Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے محمد بن سعید خزاعی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زیاد بن ربیع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوعمران نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ( بصرہ کی مسجد میں ) جمعہ کے دن لوگوں کو دیکھا کہ ( ان کے سروں پر ) چادریں ہیں جن پر پھول کڑھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اس وقت خیبر کے یہودیوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔
حدثنا محمد بن سعيد الخزاعي، حدثنا زياد بن الربيع، عن ابي عمران، قال نظر انس الى الناس يوم الجمعة، فراى طيالسة فقال كانهم الساعة يهود خيبر
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ جا سکے تھے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا چکے ) تو انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ سے پیچھے رہوں ( ایسا نہیں ہو سکتا ) ؟ چنانچہ وہ بھی آ گئے۔ جس دن خیبر فتح ہونا تھا ‘ جب اس کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں ( اسلامی ) عَلم اس شخص کو دوں گا یا فرمایا کہ عَلم وہ شخص لے گا جسے اللہ اور اس کا رسول عزیز رکھتے ہیں اور جس کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گی۔ ہم سب ہی اس سعادت کے امیدوار تھے لیکن کہا گیا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا دیا اور انہیں کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا حاتم، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة، رضى الله عنه قال كان علي رضى الله عنه تخلف عن النبي صلى الله عليه وسلم في خيبر، وكان رمدا فقال انا اتخلف عن النبي صلى الله عليه وسلم فلحق، فلما بتنا الليلة التي فتحت قال " لاعطين الراية غدا او لياخذن الراية غدا رجل يحبه الله ورسوله، يفتح عليه ". فنحن نرجوها فقيل هذا علي، فاعطاه ففتح عليه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول بھی اسے عزیز رکھتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ وہ رات سب کی اس فکر میں گزر گئی کہ دیکھیں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عَلم کسے عطا فرماتے ہیں۔ صبح ہوئی تو سب خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور اس امید کے ساتھ کہ عَلم انہیں کو ملے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ تو آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ۔ جب وہ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے ان کی آنکھیں اتنی اچھی ہو گئیں جیسے پہلے کوئی بیماری ہی نہیں تھی۔ علی رضی اللہ عنہ نے عَلم سنبھال کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ ہمارے ہی جیسے نہ ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی چلتے رہو ‘ ان کے میدان میں اتر کر پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ اللہ کا ان پر کیا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، قال اخبرني سهل بن سعد رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر " لاعطين هذه الراية غدا رجلا، يفتح الله على يديه، يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله ". قال فبات الناس يدوكون ليلتهم ايهم يعطاها فلما اصبح الناس غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، كلهم يرجو ان يعطاها فقال " اين علي بن ابي طالب ". فقيل هو يا رسول الله يشتكي عينيه. قال " فارسلوا اليه ". فاتي به فبصق رسول الله صلى الله عليه وسلم في عينيه، ودعا له، فبرا حتى كان لم يكن به وجع، فاعطاه الراية، فقال علي يا رسول الله اقاتلهم حتى يكونوا مثلنا، فقال " انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم الى الاسلام، واخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه، فوالله لان يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من ان يكون لك حمر النعم
ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے احمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یعقوب بن عبدالرحمٰن زہری نے خبر دی ‘ انہیں مطلب کے مولیٰ عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر آئے پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کی فتح عنایت فرمائی تو آپ کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا کسی نے ذکر کیا ‘ ان کے شوہر قتل ہو گئے تھے اور ان کی شادی ابھی نئی ہوئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے لے لیا اور انہیں ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ آخر جب ہم مقام سد الصہباء میں پہنچے تو ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت فرمائی پھر آپ نے حیس بنایا۔ ( جو کھجور کے ساتھ گھی اور پنیر وغیرہ ملا کر بنایا جاتا ہے ) اور اسے چھوٹے سے ایک دستر خوان پر رکھ کر مجھ کو حکم فرمایا کہ جو لوگ تمہارے قریب ہیں انہیں بلا لو۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہی ولیمہ تھا۔ پھر ہم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے عبا اونٹ کی کوہان میں باندھ دی تاکہ پیچھے سے وہ اسے پکڑے رہیں اور اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا اس پر رکھا اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوئیں۔
حدثنا عبد الغفار بن داود، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، ح وحدثني احمد، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يعقوب بن عبد الرحمن الزهري، عن عمرو، مولى المطلب عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قدمنا خيبر، فلما فتح الله عليه الحصن ذكر له جمال صفية بنت حيى بن اخطب، وقد قتل زوجها وكانت عروسا، فاصطفاها النبي صلى الله عليه وسلم لنفسه، فخرج بها، حتى بلغنا سد الصهباء حلت، فبنى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم صنع حيسا في نطع صغير، ثم قال لي " اذن من حولك ". فكانت تلك وليمته على صفية، ثم خرجنا الى المدينة، فرايت النبي صلى الله عليه وسلم يحوي لها وراءه بعباءة، ثم يجلس عند بعيره، فيضع ركبته، وتضع صفية رجلها على ركبته حتى تركب
ہم سے اسماعیل بن ابواویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے لیے خیبر کے راستہ میں تین دن تک قیام فرمایا اور آخری دن ان سے خلوت فرمائی اور وہ بھی امہات المؤمنین میں شامل ہو گئیں۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن يحيى، عن حميد الطويل، سمع انس بن مالك رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم اقام على صفية بنت حيى، بطريق خيبر ثلاثة ايام، حتى اعرس بها، وكانت فيمن ضرب عليها الحجاب
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( مقام سد الصہباء میں ) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی ( کا ملیدہ ) رکھ دیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہیں رکھا تو پھر یہ اس کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ کیا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر بن ابي كثير، قال اخبرني حميد، انه سمع انسا رضى الله عنه يقول اقام النبي صلى الله عليه وسلم بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يبنى عليه بصفية، فدعوت المسلمين الى وليمته، وما كان فيها من خبز ولا لحم، وما كان فيها الا ان امر بلالا بالانطاع فبسطت، فالقى عليها التمر والاقط والسمن، فقال المسلمون احدى امهات المومنين، او ما ملكت يمينه قالوا ان حجبها فهى احدى امهات المومنين، وان لم يحجبها فهى مما ملكت يمينه. فلما ارتحل وطا لها خلفه، ومد الحجاب
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن بلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے چمڑے کی ایک کپی پھینکی جس میں چربی تھی ‘ میں اسے اٹھانے کے لیے دوڑا لیکن میں نے جو مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة. وحدثني عبد الله بن محمد، حدثنا وهب، حدثنا شعبة، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مغفل رضى الله عنه قال كنا محاصري خيبر فرمى انسان بجراب فيه شحم، فنزوت لاخذه، فالتفت فاذا النبي صلى الله عليه وسلم�� فاستحييت
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے ‘ ان سے نافع اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پالتو گدھوں کے کھانے سے منع فرمایا تھا۔ لہسن کھانے کی ممانعت کا ذکر صرف نافع سے منقول ہے اور پالتو گدھوں کے کھانے کی ممانعت صرف سالم سے منقول ہے۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، وسالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر عن اكل الثوم، وعن لحوم الحمر الاهلية. نهى عن اكل الثوم هو عن نافع وحده. ولحوم الحمر الاهلية عن سالم
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ اور حسن نے جو دونوں محمد بن علی کے صاحبزادے ہیں ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کی ممانعت کی تھی اور پالتو گدھوں کے کھانے کی بھی۔
حدثني يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الله، والحسن، ابنى محمد بن علي عن ابيهما، عن علي بن ابي طالب رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر، وعن اكل الحمر الانسية
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر عن لحوم الحمر الاهلية
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔
حدثني اسحاق بن نصر، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا عبيد الله، عن نافع، وسالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن اكل لحوم الحمر الاهلية
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے ‘ ان سے عمرو نے ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو، عن محمد بن علي، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر، ورخص في الخيل
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عباد نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے بیان کیا اور انہوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ غزوہ خیبر میں ایک موقع پر ہم بہت بھوکے تھے ‘ ادھر ہانڈیوں میں ابال آ رہا تھا ( گدھے کا گوشت پکایا جا رہا تھا ) اور کچھ پک بھی گئیں تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ گدھے کے گوشت کا ایک ذرہ بھی نہ کھاؤ اور اسے پھینک دو۔ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر بعض لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت اس لیے کی ہے کہ ابھی اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ نے اس کی واقعی ممانعت ( ہمیشہ کے لیے ) کر دی ہے ‘ کیونکہ یہ گندگی کھاتا ہے۔
حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد، عن الشيباني، قال سمعت ابن ابي اوفى رضى الله عنهما اصابتنا مجاعة يوم خيبر، فان القدور لتغلي قال وبعضها نضجت فجاء منادي النبي صلى الله عليه وسلم لا تاكلوا من لحوم الحمر شييا واهريقوها. قال ابن ابي اوفى فتحدثنا انه انما نهى عنها لانها لم تخمس. وقال بعضهم نهى عنها البتة، لانها كانت تاكل العذرة
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عدي بن ثابت، عن البراء، وعبد الله بن ابي اوفى، رضى الله عنهم انهم كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم فاصابوا حمرا فطبخوها، فنادى منادي النبي صلى الله عليه وسلم اكفيوا القدور
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عدي بن ثابت، عن البراء، وعبد الله بن ابي اوفى، رضى الله عنهم انهم كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم فاصابوا حمرا فطبخوها، فنادى منادي النبي صلى الله عليه وسلم اكفيوا القدور
حدثني اسحاق، حدثنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، حدثنا عدي بن ثابت، سمعت البراء، وابن ابي اوفى، يحدثان عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال يوم خيبر وقد نصبوا القدور اكفيوا القدور
حدثني اسحاق، حدثنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، حدثنا عدي بن ثابت، سمعت البراء، وابن ابي اوفى، يحدثان عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال يوم خيبر وقد نصبوا القدور اكفيوا القدور
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے پھر پہلی حدیث کی طرح روایت نقل کی۔
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن البراء، قال غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی ‘ کہا ہم عاصم کونے خبر دی ‘ انہیں عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پالتو گدھوں کا گوشت ہم پھینک دیں ‘ کچا بھی اور پکا ہوا بھی ‘ پھر ہمیں اس کے کھانے کا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا ابن ابي زايدة، اخبرنا عاصم، عن عامر، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة خيبر ان نلقي الحمر الاهلية نيية ونضيجة، ثم لم يامرنا باكله بعد
مجھ سے محمد بن ابی الحسین نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے ‘ ان سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے والے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں یا آپ نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔
حدثني محمد بن ابي الحسين، حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، عن عاصم، عن عامر، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لا ادري انهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم من اجل انه كان حمولة الناس، فكره ان تذهب حمولتهم، او حرمه في يوم خيبر، لحم الحمر الاهلية