Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر کا امیر بنایا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسامہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔
حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، عن الفضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابيه، استعمل النبي صلى الله عليه وسلم اسامة فقالوا فيه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قد بلغني انكم قلتم في اسامة، وانه احب الناس الى
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا اور فرمایا کہ اگر آج تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر اسی طرح اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! اس کے والد ( زید رضی اللہ عنہ ) امارت کے بہت لائق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ ) بھی ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا وامر عليهم اسامة بن زيد، فطعن الناس في امارته، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان تطعنوا في امارته فقد كنتم تطعنون في امارة ابيه من قبل، وايم الله ان كان لخليقا للامارة، وان كان لمن احب الناس الى، وان هذا لمن احب الناس الى بعده
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں عمرو بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے عبدالرحمٰن بن عسیلہ صنابحی سے، جناب ابوالخیر نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے کب ہجرت کی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ہجرت کے ارادے سے یمن چلے، ابھی ہم مقام جحفہ میں پہنچے تھے کہ ایک سوار سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم نے ان سے مدینہ کی خبر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو پانچ دن ہو چکے ہیں میں نے پوچھا تم نے لیلۃ القدر کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کے سات دنوں میں ( ایک طاق رات ) ہوتی ہے۔
حدثنا اصبغ، قال اخبرني ابن وهب، قال اخبرني عمرو، عن ابن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن الصنابحي، انه قال له متى هاجرت قال خرجنا من اليمن مهاجرين، فقدمنا الجحفة، فاقبل راكب فقلت له الخبر فقال دفنا النبي صلى الله عليه وسلم منذ خمس. قلت هل سمعت في ليلة القدر شييا قال نعم اخبرني بلال موذن النبي صلى الله عليه وسلم انه في السبع في العشر الاواخر
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تم نے کتنے غزوے کئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ سترہ۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کئے تھے؟ فرمایا کہ انیس۔
حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، قال سالت زيد بن ارقم رضى الله عنه كم غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سبع عشرة. قلت كم غزا النبي صلى الله عليه وسلم قال تسع عشرة
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، انہوں نے ان سے ابواسحاق نے، کہا ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوں میں شریک رہا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، حدثنا البراء رضى الله عنه قال غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم خمس عشرة
مجھ سے احمد بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے کہمس نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزووں میں شریک تھے۔
حدثني احمد بن الحسن، حدثنا احمد بن محمد بن حنبل بن هلال، حدثنا معتمر بن سليمان، عن كهمس، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ست عشرة غزوة