Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو بیت اللہ میں اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں بت موجود رہے بلکہ آپ نے حکم دیا تو بتوں کو باہر نکال دیا گیا۔ انہیں میں ایک تصویر ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی بھی تھی اور ان کے ہاتھوں میں ( پانسہ ) کے تیر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ان مشرکین کا ناس کرے ‘ انہیں خوب معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے کبھی پانسہ نہیں پھینکا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اندر چاروں طرف تکبیر کہی پھر باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی تھی۔ عبدالصمد کے ساتھ اس حدیث کو معمر نے بھی ایوب سے روایت کیا اور وہیب بن خالد نے یوں کہا ‘ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ انہوں نے عکرمہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثني اسحاق، حدثنا عبد الصمد، قال حدثني ابي، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم مكة ابى ان يدخل البيت وفيه الالهة، فامر بها فاخرجت، فاخرج صورة ابراهيم، واسماعيل في ايديهما من الازلام، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قاتلهم الله لقد علموا ما استقسما بها قط ". ثم دخل البيت، فكبر في نواحي البيت، وخرج ولم يصل فيه. تابعه معمر عن ايوب. وقال وهيب حدثنا ايوب عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر فتح مکہ کے دن مکہ کے بالائی علاقہ کی طرف سے شہر میں داخل ہوئے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ اور کعبہ کے حاجب عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آخر اپنے اونٹ کو آپ نے مسجد ( کے قریب باہر ) بٹھایا اور بیت اللہ کی کنجی لانے کا حکم دیا پھر آپ بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ اسامہ بن زید ‘ بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ آپ اندر کافی دیر تک ٹھہرے ‘ جب باہر تشریف لائے تو لوگ جلدی سے آگے بڑھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سب سے پہلے اندر جانے والوں میں تھے۔ انہوں نے بیت اللہ کے دروازے کے پیچھے بلال رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہوئے دیکھا اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے وہ جگہ بتلائی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔
وقال الليث حدثني يونس، قال اخبرني نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقبل يوم الفتح من اعلى مكة على راحلته، مردفا اسامة بن زيد ومعه بلال ومعه عثمان بن طلحة، من الحجبة حتى اناخ في المسجد، فامره ان ياتي بمفتاح البيت، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه اسامة بن زيد وبلال وعثمان بن طلحة، فمكث فيه نهارا طويلا ثم خرج، فاستبق الناس، فكان عبد الله بن عمر اول من دخل، فوجد بلالا وراء الباب قايما، فساله اين صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار له الى المكان الذي صلى فيه. قال عبد الله فنسيت ان اساله كم صلى من سجدة
ہم سے ہشیم بن خارجہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حفص بن میسرہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے بالائی علاقہ کداء سے شہر میں داخل ہوئے تھے۔ اس روایت کی متابعت ابواسامہ اور وہیب نے کداء کے ذکر کے ساتھ کی ہے۔
حدثنا الهيثم بن خارجة، حدثنا حفص بن ميسرة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان عايشة رضى الله عنها اخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عام الفتح من كداء التي باعلى مكة. تابعه ابو اسامة ووهيب في كداء
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے بالائی علاقہ کداء کی طرف سے داخل ہوئے تھے۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، دخل النبي صلى الله عليه وسلم عام الفتح من اعلى مكة من كداء
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ‘ انہی نے کہا کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا اور آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اتنی ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر بھی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن عمرو، عن ابن ابي ليلى، ما اخبرنا احد، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى غير ام هاني، فانها ذكرت انه يوم فتح مكة اغتسل في بيتها ثم صلى ثماني ركعات، قالت لم اره صلى صلاة اخف منها غير انه يتم الركوع والسجود
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے ابوالضحیٰ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں یہ پڑھتے تھے «سبحانك اللهم، ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» ۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في ركوعه وسجوده " سبحانك اللهم، ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنی مجلس میں اس وقت بھی بلا لیتے جب وہاں بدر کی جنگ میں شریک ہونے والے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوتے۔ اس پر بعض لوگ کہنے لگے اس جوان کو آپ ہماری مجلس میں کیوں بلاتے ہیں؟ اس کے جیسے تو ہمارے بچے بھی ہیں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا وہ تو ان لوگوں میں سے ہے جن کا علم و فضل تم جانتے ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان بزرگ صحابیوں کو ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا اور مجھے بھی بلایا۔ بیان کیا کہ میں سمجھتا تھا کہ مجھے اس دن آپ نے اس لیے بلایا تھا تاکہ آپ میرا علم بتا سکیں۔ پھر آپ نے دریافت کیا «إذا جاء نصر الله والفتح * ورأيت الناس يدخلون» ‘ ختم سورت تک ‘ کے متعلق تم لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ ہمیں اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد بیان کریں اور اس سے استغفار کریں کہ اس نے ہماری مدد کی اور ہمیں فتح عنایت فرمائی۔ بعض نے کہا کہ ہمیں اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے اور بعض نے کوئی جواب نہیں دیا پھر انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ابن عباس! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں ‘ پوچھا ‘ پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح حاصل ہو گئی۔ یعنی فتح مکہ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی نشانی ہے۔ اس لیے آپ اپنے رب کی حمد اور تسبیح اور اس کی مغفرت طلب کریں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو کچھ تم نے کہا وہی میں بھی سمجھتا ہوں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان عمر يدخلني مع اشياخ بدر، فقال بعضهم لم تدخل هذا الفتى معنا، ولنا ابناء مثله فقال انه ممن قد علمتم. قال فدعاهم ذات يوم، ودعاني معهم قال وما رييته دعاني يوميذ الا ليريهم مني فقال ما تقولون {اذا جاء نصر الله والفتح * ورايت الناس يدخلون} حتى ختم السورة، فقال بعضهم امرنا ان نحمد الله ونستغفره، اذا نصرنا وفتح علينا. وقال بعضهم لا ندري. او لم يقل بعضهم شييا. فقال لي يا ابن عباس اكذاك تقول قلت لا. قال فما تقول قلت هو اجل رسول الله صلى الله عليه وسلم اعلمه الله له {اذا جاء نصر الله والفتح} فتح مكة، فذاك علامة اجلك {فسبح بحمد ربك واستغفره انه كان توابا} قال عمر ما اعلم منها الا ما تعلم
ہم سے سعید بن شرحبیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے مقبری نے کہ ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے ( مدینہ کے امیر ) عمرو بن سعید سے کہا جب کہ عمرو بن سعید ( عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے خلاف ) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہے تھے کہ اے امیر! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک حدیث بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی۔ اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے تو میں اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا ‘ بلاشبہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا شہر قرار دیا ہے کسی انسان نے اسے اپنے طرف سے حرمت والا قرار نہیں دیا۔ اس لیے کسی شخص کے لیے بھی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ‘ جائز نہیں کہ اس میں کسی کا خون بہائے اور کوئی اس سر زمیں کا کوئی درخت کاٹے اور اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( فتح مکہ کے موقع پر ) جنگ سے اپنے لیے بھی رخصت نکالے تو تم اس سے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول کو ( تھوڑی دیر کے لیے ) اس کی اجازت دی تھی۔ ہمارے لیے بالکل اجازت نہیں ہے اور مجھے بھی اس کی اجازت دن کے تھوڑے سے حصے کے لیے ملی تھی اور آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل یہ شہر حرمت والا تھا۔ پس جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ( ان کو میرا کلام ) پہنچا دیں جو موجود نہیں۔ ابوشریح سے پوچھا گیا کہ عمرو بن سعید نے آپ کو پھر جواب کیا دیا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ اس نے کہا کہ میں یہ مسائل تم سے زیادہ جانتا ہوں ‘ حرم کسی گنہگار کو پناہ نہیں دیتا ‘ نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو پناہ دیتا ہے ‘ مفسد کو بھی پناہ نہیں دیتا۔
حدثنا سعيد بن شرحبيل، حدثنا الليث، عن المقبري، عن ابي شريح العدوي، انه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث الى مكة ايذن لي ايها الامير احدثك قولا قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم الغد يوم الفتح، سمعته اذناى ووعاه قلبي، وابصرته عيناى، حين تكلم به حمد الله واثنى عليه ثم قال " ان مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس، لا يحل لامري يومن بالله واليوم الاخر ان يسفك بها دما، ولا يعضد بها شجرا، فان احد ترخص لقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا له ان الله اذن لرسوله، ولم ياذن لكم. وانما اذن لي فيها ساعة من نهار، وقد عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالامس، وليبلغ الشاهد الغايب ". فقيل لابي شريح ماذا قال لك عمرو قال قال انا اعلم بذلك منك يا ابا شريح، ان الحرم لا يعيذ عاصيا، ولا فارا بدم، ولا فارا بخربة
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی حبیب نے ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں فرمایا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب کی خرید و فروخت مطلق حرام قرار دے دی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة " ان الله ورسوله حرم بيع الخمر
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مکہ میں ) دس دن ٹھہرے تھے اور اس مدت میں ہم نماز قصر کرتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان،. حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن يحيى بن ابي اسحاق، عن انس رضى الله عنه قال اقمنا مع النبي صلى الله عليه وسلم عشرا نقصر الصلاة
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا ہم کو عاصم نے خبر دی ‘ انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں انیس دن قیام فرمایا تھا اور اس مدت میں نماز دو رکعتیں ( قصر ) پڑھتے تھے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عاصم، عن عكرمة، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال اقام النبي صلى الله عليه وسلم بمكة تسعة عشر يوما يصلي ركعتين
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عاصم نے ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ( فتح مکہ کے بعد ) انیس دن تک تو نماز قصر پڑھتے تھے ‘ لیکن جب اس سے زیادہ مدت گزر جاتی تو پھر پوری نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن عاصم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اقمنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر تسع عشرة نقصر الصلاة. وقال ابن عباس ونحن نقصر ما بيننا وبين تسع عشرة، فاذا زدنا اتممنا
اور لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا مجھ کو عبداللہ بن ثعلبی بن صعیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے چہرے پر ( شفقت کی راہ سے ) ہاتھ پھیرا تھا۔
وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبد الله بن ثعلبة بن صعير، وكان النبي، صلى الله عليه وسلم قد مسح وجهه عام الفتح
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے اور انہیں زہری نے ‘ انہیں سفیان نے ‘ انہیں ابوجمیلہ نے ‘ زہری نے بیان کیا کہ جب ہم سے ابوجمیلہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی تو ہم سعید بن مسیب کے ساتھ تھے بیان کیا کہ ابوجمیلہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی اور وہ آپ کے ساتھ غزوہ فتح مکہ کے لیے نکلے تھے۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري، عن سنين ابي جميلة، قال اخبرنا ونحن، مع ابن المسيب قال وزعم ابو جميلة انه ادرك النبي صلى الله عليه وسلم، وخرج معه عام الفتح
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے ‘ ایوب نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا ‘ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ابوقلابہ نے کہا کہ پھر میں ان کی خدمت میں گیا اور ان سے سوال کیا ‘ انہوں نے کہا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمہ پر تھا جہاں عام راستہ تھا۔ سوار ہمارے قریب سے گزرتے تو ہم ان سے پوچھتے ‘ لوگوں کا کیا خیال ہے ‘ اس شخص کا کیا معاملہ ہے؟ ( یہ اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوتا تھا ) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ ان پر وحی نازل کرتا ہے ‘ یا اللہ نے ان پر وحی نازل کی ہے ( وہ قرآن کی کوئی آیت سناتے ) میں وہ فوراً یاد کر لیتا ‘ ان کی باتیں میرے دل کو لگتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کئے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم ( قریش ) کو نمٹنے دو ‘ اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو پھر واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا تو ہر قوم نے اسلام لانے میں پہل کی اور میرے والد نے بھی میری قوم کے اسلام میں جلدی کی۔ پھر جب ( مدینہ ) سے واپس آئے تو کہا کہ میں اللہ کی قسم ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ فلاں نماز اس طرح فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور امامت وہ کرے جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو۔ لوگوں نے اندازہ کیا کہ کسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہے تو کوئی شخص ان کے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا انہیں نہیں ملا۔ کیونکہ میں آنے جانے والے سواروں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ اس لیے مجھے لوگوں نے امام بنایا۔ حالانکہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی اور میرے پاس ایک ہی چادر تھی۔ جب میں ( اسے لپیٹ کر ) سجدہ کرتا تو اوپر ہو جاتی ( اور پیچھے کی جگہ ) کھل جاتی۔ اس قبیلہ کی ایک عورت نے کہا ‘ تم اپنے قاری کا چوتڑ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انہوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی، میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہوا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عمرو بن سلمة، قال قال لي ابو قلابة الا تلقاه فتساله، قال فلقيته فسالته فقال كنا بماء ممر الناس، وكان يمر بنا الركبان فنسالهم ما للناس ما للناس ما هذا الرجل فيقولون يزعم ان الله ارسله اوحى اليه، او اوحى الله بكذا. فكنت احفظ ذلك الكلام، وكانما يغرى في صدري، وكانت العرب تلوم باسلامهم الفتح، فيقولون اتركوه وقومه، فانه ان ظهر عليهم فهو نبي صادق. فلما كانت وقعة اهل الفتح بادر كل قوم باسلامهم، وبدر ابي قومي باسلامهم، فلما قدم قال جيتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وسلم حقا فقال " صلوا صلاة كذا في حين كذا، وصلوا كذا في حين كذا، فاذا حضرت الصلاة، فليوذن احدكم، وليومكم اكثركم قرانا ". فنظروا فلم يكن احد اكثر قرانا مني، لما كنت اتلقى من الركبان، فقدموني بين ايديهم، وانا ابن ست او سبع، سنين وكانت على بردة، كنت اذا سجدت تقلصت عني، فقالت امراة من الحى الا تغطوا عنا است قاريكم. فاشتروا فقطعوا لي قميصا، فما فرحت بشىء فرحي بذلك القميص
مجھ سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے (مرتے وقت زمانہ جاہلیت میں) اپنے بھائی (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کو وصیت کی تھی کہ وہ زمعہ بن لیثی کی باندی سے پیدا ہونے والے بچے کو اپنے قبضے میں لے لیں۔ عتبہ نے کہا تھا کہ وہ میرا لڑکا ہو گا۔ چنانچہ جب فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس بچے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ عبد بن زمعہ بھی آئے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تو یہ کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے۔ لیکن عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے (میرے والد) زمعہ کا بیٹا ہے کیونکہ انہیں کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی باندی کے لڑکے کو دیکھا تو وہ واقعی (سعد کے بھائی) عتبہ بن ابی وقاص کی شکل پر تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (قانون شریعت کے مطابق) فیصلے میں یہ کہا کہ اے عبد بن زمعہ! تمہیں اس بچے کو رکھو، یہ تمہارا بھائی ہے، کیونکہ یہ تمہارے والد کے فراش پر (اس کی باندی کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ لیکن دوسری طرف ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا سے جو زمعہ کی بیٹی تھیں فرمایا سودہ! اس لڑکے سے پردا کیا کرنا کیونکہ آپ نے اس لڑکے میں عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شباہت پائی تھی۔ ابن شہاب نے کہا ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لڑکا اس کا ہوتا ہے جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو اور زنا کرنے والے کے حصے میں سنگ ہی ہیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو پکار پکار کر بیان کیا کرتے تھے۔)
حدثني عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال الليث حدثني يونس عن ابن شهاب اخبرني عروة بن الزبير ان عايشة قالت كان عتبة بن ابي وقاص عهد الى اخيه سعد ان يقبض ابن وليدة زمعة، وقال عتبة انه ابني. فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة في الفتح اخذ سعد بن ابي وقاص ابن وليدة زمعة، فاقبل به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم، واقبل معه عبد بن زمعة، فقال سعد بن ابي وقاص هذا ابن اخي، عهد الى انه ابنه. قال عبد بن زمعة يا رسول الله، هذا اخي، هذا ابن زمعة، ولد على فراشه. فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ابن وليدة زمعة، فاذا اشبه الناس بعتبة بن ابي وقاص، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو لك، هو اخوك يا عبد بن زمعة ". من اجل انه ولد على فراشه، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احتجبي منه يا سودة ". لما راى من شبه عتبة بن ابي وقاص. قال ابن شهاب قالت عايشة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولد للفراش وللعاهر الحجر ". وقال ابن شهاب وكان ابو هريرة يصيح بذلك
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ غزوہ فتح ( مکہ ) کے موقع پر ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چوری کر لی تھی۔ اس عورت کی قوم گھبرائی ہوئی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس آئی تاکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر دیں ( کہ اس کا ہاتھ چوری کے جرم میں نہ کاٹا جائے ) ۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! تم مجھ سے اللہ کی قائم کی ہوئی ایک حد کے بارے میں سفارش کرنے آئے ہو۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے لیے دعا مغفرت کیجئے، یا رسول اللہ! پھر دوپہر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کے شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تم میں سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ اگر ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کوئی کمزور چوری کر لیتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کر لے تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لیے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر اس عورت نے صدق دل سے توبہ کر لی اور شادی بھی کر لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعد میں وہ میرے یہاں آتی تھیں۔ ان کو اور کوئی ضرورت ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتی۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرني يونس، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان امراة، سرقت في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة الفتح، ففزع قومها الى اسامة بن زيد يستشفعونه، قال عروة فلما كلمه اسامة فيها تلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اتكلمني في حد من حدود الله ". قال اسامة استغفر لي يا رسول الله. فلما كان العشي قام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا، فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد، فانما اهلك الناس قبلكم انهم كانوا اذا سرق فيهم الشريف تركوه، واذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد، والذي نفس محمد بيده، لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها ". ثم امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بتلك المراة، فقطعت يدها، فحسنت توبتها بعد ذلك وتزوجت. قالت عايشة فكانت تاتي بعد ذلك فارفع حاجتها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا عاصم، عن ابي عثمان، قال حدثني مجاشع، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم باخي بعد الفتح قلت يا رسول الله، جيتك باخي لتبايعه على الهجرة. قال " ذهب اهل الهجرة بما فيها ". فقلت على اى شىء تبايعه قال " ابايعه على الاسلام والايمان والجهاد" فلقيت ابا معبد بعد وكان اكبرهما فسالته فقال صدق مجاشع
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا عاصم، عن ابي عثمان، قال حدثني مجاشع، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم باخي بعد الفتح قلت يا رسول الله، جيتك باخي لتبايعه على الهجرة. قال " ذهب اهل الهجرة بما فيها ". فقلت على اى شىء تبايعه قال " ابايعه على الاسلام والايمان والجهاد" فلقيت ابا معبد بعد وكان اكبرهما فسالته فقال صدق مجاشع
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا عاصم، عن ابي عثمان النهدي، عن مجاشع بن مسعود، انطلقت بابي معبد الى النبي صلى الله عليه وسلم ليبايعه على الهجرة، قال " مضت الهجرة لاهلها، ابايعه على الاسلام والجهاد." فلقيت ابا معبد فسالته فقال صدق مجاشع. وقال خالد عن ابي عثمان عن مجاشع انه جاء باخيه مجالد