Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وهو نازل بالجعرانة بين مكة والمدينة ومعه بلال، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم اعرابي فقال الا تنجز لي ما وعدتني. فقال له " ابشر ". فقال قد اكثرت على من ابشر. فاقبل على ابي موسى وبلال كهيية الغضبان فقال " رد البشرى فاقبلا انتما ". قالا قبلنا. ثم دعا بقدح فيه ماء فغسل يديه ووجهه فيه، ومج فيه، ثم قال " اشربا منه، وافرغا على وجوهكما ونحوركما، وابشرا ". فاخذا القدح ففعلا، فنادت ام سلمة من وراء الستر ان افضلا لامكما. فافضلا لها منه طايفة
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ یعلیٰ نے کہا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ سکتا جب آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ کے لیے ایک کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور اس میں چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ موجود تھے۔ اتنے میں ایک اعرابی آئے وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے، خوشبو میں بسا ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جو اپنے جبہ میں خوشبو لگانے کے بعد احرام باندھے؟ فوراً ہی عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو آنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے اور اپنا سر ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے ) اندر کیا ( نزول وحی کی کیفیت سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور زور زور سے سانس چل رہی تھی۔ تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی پھر ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ابھی عمرہ کے متعلق جس نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ انہیں تلاش کر کے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لو اور جبہ اتار دو اور پھر عمرہ میں وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا اسماعيل، حدثنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، ان صفوان بن يعلى بن امية، اخبر ان يعلى كان يقول ليتني ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ينزل عليه. قال فبينا النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة وعليه ثوب قد اظل به، معه فيه ناس من اصحابه، اذ جاءه اعرابي عليه جبة متضمخ بطيب فقال يا رسول الله كيف ترى في رجل احرم بعمرة في جبة بعد ما تضمخ بالطيب فاشار عمر الى يعلى بيده ان تعال. فجاء يعلى فادخل راسه، فاذا النبي صلى الله عليه وسلم محمر الوجه، يغط كذلك ساعة، ثم سري عنه فقال " اين الذي يسالني عن العمرة انفا ". فالتمس الرجل فاتي به فقال " اما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات، واما الجبة فانزعها، ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں ( جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت پیدا کی اور تم محتاج تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ غنی کیا۔ آپ کے ایک ایک جملے پر انصار کہتے جاتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کیا چیز مانع رہی؟ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اشارہ پر انصار عرض کرتے جاتے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے تو مجھ سے اس طرح بھی کہہ سکتے تھے ( کہ آپ آئے تو لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے، لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ اونٹ اور بکریاں لے جا رہے ہوں تو تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ لوگ خواہ کسی گھاٹی یا وادی میں رہیں گے میں تو انصار کی گھاٹی اور وادی میں رہوں گا۔ انصار استر کی طرح ہیں جو جسم سے ہمیشہ لگا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر کے کپڑے یعنی ابرہ کی طرح ہیں۔ تم لوگ ( انصار ) دیکھو گے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تم ایسے وقت میں صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد بن عاصم، قال لما افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم يوم حنين قسم في الناس في المولفة قلوبهم، ولم يعط الانصار شييا، فكانهم وجدوا اذ لم يصبهم ما اصاب الناس فخطبهم فقال " يا معشر الانصار الم اجدكم ضلالا فهداكم الله بي، وكنتم متفرقين فالفكم الله بي وعالة، فاغناكم الله بي ". كلما قال شييا قالوا الله ورسوله امن. قال " ما يمنعكم ان تجيبوا رسول الله صلى الله عليه وسلم ". قال كلما قال شييا قالوا الله ورسوله امن. قال " لو شيتم قلتم جيتنا كذا وكذا. اترضون ان يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون بالنبي صلى الله عليه وسلم الى رحالكم، لولا الهجرة لكنت امرا من الانصار، ولو سلك الناس واديا وشعبا لسلكت وادي الانصار وشعبها، الانصار شعار والناس دثار، انكم ستلقون بعدي اثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، بیان کیا کہ جب قبیلہ ہوازن کے مال میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو دینا تھا وہ دیا تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سو سو اونٹ دے دئیے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اللہ اپنے رسول کی مغفرت کرے، قریش کو تو آپ عنایت فرما رہے ہیں اور ہم کو آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں آئی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور چمڑے کے ایک خیمے میں انہیں جمع کیا، ان کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کو بھی آپ نے نہیں بلایا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا تمہاری جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار کے جو سمجھدار لوگ تھے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو لوگ ہمارے معزز اور سردار ہیں، انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ البتہ ہمارے کچھ لوگ جو ابھی نوعمر ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، قریش کو آپ دے رہے ہیں اور ہمیں آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ تو مال و دولت لے جائیں اور تم نبی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس وقت صبر کرنا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوض کوثر پر ملوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن انصار نے صبر نہیں کیا۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال اخبرني انس بن مالك رضى الله عنه قال قال ناس من الانصار حين افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم ما افاء من اموال هوازن، فطفق النبي صلى الله عليه وسلم يعطي رجالا الماية من الابل فقالوا يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويتركنا، وسيوفنا تقطر من دمايهم. قال انس فحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم بمقالتهم، فارسل الى الانصار فجمعهم في قبة من ادم ولم يدع معهم غيرهم، فلما اجتمعوا قام النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما حديث بلغني عنكم ". فقال فقهاء الانصار اما روساونا يا رسول الله فلم يقولوا شييا، واما ناس منا حديثة اسنانهم فقالوا يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويتركنا، وسيوفنا تقطر من دمايهم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فاني اعطي رجالا حديثي عهد بكفر، اتالفهم، اما ترضون ان يذهب الناس بالاموال وتذهبون بالنبي صلى الله عليه وسلم الى رحالكم، فوالله لما تنقلبون به خير مما ينقلبون به ". قالوا يا رسول الله قد رضينا. فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم " ستجدون اثرة شديدة، فاصبروا حتى تلقوا الله ورسوله صلى الله عليه وسلم فاني على الحوض ". قال انس فلم يصبروا
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں ( حنین کی ) غنیمت کی تقسیم کر دی۔ انصار رضی اللہ عنہم اس سے رنجیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ انصار نے عرض کیا کہ ہم اس پر خوش ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ دوسرے کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، عن انس، قال لما كان يوم فتح مكة قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم غنايم بين قريش. فغضبت الانصار قال النبي صلى الله عليه وسلم " اما ترضون ان يذهب الناس بالدنيا، وتذهبون برسول الله صلى الله عليه وسلم ". قالوا بلى. قال " لو سلك الناس واديا او شعبا لسلكت وادي الانصار او شعبهم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد سمان نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عون نے، انہیں ہشام بن زید بن انس نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین میں جب قبیلہ ہوازن سے جنگ شروع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار فوج تھی۔ قریش کے وہ لوگ بھی ساتھ تھے جنہیں فتح مکہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا پھر سب نے پیٹھ پھیر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: اے انصاریو! انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں، یا رسول اللہ! آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہم حاضر ہیں۔ ہم آپ کے سامنے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر مشرکین کی ہار ہو گئی۔ جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا لیکن انصار کو کچھ نہیں دیا۔ اس پر انصار رضی اللہ عنہم نے اپنے غم کا اظہار کیا تو آپ نے انہیں بلایا اور ایک خیمہ میں جمع کیا پھر فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ بکری اور اونٹ اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں اور انصار دوسری گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ازهر، عن ابن عون، انبانا هشام بن زيد بن انس، عن انس رضى الله عنه قال لما كان يوم حنين التقى هوازن ومع النبي صلى الله عليه وسلم عشرة الاف والطلقاء فادبروا قال " يا معشر الانصار ". قالوا لبيك يا رسول الله وسعديك، لبيك نحن بين يديك، فنزل النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انا عبد الله ورسوله ". فانهزم المشركون، فاعطى الطلقاء والمهاجرين ولم يعط الانصار شييا فقالوا، فدعاهم فادخلهم في قبة فقال " اما ترضون ان يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول الله صلى الله عليه وسلم "، فقال النبي صلى الله عليه وسلم "لو سلك الناس واديا وسلكت الانصار شعبا لاخترت شعب الانصار
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے کچھ لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ قریش کے کفر کا اور ان کی بربادیوں کا زمانہ قریب ہے۔ میرا مقصد صرف ان کی دلجوئی اور تالیف قلب تھا۔ کیا تم اس پر راضی اور خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھر لے جاؤ؟ سب انصاری بولے، کیوں نہیں ( ہم اسی پر راضی ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دوسرے لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال جمع النبي صلى الله عليه وسلم ناسا من الانصار، فقال " ان قريشا حديث عهد بجاهلية ومصيبة، واني اردت ان اجبرهم واتالفهم اما ترضون ان يرجع الناس بالدنيا، وترجعون برسول الله صلى الله عليه وسلم الى بيوتكم ". قالوا بلى. قال " لو سلك الناس واديا وسلكت الانصار شعبا لسلكت وادي الانصار او شعب الانصار
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کر رہے تھے تو انصار کے ایک شخص نے ( جو منافق تھا ) کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی خوشنودی کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بدگو کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ دکھ پہنچایا گیا پس انہوں نے صبر کیا۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال لما قسم النبي صلى الله عليه وسلم قسمة حنين قال رجل من الانصار ما اراد بها وجه الله. فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته، فتغير وجهه ثم قال " رحمة الله على موسى، لقد اوذي باكثر من هذا فصبر
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو بہت بہت جانور دئیے۔ چنانچہ اقرع بن حابس کو جن کا دل بہلانا منظور تھا، سو اونٹ دئیے۔ عیینہ بن حصن فزاری کو بھی اتنے ہی دئیے اور اسی طرح دوسرے اشراف عرب کو دیا۔ اس پر ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضا کا کوئی خیال نہیں کیا گیا۔ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) میں نے کہا کہ میں اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کروں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ سنا تو فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ انہیں اس سے بھی زیادہ دکھ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال لما كان يوم حنين اثر النبي صلى الله عليه وسلم ناسا، اعطى الاقرع ماية من الابل، واعطى عيينة مثل ذلك، واعطى ناسا، فقال رجل ما اريد بهذه القسمة وجه الله. فقلت لاخبرن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رحم الله موسى. قد اوذي باكثر من هذا فصبر
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے، ان سے ہشام بن زید بن انس بن مالک نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حنین کا دن ہوا تو قبیلہ ہوازن اور غطفان اپنے مویشی اور بال بچوں کو ساتھ لے کر جنگ کے لیے نکلے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تھا۔ ان میں کچھ لوگ وہ بھی تھے، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا، پھر ان سب نے پیٹھ پھیر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ پکارا دونوں پکار ایک دوسرے سے الگ الگ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف متوجہ ہو کر پکارا: اے انصاریو! انہوں نے جواب دیا ہم حاضر ہیں: یا رسول اللہ! آپ کو بشارت ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں، لڑنے کو تیار ہیں۔ پھر آپ بائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی، اے انصاریو! انہوں نے ادھر سے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں، یا رسول اللہ! بشارت ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک سفید خچر پر سوار تھے پھر آپ اتر گئے اور فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ انجام کار کافروں کو ہار ہوئی اور اس لڑائی میں بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہاجرین میں اور قریشیوں میں تقسیم کر دیا ( جنہیں فتح مکہ کے موقع پر احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا ) انصار کو ان میں سے کچھ نہیں عطا فرمایا۔ انصار ( کے بعض نوجوانوں ) نے کہا کہ جب سخت وقت آتا ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت دوسروں کو تقسیم کر دی جاتی ہے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انصار کو ایک خیمہ میں جمع کیا اور فرمایا اے انصاریو! کیا وہ بات صحیح ہے جو تمہارے بارے میں مجھے معلوم ہوئی ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصاریو! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ کو اپنے گھر لے جاؤ۔ انصاریوں نے عرض کیا ہم اسی پر خوش ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی گھاٹی میں چلیں تو میں انصار ہی کی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا۔ اس پر ہشام نے پوچھا: اے ابوحمزہ! کیا آپ وہاں موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غائب ہی کب ہوتا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن معاذ، حدثنا ابن عون، عن هشام بن زيد بن انس بن مالك، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال لما كان يوم حنين اقبلت هوازن وغطفان وغيرهم بنعمهم وذراريهم، ومع النبي صلى الله عليه وسلم عشرة الاف ومن الطلقاء، فادبروا عنه حتى بقي وحده، فنادى يوميذ نداءين لم يخلط بينهما، التفت عن يمينه، فقال " يا معشر الانصار ". قالوا لبيك يا رسول الله، ابشر نحن معك. ثم التفت عن يساره، فقال " يا معشر الانصار ". قالوا لبيك يا رسول الله، ابشر نحن معك. وهو على بغلة بيضاء، فنزل فقال " انا عبد الله ورسوله "، فانهزم المشركون، فاصاب يوميذ غنايم كثيرة، فقسم في المهاجرين والطلقاء ولم يعط الانصار شييا، فقالت الانصار اذا كانت شديدة فنحن ندعى، ويعطى الغنيمة غيرنا. فبلغه ذلك، فجمعهم في قبة، فقال " يا معشر الانصار ما حديث بلغني عنكم ". فسكتوا فقال " يا معشر الانصار الا ترضون ان يذهب الناس بالدنيا، وتذهبون برسول الله صلى الله عليه وسلم تحوزونه الى بيوتكم ". قالوا بلى. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو سلك الناس واديا، وسلكت الانصار شعبا لاخذت شعب الانصار ". فقال هشام يا ابا حمزة، وانت شاهد ذاك قال واين اغيب عنه
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تھا، میں بھی اس میں شریک تھا۔ اس میں ہمارا حصہ ( مال غنیمت میں ) بارہ بارہ اونٹ پڑے اور ایک ایک اونٹ ہمیں اور فالتو دیا گیا۔ اس طرح ہم تیرہ تیرہ اونٹ ساتھ لے کر واپس آئے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية قبل نجد، فكنت فيها، فبلغت سهامنا اثنى عشر بعيرا، ونفلنا بعيرا بعيرا، فرجعنا بثلاثة عشر بعيرا
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی۔ (دوسری سند) اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن انہیں «أسلمنا.» ”ہم اسلام لائے“ کہنا نہیں آتا تھا، اس کے بجائے وہ «صبأنا.، صبأنا.» ”ہم بےدین ہو گئے، یعنی اپنے آبائی دین سے ہٹ گئے“ کہنے لگے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنا اور قید کرنا شروع کر دیا اور پھر ہم میں سے ہر شخص کو اس کا قیدی اس کی حفاظت کے لیے دے دیا پھر جب ایک دن خالد رضی اللہ عنہ نے ہم سب کو حکم دیا کہ ہم اپنے قیدیوں کو قتل کر دیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا آخر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے صورت حال بیان کیا تو آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ اے اللہ! میں اس فعل سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں، جو خالد نے کیا۔ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا۔
حدثني محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، وحدثني نعيم، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد الى بني جذيمة، فدعاهم الى الاسلام فلم يحسنوا ان يقولوا اسلمنا. فجعلوا يقولون صبانا، صبانا. فجعل خالد يقتل منهم وياسر، ودفع الى كل رجل منا اسيره، حتى اذا كان يوم امر خالد ان يقتل كل رجل منا اسيره فقلت والله لا اقتل اسيري، ولا يقتل رجل من اصحابي اسيره، حتى قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم فذكرناه، فرفع النبي صلى الله عليه وسلم يده فقال " اللهم اني ابرا اليك مما صنع خالد ". مرتين
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن اسلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر لشکر روانہ کیا اور اس کا امیر ایک انصاری صحابی ( عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ ) کو بنایا اور لشکریوں کو حکم دیا کہ سب اپنے امیر کی اطاعت کریں پھر امیر کسی وجہ سے غصہ ہو گئے اور اپنے فوجیوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں فرمایا ہے؟ سب نے کہا کہ ہاں فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا پھر تم سب لکڑیاں جمع کرو۔ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں تو امیر نے حکم دیا کہ اس میں آگ لگاؤ اور انہوں نے آگ لگا دی۔ اب انہوں نے حکم دیا کہ سب اس میں کود جاؤ۔ فوجی کود جانا ہی چاہتے تھے کہ انہیں میں سے بعض نے بعض کو روکا اور کہا کہ ہم تو اس آگ ہی کے خوف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ہیں! ان باتوں میں وقت گزر گیا اور آگ بھی بجھ گئی۔ اس کے بعد امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ جب اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود جاتے تو پھر قیامت تک اس میں سے نہ نکلتے۔ اطاعت کا حکم صرف نیک کاموں کے لیے ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، قال حدثني سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن علي رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية فاستعمل رجلا من الانصار، وامرهم ان يطيعوه، فغضب فقال اليس امركم النبي صلى الله عليه وسلم ان تطيعوني. قالوا بلى. قال فاجمعوا لي حطبا. فجمعوا، فقال اوقدوا نارا. فاوقدوها، فقال ادخلوها. فهموا، وجعل بعضهم يمسك بعضا، ويقولون فررنا الى النبي صلى الله عليه وسلم من النار. فما زالوا حتى خمدت النار، فسكن غضبه، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لو دخلوها ما خرجوا منها الى يوم القيامة، الطاعة في المعروف
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن ابي بردة، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا موسى ومعاذ بن جبل الى اليمن، قال وبعث كل واحد منهما على مخلاف قال واليمن مخلافان ثم قال " يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا ". فانطلق كل واحد منهما الى عمله، وكان كل واحد منهما اذا سار في ارضه كان قريبا من صاحبه احدث به عهدا، فسلم عليه، فسار معاذ في ارضه قريبا من صاحبه ابي موسى، فجاء يسير على بغلته حتى انتهى اليه، واذا هو جالس، وقد اجتمع اليه الناس، واذا رجل عنده قد جمعت يداه الى عنقه فقال له معاذ يا عبد الله بن قيس، ايم هذا قال هذا رجل كفر بعد اسلامه. قال لا انزل حتى يقتل. قال انما جيء به لذلك فانزل. قال ما انزل حتى يقتل فامر به فقتل ثم نزل فقال يا عبد الله، كيف تقرا القران قال اتفوقه تفوقا. قال فكيف تقرا انت يا معاذ قال انام اول الليل فاقوم وقد قضيت جزيي من النوم، فاقرا ما كتب الله لي، فاحتسب نومتي كما احتسب قومتي
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن ابي بردة، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا موسى ومعاذ بن جبل الى اليمن، قال وبعث كل واحد منهما على مخلاف قال واليمن مخلافان ثم قال " يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا ". فانطلق كل واحد منهما الى عمله، وكان كل واحد منهما اذا سار في ارضه كان قريبا من صاحبه احدث به عهدا، فسلم عليه، فسار معاذ في ارضه قريبا من صاحبه ابي موسى، فجاء يسير على بغلته حتى انتهى اليه، واذا هو جالس، وقد اجتمع اليه الناس، واذا رجل عنده قد جمعت يداه الى عنقه فقال له معاذ يا عبد الله بن قيس، ايم هذا قال هذا رجل كفر بعد اسلامه. قال لا انزل حتى يقتل. قال انما جيء به لذلك فانزل. قال ما انزل حتى يقتل فامر به فقتل ثم نزل فقال يا عبد الله، كيف تقرا القران قال اتفوقه تفوقا. قال فكيف تقرا انت يا معاذ قال انام اول الليل فاقوم وقد قضيت جزيي من النوم، فاقرا ما كتب الله لي، فاحتسب نومتي كما احتسب قومتي
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے شیبانی نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان شربتوں کا مسئلہ پوچھا جو یمن میں بنائے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ وہ کیا ہیں؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ”بتع“ اور ”مزر“ ( سعید بن ابی بردہ نے کہا کہ ) میں نے ابوبردہ ( اپنے والد ) سے پوچھا ”بتع“ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شہد سے تیاری کی ہوئی شراب اور ”مزر“ جَو سے تیار کی ہوئی شراب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز پینا حرام ہے۔ اس کی روایت جریر اور عبدالواحد نے شیبانی سے کی ہے اور انہوں نے ابوبردہ سے کی ہے۔
حدثني اسحاق، حدثنا خالد، عن الشيباني، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن ابي موسى الاشعري رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم بعثه الى اليمن، فساله عن اشربة تصنع بها، فقال " وما هي ". قال البتع والمزر. فقلت لابي بردة ما البتع قال نبيذ العسل، والمزر نبيذ الشعير. فقال " كل مسكر حرام ". رواه جرير وعبد الواحد عن الشيباني عن ابي بردة
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، حدثنا سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم جده ابا موسى، ومعاذا الى اليمن فقال " يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وتطاوعا ". فقال ابو موسى يا نبي الله، ان ارضنا بها شراب من الشعير المزر، وشراب من العسل البتع. فقال " كل مسكر حرام ". فانطلقا فقال معاذ لابي موسى كيف تقرا القران قال قايما وقاعدا وعلى راحلته واتفوقه تفوقا. قال اما انا فانام واقوم، فاحتسب نومتي كما احتسب قومتي، وضرب فسطاطا، فجعلا يتزاوران، فزار معاذ ابا موسى، فاذا رجل موثق، فقال ما هذا فقال ابو موسى يهودي اسلم ثم ارتد. فقال معاذ لاضربن عنقه. تابعه العقدي ووهب عن شعبة. وقال وكيع والنضر وابو داود عن شعبة، عن سعيد، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم. رواه جرير بن عبد الحميد عن الشيباني عن ابي بردة
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، حدثنا سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم جده ابا موسى، ومعاذا الى اليمن فقال " يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وتطاوعا ". فقال ابو موسى يا نبي الله، ان ارضنا بها شراب من الشعير المزر، وشراب من العسل البتع. فقال " كل مسكر حرام ". فانطلقا فقال معاذ لابي موسى كيف تقرا القران قال قايما وقاعدا وعلى راحلته واتفوقه تفوقا. قال اما انا فانام واقوم، فاحتسب نومتي كما احتسب قومتي، وضرب فسطاطا، فجعلا يتزاوران، فزار معاذ ابا موسى، فاذا رجل موثق، فقال ما هذا فقال ابو موسى يهودي اسلم ثم ارتد. فقال معاذ لاضربن عنقه. تابعه العقدي ووهب عن شعبة. وقال وكيع والنضر وابو داود عن شعبة، عن سعيد، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم. رواه جرير بن عبد الحميد عن الشيباني عن ابي بردة
ہم سے عباس بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے ایوب بن عائذ نے، ان سے قیس بن مسلم نے بیان کیا، کہا میں نے طارق بن شہاب سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے وطن ( یمن ) میں بھیجا۔ پھر میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ کی ) وادی ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم نے حج کا احرام باندھا لیا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ نے دریافت فرمایا کہ کلمات احرام کس طرح کہے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ( کہ یوں کلمات ادا کئے ہیں ) ”اے اللہ میں حاضر ہوں، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے، میں نے بھی اسی طرح باندھا ہے۔“ فرمایا تم اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی لائے ہو؟ میں نے کہا کہ کوئی جانور تو میں اپنے ساتھ نہیں لایا۔ فرمایا تم پھر پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر لو۔ ان رکنوں کی ادائیگی کے بعد حلال ہو جانا۔ میں نے اسی طرح کیا اور بنو قیس کی خاتون نے میرے سر میں کنگھا کیا اور اسی قاعدے پر ہم اس وقت تک چلتے رہے جب تک عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے ( اسی کو حج تمتع کہتے ہیں اور یہ بھی سنت ہے ) ۔
حدثني عباس بن الوليد، حدثنا عبد الواحد، عن ايوب بن عايذ، حدثنا قيس بن مسلم، قال سمعت طارق بن شهاب، يقول حدثني ابو موسى الاشعري رضى الله عنه قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ارض قومي، فجيت ورسول الله صلى الله عليه وسلم منيخ بالابطح فقال " احججت يا عبد الله بن قيس ". قلت نعم يا رسول الله. قال " كيف قلت ". قال قلت لبيك اهلالا كاهلالك. قال " فهل سقت معك هديا ". قلت لم اسق. قال " فطف بالبيت واسع بين الصفا والمروة ثم حل ". ففعلت حتى مشطت لي امراة من نساء بني قيس، ومكثنا بذلك حتى استخلف عمر
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا بن اسحاق نے، انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نافذ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا ( حاکم بنا کر بھیجتے وقت انہیں ) ہدایت فرمائی تھی کہ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب یہودی اور نصرانی وغیرہ میں سے ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں اس کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر اس میں وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے روزانہ ان پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، جب یہ بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ کو بھی فرض کیا ہے، جو ان کے مالدار لوگوں سے لی جائے گی اور انہیں کے غریبوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ جب یہ بھی مان جائیں تو ( پھر زکوٰۃ وصول کرتے وقت ) ان کا سب سے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی آہ سے ہر وقت ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ المائدہ میں جو «طوعت» کا لفظ آیا ہے اس کا وہی معنی ہے جو «طاعت» اور «أطاعت» کا ہے جیسے کہتے ہیں «طعت وطعت وأطعت.» سب کا معنی ایک ہی ہے۔
حدثني حبان، اخبرنا عبد الله، عن زكرياء بن اسحاق، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، مولى ابن عباس عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ بن جبل حين بعثه الى اليمن " انك ستاتي قوما من اهل الكتاب، فاذا جيتهم فادعهم الى ان يشهدوا ان لا اله الا الله، وان محمدا رسول الله، فان هم طاعوا لك بذلك فاخبرهم ان الله قد فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فان هم طاعوا لك بذلك، فاخبرهم ان الله قد فرض عليكم صدقة، توخذ من اغنيايهم، فترد على فقرايهم، فان هم طاعوا لك بذلك، فاياك وكرايم اموالهم، واتق دعوة المظلوم فانه ليس بينه وبين الله حجاب ". قال ابو عبد الله {طوعت} طاعت واطاعت لغة، طعت وطعت واطعت