حدثني عبد الله بن محمد، واسحاق بن نصر، قالا حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن ابي زايدة، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، عن ابي موسى رضى الله عنه قال قدمت انا واخي، من اليمن، فمكثنا حينا ما نرى ابن مسعود وامه الا من اهل البيت، من كثرة دخولهم ولزومهم له
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے زہدم نے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ( کوفہ کے امیر بن کر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ) آئے تو اس قبیلہ جرم کا انہوں نے بہت اعزاز کیا۔ زہدم کہتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ مرغ کا ناشتہ کر رہے تھے۔ حاضرین میں ایک اور صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کھانے پر بلایا تو ان صاحب نے کہا کہ جب سے میں نے مرغیوں کو کچھ ( گندی ) چیزیں کھاتے دیکھا ہے، اسی وقت سے مجھے اس کے گوشت سے گھن آنے لگی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آؤ بھائی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ ان صاحب نے کہا لیکن میں نے اس کا گوشت نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم آ تو جاؤ میں تمہیں تمہاری قسم کے بارے میں بھی علاج بتاؤں گا۔ ہم قبیلہ اشعر کے چند لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ( غزوہ تبوک کے لیے ) جانور مانگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے۔ ہم نے پھر آپ سے مانگا تو آپ نے اس مرتبہ قسم کھائی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے لیکن ابھی کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ غنیمت میں کچھ اونٹ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے پانچ اونٹ ہم کو دلائے۔ جب ہم نے انہیں لے لیا تو پھر ہم نے کہا کہ یہ تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دیا۔ آپ کو غفلت میں رکھا، قسم یاد نہیں دلائی۔ ایسی حالت میں ہماری بھلائی کبھی نہیں ہو گی۔ آخر میں آپ کے پاس آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے پھر آپ نے سواری دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن جب بھی میں کوئی قسم کھاتا ہوں اور اس کے سوا دوسری صورت مجھے اس سے بہتر نظر آتی ہے تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے ( اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ) ۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد السلام، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن زهدم، قال لما قدم ابو موسى اكرم هذا الحى من جرم، وانا لجلوس عنده وهو يتغدى دجاجا، وفي القوم رجل جالس، فدعاه الى الغداء، فقال اني رايته ياكل شييا فقذرته. فقال هلم، فاني رايت النبي صلى الله عليه وسلم ياكله. فقال اني حلفت لا اكله. فقال هلم اخبرك عن يمينك، انا اتينا النبي صلى الله عليه وسلم نفر من الاشعريين، فاستحملناه فابى ان يحملنا فاستحملناه، فحلف ان لا يحملنا، ثم لم يلبث النبي صلى الله عليه وسلم ان اتي بنهب ابل، فامر لنا بخمس ذود، فلما قبضناها قلنا تغفلنا النبي صلى الله عليه وسلم يمينه، لا نفلح بعدها ابدا فاتيته فقلت يا رسول الله انك حلفت ان لا تحملنا وقد حملتنا. قال " اجل، ولكن لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها الا اتيت الذي هو خير منها
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔
حدثني عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، حدثنا سفيان، حدثنا ابو صخرة، جامع بن شداد حدثنا صفوان بن محرز المازني، حدثنا عمران بن حصين، قال جاءت بنو تميم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ابشروا يا بني تميم ". قالوا اما اذ بشرتنا فاعطنا. فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاء ناس من اهل اليمن، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اقبلوا البشرى اذ لم يقبلها بنو تميم ". قالوا قد قبلنا يا رسول الله
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور بےرحمی اور سخت دلی اونٹ کی دم کے پیچھے پیچھے چلانے والوں میں ہے، جدھر سے شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں ( یعنی مشرق ) قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔
حدثني عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الايمان ها هنا ". واشار بيده الى اليمن " والجفاء وغلظ القلوب في الفدادين، عند اصول اذناب الابل من حيث يطلع قرنا الشيطان ربيعة ومضر