Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر ( کی زمین و باغات وہاں کے ) یہودیوں کے پاس ہی رہنے دیئے تھے کہ وہ ان میں کام کریں اور بوئیں جوتیں اور انہیں ان کی پیداوار کا آدھا حصہ ملے گا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه قال اعطى النبي صلى الله عليه وسلم خيبر اليهود ان يعملوها ويزرعوها، ولهم شطر ما يخرج منها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ایک یہودی عورت کی طرف سے ) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثني سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال لما فتحت خيبر اهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم شاة فيها سم
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک جماعت کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا۔ ان کی امارت پر بعض لوگوں کو اعتراض ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج تم کو اس کی امارت پر اعتراض ہے تم ہی کچھ دن پہلے اس کے باپ کی امارت پر اعتراض کر چکے ہو۔ حالانکہ اللہ کی قسم وہ امارت کے مستحق و اہل تھے۔ اس کے علاوہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے جس طرح یہ اسامہ رضی اللہ عنہ ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان بن سعيد، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم اسامة على قوم، فطعنوا في امارته، فقال " ان تطعنوا في امارته، فقد طعنتم في امارة ابيه من قبله، وايم الله لقد كان خليقا للامارة، وان كان من احب الناس الى، وان هذا لمن احب الناس الى بعده
مجھ سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کا احرام باندھا۔ مکہ والے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے مانع آئے۔ آخر معاہدہ اس پر ہوا کہ ( آئندہ سال ) مکہ میں تین دن آپ قیام کر سکتے ہیں۔ معاہدہ یوں لکھا جانے لگا ”یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ کفار قریش کہنے لگے کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو روکتے ہی کیوں ‘ آپ تو بس محمد بن عبداللہ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ پھر علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ( رسول اللہ کا لفظ مٹا دو ) انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں یہ لفظ کبھی نہیں مٹا سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر اپنے ہاتھ میں لے لی۔ آپ لکھنا نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے اس کے الفاظ اس طرح کر دیئے ”یہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے کیا کہ وہ ہتھیار لے کر مکہ میں نہیں آئیں گے۔ البتہ ایسی تلوار جو نیام میں ہو ساتھ لا سکتے ہیں اور یہ اگر مکہ والوں میں سے کوئی ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو اسے اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ لیکن اگر ان کے ساتھیوں میں کوئی مکہ میں رہنا چاہے گا اسے نہ روکیں گے۔ پھر جب ( آئندہ سال ) آپ اس معاہدہ کے مطابق مکہ میں داخل ہوئے ( اور تین دن کی ) مدت پوری ہو گئی تو مکہ والے علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے ساتھی سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں ‘ کیونکہ مدت پوری ہو گئی ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو آپ کے پیچھے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی چچا چچا کہتی ہوئی آئیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے لیا اور ہاتھ پکڑ کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لائے اور کہا کہ اپنے چچا کی بیٹی کو لے لو میں اسے لیتا آیا ہوں۔ علی ‘ زید ‘ جعفر رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہوا۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے چچا کی لڑکی ہے اور جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے چچا کی لڑکی ہے اس کی خالہ میرے نکاح میں ہیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا یہ میرے بھائی کی لڑکی ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خالہ کے حق میں فیصلہ فرمایا ( جو جعفر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ) اور فرمایا خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے اور علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم صورت و شکل اور عادت و اخلاق دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو اور زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہو۔ علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو آپ اپنے نکاح میں لے لیں لیکن آپ نے فرمایا کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔
حدثني عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال لما اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم في ذي القعدة، فابى اهل مكة ان يدعوه يدخل مكة، حتى قاضاهم على ان يقيم بها ثلاثة ايام، فلما كتبوا الكتاب كتبوا، هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله. قالوا لا نقر بهذا، لو نعلم انك رسول الله ما منعناك شييا، ولكن انت محمد بن عبد الله. فقال " انا رسول الله، وانا محمد بن عبد الله ". ثم قال لعلي " امح رسول الله ". قال علي لا والله لا امحوك ابدا. فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الكتاب، وليس يحسن يكتب، فكتب هذا ما قاضى محمد بن عبد الله لا يدخل مكة السلاح، الا السيف في القراب، وان لا يخرج من اهلها باحد، ان اراد ان يتبعه، وان لا يمنع من اصحابه احدا، ان اراد ان يقيم بها. فلما دخلها ومضى الاجل اتوا عليا فقالوا قل لصاحبك اخرج عنا، فقد مضى الاجل. فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فتبعته ابنة حمزة تنادي يا عم يا عم. فتناولها علي، فاخذ بيدها وقال لفاطمة عليها السلام دونك ابنة عمك. حملتها فاختصم فيها علي وزيد وجعفر. قال علي انا اخذتها وهى بنت عمي. وقال جعفر ابنة عمي وخالتها تحتي. وقال زيد ابنة اخي. فقضى بها النبي صلى الله عليه وسلم لخالتها وقال " الخالة بمنزلة الام ". وقال لعلي " انت مني وانا منك ". وقال لجعفر " اشبهت خلقي وخلقي ". وقال لزيد " انت اخونا ومولانا ". وقال علي الا تتزوج بنت حمزة. قال " انها ابنة اخي من الرضاعة
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سریج نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا۔ (دوسری سند اور مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادے سے نکلے ‘ لیکن کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے آپ کو روکا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قربانی کا جانور حدیبیہ میں ہی ذبح کر دیا اور وہیں سر بھی منڈوایا اور ان سے معاہدہ کیا کہ آپ آئندہ سال عمرہ کر سکتے ہیں لیکن (نیام میں تلواروں کے سوا اور) کوئی ہتھیار ساتھ نہیں لا سکتے اور جتنے دنوں مکہ والے چاہیں گے ‘ اس سے زیادہ آپ وہاں ٹھہر نہیں سکیں گے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا اور معاہدہ کے مطابق مکہ میں داخل ہوئے۔ تین دن وہاں مقیم رہے۔ پھر قریش نے آپ سے جانے کے لیے کہا اور آپ مکہ سے چلے آئے۔
حدثني محمد بن رافع، حدثنا سريج، حدثنا فليح، ح وحدثني محمد بن الحسين بن ابراهيم، قال حدثني ابي، حدثنا فليح بن سليمان، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج معتمرا، فحال كفار قريش بينه وبين البيت، فنحر هديه، وحلق راسه بالحديبية، وقاضاهم على ان يعتمر العام المقبل، ولا يحمل سلاحا عليهم الا سيوفا، ولا يقيم بها الا ما احبوا، فاعتمر من العام المقبل، فدخلها كما كان صالحهم، فلما ان اقام بها ثلاثا امروه ان يخرج، فخرج
حدثني عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، قال دخلت انا وعروة بن الزبير المسجد، فاذا عبد الله بن عمر رضى الله عنهما جالس الى حجرة عايشة ثم قال كم اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم قال اربعا {احداهن في رجب} ثم سمعنا استنان، عايشة قال عروة يا ام المومنين الا تسمعين ما يقول ابو عبد الرحمن ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمر. فقالت ما اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم عمرة الا وهو شاهده، وما اعتمر في رجب قط
حدثني عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، قال دخلت انا وعروة بن الزبير المسجد، فاذا عبد الله بن عمر رضى الله عنهما جالس الى حجرة عايشة ثم قال كم اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم قال اربعا {احداهن في رجب} ثم سمعنا استنان، عايشة قال عروة يا ام المومنين الا تسمعين ما يقول ابو عبد الرحمن ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمر. فقالت ما اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم عمرة الا وهو شاهده، وما اعتمر في رجب قط
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ پر آڑ کئے ہوئے مشرکین کے لڑکوں اور مشرکین سے آپ کی حفاظت کرتے رہتے تھے تاکہ وہ آپ کو کوئی ایذا نہ دے سکیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن اسماعيل بن ابي خالد، سمع ابن ابي اوفى، يقول لما اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم سترناه من غلمان المشركين ومنهم، ان يوذوا رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ( عمرہ کے لیے مکہ ) تشریف لائے تو مشرکین نے کہا کہ تمہارے یہاں وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں یثرب ( مدینہ ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر چلا جائے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان حسب معمول چلیں۔ تمام چکروں میں اکڑ کر چلنے کا حکم آپ نے اس لیے نہیں دیا کہ کہیں یہ ( امت پر ) دشوار نہ ہو جائے۔ اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے اس حدیث کو روایت کر کے یہ اضافہ کیا ہے۔ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سال عمرہ کرنے آئے جس میں مشرکین نے آپ کو امن دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اکڑ کر چلو تاکہ مشرکین تمہاری قوت کو دیکھیں۔ مشرکین جبل قعیقعان کی طرف کھڑے دیکھ رہے تھے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد هو ابن زيد عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه فقال المشركون انه يقدم عليكم وفد وهنهم حمى يثرب. وامرهم النبي صلى الله عليه وسلم ان يرملوا الاشواط الثلاثة، وان يمشوا ما بين الركنين، ولم يمنعه ان يامرهم ان يرملوا الاشواط كلها الا الابقاء عليهم. وزاد ابن سلمة عن ايوب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم لعامه الذي استامن قال ارملوا ليرى المشركون قوتهم، والمشركون من قبل قعيقعان
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے عطاء ابن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل اور صفا و مروہ کے درمیان دوڑ ‘ مشرکین کے سامنے اپنی طاقت دکھانے کے لیے کی تھی۔
حدثني محمد، عن سفيان بن عيينة، عن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال انما سعى النبي صلى الله عليه وسلم بالبيت وبين الصفا والمروة ليري المشركين قوته
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ محرم تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول چکے تھے۔ میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی اسی مقام سرف میں ہوا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال تزوج النبي صلى الله عليه وسلم ميمونة وهو محرم، وبنى بها وهو حلال وماتت بسرف
امام بخاری رحمہ اللہ نے اور ابن اسحاق نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھ سے ابن ابی نجیح اور ابان بن صالح نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء اور مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے عمرہ قضاء میں نکاح کیا تھا۔
وزاد ابن اسحاق حدثني ابن ابي نجيح، وابان بن صالح، عن عطاء، ومجاهد، عن ابن عباس، قال تزوج النبي صلى الله عليه وسلم ميمونة في عمرة القضاء
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن حارث انصاری نے ‘ ان سے سعید بن ابی ہلال نے بیان کیا اور کہا کہ مجھ کو نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ اس غزوہ موتہ میں جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی لاش پر کھڑے ہو کر میں نے شمار کیا تو نیزوں اور تلواروں کے پچاس زخم ان کے جسم پر تھے لیکن پیچھے یعنی پیٹھ پر ایک زخم بھی نہیں تھا۔
حدثنا احمد، حدثنا ابن وهب، عن عمرو، عن ابن ابي هلال، قال واخبرني نافع، ان ابن عمر، اخبره انه، وقف على جعفر يوميذ وهو قتيل، فعددت به خمسين بين طعنة وضربة، ليس منها شىء في دبره. يعني في ظهره
ہمیں احمد بن ابی بکر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ کے لشکر کا امیر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہوں اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس غزوہ میں ‘ میں بھی شریک تھا۔ بعد میں جب ہم نے جعفر رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ان کی لاش ہمیں شہداء میں ملی اور ان کے جسم پر کچھ اوپر نوے زخم نیزوں اور تیروں کے تھے۔
اخبرنا احمد بن ابي بكر، حدثنا مغيرة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سعيد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة موتة زيد بن حارثة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان قتل زيد فجعفر، وان قتل جعفر فعبد الله بن رواحة ". قال عبد الله كنت فيهم في تلك الغزوة فالتمسنا جعفر بن ابي طالب، فوجدناه في القتلى، ووجدنا ما في جسده بضعا وتسعين من طعنة ورمية
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید ‘ جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کو دے دی تھی جب ابھی ان کے متعلق کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اب زید جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں ‘ اب وہ شہید کر دیئے گئے ‘ اب جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا ‘ وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب ابن رواحہ نے جھنڈا اٹھا لیا ‘ وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائی۔
حدثنا احمد بن واقد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم نعى زيدا وجعفرا وابن رواحة للناس، قبل ان ياتيهم خبرهم فقال " اخذ الراية زيد فاصيب، ثم اخذ جعفر فاصيب، ثم اخذ ابن رواحة فاصيب وعيناه تذرفان حتى اخذ الراية سيف من سيوف الله حتى فتح الله عليهم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ‘ کہا کہ مجھے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تھی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے چہرے سے غم ظاہر ہو رہا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں دروازے کی دراڑ سے جھانک رہی تھی۔ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتیں چلاّ کر رو رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں روک دو۔ بیان کیا کہ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ کر کہا کہ میں نے انہیں روکا اور یہ بھی کہہ دیا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی۔ پھر اس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع کرنے کے لیے فرمایا۔ وہ صاحب پھر جا کر واپس آئے اور کہا: قسم اللہ کی! وہ تو ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دو۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ میں نے کہا: اللہ تیری ناک غبار آلود کرے نہ تو تو عورتوں کو روک سکا نہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا ہی چھوڑا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى بن سعيد، قال اخبرتني عمرة، قالت سمعت عايشة رضى الله عنها تقول لما جاء قتل ابن حارثة وجعفر بن ابي طالب وعبد الله بن رواحة رضى الله عنهم جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرف فيه الحزن قالت عايشة وانا اطلع من صاير الباب تعني من شق الباب فاتاه رجل فقال اى رسول الله ان نساء جعفر قال وذكر بكاءهن، فامره ان ينهاهن قال فذهب الرجل ثم اتى فقال قد نهيتهن. وذكر انه لم يطعنه قال فامر ايضا فذهب ثم اتى فقال والله لقد غلبننا. فزعمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فاحث في افواههن من التراب " قالت عايشة فقلت ارغم الله انفك، فوالله ما انت تفعل، وما تركت رسول الله صلى الله عليه وسلم من العناء
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عامر شعبی نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے لیے سلام بھیجتے تو السلام علیک یا ابن ذی الجناحین کہتے۔
حدثني محمد بن ابي بكر، حدثنا عمر بن علي، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن عامر، قال كان ابن عمر اذا حيا ابن جعفر قال السلام عليك يا ابن ذي الجناحين
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ نو تلواریں ٹوٹی تھیں۔ صرف ایک یمن کا بنا ہوا چوڑے پھل کا تیغہ باقی رہ گیا تھا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن اسماعيل، عن قيس بن ابي حازم، قال سمعت خالد بن الوليد، يقول لقد انقطعت في يدي يوم موتة تسعة اسياف، فما بقي في يدي الا صفيحة يمانية
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں ‘ صرف ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال حدثني قيس، قال سمعت خالد بن الوليد، يقول لقد دق في يدي يوم موتة تسعة اسياف، وصبرت في يدي صفيحة لي يمانية
مجھ سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عامر شعبی نے اور ان سے نعمان بن بشیر نے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر ( ایک مرتبہ کسی مرض میں ) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ والدہ نعمان بن بشیر یہ سمجھ کر کہ کوئی حادثہ آ گیا ‘ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے لیے پکار کر رونے لگیں۔ ہائے میرے بھائی ہائے ‘ میرے ایسے اور ویسے۔ ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے گنانے لگیں لیکن جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے۔
حدثني عمران بن ميسرة، حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن عامر، عن النعمان بن بشير رضى الله عنهما قال اغمي على عبد الله بن رواحة، فجعلت اخته عمرة تبكي واجبلاه واكذا واكذا. تعدد عليه فقال حين افاق ما قلت شييا الا قيل لي انت كذلك