Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبثر بن قاسم نے بیان کیا ‘ ان سے حصین نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بے ہوشی ہو گئی تھی ‘ پھر اوپر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ چنانچہ جب ( غزوہ موتہ ) میں وہ شہید ہوئے تو ان کی بہن ان پر نہیں روئیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبثر، عن حصين، عن الشعبي، عن النعمان بن بشير، قال اغمي على عبد الله بن رواحة بهذا، فلما مات لم تبك عليه
مجھ سے عمرو بن محمد بغدادی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں ابوظبیان حصین بن جندب نے ‘ کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ‘ پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص ( مرداس بن عمر نامی ) سے بھڑ گئے۔ جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ لا الہٰ الا اللہ کہنے لگا۔ انصاری تو فوراً ہی رک گیا لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کر دیا۔ جب ہم لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسامہ کیا اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا کہ وہ قتل سے بچنا چاہتا تھا ( اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا ) ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی فرماتے رہے ( کیا تم نے اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے پر بھی اسے قتل کر دیا ) کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا۔
حدثني عمرو بن محمد، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، اخبرنا ابو ظبيان، قال سمعت اسامة بن زيد رضى الله عنهما يقول بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الحرقة، فصبحنا القوم فهزمناهم ولحقت انا ورجل من الانصار رجلا منهم، فلما غشيناه قال لا اله الا الله. فكف الانصاري، فطعنته برمحي حتى قتلته، فلما قدمنا بلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا اسامة اقتلته بعد ما قال لا اله الا الله " قلت كان متعوذا. فما زال يكررها حتى تمنيت اني لم اكن اسلمت قبل ذلك اليوم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا اور انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسے لشکروں میں شریک ہوا ہوں جو آپ نے روانہ کئے تھے۔ ( مگر آپ خود ان میں نہیں گئے ) کبھی ہم پر ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر ہوئے اور کسی فوج کے امیر اسامہ رضی اللہ عنہ ہوئے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم، عن يزيد بن ابي عبيد، قال سمعت سلمة بن الاكوع، يقول غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم سبع غزوات، وخرجت فيما يبعث من البعوث تسع غزوات، مرة علينا ابو بكر، ومرة علينا اسامة
اور عمر بن حفص بن غیاث نے (جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں) بیان کیا کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا اور انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسی لڑائیوں میں گیا ہوں جن کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا۔ کبھی ہمارے امیر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے اور کبھی اسامہ رضی اللہ عنہ ہوتے۔
وقال عمر بن حفص بن غياث حدثنا ابي، عن يزيد بن ابي عبيد، قال سمعت سلمة، يقول غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم سبع غزوات، وخرجت فيما يبعث من البعث تسع غزوات، علينا مرة ابو بكر، ومرة اسامة
ہم سے ابوعاصم الضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور میں نے ابن حارثہ ( یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ بھی غزوہ کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر امیر بنایا تھا۔
حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، حدثنا يزيد، عن سلمة بن الاكوع رضى الله عنه قال غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم سبع غزوات، وغزوت مع ابن حارثة استعمله علينا
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن مسعدہ نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے کئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے غزوہ خیبر ‘ غزوہ حدیبیہ ‘ غزوہ حنین اور غزوہ ذات القرد کا ذکر کیا۔ یزید نے کہا کہ باقی غزووں کے نام میں بھول گیا۔
حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا حماد بن مسعدة، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم سبع غزوات. فذكر خيبر والحديبية ويوم حنين ويوم القرد. قال يزيد ونسيت بقيتهم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہیں حسن بن محمد بن علی نے خبر دی اور انہوں نے عبیداللہ بن رافع سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا اور ہدایت کی کہ ( مکہ کے راستے پر ) چلے جانا جب تم مقام روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں ہودج میں ایک عورت ملے گی۔ وہ ایک خط لیے ہوئے ہے ‘ تم اس سے وہ لے لینا۔ انہوں نے کہا کہ ہم روانہ ہوئے۔ ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ جب ہم روضہ خاخ پر پہنچے تو واقعی وہاں ہمیں ایک عورت ہودج میں سوار ملی ( جس کا نام سارا یا کناد ہے ) ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ وہ کہنے لگی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے لیکن جب ہم نے اس سے یہ کہا کہ اگر تو نے خود سے خط نکال کر ہمیں نہیں دیا تو ہم تیرا کپڑا اتار کر ( تلاشی لیں گے ) تب اس نے اپنی چوٹی میں سے وہ خط نکالا۔ ہم وہ خط لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے چند مشرکین مکہ کے نام ( صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابوجہل ) پھر انہوں نے اس میں مشرکین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بھیدوں کی خبر بھی دی تھی۔ ( آپ فوج لے کر آنا چاہتے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے بارے میں فیصلہ کرنے میں آپ جلدی نہ فرمائیں ‘ میں اس کی وجہ عرض کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ میں دوسرے مہاجرین کی طرح قریش کے خاندان سے نہیں ہوں ‘ صرف ان کا حلیف بن کر ان سے جڑ گیا ہوں اور دوسرے مہاجرین کے وہاں عزیز و اقرباء ہیں جو ان کے گھر بار مال و اسباب کی نگرانی کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ خیر جب میں خاندان کی رو سے ان کا شریک نہیں ہوں تو کچھ احسان ہی ان پر ایسا کر دوں جس کے خیال سے وہ میرے کنبہ والوں کو نہ ستائیں۔ میں نے یہ کام اپنے دین سے پھر کر نہیں کیا اور نہ اسلام لانے کے بعد میرے دل میں کفر کی حمایت کا جذبہ ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعی انہوں نے تمہارے سامنے سچی بات کہہ دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اڑا دوں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ غزوہ بدر میں شریک رہے ہیں اور تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ جو غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے کام سے واقف ہے سورۃ الممتحنہ میں اس نے ان کے متعلق خود فرما دیا ہے کہ ”جو چاہو کرو میں نے تمہارے گناہ معاف کر دیئے“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء تلقون إليهم بالمودة» ”اے وہ لوگو جو ایمان لا چکے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان سے تم اپنی محبت کا اظہار کرتے رہو۔ آیت «فقد ضل سواء السبيل» تک۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن مسعود نے ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح مکہ رمضان میں کیا تھا۔ زہری نے ابن سعد سے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا کہ وہ بھی اسی طرح بیان کرتے تھے۔ زہری نے عبیداللہ سے روایت کیا ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( غزوہ فتح کے سفر میں جاتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے لیکن جب آپ مقام کدید پہنچے ‘ جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ ختم ہو گیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان ابن عباس، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غزا غزوة الفتح في رمضان. قال وسمعت ابن المسيب يقول مثل ذلك. وعن عبيد الله ان ابن عباس رضى الله عنهما قال صام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا بلغ الكديد الماء الذي بين قديد وعسفان افطر، فلم يزل مفطرا حتى انسلخ الشهر
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ کہا مجھے زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح کے لیے ) مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ ( دس یا بارہ ہزار کا ) لشکر تھا۔ اس وقت آپ کو مدینہ میں تشریف لائے ساڑھے آٹھ سال پورے ہونے والے تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ جو مسلمان تھے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزے سے تھے اور تمام مسلمان بھی ‘ لیکن جب آپ مقام کدید پر پہنچے جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔ زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے آخری عمل پر ہی عمل کیا جائے گا۔
حدثني محمود، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرني معمر، قال اخبرني الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج في رمضان من المدينة، ومعه عشرة الاف، وذلك على راس ثمان سنين ونصف من مقدمه المدينة، فسار هو ومن معه من المسلمين الى مكة، يصوم ويصومون حتى بلغ الكديد وهو ماء بين عسفان وقديد افطر وافطروا. قال الزهري وانما يوخذ من امر رسول الله صلى الله عليه وسلم الاخر فالاخر
مجھ سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں حنین کی طرف تشریف لے گئے۔ مسلمانوں میں بعض حضرات تو روزے سے تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر پوری طرح بیٹھ گئے تو آپ نے برتن میں دودھ یا پانی طلب فرمایا اور اسے اپنی اونٹنی پر یا اپنی ہتھیلی پر رکھا ( اور پھر پی لیا ) پھر آپ نے لوگوں کو دیکھا تو جن لوگوں نے پہلے سے روزہ نہیں رکھا تھا ‘ انہوں نے روزہ داروں سے کہا کہ اب روزہ توڑ لو۔
حدثني عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم في رمضان الى حنين، والناس مختلفون فصايم ومفطر، فلما استوى على راحلته دعا باناء من لبن او ماء، فوضعه على راحته او على راحلته، ثم نظر الى الناس فقال المفطرون للصوام افطروا
اور عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ایوب نے ‘ انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ اور حماد نے ایوب سے روایت کیا ‘ انہوں نے عکرمہ سے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
وقال عبد الرزاق اخبرنا معمر، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الفتح. وقال حماد بن زيد عن ايوب عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ( فتح مکہ کا ) سفر شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے لیکن جب مقام عسفان پر پہنچے تو پانی طلب فرمایا۔ دن کا وقت تھا اور آپ نے وہ پانی پیا تاکہ لوگوں کو دکھلا سکیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا اور مکہ میں داخل ہوئے۔ بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ( بعض اوقات ) روزہ بھی رکھا تھا اور بعض اوقات روزہ نہیں بھی رکھا۔ اس لیے ( سفر میں ) جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ مسافر کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ ( روایت میں فتح مکہ کے لیے سفر کرنے کا ذکر ہے۔ یہی باب سے مطابقت ہے ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال سافر رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان، فصام حتى بلغ عسفان، ثم دعا باناء من ماء فشرب نهارا، ليريه الناس، فافطر حتى قدم مكة. قال وكان ابن عباس يقول صام رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر وافطر، فمن شاء صام، ومن شاء افطر
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو قریش کو اس کی خبر مل گئی تھی۔، چنانچہ ابوسفیان بن حرب ‘ حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلومات کے لیے مکہ سے نکلے۔ یہ لوگ چلتے چلتے مقام مر الظہران پر جب پہنچے تو انہیں جگہ جگہ آگ جلتی ہوئی دکھائی دی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مقام عرفات کی آگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا یہ آگ کیسی ہے؟ یہ عرفات کی آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس پر بدیل بن ورقاء نے کہا کہ یہ بنی عمرو ( یعنی قباء کے قبیلے ) کی آگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ بنی عمرو کی تعداد اس سے بہت کم ہے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ دستے نے انہیں دیکھ لیا اور ان کو پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے ‘ پھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے ( مکہ کی طرف ) بڑھے تو عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابوسفیان کو ایسی جگہ پر روکے رکھو جہاں گھوڑوں کا جاتے وقت ہجوم ہو تاکہ وہ مسلمانوں کی فوجی قوت کو دیکھ لیں۔ چنانچہ عباس رضی اللہ عنہ انہیں ایسے ہی مقام پر روک کر کھڑے ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبائل کے دستے ایک ایک کر کے ابوسفیان کے سامنے سے گزرنے لگے۔ ایک دستہ گزرا تو انہوں نے پوچھا: عباس! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ قبیلہ غفار ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ مجھے غفار سے کیا سروکار ‘ پھر قبیلہ جہینہ گزرا تو ان کے متعلق بھی انہوں نے یہی کہا ‘ قبیلہ سلیم گزرا تو ان کے متعلق بھی یہی کہا۔ آخر ایک دستہ سامنے آیا۔ اس جیسا فوجی دستہ نہیں دیکھا گیا ہو گا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ انصار کا دستہ ہے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اس کے امیر ہیں اور انہیں کے ہاتھ میں ( انصار کا عَلم ہے ) سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوسفیان! آج کا دن قتل عام کا دن ہے۔ آج کعبہ میں بھی لڑنا درست کر دیا گیا ہے۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ اس پر بولے: اے عباس! ( قریش کی ہلاکت و بربادی کا دن اچھا آ لگا ہے۔ پھر ایک اور دستہ آیا یہ سب سے چھوٹا دستہ تھا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عَلم زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ اٹھائے ہوئے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے قریب سے گزرے تو انہوں نے کہا آپ کو معلوم نہیں ‘ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کیا کہہ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ تو ابوسفیان نے بتایا کہ یہ یہ کہہ گئے ہیں کہ آپ قریش کا کام تمام کر دیں گے۔ ( سب کو قتل کر ڈالیں گے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد نے غلط کہا ہے بلکہ آج کا دن وہ ہے جس میں اللہ کعبہ کی عظمت اور زیادہ کر دے گا۔ آج کعبہ کو غلاف پہنایا جائے گا۔ عروہ نے بیان کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ آپ کا عَلم مقام جحون میں گاڑ دیا جائے۔ عروہ نے بیان کیا اور مجھے نافع بن جبیر بن مطعم نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا ( فتح مکہ کے بعد ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہیں جھنڈا گاڑنے کے لیے حکم فرمایا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ مکہ کے بالائی علاقہ کداء کی طرف سے داخل ہوں اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کداء ( نشیبی علاقہ ) کی طرف سے داخل ہوئے۔ اس دن خالد رضی اللہ عنہ کے دستہ کے دو صحابی ‘ حبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری شہید ہوئے تھے۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اپنے اونٹ پر سوار ہیں اور خوش الحانی کے ساتھ سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے ہیں۔ معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے گھیر لیں گے تو میں بھی اسی طرح تلاوت کر کے دکھاتا جیسے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے پڑھ کر سنایا تھا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قرة، قال سمعت عبد الله بن مغفل، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة على ناقته، وهو يقرا سورة الفتح يرجع، وقال لولا ان يجتمع الناس حولي لرجعت كما رجع
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن، حدثنا سعدان بن يحيى، حدثنا محمد بن ابي حفصة، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، انه قال زمن الفتح يا رسول الله، اين تنزل غدا قال النبي صلى الله عليه وسلم " وهل ترك لنا عقيل من منزل ". ثم قال " لا يرث المومن الكافر، ولا يرث الكافر المومن ". قيل للزهري ومن ورث ابا طالب قال ورثه عقيل وطالب. قال معمر عن الزهري اين تنزل غدا. في حجته، ولم يقل يونس حجته ولا زمن الفتح
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن، حدثنا سعدان بن يحيى، حدثنا محمد بن ابي حفصة، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، انه قال زمن الفتح يا رسول الله، اين تنزل غدا قال النبي صلى الله عليه وسلم " وهل ترك لنا عقيل من منزل ". ثم قال " لا يرث المومن الكافر، ولا يرث الكافر المومن ". قيل للزهري ومن ورث ابا طالب قال ورثه عقيل وطالب. قال معمر عن الزهري اين تنزل غدا. في حجته، ولم يقل يونس حجته ولا زمن الفتح
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان شاءاللہ ہماری قیام گاہ اگر اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تو خیف بنی کنانہ میں ہو گی۔ جہاں قریش نے کفر کی حمایت کے لیے قسم کھائی تھی۔“
حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " منزلنا ان شاء الله، اذا فتح الله الخيف، حيث تقاسموا على الكفر
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین کا ارادہ کیا تو فرمایا ”ان شاءاللہ کل ہمارا قیام خیف بنی کنانہ میں ہو گا جہاں قریش نے کفر کے لیے قسم کھائی تھی۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، اخبرنا ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اراد حنينا " منزلنا غدا ان شاء الله بخيف بني كنانة، حيث تقاسموا على الكفر
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو سر مبارک پر خود تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارا ہی تھا کہ ایک صحابی نے آ کر عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردہ سے چمٹا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ( وہیں ) قتل کر دو۔ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں آگے اللہ جانے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن احرام باندھے ہوئے نہیں تھے۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة يوم الفتح وعلى راسه المغفر، فلما نزعه جاء رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الكعبة. فقال " اقتله " قال مالك ولم يكن النبي صلى الله عليه وسلم فيما نرى والله اعلم يوميذ محرما
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سلیمان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن ابی نجیح نے ‘ انہیں مجاہد نے ‘ انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی سے جو دست مبارک میں تھی ‘ مارتے جاتے تھے اور اس آیت کی تلاوت کرتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل، جاء الحق، وما يبدئ الباطل وما يعيد» کہ ”حق قائم ہو گیا اور باطل مغلوب ہو گیا ‘ حق قائم ہو گیا اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہو سکا ہے نہ آئندہ کچھ ہو سکتا ہے۔“
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن عبد الله رضى الله عنه قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم مكة يوم الفتح وحول البيت ستون وثلاثماية نصب، فجعل يطعنها بعود في يده ويقول " جاء الحق وزهق الباطل، جاء الحق، وما يبدي الباطل وما يعيد
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، قال اخبرني الحسن بن محمد، انه سمع عبيد الله بن ابي رافع، يقول سمعت عليا رضى الله عنه يقول بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم انا والزبير والمقداد فقال " انطلقوا حتى تاتوا روضة خاخ، فان بها ظعينة معها كتاب، فخذوا منها ". قال فانطلقنا تعادى بنا خيلنا حتى اتينا الروضة، فاذا نحن بالظعينة قلنا لها اخرجي الكتاب. قالت ما معي كتاب. فقلنا لتخرجن الكتاب او لنلقين الثياب، قال فاخرجته من عقاصها، فاتينا به رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا فيه من حاطب بن ابي بلتعة الى ناس بمكة من المشركين، يخبرهم ببعض امر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا حاطب ما هذا ". قال يا رسول الله لا تعجل على، اني كنت امرا ملصقا في قريش يقول كنت حليفا ولم اكن من انفسها وكان من معك من المهاجرين من لهم قرابات، يحمون اهليهم واموالهم، فاحببت اذ فاتني ذلك من النسب فيهم ان اتخذ عندهم يدا يحمون قرابتي، ولم افعله ارتدادا عن ديني، ولا رضا بالكفر بعد الاسلام. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انه قد صدقكم ". فقال عمر يا رسول الله دعني اضرب عنق هذا المنافق. فقال " انه قد شهد بدرا، وما يدريك لعل الله اطلع على من شهد بدرا قال اعملوا ما شيتم فقد غفرت لكم ". فانزل الله السورة {يا ايها الذين امنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم اولياء تلقون اليهم بالمودة} الى قوله {فقد ضل سواء السبيل}
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، قال لما سار رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح فبلغ ذلك قريشا، خرج ابو سفيان بن حرب وحكيم بن حزام وبديل بن ورقاء يلتمسون الخبر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقبلوا يسيرون حتى اتوا مر الظهران، فاذا هم بنيران كانها نيران عرفة، فقال ابو سفيان ما هذه لكانها نيران عرفة. فقال بديل بن ورقاء نيران بني عمرو. فقال ابو سفيان عمرو اقل من ذلك. فراهم ناس من حرس رسول الله صلى الله عليه وسلم فادركوهم فاخذوهم، فاتوا بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلم ابو سفيان، فلما سار قال للعباس " احبس ابا سفيان عند حطم الخيل حتى ينظر الى المسلمين ". فحبسه العباس، فجعلت القبايل تمر مع النبي صلى الله عليه وسلم تمر كتيبة كتيبة على ابي سفيان، فمرت كتيبة قال يا عباس من هذه قال هذه غفار. قال ما لي ولغفار ثم مرت جهينة، قال مثل ذلك، ثم مرت سعد بن هذيم، فقال مثل ذلك، ومرت سليم، فقال مثل ذلك، حتى اقبلت كتيبة لم ير مثلها، قال من هذه قال هولاء الانصار عليهم سعد بن عبادة معه الراية. فقال سعد بن عبادة يا ابا سفيان اليوم يوم الملحمة، اليوم تستحل الكعبة. فقال ابو سفيان يا عباس حبذا يوم الذمار. ثم جاءت كتيبة، وهى اقل الكتايب، فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه، وراية النبي صلى الله عليه وسلم مع الزبير بن العوام، فلما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بابي سفيان قال الم تعلم ما قال سعد بن عبادة قال " ما قال ". قال كذا وكذا. فقال " كذب سعد، ولكن هذا يوم يعظم الله فيه الكعبة، ويوم تكسى فيه الكعبة ". قال وامر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تركز رايته بالحجون. قال عروة واخبرني نافع بن جبير بن مطعم قال سمعت العباس يقول للزبير بن العوام يا ابا عبد الله، ها هنا امرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تركز الراية، قال وامر رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ خالد بن الوليد ان يدخل من اعلى مكة من كداء، ودخل النبي صلى الله عليه وسلم من كدا، فقتل من خيل خالد يوميذ رجلان حبيش بن الاشعر وكرز بن جابر الفهري