Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں ( مال غنیمت سے ) سواروں کو دو حصے دیئے تھے اور پیدل فوجیوں کو ایک حصہ ‘ اس کی تفسیر نافع نے اس طرح کی ہے اگر کسی شخص کے ساتھ گھوڑا ہوتا تو اسے تین حصے ملتے تھے اور اگر گھوڑا نہ ہوتا تو صرف ایک حصہ ملتا تھا۔
حدثنا الحسن بن اسحاق، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا زايدة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر للفرس سهمين، وللراجل سهما. قال فسره نافع فقال اذا كان مع الرجل فرس فله ثلاثة اسهم، فان لم يكن له فرس فله سهم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو ( خمس میں سے ) کچھ نہیں دیا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، ان جبير بن مطعم، اخبره قال مشيت انا وعثمان بن عفان، الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلنا اعطيت بني المطلب من خمس خيبر، وتركتنا، ونحن بمنزلة واحدة منك. فقال " انما بنو هاشم وبنو المطلب شىء واحد ". قال جبير ولم يقسم النبي صلى الله عليه وسلم لبني عبد شمس وبني نوفل شييا
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی نیت سے نکل پڑے۔ میں اور میرے دو بھائی ‘ میں دونوں سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی کا نام ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرے کا ابو رہم۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اوپر پچاس یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ تریپن ( 53 ) یا باون ( 52 ) میری قوم کے لوگ ساتھ تھے۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں لا ڈالا۔ وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہو گئی ‘ جو پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہم نے وہاں انہیں کے ساتھ قیام کیا ‘ پھر ہم سب مدینہ ساتھ روانہ ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ کچھ لوگ ہم کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں ‘ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ ان سے ملاقات کے لیے وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ اس وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اسماء بنت عمیس۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اچھا وہی جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں۔۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلہ میں زیادہ قریب ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا ہرگز نہیں: اللہ کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو ‘ تم میں جو بھوکے ہوتے تھے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو ناواقف ہوتے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت و موعظت کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے ‘ یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے ہی میں تو کیا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہہ لوں۔ ہمیں اذیت دی جاتی تھی ‘ دھمکایا ڈرایا جاتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گی اور آپ سے اس کے متعلق پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی ‘ نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی ( خلاف واقعہ بات کا ) اضافہ کروں گی۔
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، حدثنا بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال بلغنا مخرج النبي صلى الله عليه وسلم ونحن باليمن، فخرجنا مهاجرين اليه انا، واخوان لي انا اصغرهم، احدهما ابو بردة، والاخر ابو رهم اما قال بضع واما قال في ثلاثة وخمسين او اثنين وخمسين رجلا من قومي، فركبنا سفينة، فالقتنا سفينتنا الى النجاشي بالحبشة، فوافقنا جعفر بن ابي طالب فاقمنا معه حتى قدمنا جميعا، فوافقنا النبي صلى الله عليه وسلم حين افتتح خيبر، وكان اناس من الناس يقولون لنا يعني لاهل السفينة سبقناكم بالهجرة، ودخلت اسماء بنت عميس، وهى ممن قدم معنا، على حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم زايرة، وقد كانت هاجرت الى النجاشي فيمن هاجر، فدخل عمر على حفصة واسماء عندها، فقال عمر حين راى اسماء من هذه قالت اسماء بنت عميس. قال عمر الحبشية هذه البحرية هذه قالت اسماء نعم. قال سبقناكم بالهجرة، فنحن احق برسول الله صلى الله عليه وسلم منكم. فغضبت وقالت كلا والله، كنتم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يطعم جايعكم، ويعظ جاهلكم، وكنا في دار او في ارض البعداء البغضاء بالحبشة، وذلك في الله وفي رسوله صلى الله عليه وسلم وايم الله، لا اطعم طعاما، ولا اشرب شرابا حتى اذكر ما قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن كنا نوذى ونخاف، وساذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم واساله، والله لا اكذب ولا ازيغ ولا ازيد عليه
چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ یہ جواب دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے بعد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی۔
فلما جاء النبي صلى الله عليه وسلم قالت يا نبي الله ان عمر قال كذا وكذا. قال " فما قلت له ". قالت قلت له كذا وكذا. قال " ليس باحق بي منكم، وله ولاصحابه هجرة واحدة، ولكم انتم اهل السفينة هجرتان ". قالت فلقد رايت ابا موسى واصحاب السفينة ياتوني ارسالا، يسالوني عن هذا الحديث، ما من الدنيا شىء هم به افرح ولا اعظم في انفسهم مما قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم. قال ابو بردة قالت اسماء فلقد رايت ابا موسى وانه ليستعيد هذا الحديث مني
ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مجھ سے اس حدیث کو باربار سنتے تھے۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میرے اشعری احباب رات میں آتے ہیں تو میں ان کی قرآن کی تلاوت کی آواز پہچان جاتا ہوں۔ اگرچہ دن میں ‘ میں نے ان کی اقامت گاہوں کو نہ دیکھا ہو لیکن جب رات میں وہ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی آواز سے میں ان کی اقامت گاہوں کو پہچان لیتا ہوں۔ میرے انہی اشعری احباب میں ایک مرد دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈبھیڑ ہو جاتی ہے یا آپ نے فرمایا کہ دشمن سے ‘ تو ان سے کہتا ہے کہ میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لیے ان کا انتظار کر لو۔
قال ابو بردة عن ابي موسى، قال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاعرف اصوات رفقة الاشعريين بالقران، حين يدخلون بالليل، واعرف منازلهم من اصواتهم بالقران بالليل، وان كنت لم ار منازلهم حين نزلوا بالنهار، ومنهم حكيم، اذا لقي الخيل او قال العدو قال لهم ان اصحابي يامرونكم ان تنظروهم
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم نے حفص بن غیاث سے سنا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت میں ) ہمارا بھی حصہ لگایا۔ آپ نے ہمارے سوا کسی بھی ایسے شخص کا حصہ مال غنیمت میں نہیں لگایا جو فتح کے وقت ( اسلامی لشکر کے ساتھ ) موجود نہ رہا ہو۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، سمع حفص بن غياث، حدثنا بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم بعد ان افتتح خيبر، فقسم لنا، ولم يقسم لاحد لم يشهد الفتح غيرنا
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ ان سے ثور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن مطیع کے مولیٰ سالم نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے ‘ اونٹ ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر ان کے لگا۔ لوگوں نے کہا مبارک ہو: شہادت! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن مالك بن انس، قال حدثني ثور، قال حدثني سالم، مولى ابن مطيع انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول افتتحنا خيبر، ولم نغنم ذهبا ولا فضة، انما غنمنا البقر والابل والمتاع والحوايط، ثم انصرفنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى وادي القرى، ومعه عبد له يقال له مدعم، اهداه له احد بني الضباب، فبينما هو يحط رحل رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاءه سهم عاير حتى اصاب ذلك العبد، فقال الناس هنييا له الشهادة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بلى والذي نفسي بيده، ان الشملة التي اصابها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا ". فجاء رجل حين سمع ذلك من النبي صلى الله عليه وسلم بشراك او بشراكين، فقال هذا شىء كنت اصبته. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شراك او شراكان من نار
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زید نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا ہاں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ بعد کی نسلیں بے جائیداد رہ جائیں گی اور ان کے پاس کچھ نہ ہو گا تو جو بھی بستی میرے زمانہ خلافت میں فتح ہوتی ‘ میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی۔ میں ان مفتوحہ اراضی کو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے محفوظ چھوڑے جا رہا ہوں تاکہ وہ اسے تقسیم کرتے رہیں۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال اخبرني زيد، عن ابيه، انه سمع عمر بن الخطاب رضى الله عنه يقول اما والذي نفسي بيده، لولا ان اترك اخر الناس ببانا ليس لهم شىء، ما فتحت على قرية الا قسمتها كما قسم النبي صلى الله عليه وسلم خيبر، ولكني اتركها خزانة لهم يقتسمونها
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی بھی میرے دور میں فتح ہوتی ‘ میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کر دی تھی۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا ابن مهدي، عن مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر رضى الله عنه قال لولا اخر المسلمين ما فتحت عليهم قرية الا قسمتها، كما قسم النبي صلى الله عليه وسلم خيبر
مجھ سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے زہری سے سنا اور ان سے اسماعیل بن امیہ نے سوال کیا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ( خیبر کی غنیمت میں سے ) حصہ مانگا۔ سعید بن عاص کے ایک لڑکے ( ابان بن سعید رضی اللہ عنہ ) نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں نہ دیجئیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ شخص تو ابن قوقل کا قاتل ہے۔ ابان رضی اللہ عنہ اس پر بولے حیرت ہے اس «وبر» ( بلی سے چھوٹا ایک جانور ) پر جو قدوم الضان پہاڑی سے اتر آیا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، وساله، اسماعيل بن امية قال اخبرني عنبسة بن سعيد، ان ابا هريرة رضى الله عنه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله، قال له بعض بني سعيد بن العاص لا تعطه. فقال ابو هريرة هذا قاتل ابن قوقل. فقال واعجباه لوبر تدلى من قدوم الضان
اور زبیدی سے روایت ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عنبسہ بن سعید نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دے رہے تھے کہ ابان رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سریہ پر مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ خیبر فتح ہو چکا تھا۔ ان لوگوں کے گھوڑے تنگ چھال ہی کے تھے ‘ ( یعنی انہوں نے مہم میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی تھی ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غنیمت میں ان کا حصہ نہ لگایئے۔ اس پر ابان رضی اللہ عنہ بولے اے وبر! تیری حیثیت تو صرف یہ کہ قدوم الضان کی چوٹی سے اتر آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابان! بیٹھ جا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا حصہ نہیں لگایا۔
ويذكر عن الزبيدي، عن الزهري، قال اخبرني عنبسة بن سعيد، انه سمع ابا هريرة، يخبر سعيد بن العاصي قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم ابان على سرية من المدينة قبل نجد، قال ابو هريرة فقدم ابان واصحابه على النبي صلى الله عليه وسلم بخيبر، بعد ما افتتحها، وان حزم خيلهم لليف، قال ابو هريرة قلت يا رسول الله، لا تقسم لهم. قال ابان وانت بهذا يا وبر تحدر من راس ضان. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابان اجلس " فلم يقسم لهم
سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے میرے دادا نے خبر دی اور انہیں ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! یہ تو ابن قوقل کا قاتل ہے اور ابان رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا حیرت ہے اس «وبر» پر جو قدوم الضان سے ابھی اترا ہے اور مجھ پر عیب لگاتا ہے ایک ایسے شخص پر کہ جس کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ( ابن قوقل رضی اللہ عنہ کو ) عزت دی اور ایسا نہ ہونے دیا کہ ان کے ہاتھ سے مجھے ذلیل کرتا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد، قال اخبرني جدي، ان ابان بن سعيد، اقبل الى النبي صلى الله عليه وسلم فسلم عليه، فقال ابو هريرة يا رسول الله هذا قاتل ابن قوقل. وقال ابان لابي هريرة واعجبا لك وبر تدادا من قدوم ضان. ينعى على امرا اكرمه الله بيدي، ومنعه ان يهينني بيده
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان فاطمة عليها السلام بنت النبي صلى الله عليه وسلم ارسلت الى ابي بكر تساله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم مما افاء الله عليه بالمدينة وفدك، وما بقي من خمس خيبر، فقال ابو بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث، ما تركنا صدقة، انما ياكل ال محمد صلى الله عليه وسلم في هذا المال ". واني والله لا اغير شييا من صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حالها التي كان عليها في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولاعملن فيها بما عمل به رسول الله صلى الله عليه وسلم فابى ابو بكر ان يدفع الى فاطمة منها شييا فوجدت فاطمة على ابي بكر في ذلك فهجرته، فلم تكلمه حتى توفيت، وعاشت بعد النبي صلى الله عليه وسلم ستة اشهر، فلما توفيت، دفنها زوجها علي ليلا، ولم يوذن بها ابا بكر وصلى عليها، وكان لعلي من الناس وجه حياة فاطمة، فلما توفيت استنكر علي وجوه الناس، فالتمس مصالحة ابي بكر ومبايعته، ولم يكن يبايع تلك الاشهر، فارسل الى ابي بكر ان ايتنا، ولا ياتنا احد معك، كراهية لمحضر عمر. فقال عمر لا والله لا تدخل عليهم وحدك. فقال ابو بكر وما عسيتهم ان يفعلوا بي، والله لاتينهم. فدخل عليهم ابو بكر، فتشهد علي فقال انا قد عرفنا فضلك، وما اعطاك، الله ولم ننفس عليك خيرا ساقه الله اليك، ولكنك استبددت علينا بالامر، وكنا نرى لقرابتنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم نصيبا. حتى فاضت عينا ابي بكر، فلما تكلم ابو بكر قال والذي نفسي بيده لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم احب الى ان اصل من قرابتي، واما الذي شجر بيني وبينكم من هذه الاموال، فلم ال فيها عن الخير، ولم اترك امرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيها الا صنعته. فقال علي لابي بكر موعدك العشية للبيعة. فلما صلى ابو بكر الظهر رقي على المنبر، فتشهد وذكر شان علي، وتخلفه عن البيعة، وعذره بالذي اعتذر اليه، ثم استغفر، وتشهد علي فعظم حق ابي بكر، وحدث انه لم يحمله على الذي صنع نفاسة على ابي بكر، ولا انكارا للذي فضله الله به، ولكنا نرى لنا في هذا الامر نصيبا، فاستبد علينا، فوجدنا في انفسنا، فسر بذلك المسلمون وقالوا اصبت. وكان المسلمون الى علي قريبا، حين راجع الامر المعروف
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان فاطمة عليها السلام بنت النبي صلى الله عليه وسلم ارسلت الى ابي بكر تساله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم مما افاء الله عليه بالمدينة وفدك، وما بقي من خمس خيبر، فقال ابو بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث، ما تركنا صدقة، انما ياكل ال محمد صلى الله عليه وسلم في هذا المال ". واني والله لا اغير شييا من صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حالها التي كان عليها في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولاعملن فيها بما عمل به رسول الله صلى الله عليه وسلم فابى ابو بكر ان يدفع الى فاطمة منها شييا فوجدت فاطمة على ابي بكر في ذلك فهجرته، فلم تكلمه حتى توفيت، وعاشت بعد النبي صلى الله عليه وسلم ستة اشهر، فلما توفيت، دفنها زوجها علي ليلا، ولم يوذن بها ابا بكر وصلى عليها، وكان لعلي من الناس وجه حياة فاطمة، فلما توفيت استنكر علي وجوه الناس، فالتمس مصالحة ابي بكر ومبايعته، ولم يكن يبايع تلك الاشهر، فارسل الى ابي بكر ان ايتنا، ولا ياتنا احد معك، كراهية لمحضر عمر. فقال عمر لا والله لا تدخل عليهم وحدك. فقال ابو بكر وما عسيتهم ان يفعلوا بي، والله لاتينهم. فدخل عليهم ابو بكر، فتشهد علي فقال انا قد عرفنا فضلك، وما اعطاك، الله ولم ننفس عليك خيرا ساقه الله اليك، ولكنك استبددت علينا بالامر، وكنا نرى لقرابتنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم نصيبا. حتى فاضت عينا ابي بكر، فلما تكلم ابو بكر قال والذي نفسي بيده لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم احب الى ان اصل من قرابتي، واما الذي شجر بيني وبينكم من هذه الاموال، فلم ال فيها عن الخير، ولم اترك امرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيها الا صنعته. فقال علي لابي بكر موعدك العشية للبيعة. فلما صلى ابو بكر الظهر رقي على المنبر، فتشهد وذكر شان علي، وتخلفه عن البيعة، وعذره بالذي اعتذر اليه، ثم استغفر، وتشهد علي فعظم حق ابي بكر، وحدث انه لم يحمله على الذي صنع نفاسة على ابي بكر، ولا انكارا للذي فضله الله به، ولكنا نرى لنا في هذا الامر نصيبا، فاستبد علينا، فوجدنا في انفسنا، فسر بذلك المسلمون وقالوا اصبت. وكان المسلمون الى علي قريبا، حين راجع الامر المعروف
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حرمی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عمارہ نے خبر دی ‘ انہیں عکرمہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا اب کھجوروں سے ہمارا جی بھر جائے گا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا حرمي، حدثنا شعبة، قال اخبرني عمارة، عن عكرمة، عن عايشة رضى الله عنها قالت ولما فتحت خيبر قلنا الان نشبع من التمر
ہم سے حسن نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قرہ بن حبیب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب تک خیبر فتح نہیں ہوا تھا ہم تنگی میں تھے۔
حدثنا الحسن، حدثنا قرة بن حبيب، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال ما شبعنا حتى فتحنا خيبر
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن عبد المجيد بن سهيل، عن سعيد بن المسيب، عن ابي سعيد الخدري، وابي، هريرة رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا على خيبر، فجاءه بتمر جنيب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل تمر خيبر هكذا ". فقال لا والله يا رسول الله، انا لناخذ الصاع من هذا بالصاعين {والصاعين} بالثلاثة. فقال " لا تفعل، بع الجمع بالدراهم، ثم ابتع بالدراهم جنيبا
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن عبد المجيد بن سهيل، عن سعيد بن المسيب، عن ابي سعيد الخدري، وابي، هريرة رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا على خيبر، فجاءه بتمر جنيب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل تمر خيبر هكذا ". فقال لا والله يا رسول الله، انا لناخذ الصاع من هذا بالصاعين {والصاعين} بالثلاثة. فقال " لا تفعل، بع الجمع بالدراهم، ثم ابتع بالدراهم جنيبا
وقال عبد العزيز بن محمد عن عبد المجيد، عن سعيد، ان ابا سعيد، وابا، هريرة حدثاه ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث اخا بني عدي من الانصار الى خيبر فامره عليها. وعن عبد المجيد عن ابي صالح السمان عن ابي هريرة وابي سعيد مثله
وقال عبد العزيز بن محمد عن عبد المجيد، عن سعيد، ان ابا سعيد، وابا، هريرة حدثاه ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث اخا بني عدي من الانصار الى خيبر فامره عليها. وعن عبد المجيد عن ابي صالح السمان عن ابي هريرة وابي سعيد مثله