Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا عاصم، عن ابي عثمان النهدي، عن مجاشع بن مسعود، انطلقت بابي معبد الى النبي صلى الله عليه وسلم ليبايعه على الهجرة، قال " مضت الهجرة لاهلها، ابايعه على الاسلام والجهاد." فلقيت ابا معبد فسالته فقال صدق مجاشع. وقال خالد عن ابي عثمان عن مجاشع انه جاء باخيه مجالد
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے اور ان سے مجاہد نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں ملک شام کو ہجرت کر جاؤں، فرمایا: اب ہجرت باقی نہیں رہی، جہاد ہی باقی رہ گیا ہے۔ اس لیے جاؤ اور خود کو پیش کرو۔ اگر تم نے کچھ پا لیا تو بہتر ورنہ واپس آ جانا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن مجاهد، قلت لابن عمر رضى الله عنهما اني اريد ان اهاجر الى الشام. قال لا هجرة ولكن جهاد، فانطلق فاعرض نفسك، فان وجدت شييا والا رجعت
نضر نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے سنا کہ جب میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی یا ( فرمایا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پھر ہجرت کہاں رہی۔
وقال النضر اخبرنا شعبة، اخبرنا ابو بشر، سمعت مجاهدا، قلت لابن عمر فقال لا هجرة اليوم، او بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله
مجھ سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عبدہ بن ابی لبابہ نے، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔
حدثني اسحاق بن يزيد، حدثنا يحيى بن حمزة، قال حدثني ابو عمرو الاوزاعي، عن عبدة بن ابي لبابة، عن مجاهد بن جبر المكي، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما كان يقول لا هجرة بعد الفتح
ہم سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبید نے ان سے ہجرت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ پہلے مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پناہ لینے کے لیے آتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں دین کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ اس لیے اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا تو مسلمان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو صرف جہاد اور جہاد کی نیت کا ثواب باقی ہے۔
حدثنا اسحاق بن يزيد، حدثنا يحيى بن حمزة، قال حدثني الاوزاعي، عن عطاء بن ابي رباح، قال زرت عايشة مع عبيد بن عمير فسالها عن الهجرة، فقالت لا هجرة اليوم، كان المومن يفر احدهم بدينه الى الله والى رسوله صلى الله عليه وسلم مخافة ان يفتن عليه، فاما اليوم فقد اظهر الله الاسلام، فالمومن يعبد ربه حيث شاء، ولكن جهاد ونية
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو حسن بن مسلم نے خبر دی اور انہیں مجاہد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا، اسی دن اس نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دے دیا تھا۔ پس یہ شہر اللہ کے حکم کے مطابق قیامت تک کے لیے حرمت والا رہے گا۔ جو مجھ سے پہلے کبھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ یہاں حدود حرم میں شکار کے قابل جانور نہ چھیڑے جائیں۔ یہاں کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے اور یہاں پر گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور کسی کے لیے اٹھانی جائز نہیں۔“ اس پر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر ( گھاس ) کی اجازت دے دیجئیے کیونکہ سناروں کے لیے اور مکانات ( کی تعمیر وغیرہ ) کے لیے یہ ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر فرمایا ”اذخر اس حکم سے الگ ہے اس کا ( کاٹنا ) حلال ہے۔“ دوسری روایت ابن جریج سے ( اسی سند سے ) ایسی ہی ہے انہوں نے عبدالکریم بن مالک سے، انہوں نے ابن عباس سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے۔
حدثنا اسحاق، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال اخبرني حسن بن مسلم، عن مجاهد، ان رسول الله قام يوم الفتح فقال " ان الله حرم مكة يوم خلق السموات والارض، فهى حرام بحرام الله الى يوم القيامة، لم تحل لاحد قبلي، ولا تحل لاحد بعدي، ولم تحلل لي الا ساعة من الدهر، لا ينفر صيدها، ولا يعضد شوكها، ولا يختلى خلاها ولا تحل لقطتها الا لمنشد ". فقال العباس بن عبد المطلب الا الاذخر يا رسول الله، فانه لا بد منه للقين والبيوت، فسكت ثم قال " الا الاذخر فانه حلال ". وعن ابن جريج اخبرني عبد الكريم عن عكرمة عن ابن عباس بمثل هذا او نحو هذا. رواه ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں زخم کا نشان دیکھا پھر انہوں نے بتلایا کہ یہ زخم اس وقت آیا تھا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔ میں نے کہا، آپ حنین میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی میں کئی غزوات میں شریک ہو چکا ہوں۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا اسماعيل، رايت بيد ابن ابي اوفى ضربة، قال ضربتها مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم حنين. قلت شهدت حنينا قال قبل ذلك
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے یہاں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمارہ! کیا تم نے حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا، میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ البتہ جو لوگ قوم میں جلد باز تھے، انہوں نے اپنی جلد بازی کا ثبوت دیا تھا، پس قبیلہ ہوازن والوں نے ان پر تیر برسائے۔ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب، أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں بالکل جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء، رضى الله عنه وجاءه رجل فقال يا ابا عمارة اتوليت يوم حنين فقال اما انا فاشهد على النبي صلى الله عليه وسلم انه لم يول، ولكن عجل سرعان القوم، فرشقتهم هوازن، وابو سفيان بن الحارث اخذ براس بغلته البيضاء يقول {انا النبي لا كذب، انا ابن عبد المطلب}
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ تم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو آپ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ہوازن والے بڑے تیرانداز تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تھا «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قيل للبراء وانا اسمع، اوليتم مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم حنين فقال اما النبي صلى الله عليه وسلم فلا، كانوا رماة فقال " انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ حنین میں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے؟ انہوں نے کہا: لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیرانداز تھے، جب ان پر ہم نے حملہ کیا تو وہ پسپا ہو گئے پھر ہم لوگ مال غنیمت میں لگ گئے۔ آخر ہمیں ان کے تیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب» ”میں نبی ہوں، اس میں جھوٹ نہیں۔“ اسرائیل اور زہیر نے بیان کیا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر گئے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، سمع البراء وساله رجل من قيس افررتم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين فقال لكن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يفر، كانت هوازن رماة، وانا لما حملنا عليهم انكشفوا، فاكببنا على الغنايم، فاستقبلنا بالسهام، ولقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم على بغلته البيضاء، وان ابا سفيان اخذ بزمامها وهو يقول {انا النبي لا كذب}. قال اسراييل وزهير نزل النبي صلى الله عليه وسلم عن بغلته
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني ليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب،. وحدثني اسحاق، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن اخي ابن شهاب،، قال محمد بن شهاب وزعم عروة بن الزبير ان مروان، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " معي من ترون، واحب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما السبى، واما المال، وقد كنت استانيت بكم ". وكان انظرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بضع عشرة ليلة، حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين قالوا فانا نختار سبينا. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسلمين، فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد، فان اخوانكم قد جاءونا تايبين، واني قد رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب منكم ان يكون على حظه، حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا، فليفعل ". فقال الناس قد طيبنا ذلك يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا لا ندري من اذن منكم في ذلك ممن لم ياذن فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس فكلمهم عرفاوهم ثم رجعوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم قد طيبوا واذنوا. هذا الذي بلغني عن سبى هوازن
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني ليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب،. وحدثني اسحاق، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن اخي ابن شهاب،، قال محمد بن شهاب وزعم عروة بن الزبير ان مروان، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " معي من ترون، واحب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما السبى، واما المال، وقد كنت استانيت بكم ". وكان انظرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بضع عشرة ليلة، حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين قالوا فانا نختار سبينا. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسلمين، فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد، فان اخوانكم قد جاءونا تايبين، واني قد رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب منكم ان يكون على حظه، حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا، فليفعل ". فقال الناس قد طيبنا ذلك يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا لا ندري من اذن منكم في ذلك ممن لم ياذن فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس فكلمهم عرفاوهم ثم رجعوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم قد طيبوا واذنوا. هذا الذي بلغني عن سبى هوازن
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم غزوہ حنین سے واپس ہو رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اعتکاف کی مانی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پوری کرنے کا حکم دیا اور بعض ( احمد بن عبدہ ضبی ) نے حماد سے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ اور اس روایت کو جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، ان عمر، قال يا رسول الله. حدثني محمد بن مقاتل اخبرنا عبد الله اخبرنا معمر عن ايوب عن نافع عن ابن عمر رضى الله عنهما قال لما قفلنا من حنين سال عمر النبي صلى الله عليه وسلم عن نذر كان نذره في الجاهلية اعتكاف، فامره النبي صلى الله عليه وسلم بوفايه. وقال بعضهم حماد عن ايوب عن نافع عن ابن عمر. ورواه جرير بن حازم وحماد بن سلمة عن ايوب عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہیں عمرو بن کثیر بن افلح نے، انہیں قتادہ کے مولیٰ ابو محمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے لیے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب جنگ ہوئی تو مسلمان ذرا ڈگمگا گئے ( یعنی آگے پیچھے ہو گئے ) ۔ میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان کے اوپر غالب ہو رہا ہے، میں نے پیچھے سے اس کی گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ اب وہ مجھ پر پلٹ پڑا اور مجھے اتنی زور سے بھینچا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی، آخر وہ مر گیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، یہی اللہ عزوجل کا حکم ہے۔ پھر مسلمان پلٹے اور ( جنگ ختم ہونے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا ہو اور اس کے لیے کوئی گواہ بھی رکھتا ہو تو اس کا تمام سامان و ہتھیار اسے ہی ملے گا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ نے دوبارہ یہی فرمایا۔ اس مرتبہ پھر میں نے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ اور پھر بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا فرمان دہرایا تو میں اس مرتبہ کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا کیا بات ہے، اے ابوقتادہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی ) نے کہا کہ یہ سچ کہتے ہیں اور ان کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں ( کہ سامان مجھ سے نہ لیں ) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق تمہیں ہرگز نہیں دے سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، تم سامان ابوقتادہ کو دے دو۔ انہوں نے سامان مجھے دے دیا۔ میں نے اس سامان سے قبیلہ سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا اسلام کے بعد یہ میرا پہلا مال تھا، جسے میں نے حاصل کیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمر بن كثير بن افلح، عن ابي محمد، مولى ابي قتادة عن ابي قتادة، قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم عام حنين، فلما التقينا كانت للمسلمين جولة، فرايت رجلا من المشركين، قد علا رجلا من المسلمين، فضربته من ورايه على حبل عاتقه بالسيف، فقطعت الدرع، واقبل على فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت، ثم ادركه الموت فارسلني، فلحقت عمر فقلت ما بال الناس قال امر الله عز وجل. ثم رجعوا وجلس النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه ". فقلت من يشهد لي ثم جلست قال ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم مثله فقمت فقلت من يشهد لي ثم جلست قال ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم مثله، فقمت فقال " مالك يا ابا قتادة ". فاخبرته. فقال رجل صدق وسلبه عندي، فارضه مني. فقال ابو بكر لاها الله، اذا لا يعمد الى اسد من اسد الله يقاتل عن الله ورسوله صلى الله عليه وسلم فيعطيك سلبه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق فاعطه ". فاعطانيه فابتعت به مخرفا في بني سلمة، فانه لاول مال تاثلته في الاسلام
اور لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا تھا کہ ان سے عمر بن کثیر بن افلح نے، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابو محمد نے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے دن میں نے ایک مسلمان کو دیکھا کہ ایک مشرک سے لڑ رہا تھا اور ایک دوسرا مشرک پیچھے سے مسلمان کو قتل کرنے کی گھات میں تھا، پہلے تو میں اسی کی طرف بڑھا، اس نے اپنا ہاتھ مجھے مارنے کے لیے اٹھایا تو میں نے اس کے ہاتھ پر وار کر کے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ مجھ سے چمٹ گیا اور اتنی زور سے مجھے بھینچا کہ میں ڈر گیا۔ آخر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور ڈھیلا پڑ گیا۔ میں نے اسے دھکا دے کر قتل کر دیا اور مسلمان بھاگ نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ بھاگ پڑا۔ لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نظر آئے تو میں نے ان سے پوچھا، کہ لوگ بھاگ کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے، پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس پر گواہ قائم کر دے گا کہ کسی مقتول کو اسی نے قتل کیا ہے تو اس کا سارا سامان اسے ملے گا۔ میں اپنے مقتول پر گواہ کے لیے اٹھا لیکن مجھے کوئی گواہ دکھائی نہیں دیا۔ آخر میں بیٹھ گیا پھر میرے سامنے ایک صورت آئی۔ میں نے اپنے معاملے کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ان کے مقتول کا ہتھیار میرے پاس ہے، آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے جنگ کرتا ہے، اس کا حق قریش کے ایک بزدل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں دے سکتے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان عطا فرمایا۔ میں نے اس سے ایک باغ خریدا اور یہ سب سے پہلا مال تھا جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا تھا۔
وقال الليث حدثني يحيى بن سعيد، عن عمر بن كثير بن افلح، عن ابي محمد، مولى ابي قتادة ان ابا قتادة، قال لما كان يوم حنين نظرت الى رجل من المسلمين يقاتل رجلا من المشركين، واخر من المشركين يختله من ورايه ليقتله، فاسرعت الى الذي يختله فرفع يده ليضربني، واضرب يده، فقطعتها، ثم اخذني، فضمني ضما شديدا حتى تخوفت، ثم ترك فتحلل، ودفعته ثم قتلته، وانهزم المسلمون، وانهزمت معهم، فاذا بعمر بن الخطاب في الناس، فقلت له ما شان الناس قال امر الله، ثم تراجع الناس الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقام بينة على قتيل قتله فله سلبه ". فقمت لالتمس بينة على قتيلي، فلم ار احدا يشهد لي فجلست، ثم بدا لي، فذكرت امره لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رجل من جلسايه سلاح هذا القتيل الذي يذكر عندي فارضه منه. فقال ابو بكر كلا لا يعطه اصيبغ من قريش، ويدع اسدا من اسد الله يقاتل عن الله ورسوله صلى الله عليه وسلم قال فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاداه الى، فاشتريت منه خرافا فكان اول مال تاثلته في الاسلام
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ایک دستے کے ساتھ ابوعامر رضی اللہ عنہ کو وادی اوطاس کی طرف بھیجا۔ اس معرکہ میں درید ابن الصمہ سے مقابلہ ہوا۔ درید قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو شکست دے دی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی بھیجا تھا۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر آ کر لگا۔ بنی جعشم کے ایک شخص نے ان پر تیر مارا تھا اور ان کے گھٹنے میں اتار دیا تھا۔ میں ان کے پاس پہنچا اور کہا:چچا! یہ تیر آپ پر کس نے پھینکا؟ انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارے سے بتایا کہ وہ جعشمی میرا قاتل ہے جس نے مجھے نشانہ بنایا ہے۔ میں اس کی طرف لپکا اور اس کے قریب پہنچ گیا لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگ پڑا میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں یہ کہتا جاتا تھا، تجھے شرم نہیں آتی، تجھ سے مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ آخر وہ رک گیا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلوار سے وار کیا۔ میں نے اسے قتل کر دیا اور ابوعامر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ اللہ نے آپ کے قاتل کو قتل کروا دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے ( گھٹنے میں سے ) تیر نکال لے، میں نے نکال دیا تو اس سے پانی جاری ہو گیا پھر انہوں نے فرمایا: بھتیجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام پہنچانا اور عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر مجھے اپنا نائب بنا دیا۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہے اور شہادت پائی۔ میں واپس ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ اپنے گھر میں بانوں کی ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ اس پر کوئی بستر بچھا ہوا نہیں تھا اور بانوں کے نشانات آپ کی پیٹھ اور پہلو پر پڑ گئے تھے۔ میں نے آپ سے اپنے اور ابوعامر رضی اللہ عنہ کے واقعات بیان کئے اور یہ کہ انہوں نے دعا مغفرت کے لیے درخواست کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی، اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل میں سفیدی ( جب آپ دعا کر رہے تھے ) دیکھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اے اللہ! قیامت کے دن ابوعامر کو اپنی بہت سی مخلوق سے بلند تر درجہ عطا فرمائیو۔ میں نے عرض کیا اور میرے لیے بھی اللہ سے مغفرت کی دعا فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ کے گناہوں کو بھی معاف فرما اور قیامت کے دن اچھا مقام عطا فرمائیو۔ ابوبردہ نے بیان کیا کہ ایک دعا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لیے تھی اور دوسری ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال لما فرغ النبي صلى الله عليه وسلم من حنين بعث ابا عامر على جيش الى اوطاس فلقي دريد بن الصمة، فقتل دريد وهزم الله اصحابه. قال ابو موسى وبعثني مع ابي عامر فرمي ابو عامر في ركبته، رماه جشمي بسهم فاثبته في ركبته، فانتهيت اليه فقلت يا عم من رماك فاشار الى ابي موسى فقال ذاك قاتلي الذي رماني. فقصدت له فلحقته فلما راني ولى فاتبعته وجعلت اقول له الا تستحي، الا تثبت. فكف فاختلفنا ضربتين بالسيف فقتلته ثم قلت لابي عامر قتل الله صاحبك. قال فانزع�� هذا السهم فنزعته فنزا منه الماء. قال يا ابن اخي اقري النبي صلى الله عليه وسلم السلام، وقل له استغفر لي. واستخلفني ابو عامر على الناس، فمكث يسيرا ثم مات، فرجعت فدخلت على النبي صلى الله عليه وسلم في بيته على سرير مرمل وعليه فراش قد اثر رمال السرير بظهره وجنبيه، فاخبرته بخبرنا وخبر ابي عامر، وقال قل له استغفر لي، فدعا بماء فتوضا ثم رفع يديه فقال " اللهم اغفر لعبيد ابي عامر ". ورايت بياض ابطيه ثم قال " اللهم اجعله يوم القيامة فوق كثير من خلقك من الناس ". فقلت ولي فاستغفر. فقال " اللهم اغفر لعبد الله بن قيس ذنبه وادخله يوم القيامة مدخلا كريما ". قال ابو بردة احداهما لابي عامر والاخرى لابي موسى
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم نے سفیان بن عیینہ سے سنا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ان کی والدہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبداللہ بن امیہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عطا فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی ( بادیہ نامی ) کو لے لینا وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں ( یعنی بہت موٹی تازہ عورت ہے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اب تمہار ے گھر میں نہ آیا کریں۔ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ابن جریج نے کہا، اس مخنث کا نام ہیت تھا۔ ہم سے محمود نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے
حدثنا الحميدي، سمع سفيان، حدثنا هشام، عن ابيه، عن زينب ابنة ابي سلمة، عن امها ام سلمة رضى الله عنها دخل على النبي صلى الله عليه وسلم وعندي مخنث فسمعته يقول لعبد الله بن ابي امية يا عبد الله ارايت ان فتح الله عليكم الطايف غدا فعليك بابنة غيلان، فانها تقبل باربع وتدبر بثمان. وقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يدخلن هولاء عليكن ". قال ابن عيينة وقال ابن جريج المخنث هيت. حدثنا محمود حدثنا ابو اسامة عن هشام بهذا، وزاد وهو محاصر الطايف يوميذ
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس نابینا شاعر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ اب ان شاءاللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں ( راوی نے ) ایک مرتبہ «نذهب» کے بجائے «نقفل» کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم۔۔۔ لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں ( یہ کیونکر ہو سکتا ہے ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔ پس وہ صحابہ سویرے ہی آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔ اب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس چلیں گے۔ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری خبر بیان کی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي العباس الشاعر الاعمى، عن عبد الله بن عمر، قال لما حاصر رسول الله صلى الله عليه وسلم الطايف فلم ينل منهم شييا قال " انا قافلون ان شاء الله ". فثقل عليهم وقالوا نذهب ولا نفتحه وقال مرة نقفل فقال " اغدوا على القتال ". فغدوا فاصابهم جراح فقال " انا قافلون غدا ان شاء الله ". فاعجبهم فضحك النبي صلى الله عليه وسلم، وقال سفيان مرة فتبسم. قال قال الحميدي حدثنا سفيان الخبر كله
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عاصم، قال سمعت ابا عثمان، قال سمعت سعدا وهو اول من رمى بسهم في سبيل الله وابا بكرة وكان تسور حصن الطايف في اناس فجاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالا سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من ادعى الى غير ابيه وهو يعلم فالجنة عليه حرام ". وقال هشام واخبرنا معمر، عن عاصم، عن ابي العالية، او ابي عثمان النهدي قال سمعت سعدا، وابا، بكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال عاصم قلت لقد شهد عندك رجلان حسبك بهما. قال اجل اما احدهما فاول من رمى بسهم في سبيل الله، واما الاخر فنزل الى النبي صلى الله عليه وسلم ثالث ثلاثة وعشرين من الطايف
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عاصم، قال سمعت ابا عثمان، قال سمعت سعدا وهو اول من رمى بسهم في سبيل الله وابا بكرة وكان تسور حصن الطايف في اناس فجاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالا سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من ادعى الى غير ابيه وهو يعلم فالجنة عليه حرام ". وقال هشام واخبرنا معمر، عن عاصم، عن ابي العالية، او ابي عثمان النهدي قال سمعت سعدا، وابا، بكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال عاصم قلت لقد شهد عندك رجلان حسبك بهما. قال اجل اما احدهما فاول من رمى بسهم في سبيل الله، واما الاخر فنزل الى النبي صلى الله عليه وسلم ثالث ثلاثة وعشرين من الطايف