Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب وہ یمن پہنچے تو یمن والوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور نماز میں آیت «واتخذ الله إبراهيم خليلا» کی قرآت کی تو ان میں سے ایک صاحب ( نماز ہی میں ) بولے کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔ معاذ بن معاذ بغوی نے شعبہ سے، انہوں نے حبیب سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے اس حدیث میں صرف اتنا بڑھایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا وہاں انہوں نے صبح کی نماز میں سورۃ نساء پڑھی جب اس آیت پر پہنچے «واتخذ الله إبراهيم خليلا» تو ایک صاحب جو ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن عمرو بن ميمون، ان معاذا رضى الله عنه لما قدم اليمن صلى بهم الصبح فقرا {واتخذ الله ابراهيم خليلا} فقال رجل من القوم لقد قرت عين ام ابراهيم. زاد معاذ عن شعبة عن حبيب عن سعيد عن عمرو ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن، فقرا معاذ في صلاة الصبح سورة النساء فلما قال {واتخذ الله ابراهيم خليلا} قال رجل خلفه قرت عين ام ابراهيم
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن بھیجا، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے۔
حدثني احمد بن عثمان، حدثنا شريح بن مسلمة، حدثنا ابراهيم بن يوسف بن اسحاق بن ابي اسحاق، حدثني ابي، عن ابي اسحاق، سمعت البراء رضى الله عنه . بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم مع خالد بن الوليد الى اليمن، قال ثم بعث عليا بعد ذلك مكانه فقال مر اصحاب خالد، من شاء منهم ان يعقب معك فليعقب، ومن شاء فليقبل. فكنت فيمن عقب معه، قال فغنمت اواق ذوات عدد
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن سوید بن منجوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو ( یمن ) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس ( پانچواں حصہ ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا ( اور ایک لونڈی سے صحبت کی ) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ( بریدہ ) کیا تمہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس ( غنیمت کے پانچویں حصے ) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا علي بن سويد بن منجوف، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم عليا الى خالد ليقبض الخمس وكنت ابغض عليا، وقد اغتسل، فقلت لخالد الا ترى الى هذا فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم ذكرت ذلك له فقال " يا بريدة اتبغض عليا ". فقلت نعم. قال " لا تبغضه فان له في الخمس اكثر من ذلك
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دئیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے ( کان کی ) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہم تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی جو آسمان پر ہے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا، تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈرئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تجھ پر، کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( منافق ) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الواحد، عن عمارة بن القعقاع بن شبرمة، حدثنا عبد الرحمن بن ابي نعم، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول بعث علي بن ابي طالب رضى الله عنه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن بذهيبة في اديم مقروظ لم تحصل من ترابها، قال فقسمها بين اربعة نفر بين عيينة بن بدر، واقرع بن حابس وزيد الخيل، والرابع اما علقمة واما عامر بن الطفيل، فقال رجل من اصحابه كنا نحن احق بهذا من هولاء. قال فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " الا تامنوني وانا امين من في السماء، ياتيني خبر السماء صباحا ومساء ". قال فقام رجل غاير العينين، مشرف الوجنتين، ناشز الجبهة، كث اللحية، محلوق الراس، مشمر الازار، فقال يا رسول الله، اتق الله. قال " ويلك اولست احق اهل الارض ان يتقي الله ". قال ثم ولى الرجل، قال خالد بن الوليد يا رسول الله، الا اضرب عنقه قال " لا، لعله ان يكون يصلي ". فقال خالد وكم من مصل يقول بلسانه ما ليس في قلبه. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لم اومر ان انقب قلوب الناس، ولا اشق بطونهم " قال ثم نظر اليه وهو مقف فقال " انه يخرج من ضيضي هذا قوم يتلون كتاب الله رطبا، لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ". واظنه قال " لين ادركتهم لاقتلنهم قتل ثمود
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے ( جب وہ یمن سے مکہ آئے ) فرمایا تھا کہ وہ اپنے احرام پر باقی رہیں۔ محمد بن بکر نے ابن جریج سے اتنا بڑھایا کہ ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا علی رضی اللہ عنہ اپنی ولایت ( یمن ) سے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ علی! تم نے احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا کہ جس طرح احرام آپ نے باندھا ہو۔ فرمایا پھر قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے، اسی کے مطابق عمل کرو۔ بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، عن ابن جريج، قال عطاء قال جابر امر النبي صلى الله عليه وسلم عليا ان يقيم على احرامه. زاد محمد بن بكر عن ابن جريج، قال عطاء قال جابر فقدم علي بن ابي طالب رضى الله عنه بسعايته، قال له النبي صلى الله عليه وسلم " بم اهللت يا علي ". قال بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم قال " فاهد وامكث حراما كما انت ". قال واهدى له علي هديا
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، عن حميد الطويل، حدثنا بكر، انه ذكر لابن عمر ان انسا حدثهم ان النبي صلى الله عليه وسلم اهل بعمرة وحجة، فقال اهل النبي صلى الله عليه وسلم بالحج، واهللنا به معه، فلما قدمنا مكة قال " من لم يكن معه هدى فليجعلها عمرة ". وكان مع النبي صلى الله عليه وسلم هدى، فقدم علينا علي بن ابي طالب من اليمن حاجا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بم اهللت فان معنا اهلك ". قال اهللت بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم. قال " فامسك، فان معنا هديا
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، عن حميد الطويل، حدثنا بكر، انه ذكر لابن عمر ان انسا حدثهم ان النبي صلى الله عليه وسلم اهل بعمرة وحجة، فقال اهل النبي صلى الله عليه وسلم بالحج، واهللنا به معه، فلما قدمنا مكة قال " من لم يكن معه هدى فليجعلها عمرة ". وكان مع النبي صلى الله عليه وسلم هدى، فقدم علينا علي بن ابي طالب من اليمن حاجا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بم اهللت فان معنا اهلك ". قال اهللت بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم. قال " فامسك، فان معنا هديا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چنانچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا بيان، عن قيس، عن جرير، قال كان بيت في الجاهلية يقال له ذو الخلصة والكعبة اليمانية والكعبة الشامية، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " الا تريحني من ذي الخلصة ". فنفرت في ماية وخمسين راكبا، فكسرناه وقتلنا من وجدنا عنده، فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته، فدعا لنا ولاحمس
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعد قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے ذوالخلصہ سے کیوں نہیں بےفکر کرتے؟ یہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا۔ اسے کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے۔ چنانچہ میں ڈیڑھ سو قبیلہ احمس کے سواروں کو لے کر روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے شہسوا ر تھے۔ مگر میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے آپ کی انگلیوں کا اثر اپنے سینے میں پایا۔ پھر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ! اسے گھوڑے کا اچھا سوار بنا دے اور اسے راستہ بتلانے والا اور خود راستہ پایا ہوا بنا دے۔ پھر وہ اس بت خانے کی طرف روانہ ہوئے اور اسے ڈھا کر اس میں آگ لگا دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اطلاع بھیجی۔ جریر کے ایلچی نے آ کر عرض کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نہیں چلا جب تک وہ خارش زدہ اونٹ کی طرح جل کر ( سیاہ ) نہیں ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا اسماعيل، حدثنا قيس، قال قال لي جرير رضى الله عنه قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " الا تريحني من ذي الخلصة ". وكان بيتا في خثعم يسمى الكعبة اليمانية، فانطلقت في خمسين وماية فارس من احمس، وكانوا اصحاب خيل، وكنت لا اثبت على الخيل، فضرب في صدري حتى رايت اثر اصابعه في صدري، وقال " اللهم ثبته، واجعله هاديا مهديا ". فانطلق اليها فكسرها وحرقها، ثم بعث الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول جرير والذي بعثك بالحق، ما جيتك حتى تركتها كانها جمل اجرب. قال فبارك في خيل احمس ورجالها خمس مرات
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو خبر دی ابواسامہ نے، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، انہیں قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چنانچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! اسے اچھا سوار بنا دے اور اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا دے۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس کے بعد میں کبھی کسی گھوڑے سے نہیں گرا۔ راوی نے بیان کیا کہ ذوالخلصہ ایک ( بت خانہ ) تھا، یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا، اس میں بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی اور اسے کعبہ بھی کہتے تھے۔ بیان کیا کہ پھر جریر وہاں پہنچے اور اسے آگ لگا دی اور منہدم کر دیا۔ بیان کیا کہ جب جریر رضی اللہ عنہ یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال نکالا کرتا تھا۔ اس سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی یہاں آ گئے ہیں۔ اگر انہوں نے تمہیں پا لیا تو تمہاری گردن مار دیں گے۔ بیان کیا کہ ابھی وہ فال نکال ہی رہے تھے کہ جریر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچ گئے۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ یہ فال کے تیر توڑ کر کلمہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لے ورنہ میں تیری گردن مار دوں گا۔ راوی نے بیان کیا اس شخص نے تیر وغیرہ توڑ ڈالے اور کلمہ ایمان کی گواہی دی۔ اس کے بعد جریر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ احمس کے ایک صحابی ابوارطاط رضی اللہ عنہ نامی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا جب وہ خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اس وقت تک نہیں چلا جب تک اس بت کدہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح جلا کر سیاہ نہیں کر دیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور سواروں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
حدثنا يوسف بن موسى، اخبرنا ابو اسامة، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس، عن جرير، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تريحني من ذي الخلصة ". فقلت بلى. فانطلقت في خمسين وماية فارس من احمس وكانوا اصحاب خيل وكنت لا اثبت على الخيل، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضرب يده على صدري حتى رايت اثر يده في صدري وقال " اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا ". قال فما وقعت عن فرس بعد. قال وكان ذو الخلصة بيتا باليمن لخثعم وبجيلة، فيه نصب تعبد، يقال له الكعبة. قال فاتاها فحرقها بالنار وكسرها. قال ولما قدم جرير اليمن كان بها رجل يستقسم بالازلام فقيل له ان رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم ها هنا فان قدر عليك ضرب عنقك. قال فبينما هو يضرب بها اذ وقف عليه جرير فقال لتكسرنها ولتشهدن ان لا اله الا الله او لاضربن عنقك. قال فكسرها وشهد، ثم بعث جرير رجلا من احمس يكنى ابا ارطاة الى النبي صلى الله عليه وسلم يبشره بذلك، فلما اتى النبي صلى الله عليه وسلم قال يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما جيت حتى تركتها كانها جمل اجرب. قال فبرك النبي صلى الله عليه وسلم على خيل احمس ورجالها خمس مرات
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( غزوہ سے واپس آ کر ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ فرمایا کہ عائشہ، میں نے پوچھا اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے والد، میں نے پوچھا، اس کے بعد کون؟ فرمایا کہ عمر۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے بس میں خاموش ہو گیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے بعد میں نہ کر دیں۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا خالد بن عبد الله، عن خالد الحذاء، عن ابي عثمان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث عمرو بن العاص على جيش ذات السلاسل قال فاتيته فقلت اى الناس احب اليك قال " عايشة ". قلت من الرجال قال " ابوها ". قلت ثم من قال " عمر ". فعد رجالا فسكت مخافة ان يجعلني في اخرهم
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ عبسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( یمن سے واپسی پر مدینہ آنے کے لیے ) میں دریا کے راستے سے سفر کر رہا تھا۔ اس وقت یمن کے دو آدمیوں ذوکلاع اور ذوعمرو سے میری ملاقات ہوئی میں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرنے لگا اس پر ذوعمرو نے کہا: اگر تمہارے صاحب ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہی ہیں جن کا ذکر تم کر رہے ہو تو ان کی وفات کو بھی تین دن گزر چکے۔ یہ دونوں میرے ساتھ ہی ( مدینہ ) کی طرف چل رہے تھے۔ راستے میں ہمیں مدینہ کی طرف سے آتے ہوئے کچھ سوار دکھائی دئیے، ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ آپ کے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منتخب ہوئے ہیں اور لوگ اب بھی سب خیریت سے ہیں۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ اپنے صاحب ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہنا کہ ہم آئے تھے اور ان شاءاللہ پھر مدینہ آئیں گے یہ کہہ کر دونوں یمن کی طرف واپس چلے گئے۔ پھر میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی باتوں کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ پھر انہیں اپنے ساتھ لائے کیوں نہیں؟ بہت دنوں بعد خلافت عمری میں ذوعمرو نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا کہ جریر! تمہارا مجھ پر احسان ہے اور تمہیں میں ایک بات بتاؤں گا کہ تم اہل عرب اس وقت تک خیر و بھلائی کے ساتھ رہو گے جب تک تمہارا طرز عمل یہ ہو گا کہ جب تمہارا کوئی امیر وفات پا جائے گا تو تم اپنا کوئی دوسرا امیر منتخب کر لیا کرو گے۔ لیکن جب ( امارت کے لیے ) تلوار تک بات پہنچ جائے تو تمہارے امیر بادشاہ بن جائیں گے۔ بادشاہوں کی طرح غصہ ہوا کریں گے اور انہیں کی طرح خوش ہوا کریں گے۔
حدثني عبد الله بن ابي شيبة العبسي، حدثنا ابن ادريس، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس، عن جرير، قال كنت بالبحر فلقيت رجلين من اهل اليمن ذا كلاع وذا عمرو، فجعلت احدثهم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له ذو عمرو لين كان الذي تذكر من امر صاحبك، لقد مر على اجله منذ ثلاث. واقبلا معي حتى اذا كنا في بعض الطريق رفع لنا ركب من قبل المدينة فسالناهم فقالوا قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابو بكر والناس صالحون. فقالا اخبر صاحبك انا قد جينا ولعلنا سنعود ان شاء الله، ورجعا الى اليمن فاخبرت ابا بكر بحديثهم قال افلا جيت بهم. فلما كان بعد قال لي ذو عمرو يا جرير ان بك على كرامة، واني مخبرك خبرا، انكم معشر العرب لن تزالوا بخير ما كنتم اذا هلك امير تامرتم في اخر، فاذا كانت بالسيف كانوا ملوكا يغضبون غضب الملوك ويرضون رضا الملوك
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے وہیب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اس میں تین سو آدمی شریک تھے۔ خیر ہم مدینہ سے روانہ ہوئے اور ابھی راستے ہی میں تھے کہ راشن ختم ہو گیا، جو کچھ بچ رہا تھا وہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روزانہ تھوڑا تھوڑا اسی میں سے کھانے کو دیتے رہے۔ آخر جب یہ بھی ختم کے قریب پہنچ گیا تو ہمارے حصے میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی۔ وہب نے کہا میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک کھجور سے کیا ہوتا رہا ہو گا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا وہ ایک کھجور ہی غنیمت تھی۔ جب وہ بھی نہ رہی تو ہم کو اس کی قدر معلوم ہوئی تھی، آخر ہم سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی نکل کر پڑی ہے۔ اس مچھلی کو سارا لشکر اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس کی پسلی کی دو ہڈیاں کھڑی کی گئیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا وہ ان کے تلے سے نکل گیا اور ہڈیوں کو بالکل نہیں لگا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما انه قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثا قبل الساحل وامر عليهم ابا عبيدة بن الجراح وهم ثلاثماية، فخرجنا وكنا ببعض الطريق فني الزاد فامر ابو عبيدة بازواد الجيش، فجمع فكان مزودى تمر، فكان يقوتنا كل يوم قليل قليل حتى فني، فلم يكن يصيبنا الا تمرة تمرة فقلت ما تغني عنكم تمرة فقال لقد وجدنا فقدها حين فنيت. ثم انتهينا الى البحر، فاذا حوت مثل الظرب فاكل منها القوم ثمان عشرة ليلة، ثم امر ابو عبيدة بضلعين من اضلاعه فنصبا، ثم امر براحلة فرحلت ثم مرت تحتهما فلم تصبهما
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے عمرو بن دینار سے جو یاد کیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ تاکہ ہم قریش کے قافلہ تجارت کی تلاش میں رہیں۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں ( اس سفر میں ) بڑی سخت بھوک اور فاقے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم نے ببول کے پتے کھا کر وقت گذارا۔ اسی لیے اس فوج کا لقب پتوں کی فوج ہو گیا۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک مچھلی جیسا جانور ساحل پر پھینک دیا، اس کا نام عنبر تھا، ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر ( اپنے جسموں پر ) ملا۔ اس سے ہمارے بدن کی طاقت و قوت پھر لوٹ آئی۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی نکال کر کھڑی کروائی اور جو لشکر میں سب سے لمبے آدمی تھے، انہیں اس کے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا کہ ایک پسلی نکال کر کھڑی کر دی اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرایا وہ اس کے نیچے سے نکل گیا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کئے پھر تین اونٹ ذبح کئے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کئے تو ابوعبیدہ نے انہیں روک دیا کیونکہ اگر سب اونٹ ذبح کر دیتے تو سفر کیسے ہوتا اور عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ ہم کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے ( واپس آ کر ) اپنے والد ( سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ) سے کہا کہ میں بھی لشکر میں تھا جب لوگوں کو بھوک لگی تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ذبح کر دیا کہا کہ پھر بھوکے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، بیان کیا کہ جب پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، پھر قیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس مرتبہ مجھے امیر لشکر کی طرف سے منع کر دیا گیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الذي حفظناه من عمرو بن دينار قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثماية راكب اميرنا ابو عبيدة بن الجراح نرصد عير قريش، فاقمنا بالساحل نصف شهر فاصابنا جوع شديد حتى اكلنا الخبط، فسمي ذلك الجيش جيش الخبط، فالقى لنا البحر دابة يقال لها العنبر، فاكلنا منه نصف شهر وادهنا من ودكه حتى ثابت الينا اجسامنا، فاخذ ابو عبيدة ضلعا من اضلاعه فنصبه فعمد الى اطول رجل معه قال سفيان مرة ضلعا من اعضايه فنصبه واخذ رجلا وبعيرا فمر تحته قال جابر وكان رجل من القوم نحر ثلاث جزاير، ثم نحر ثلاث جزاير، ثم نحر ثلاث جزاير، ثم ان ابا عبيدة نهاه. وكان عمرو يقول اخبرنا ابو صالح ان قيس بن سعد قال لابيه كنت في الجيش فجاعوا. قال انحر. قال نحرت. قال ثم جاعوا قال انحر. قال نحرت. قال ثم جاعوا قال انحر. قال نحرت ثم جاعوا قال انحر. قال نهيت
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریر نے بیان کیا، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم پتوں کی فوج میں شریک تھے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے۔ پھر ہمیں شدت سے بھوک لگی، آخر سمندر نے ایک ایسی مردہ مچھلی باہر پھینکی کہ ہم نے ویسی مچھلی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسے عنبر کہتے تھے۔ وہ مچھلی ہم نے پندرہ دن تک کھائی۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ہڈی کھڑی کروا دی تو اونٹ کا سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ ( ابن جریر نے بیان کیا کہ ) پھر مجھے ابو الزبیر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا اس مچھلی کو کھاؤ پھر جب ہم مدینہ لوٹ کر آئے تو ہم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ روزی کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجی ہے۔ اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ بچی ہو تو مجھے بھی کھلاؤ۔ چنانچہ ایک آدمی نے اس کا گوشت لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے بھی اسے تناول فرمایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو، انه سمع جابرا رضى الله عنه يقول غزونا جيش الخبط وامر ابو عبيدة، فجعنا جوعا شديدا فالقى البحر حوتا ميتا، لم نر مثله، يقال له العنبر، فاكلنا منه نصف شهر، فاخذ ابو عبيدة عظما من عظامه فمر الراكب تحته. فاخبرني ابو الزبير انه سمع جابرا يقول قال ابو عبيدة كلوا. فلما قدمنا المدينة ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " كلوا رزقا اخرجه الله، اطعمونا ان كان معكم ". فاتاه بعضهم {بعضو} فاكله
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا کہ ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حجۃ الوداع سے پہلے جس حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے کئی آدمیوں کے ساتھ قربانی کے دن ( منیٰ ) میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک ( بیت اللہ ) کا حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرے۔
حدثنا سليمان بن داود ابو الربيع، حدثنا فليح، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان ابا بكر الصديق رضى الله عنه بعثه في الحجة التي امره النبي صلى الله عليه وسلم قبل حجة الوداع يوم النحر في رهط يوذن في الناس لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان
مجھ سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے آخری سورۃ جو پوری اتری وہ سورۃ برات ( توبہ ) تھی اور آخری آیت جو اتری وہ سورۃ نساء کی یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۔
حدثني عبد الله بن رجاء، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال اخر سورة نزلت كاملة براءة، واخر سورة نزلت خاتمة سورة النساء {يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة}
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ان سے ابوصخرہ نے، ان سے صفوان بن محرز مازنی نے اور ان سے عمران بن حصین نے بیان کیا کہ بنو تمیم کے چند لوگوں کا ( ایک وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔“ وہ کہنے لگے کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے، کچھ مال بھی دیجئیے۔ ان کے اس جواب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کا اثر دیکھا گیا، پھر یمن کے چند لوگوں کا ایک ( وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی، تم قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کو بشارت قبول ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ابي صخرة، عن صفوان بن محرز المازني، عن عمران بن حصين رضى الله عنهما قال اتى نفر من بني تميم النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اقبلوا البشرى يا بني تميم ". قالوا يا رسول الله قد بشرتنا فاعطنا. فريء ذلك في وجهه فجاء نفر من اليمن فقال " اقبلوا البشرى اذ لم يقبلها بنو تميم ". قالوا قد قبلنا يا رسول الله
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اس وقت سے ہمیشہ بنو تمیم سے محبت رکھتا ہوں جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کی تین خوبیاں میں نے سنی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ بنو تمیم دجال کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ سخت لوگ ثابت ہوں گے اور بنو تمیم کی ایک قیدی خاتون عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے اور ان کے یہاں سے زکوٰۃ وصول ہو کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک قوم کی یا ( یہ فرمایا کہ ) یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے۔
حدثني زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال لا ازال احب بني تميم بعد ثلاث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها فيهم " هم اشد امتي على الدجال ". وكانت فيهم سبية عند عايشة فقال " اعتقيها فانها من ولد اسماعيل ". وجاءت صدقاتهم فقال " هذه صدقات قوم، او قومي
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بنو تمیم کے چند سوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارا کوئی امیر منتخب کر دیجئیے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قعقاع بن معبد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بلکہ آپ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر منتخب فرما دیجئیے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تمہارا مقصد صرف مجھ سے اختلاف کرنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میری غرض مخالفت کی نہیں ہے۔ دونوں اتنا جھگڑے کی آواز بلند ہو گئی۔ اسی پر سورۃ الحجرات کی یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا» آخر آیت تک۔
حدثني ابراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم عن ابن ابي مليكة، ان عبد الله بن الزبير، اخبرهم انه، قدم ركب من بني تميم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابو بكر امر القعقاع بن معبد بن زرارة. قال عمر بل امر الاقرع بن حابس. قال ابو بكر ما اردت الا خلافي. قال عمر ما اردت خلافك. فتماريا حتى ارتفعت اصواتهما فنزل في ذلك {يا ايها الذين امنوا لا تقدموا} حتى انقضت