Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور سوا اس عمرے کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا ‘ تمام عمرے ذیقعدہ ( کے مہینے ) میں کئے۔ حدیبیہ کا عمرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذی قعدہ ( کے مہینے ) میں کرنے تشریف لے گئے پھر دوسرے سال ( اس کی قضاء میں ) آپ نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا اور ایک عمرہ جعرانہ سے آپ نے کیا تھا ‘ جہاں غزوہ حنین کی غنیمت آپ نے تقسیم کی تھی۔ یہ بھی ذی قعدہ میں کیا تھا اور ایک عمرہ حج کے ساتھ کیا ( جو ذی الحجہ میں کیا تھا ) ۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، عن قتادة، ان انسا رضى الله عنه اخبره قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم اربع عمر كلهن في ذي القعدة، الا التي كانت مع حجته. عمرة من الحديبية في ذي القعدة، وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة، وعمرة من الجعرانة حيث قسم غنايم حنين في ذي القعدة، وعمرة مع حجته
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے ‘ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے احرام باندھ لیا تھا لیکن میں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔
حدثنا سعيد بن الربيع، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، ان اباه، حدثه قال انطلقنا مع النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية فاحرم اصحابه، ولم احرم
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ ( سورۃ انا فتحنا میں ) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی ( کہ پانی ختم ہو گیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا پانی اس کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے کنویں کو یوں ہی رہنے دیا اور اس کے بعد جتنا ہم نے چاہا اس میں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال تعدون انتم الفتح فتح مكة، وقد كان فتح مكة فتحا، ونحن نعد الفتح بيعة الرضوان يوم الحديبية. كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم اربع عشرة ماية، والحديبية بير فنزحناها، فلم نترك فيها قطرة، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فاتاها، فجلس على شفيرها، ثم دعا باناء من ماء فتوضا ثم مضمض ودعا، ثم صبه فيها فتركناها غير بعيد ثم انها اصدرتنا ما شينا نحن وركابنا
مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ‘ ہم سے حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ ہمیں براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ لوگ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک کنویں پر پڑاؤ ہوا لشکر نے اس کا ( سارا ) پانی کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے پاس تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ ایک ڈول میں اسی کنویں کا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ کنویں کو یوں ہی تھوڑی دیر کے لیے رہنے دو۔ اس کے بعد سارا لشکر خود بھی سیراب ہوتا رہا اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہاں سے انہوں نے کوچ کیا۔
حدثني فضل بن يعقوب، حدثنا الحسن بن محمد بن اعين ابو علي الحراني، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، قال انبانا البراء بن عازب رضى الله عنهما انهم كانوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية الفا واربعماية او اكثر، فنزلوا على بير فنزحوها، فاتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتى البير، وقعد على شفيرها ثم قال " ايتوني بدلو من مايها ". فاتي به فبصق فدعا ثم قال " دعوها ساعة ". فارووا انفسهم وركابهم حتى ارتحلوا
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ‘ کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھا ‘ اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا ‘ نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے۔ سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ ( سالم کہتے ہیں کہ ) میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہو جاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا ابن فضيل، حدثنا حصين، عن سالم، عن جابر رضى الله عنه قال عطش الناس يوم الحديبية ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين يديه ركوة، فتوضا منها، ثم اقبل الناس نحوه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لكم ". قالوا يا رسول الله ليس عندنا ماء نتوضا به، ولا نشرب الا ما في ركوتك. قال فوضع النبي صلى الله عليه وسلم يده في الركوة، فجعل الماء يفور من بين اصابعه كامثال العيون، قال فشربنا وتوضانا. فقلت لجابر كم كنتم يوميذ قال لو كنا ماية الف لكفانا، كنا خمس عشرة ماية
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا ‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ( حدیبیہ کی صلح کے موقع پر ) صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ اس پر سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا اس موقع پر پندرہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیبیہ میں بیعت کی تھی۔ ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور محمد بن بشار نے بھی ابوداؤد طیالسی کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔
حدثنا الصلت بن محمد، حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد، عن قتادة، قلت لسعيد بن المسيب بلغني ان جابر بن عبد الله، كان يقول كانوا اربع عشرة ماية. فقال لي سعيد حدثني جابر كانوا خمس عشرة ماية الذين بايعوا النبي صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية. تابعه ابو داود حدثنا قرة عن قتادة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھاتا۔ اس روایت کی متابعت اعمش نے کی، ان سے سالم نے سنا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ چودہ سو صحابہ غزوہ حدیبیہ میں تھے۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال عمرو سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية " انتم خير اهل الارض ". وكنا الفا واربعماية، ولو كنت ابصر اليوم لاريتكم مكان الشجرة. تابعه الاعمش سمع سالما سمع جابرا الفا واربعماية
اور عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ درخت والوں ( بیعت رضوان کرنے والوں ) کی تعداد تیرہ سو تھی۔ قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ اس روایت کی متابعت محمد بن بشار نے کی ‘ ان سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا اور ان سے شعبہ نے۔
وقال عبيد الله بن معاذ حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، حدثني عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما كان اصحاب الشجرة الفا وثلاثماية، وكانت اسلم ثمن المهاجرين. تابعه محمد بن بشار حدثنا ابو داود حدثنا شعبة
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ‘ انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہیں قیس بن ابی حازم نے اور انہوں نے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ اصحاب شجرہ (غزوہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں) میں سے تھے ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ پہلے صالحین قبض کئے جائیں گے۔ جو زیادہ صالح ہو گا اس کی روح سب سے پہلے اور جو اس کے بعد کے درجے کا ہو گا اس کی اس کے بعد پھر ردی اور بےکار کھجور اور جَو کی طرح بےکار لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی اللہ کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہو گی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، عن اسماعيل، عن قيس، انه سمع مرداسا الاسلمي، يقول وكان من اصحاب الشجرة يقبض الصالحون الاول فالاول، وتبقى حفالة كحفالة التمر والشعير، لا يعبا الله بهم شييا
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن مروان، والمسور بن مخرمة، قالا خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه، فلما كان بذي الحليفة قلد الهدى واشعر واحرم منها. لا احصي كم سمعته من سفيان حتى سمعته يقول لا احفظ من الزهري الاشعار والتقليد، فلا ادري يعني موضع الاشعار والتقليد، او الحديث كله
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن مروان، والمسور بن مخرمة، قالا خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه، فلما كان بذي الحليفة قلد الهدى واشعر واحرم منها. لا احصي كم سمعته من سفيان حتى سمعته يقول لا احفظ من الزهري الاشعار والتقليد، فلا ادري يعني موضع الاشعار والتقليد، او الحديث كله
ہم سے حسن بن خلف نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر ورقاء بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے ( عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے ) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا ( یعنی احرام کی حالت میں ) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔
حدثنا الحسن بن خلف، قال حدثنا اسحاق بن يوسف، عن ابي بشر، ورقاء، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، قال حدثني عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راه وقمله يسقط على وجهه فقال " ايوذيك هوامك ". قال نعم. فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحلق وهو بالحديبية، لم يبين لهم انهم يحلون بها، وهم على طمع ان يدخلوا مكة، فانزل الله الفدية، فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يطعم فرقا بين ستة مساكين، او يهدي شاة، او يصوم ثلاثة ايام
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال خرجت مع عمر بن الخطاب رضى الله عنه الى السوق، فلحقت عمر امراة شابة فقالت يا امير المومنين هلك زوجي وترك صبية صغارا، والله ما ينضجون كراعا، ولا لهم زرع ولا ضرع، وخشيت ان تاكلهم الضبع، وانا بنت خفاف بن ايماء الغفاري، وقد شهد ابي الحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم، فوقف معها عمر، ولم يمض، ثم قال مرحبا بنسب قريب. ثم انصرف الى بعير ظهير كان مربوطا في الدار، فحمل عليه غرارتين ملاهما طعاما، وحمل بينهما نفقة وثيابا، ثم ناولها بخطامه ثم قال اقتاديه فلن يفنى حتى ياتيكم الله بخير. فقال رجل يا امير المومنين اكثرت لها. قال عمر ثكلتك امك، والله اني لارى ابا هذه واخاها قد حاصرا حصنا زمانا، فافتتحاه، ثم اصبحنا نستفيء سهمانهما فيه
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال خرجت مع عمر بن الخطاب رضى الله عنه الى السوق، فلحقت عمر امراة شابة فقالت يا امير المومنين هلك زوجي وترك صبية صغارا، والله ما ينضجون كراعا، ولا لهم زرع ولا ضرع، وخشيت ان تاكلهم الضبع، وانا بنت خفاف بن ايماء الغفاري، وقد شهد ابي الحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم، فوقف معها عمر، ولم يمض، ثم قال مرحبا بنسب قريب. ثم انصرف الى بعير ظهير كان مربوطا في الدار، فحمل عليه غرارتين ملاهما طعاما، وحمل بينهما نفقة وثيابا، ثم ناولها بخطامه ثم قال اقتاديه فلن يفنى حتى ياتيكم الله بخير. فقال رجل يا امير المومنين اكثرت لها. قال عمر ثكلتك امك، والله اني لارى ابا هذه واخاها قد حاصرا حصنا زمانا، فافتتحاه، ثم اصبحنا نستفيء سهمانهما فيه
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعمرو شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے وہ درخت دیکھا تھا لیکن پھر بعد میں جب آیا تو میں اسے نہیں پہچان سکا۔ محمود نے بیان کیا کہ پھر بعد میں وہ درخت مجھے یاد نہیں رہا تھا۔
حدثني محمد بن رافع، حدثنا شبابة بن سوار ابو عمرو الفزاري، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابيه، قال لقد رايت الشجرة، ثم اتيتها بعد فلم اعرفها. قال محمود ثم انسيتها بعد
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔ پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم لوگوں نے کیسے پہچان لیا ( اس کے تلے مسجد بنا لی ) تم ان سے زیادہ علم والے ٹھہرے۔
حدثنا محمود، حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن طارق بن عبد الرحمن، قال انطلقت حاجا فمررت بقوم يصلون قلت ما هذا المسجد قالوا هذه الشجرة، حيث بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم بيعة الرضوان. فاتيت سعيد بن المسيب فاخبرته فقال سعيد حدثني ابي انه كان فيمن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت الشجرة، قال فلما خرجنا من العام المقبل نسيناها، فلم نقدر عليها. فقال سعيد ان اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم لم يعلموها وعلمتموها انتم، فانتم اعلم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے ‘ کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کون سا درخت تھا۔
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، حدثنا طارق، عن سعيد بن المسيب، عن ابيه، انه كان ممن بايع تحت الشجرة، فرجعنا اليها العام المقبل فعميت علينا
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کی مجلس میں «الشجرة» کا ذکر ہوا تو وہ ہنسے اور کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس درخت کے تلے بیعت میں شریک تھے۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن طارق، قال ذكرت عند سعيد بن المسيب الشجرة فضحك فقال اخبرني ابي وكان، شهدها
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی صدقہ لے کر حاضر ہوتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔ چنانچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! آل ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر اپنی رحمت نازل فرما۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى وكان من اصحاب الشجرة قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اتاه قوم بصدقة قال " اللهم صل عليهم ". فاتاه ابي بصدقته فقال " اللهم صل على ال ابي اوفى
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے اور ان سے عباد بن تمیم نے بیان کیا کہ حرہ کی لڑائی میں لوگ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ عبداللہ بن زید نے پوچھا کہ ابن حنظلہ سے کس بات پر بیعت کی جا رہی ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ موت پر۔ ابن زید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میں کسی سے بھی موت پر بیعت نہیں کروں گا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔
حدثنا اسماعيل، عن اخيه، عن سليمان، عن عمرو بن يحيى، عن عباد بن تميم، قال لما كان يوم الحرة والناس يبايعون لعبد الله بن حنظلة فقال ابن زيد على ما يبايع ابن حنظلة الناس قيل له على الموت. قال لا ابايع على ذلك احدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم. وكان شهد معه الحديبية