Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوامامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ ( پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے ) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة ونحن ستة نفر بيننا بعير نعتقبه، فنقبت اقدامنا ونقبت قدماى وسقطت اظفاري، وكنا نلف على ارجلنا الخرق، فسميت غزوة ذات الرقاع، لما كنا نعصب من الخرق على ارجلنا، وحدث ابو موسى بهذا، ثم كره ذاك، قال ما كنت اصنع بان اذكره. كانه كره ان يكون شىء من عمله افشاه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ‘ ان سے یزید بن رومان نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ایک ایسے صحابی سے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھی تھی۔ اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ پہلے ایک جماعت نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ اس وقت دوسری جماعت ( مسلمانوں کی ) دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو جو آپ کے پیچھے صف میں کھڑی تھی ‘ ایک رکعت نماز خوف پڑھائی اور اس کے بعد آپ کھڑے رہے۔ اس جماعت نے اس عرصہ میں اپنی نماز پوری کر لی اور واپس آ کر دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی دوسری رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی اور ( رکوع و سجدہ کے بعد ) آپ قعدہ میں بیٹھے رہے۔ پھر ان لوگوں نے جب اپنی نماز ( جو باقی رہ گئی تھی ) پوری کر لی تو آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن يزيد بن رومان، عن صالح بن خوات، عمن شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم ذات الرقاع صلى صلاة الخوف ان طايفة صفت معه، وطايفة وجاه العدو، فصلى بالتي معه ركعة، ثم ثبت قايما، واتموا لانفسهم ثم انصرفوا، فصفوا وجاه العدو، وجاءت الطايفة الاخرى فصلى بهم الركعة التي بقيت من صلاته، ثم ثبت جالسا، واتموا لانفسهم، ثم سلم بهم
اور معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے ابوزبیر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے۔ پھر انہوں نے نماز خوف کا ذکر کیا۔ امام مالک نے بیان کیا کہ نماز خوف کے سلسلے میں جتنی روایات میں نے سنی ہیں یہ روایت ان سب میں زیادہ بہتر ہے۔ معاذ بن ہشام کے ساتھ اس حدیث کو لیث بن سعد نے بھی ہشام بن سعد مدنی سے ‘ انہوں نے زید بن اسلم سے روایت کیا اور ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو انمار میں ( نماز خوف ) پڑھی تھی۔
وقال معاذ حدثنا هشام، عن ابي الزبير، عن جابر، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بنخل. فذكر صلاة الخوف. قال مالك وذلك احسن ما سمعت في صلاة الخوف. تابعه الليث عن هشام عن زيد بن اسلم ان القاسم بن محمد حدثه صلى النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة بني انمار
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے قاسم بن محمد نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ ( نماز خوف میں ) امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گی۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت دشمن کے مقابلہ پر کھڑی ہو گی۔ انہیں کی طرف منہ کیے ہوئے۔ امام اپنے ساتھ والی جماعت کو پہلے ایک رکعت نماز پڑھائے گا ( ایک رکعت پڑھنے کے بعد پھر ) یہ جماعت کھڑی ہو جائے گی اور خود ( امام کے بغیر ) اسی جگہ ایک رکوع اور دو سجدے کر کے دشمن کے مقابلہ پر جا کر کھڑی ہو جائے گی۔ جہاں دوسری جماعت پہلے سے موجود تھی۔ اس کے بعد امام دوسری جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائے گا۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہو جائیں گی اور یہ دوسری جماعت ایک رکوع اور دو سجدے خود کرے گی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن يحيى بن سعيد الانصاري، عن القاسم بن محمد، عن صالح بن خوات، عن سهل بن ابي حثمة، قال يقوم الامام مستقبل القبلة، وطايفة منهم معه وطايفة من قبل العدو، وجوههم الى العدو، فيصلي بالذين معه ركعة، ثم يقومون، فيركعون لانفسهم ركعة ويسجدون سجدتين في مكانهم، ثم يذهب هولاء الى مقام اوليك فيركع بهم ركعة، فله ثنتان، ثم يركعون ويسجدون سجدتين. حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن صالح بن خوات، عن سهل بن ابي حثمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم. حدثني محمد بن عبيد الله، قال حدثني ابن ابي حازم، عن يحيى، سمع القاسم، اخبرني صالح بن خوات، عن سهل، حدثه قوله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نجد کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کے لیے گیا تھا۔ وہاں ہم دشمن کے آمنے سامنے ہوئے اور ان کے مقابلے میں صف بندی کی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم، ان ابن عمر رضى الله عنهما قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد، فوازينا العدو فصاففنا لهم
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کے ساتھ نماز ( نماز خوف ) پڑھی اور دوسری جماعت اس عرصہ میں دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ پھر یہ جماعت جب اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ ( نماز پڑھ کر ) چلی گئی تو دوسری جماعت آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی۔ اس کے بعد آپ نے اس جماعت کے ساتھ سلام پھیرا۔ آخر اس جماعت نے کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی اور پہلی جماعت نے بھی کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى باحدى الطايفتين، والطايفة الاخرى مواجهة العدو، ثم انصرفوا، فقاموا في مقام اصحابهم، فجاء اوليك فصلى بهم ركعة، ثم سلم عليهم، ثم قام هولاء فقضوا ركعتهم، وقام هولاء فقضوا ركعتهم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان سے سنان اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں لڑائی کے لیے گئے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سنان، وابو سلمة ان جابرا، اخبر انه، غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے محمد بن ابی عتیق نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سنان بن ابی سنان دولی نے ‘ انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں غزوہ کے لیے گئے تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی واپس ہوئے۔ قیلولہ کا وقت ایک وادی میں آیا ‘ جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اتر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم درختوں کے سائے کے لیے پوری وادی میں پھیل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی تھوڑی دیر ہمیں سوئے ہوئے ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم جب خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوار ( مجھ ہی پر ) کھینچ لی تھی ‘ میں اس وقت سویا ہوا تھا ‘ میری آنکھ کھلی تو میری ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے مجھ سے کہا ‘ تمہیں میرے ہاتھ سے آج کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! اب دیکھو یہ بیٹھا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر کوئی سزا نہیں دی۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن محمد بن ابي عتيق، عن ابن شهاب، عن سنان بن ابي سنان الدولي، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما اخبره انه، غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد، فلما قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم قفل معه، فادركتهم القايلة في واد كثير العضاه، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتفرق الناس في العضاه يستظلون بالشجر، ونزل رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت سمرة، فعلق بها سيفه، قال جابر فنمنا نومة، ثم اذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعونا، فجيناه فاذا عنده اعرابي جالس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذا اخترط سيفي، وانا نايم فاستيقظت، وهو في يده صلتا، فقال لي من يمنعك مني قلت الله. فها هو ذا جالس ". ثم لم يعاقبه رسول الله صلى الله عليه وسلم
اور ابان نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ‘ ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں تھے۔ کہ ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے۔ وہ درخت ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کہ آپ وہاں آرام فرمائیں۔ بعد میں مشرکین میں سے ایک شخص آیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی۔ اس نے وہ تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ لی اور پوچھا ‘ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اس نے پوچھا آج میرے ہاتھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ! پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ڈانٹا دھمکایا اور نماز کی تکبیر کہی گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک جماعت کو دو رکعت نماز خوف پڑھائی جب وہ جماعت ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے ) ہٹ گئی تو آپ نے دوسری جماعت کو بھی دو رکعت نماز پڑھائی۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت نماز ہوئی۔ لیکن مقتدیوں کی صرف دو دو رکعت اور مسدد نے بیان کیا ‘ ان سے ابوعوانہ نے ‘ ان سے ابوبسر نے کہ اس شخص کا نام ( جس نے آپ پر تلوار کھینچی تھی ) غورث بن حارث تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں قبیلہ محارب خصفہ سے جنگ کی تھی۔
وقال ابان حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن جابر، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بذات الرقاع، فاذا اتينا على شجرة ظليلة تركناها للنبي صلى الله عليه وسلم، فجاء رجل من المشركين وسيف النبي صلى الله عليه وسلم معلق بالشجرة فاخترطه فقال تخافني قال " لا ". قال فمن يمنعك مني قال " الله ". فتهدده اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، واقيمت الصلاة فصلى بطايفة ركعتين، ثم تاخروا، وصلى بالطايفة الاخرى ركعتين، وكان للنبي صلى الله عليه وسلم اربع وللقوم ركعتين. وقال مسدد عن ابي عوانة عن ابي بشر اسم الرجل غورث بن الحارث، وقاتل فيها محارب خصفة
اور ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف غزوہ نجد میں پڑھی تھی۔ یہ یاد رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( سب سے پہلے ) غزوہ خیبر کے موقع پر حاضر ہوئے تھے۔
وقال ابو الزبير عن جابر، كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بنخل فصلى الخوف. وقال ابو هريرة صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم غزوة نجد صلاة الخوف. وانما جاء ابو هريرة الى النبي صلى الله عليه وسلم ايام خيبر
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے ‘ انہیں محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے ابومحیریز نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اندر موجود تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے عزل کے متعلق ان سے سوال کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی المصطلق کے لیے نکلے۔ اس غزوہ میں ہمیں کچھ عرب کے قیدی ملے ( جن میں عورتیں بھی تھیں ) پھر اس سفر میں ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور بے عورت رہنا ہم پر مشکل ہو گیا۔ دوسری طرف ہم عزل کرنا چاہتے تھے ( اس خوف سے کہ بچہ نہ پیدا ہو ) ہمارا ارادہ یہی تھا کہ عزل کر لیں لیکن پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ آپ سے پوچھے بغیر عزل کرنا مناسب نہ ہو گا۔ چنانچہ ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم عزل نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ قیامت تک جو جان پیدا ہونے والی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، انه قال دخلت المسجد فرايت ابا سعيد الخدري فجلست اليه فسالته عن العزل،، قال ابو سعيد خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة بني المصطلق، فاصبنا سبيا من سبى العرب، فاشتهينا النساء واشتدت علينا العزبة، واحببنا العزل، فاردنا ان نعزل، وقلنا نعزل ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا قبل ان نساله فسالناه عن ذلك فقال " ما عليكم ان لا تفعلوا، ما من نسمة كاينة الى يوم القيامة الا وهى كاينة
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے۔ دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لیے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار ٹکا دی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے۔ ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا۔ اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! ( وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ ) تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا اور دیکھ لو۔ یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔
حدثنا محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة نجد، فلما ادركته القايلة وهو في واد كثير العضاه، فنزل تحت شجرة واستظل بها وعلق سيفه، فتفرق الناس في الشجر يستظلون، وبينا نحن كذلك اذ دعانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فجينا، فاذا اعرابي قاعد بين يديه، فقال " ان هذا اتاني وانا نايم، فاخترط سيفي فاستيقظت، وهو قايم على راسي، مخترط صلتا، قال من يمنعك مني قلت الله. فشامه، ثم قعد، فهو هذا ". قال ولم يعاقبه رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے آدم ابن ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ‘ ان سے عثمان بن عبداللہ بن سراقہ نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ انمار میں دیکھا کہ نفل نماز آپ اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے پڑھ رہے تھے۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا عثمان بن عبد الله بن سراقة، عن جابر بن عبد الله الانصاري، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة انمار يصلي على راحلته، متوجها قبل المشرق متطوعا
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب اہل افک ( یعنی تہمت لگانے والوں ) نے ان کے متعلق وہ سب کچھ کہا جو انہیں کہنا تھا ( ابن شہاب نے بیان کیا کہ ) تمام حضرات نے ( جن چار حضرات کے نام انہوں نے روایت کے سلسلے میں لیے ہیں ) مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا۔ یہ بھی تھا کہ ان میں سے بعض کو یہ قصہ زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھا اور عمدگی سے یہ قصہ بیان کرتا تھا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی روایت یاد رکھی جو اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یاد رکھی تھی۔ اگرچہ بعض لوگوں کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں روایت زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھی۔ پھر بھی ان میں باہم ایک کی روایت دوسرے کی روایت کی تصدیق کرتی ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے درمیان قرعہ ڈالا کرتے تھے اور جس کا نام آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک غزوہ کے موقع پر جب آپ نے قرعہ ڈالا تو میرا نام نکلا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روانہ ہوئی۔ یہ واقعہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ چنانچہ مجھے ہودج سمیت اٹھا کر سوار کر دیا جاتا اور اسی کے ساتھ اتارا جاتا۔ اس طرح ہم روانہ ہوئے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہو گئے تو واپس ہوئے۔ واپسی میں اب ہم مدینہ کے قریب تھے ( اور ایک مقام پر پڑاؤ تھا ) جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا رات کے وقت اعلان کیا۔ کوچ کا اعلان ہو چکا تھا تو میں کھڑی ہوئی اور تھوڑی دور چل کر لشکر کے حدود سے آگے نکل گئی۔ پھر قضائے حاجت سے فارغ ہو کر میں اپنی سواری کے پاس پہنچی۔ وہاں پہنچ کر جو میں نے اپنا سینہ ٹٹولا تو ظفار ( یمن کا ایک شہر ) کے مہرہ کا بنا ہوا میرا ہار غائب تھا۔ اب میں پھر واپس ہوئی اور اپنا ہار تلاش کرنے لگی۔ اس تلاش میں دیر ہو گئی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جو لوگ مجھے سوار کیا کرتے تھے وہ آئے اور میرے ہودج کو اٹھا کر انہوں نے میرے اونٹ پر رکھ دیا۔ جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے سمجھا کہ میں ہودج کے اندر ہی موجود ہوں۔ ان دنوں عورتیں بہت ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ ان کے جسم میں زیادہ گوشت نہیں ہوتا تھا کیونکہ بہت معمولی خوراک انہیں ملتی تھی۔ اس لیے اٹھانے والوں نے جب اٹھایا تو ہودج کے ہلکے پن میں انہیں کوئی فرق معلوم نہیں ہوا۔ یوں بھی اس وقت میں ایک کم عمر لڑکی تھی۔ غرض اونٹ کو اٹھا کر وہ بھی روانہ ہو گئے۔ جب لشکر گزر گیا تو مجھے بھی اپنا ہار مل گیا۔ میں ڈیرے پر آئی تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ نہ پکارنے والا نہ جواب دینے والا۔ اس لیے میں وہاں آئی جہاں میرا اصل ڈیرہ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ جلد ہی میرے نہ ہونے کا انہیں علم ہو جائے گا اور مجھے لینے کے لیے وہ واپس لوٹ آئیں گے۔ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی الذکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ ( تاکہ لشکر کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو تو وہ اٹھا لیں ) انہوں نے ایک سوئے انسان کا سایہ دیکھا اور جب ( قریب آ کر ) مجھے دیکھا تو پہچان گئے پردہ سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔ مجھے جب وہ پہچان گئے تو اناللہ پڑھنا شروع کیا اور ان کی آواز سے میں جاگ اٹھی اور فوراً اپنی چادر سے میں نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اللہ کی قسم! میں نے ان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور نہ سوا اناللہ کے میں نے ان کی زبان سے کوئی لفظ سنا۔ وہ سواری سے اتر گئے اور اسے انہوں نے بٹھا کر اس کی اگلی ٹانگ کو موڑ دیا ( تاکہ بغیر کسی مدد کے ام المؤمنین اس پر سوار ہو سکیں ) میں اٹھی اور اس پر سوار ہو گئی۔ اب وہ سواری کو آگے سے پکڑے ہوئے لے کر چلے۔ جب ہم لشکر کے قریب پہنچے تو ٹھیک دوپہر کا وقت تھا۔ لشکر پڑاؤ کئے ہوئے تھا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا۔ اصل میں تہمت کا بیڑا عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافق ) نے اٹھا رکھا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ اس تہمت کا چرچا کرتا اور اس کی مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہوا کرتا۔ وہ اس کی تصدیق کرتا ‘ خوب غور اور توجہ سے سنتا اور پھیلانے کے لیے خوب کھود کرید کرتا۔ عروہ نے پہلی سند کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ حسان بن ثابت ‘ مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے سوا تہمت لگانے میں شریک کسی کا بھی نام نہیں لیا کہ مجھے ان کا علم ہوتا۔ اگرچہ اس میں شریک ہونے والے بہت سے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ( کہ جن لوگوں نے تہمت لگائی ہے وہ بہت سے ہیں ) لیکن اس معاملہ میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ اس پر بڑی خفگی کا اظہار کرتی تھیں۔ اگر ان کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جاتا ‘ آپ فرماتیں کہ یہ شعر حسان ہی نے کہا ہے کہ ”میرے والد اور میرے والد کے والد اور میری عزت ‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لیے تمہارے سامنے ڈھال بنی رہیں گی۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینہ پہنچ گئے اور وہاں پہنچتے ہی میں بیمار ہو گئی تو ایک مہینے تک بیمار ہی رہی۔ اس عرصہ میں لوگوں میں تہمت لگانے والوں کی افواہوں کا بڑا چرچا رہا لیکن میں ایک بات بھی نہیں سمجھ رہی تھی البتہ اپنے مرض کے دوران ایک چیز سے مجھے بڑا شبہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت و عنایت میں نہیں محسوس کرتی تھی جس کو پہلے جب بھی بیمار ہوتی میں دیکھ چکی تھی۔ آپ میرے پاس تشریف لاتے ‘ سلام کرتے اور دریافت فرماتے کیسی طبیعت ہے؟ صرف اتنا پوچھ کر واپس تشریف لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل سے مجھے شبہ ہوتا تھا۔ لیکن شر ( جو پھیل چکا تھا ) اس کا مجھے کوئی احساس نہیں تھا۔ مرض سے جب افاقہ ہوا تو میں ام مسطح کے ساتھ مناصع کی طرف گئی۔ مناصع ( مدینہ کی آبادی سے باہر ) ہمارے رفع حاجت کی جگہ تھی۔ ہم یہاں صرف رات کے وقت جاتے تھے۔ یہ اس سے پہلے کی بات ہے۔ جب بیت الخلاء ہمارے گھروں کے قریب بن گئے تھے۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ ابھی ہم عرب قدیم کے طریقے پر عمل کرتے اور میدان میں رفع حاجت کے لیے جایا کرتے تھے اور ہمیں اس سے تکلیف ہوتی تھی کہ بیت الخلاء ہمارے گھروں کے قریب بنائے جائیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ الغرض میں اور ام مسطح ( رفع حاجت کے لیے ) گئے۔ ام مسطح ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبد مناف کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ صخر بن عامر کی بیٹی ہیں اور وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں۔ انہی کے بیٹے مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر میں اور ام مسطح حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف واپس آ رہے تھے کہ ام مسطح اپنی چادر میں الجھ گئیں اور ان کی زبان سے نکلا کہ مسطح ذلیل ہو۔ میں نے کہا ‘ آپ نے بری بات زبان سے نکالی ‘ ایک ایسے شخص کو آپ برا کہہ رہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس پر کہا کیوں مسطح کی باتیں تم نے نہیں سنیں؟ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ بیان کیا ‘ پھر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں سنائیں۔ بیان کیا کہ ان باتوں کو سن کر میرا مرض اور بڑھ گیا۔ جب میں اپنے گھر واپس آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور سلام کے بعد دریافت فرمایا کہ کیسی طبیعت ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں گے؟ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ ان سے اس خبر کی تصدیق کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے ( گھر جا کر ) پوچھا کہ آخر لوگوں میں کس طرح کی افواہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ بیٹی! فکر نہ کر ‘ اللہ کی قسم! ایسا شاید ہی کہیں ہوا ہو کہ ایک خوبصورت عورت کسی ایسے شوہر کے ساتھ ہو جو اس سے محبت بھی رکھتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں اور پھر اس پر تہمتیں نہ لگائی گئی ہوں۔ اس کی عیب جوئی نہ کی گئی ہو۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے اس پر کہا کہ سبحان اللہ ( میری سوکنوں سے اس کا کیا تعلق ) اس کا تو عام لوگوں میں چرچا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ادھر پھر جو میں نے رونا شروع کیا تو رات بھر روتی رہی اسی طرح صبح ہو گئی اور میرے آنسو کسی طرح نہ تھمتے تھے اور نہ نیند ہی آتی تھی۔ بیان کیا کہ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنی بیوی کو علیحدہ کرنے کے متعلق مشورہ کرنے کے لیے بلایا کیونکہ اس سلسلے میں اب تک آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کے مطابق مشورہ دیا جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ( مراد خود اپنی ذات سے ہے ) کی پاکیزگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے محبت کے متعلق جانتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ آپ کی بیوی میں مجھے خیر و بھلائی کے سوا اور کچھ معلوم نہیں ہے لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے اور عورتیں بھی ان کے علاوہ بہت ہیں۔ آپ ان کی باندی ( بریرہ رضی اللہ عنہا ) سے بھی دریافت فرما لیں وہ حقیقت حال بیان کر دے گی۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے تمہیں ( عائشہ پر ) شبہ ہوا ہو۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا۔ میں نے ان کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو بری ہو۔ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ایک نوعمر لڑکی ہیں ‘ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا اور منبر پر کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی ( منافق ) کا معاملہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے گروہ مسلمین! اس شخص کے بارے میں میری کون مدد کرے گا جس کی اذیتیں اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ گئی ہیں۔ اللہ کی قسم کہ میں نے اپنی بیوی میں خیر کے سوا اور کوئی چیز نہیں دیکھی اور نام بھی ان لوگوں نے ایک ایسے شخص ( صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین کو اپنے اونٹ پر لائے تھے ) کا لیا ہے جس کے بارے میں بھی میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ وہ جب بھی میرے گھر آئے تو میرے ساتھ ہی آئے۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو اسہل کے ہم رشتہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا میں، یا رسول اللہ! آپ کی مدد کروں گا۔ اگر وہ شخص قبیلہ اوس کا ہوا تو میں اس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ ہمارے قبیلہ کا ہوا آپ کا اس کے متعلق بھی جو حکم ہو گا ہم بجا لائیں گے۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ اس پر قبیلہ خزرج کے ایک صحابی کھڑے ہوئے۔ حسان کی والدہ ان کی چچا زاد بہن تھیں یعنی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ وہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے بڑے صالح اور مخلصین میں تھے لیکن آج قبیلہ کی حمیت ان پر غالب آ گئی۔ انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے کہا: اللہ کی قسم! تم جھوٹے ہو ‘ تم اسے قتل نہیں کر سکتے، اور نہ تمہارے اندر اتنی طاقت ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلہ کا ہوتا تو تم اس کے قتل کا نام نہ لیتے۔ اس کے بعد اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے چچیرے بھائی تھے کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے کہا: اللہ کی قسم! تم جھوٹے ہو ‘ ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔ اب اس میں شبہ نہیں رہا کہ تم بھی منافق ہو ‘ تم منافقوں کی طرف سے مدافعت کرتے ہو۔ اتنے میں اوس و خزرج کے دونوں قبیلے بھڑک اٹھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپس ہی میں لڑ پڑیں گے۔ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہی تشریف فرما تھے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو خاموش کرانے لگے۔ سب حضرات چپ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اس روز پورا دن روتی رہی۔ نہ میرا آنسو تھمتا تھا اور نہ آنکھ لگتی تھی۔ بیان کیا کہ صبح کے وقت میرے والدین میرے پاس آئے۔ دو راتیں اور ایک دن میرا روتے ہوئے گزر گیا تھا۔ اس پورے عرصہ میں نہ میرا آنسو رکا اور نہ نیند آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ ابھی میرے والدین میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے اور میں روئے جا رہی تھی کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے انہیں اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں۔ بیان کیا کہ ہم ابھی اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ بیان کیا کہ جب سے مجھ پر تہمت لگائی گئی تھی ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ گزر گیا تھا اور میرے بارے میں آپ کو وحی کے ذریعہ کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ بیان کیا کہ بیٹھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا ”امابعد“ اے عائشہ! مجھے تمہارے بارے میں اس اس طرح کی خبریں ملی ہیں ‘ اگر تم واقعی اس معاملہ میں پاک و صاف ہو تو اللہ تمہاری پاکی خود بیان کر دے گا لیکن اگر تم نے کسی گناہ کا قصد کیا تھا تو اللہ کی مغفرت چاہو اور اس کے حضور میں توبہ کرو کیونکہ بندہ جب ( اپنے گناہوں کا ) اعتراف کر لیتا ہے اور پھر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کلام پورا کر چکے تو میرے آنسو اس طرح خشک ہو گئے کہ ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ میں نے پہلے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کلام کا جواب دیں۔ والد نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں کچھ نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے کیا کہنا چاہیے۔ پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ اس کا جواب دیں۔ والدہ نے بھی یہی کہا۔ اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے کیا کہنا چاہیے۔ اس لیے میں نے خود ہی عرض کیا۔ حالانکہ میں بہت کم عمر لڑکی تھی اور قرآن مجید بھی میں نے زیادہ نہیں پڑھا تھا کہ اللہ کی قسم! مجھے بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگوں نے اس طرح کی افوہوں پر کان دھرا اور بات آپ لوگوں کے دلوں میں اتر گئی اور آپ لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس تہمت سے بری ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اگر اور اس گناہ کا اقرار کر لوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس کی تصدیق کرنے لگ جائیں گے۔ پس اللہ کی قسم! میری اور لوگوں کی مثال یوسف علیہ السلام کے والد جیسی ہے۔ جب انہوں نے کہا تھا «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» ( یوسف: 18 ) ”پس صبر جمیل بہتر ہے اور اللہ ہی کی مدد درکار ہے اس بارے میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو“ پھر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ خوب جانتا تھا کہ میں اس معاملہ میں قطعاً بری تھی اور وہ خود میری برات ظاہر کرے گا۔ کیونکہ میں واقعی بری تھی لیکن اللہ کی قسم! مجھے اس کا کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ قرآن مجید میں میرے معاملے کی صفائی اتارے گا کیونکہ میں اپنے کو اس سے بہت کمتر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ میں خود کوئی کلام فرمائے ‘ مجھے تو صرف اتنی امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ میری برات کر دے گا لیکن اللہ کی قسم! ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس سے اٹھے بھی نہیں تھے اور نہ اور کوئی گھر کا آدمی وہاں سے اٹھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور آپ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو وحی کی شدت میں طاری ہوتی تھی۔ موتیوں کی طرح پسینے کے قطرے آپ کے چہرے سے گرنے لگے۔ حالانکہ سردی کا موسم تھا۔ یہ اس وحی کی وجہ سے تھا جو آپ پر نازل ہو رہی تھی۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آپ کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ تبسم فرما رہے تھے۔ سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اللہ نے تمہاری برات نازل کر دی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میری والدہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے کہا ‘ نہیں اللہ کی قسم! میں آپ کے سامنے نہیں کھڑی ہوں گی۔ میں اللہ عزوجل کے سوا اور کسی کی حمد و ثنا نہیں کروں گی ( کہ اسی نے میری برات نازل کی ہے ) بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا «إن الذين جاءوا بالإفك» ”جو لوگ تہمت تراشی میں شریک ہوئے ہیں“ دس آیتیں اس سلسلہ میں نازل فرمائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ النور میں ) یہ آیتیں میری برات کے لیے نازل فرمائیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ( جو مسطح بن اثاثہ کے اخراجات ‘ ان سے قرابت اور ان کی محتاجی کی وجہ سے خود اٹھاتے تھے ) نے کہا: اللہ کی قسم! مسطح نے جب عائشہ کے متعلق اس طرح کی تہمت تراشی میں حصہ لیا تو میں اس پر اب کبھی کچھ خرچ نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم» یعنی ”اہل فضل اور اہل ہمت قسم نہ کھائیں“ سے «غفور رحيم» تک ( کیونکہ مسطح رضی اللہ عنہ یا دوسرے مومنین کی اس میں شرکت محض غلط فہمی کی بنا پر تھی ) ۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کہنے پر معاف کر دے اور مسطح کو جو کچھ دیا کرتے تھے ‘ اسے پھر دینے لگے اور کہا کہ اللہ کی قسم! اب اس وظیفہ کو میں کبھی بند نہیں کروں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی مشورہ کیا تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ عائشہ کے متعلق کیا معلومات ہیں تمہیں یا ان میں تم نے کیا چیز دیکھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو محفوظ رکھتی ہوں ( کہ ان کی طرف خلاف واقعہ نسبت کروں ) اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ زینب ہی تمام ازواج مطہرات میں میرے مقابل کی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے تقویٰ اور پاکبازی کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا۔ بیان کیا کہ البتہ ان کی بہن حمنہ نے غلط راستہ اختیار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئی تھیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ یہی تھی وہ تفصیل اس حدیث کی جو ان اکابر کی طرف سے مجھ تک پہنچی تھی۔ پھر عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! جن صحابی کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی تھی وہ ( اپنے پر اس تہمت کو سن کر ) کہتے ‘ سبحان اللہ ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ میں نے آج تک کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اس واقعہ کے بعد وہ اللہ کے راستے میں شہید ہو گئے تھے۔
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم ( قریش ) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف ( یا زہری ) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا «مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا ( یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ جواب نہیں دیا اور پرانے نسخہ میں «مسلما» کا لفظ تھا ) ۔
حدثني عبد الله بن محمد، قال املى على هشام بن يوسف من حفظه اخبرنا معمر، عن الزهري، قال قال لي الوليد بن عبد الملك ابلغك ان عليا، كان فيمن قذف عايشة قلت لا. ولكن قد اخبرني رجلان من قومك ابو سلمة بن عبد الرحمن وابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث ان عايشة رضى الله عنها قالت لهما كان علي مسلما في شانها. فراجعوه فلم يرجع وقال مسلما بلا شك فيه وعليه كان في اصل العتيق كذلك
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ باتیں سنیں ہیں؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں۔ انہوں نے پوچھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ‘ انہوں نے بھی۔ یہ سنتے ہی وہ غش کھا کر گر پڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ میں نے ان پر ان کے کپڑے ڈال دیئے اور اچھی طرح ڈھک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جاڑے کے ساتھ بخار چڑھ گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً اس نے اس طوفان کی بات سن لی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیٹھ کر کہا کہ اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں کہ میں بےگناہ ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر کچھ کہوں تب بھی میرا عذر نہیں سنیں گے۔ میری اور آپ لوگوں کی یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی مثال ہے کہ انہوں نے کہا تھا «والله المستعان على ما تصفون» یعنی ”اللہ ان باتوں پر جو تم بناتے ہو مدد کرنے والا ہے۔“ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ تقریر سن کر لوٹ گئے ‘ کچھ جواب نہیں دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی تلافی نازل کی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگیں بس میں اللہ ہی کا شکر ادا کرتی ہوں نہ آپ کا نہ کسی اور کا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن حصين، عن ابي وايل، قال حدثني مسروق بن الاجدع، قال حدثتني ام رومان وهى ام عايشة رضى الله عنها قالت بينا انا قاعدة انا وعايشة اذ ولجت امراة من الانصار فقالت فعل الله بفلان وفعل. فقالت ام رومان وما ذاك قالت ابني فيمن حدث الحديث. قالت وما ذاك قالت كذا وكذا. قالت عايشة سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت نعم. قالت وابو بكر قالت نعم. فخرت مغشيا عليها، فما افاقت الا وعليها حمى بنافض، فطرحت عليها ثيابها فغطيتها. فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما شان هذه ". قلت يا رسول الله اخذتها الحمى بنافض. قال " فلعل في حديث تحدث به ". قالت نعم. فقعدت عايشة فقالت والله لين حلفت لا تصدقوني، ولين قلت لا تعذروني، مثلي ومثلكم كيعقوب وبنيه، والله المستعان على ما تصفون، قالت وانصرف ولم يقل شييا، فانزل الله عذرها قالت بحمد الله لا بحمد احد ولا بحمدك
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
حدثني يحيى، حدثنا وكيع، عن نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها كانت تقرا {اذ تلقونه بالسنتكم} وتقول الولق الكذب. قال ابن ابي مليكة وكانت اعلم من غيرها بذلك لانه نزل فيها
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں برا نہ کہو ‘ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین قریش کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے نسب کا کیا ہو گا؟ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو ان سے اس طرح الگ کر لوں گا جیسے بال گندھے ہوئے آٹے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ اور محمد بن عقبہ ( امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ) نے بیان کیا ‘ ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ہشام سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے میں بہت حصہ لیا تھا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، قال ذهبت اسب حسان عند عايشة فقالت لا تسبه، فانه كان ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقالت عايشة استاذن النبي صلى الله عليه وسلم في هجاء المشركين قال " كيف بنسبي ". قال لاسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين. وقال محمد حدثنا عثمان بن فرقد، سمعت هشاما، عن ابيه، قال سببت حسان، وكان ممن كثر عليها
مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں سلیمان نے ‘ انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے۔ ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی ‘ وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا ‘ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے «والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم» ”اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہو گا۔“ اس پر ام المؤمنین نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے سخت عذاب اور کیا ہو گا ( حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے۔
حدثني بشر بن خالد، اخبرنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال دخلنا على عايشة رضى الله عنها وعندها حسان بن ثابت ينشدها شعرا، يشبب بابيات له وقال: حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل فقالت له عايشة لكنك لست كذلك. قال مسروق فقلت لها لم تاذنين له ان يدخل عليك. وقد قال الله تعالى {والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم}. فقالت واى عذاب اشد من العمى. قالت له انه كان ينافح او يهاجي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ایک دن، رات کو بارش ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھانے کے بعد ہم سے خطاب کیا اور دریافت فرمایا کہ معلوم ہے تمہارے رب نے کیا کہا؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندوں نے اس حالت میں صبح کی کہ ان کا ایمان مجھ پر تھا اور کچھ نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ میرا انکار کئے ہوئے تھے۔ تو جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے رزق ‘ اللہ کی رحمت اور اللہ کے فضل سے ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ بارش فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، قال حدثني صالح بن كيسان، عن عبيد الله بن عبد الله، عن زيد بن خالد رضى الله عنه قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية، فاصابنا مطر ذات ليلة، فصلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح، ثم اقبل علينا فقال " اتدرون ماذا قال ربكم ". قلنا الله ورسوله اعلم. فقال " قال الله اصبح من عبادي مومن بي وكافر بي، فاما من قال مطرنا برحمة الله وبرزق الله وبفضل الله. فهو مومن بي، كافر بالكوكب. واما من قال مطرنا بنجم كذا. فهو مومن بالكوكب، كافر بي
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال حدثني عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن عايشة، رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين قال لها اهل الافك ما قالوا، وكلهم حدثني طايفة من حديثها، وبعضهم كان اوعى لحديثها من بعض واثبت له اقتصاصا، وقد وعيت عن كل رجل منهم الحديث الذي حدثني عن عايشة، وبعض حديثهم يصدق بعضا، وان كان بعضهم اوعى له من بعض، قالوا قالت عايشة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد سفرا اقرع بين ازواجه، فايهن خرج سهمها، خرج بها رسول الله صلى الله عليه وسلم معه، قالت عايشة فاقرع بيننا في غزوة غزاها فخرج فيها سهمي، فخرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ما انزل الحجاب، فكنت احمل في هودجي وانزل فيه، فسرنا حتى اذا فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من غزوته تلك وقفل، دنونا من المدينة قافلين، اذن ليلة بالرحيل، فقمت حين اذنوا بالرحيل فمشيت حتى جاوزت الجيش، فلما قضيت شاني اقبلت الى رحلي، فلمست صدري، فاذا عقد لي من جزع ظفار قد انقطع، فرجعت فالتمست عقدي، فحبسني ابتغاوه، قالت واقبل الرهط الذين كانوا يرحلوني فاحتملوا هودجي، فرحلوه على بعيري الذي كنت اركب عليه، وهم يحسبون اني فيه، وكان النساء اذ ذاك خفافا لم يهبلن ولم يغشهن اللحم، انما ياكلن العلقة من الطعام، فلم يستنكر القوم خفة الهودج حين رفعوه وحملوه، وكنت جارية حديثة السن، فبعثوا الجمل فساروا، ووجدت عقدي بعد ما استمر الجيش، فجيت منازلهم وليس بها منهم داع ولا مجيب، فتيممت منزلي الذي كنت به، وظننت انهم سيفقدوني فيرجعون الى، فبينا انا جالسة في منزلي غلبتني عيني فنمت، وكان صفوان بن المعطل السلمي ثم الذكواني من وراء الجيش، فاصبح عند منزلي فراى سواد انسان نايم، فعرفني حين راني، وكان راني قبل الحجاب، فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني، فخمرت وجهي بجلبابي، والله ما تكلمنا بكلمة ولا سمعت منه كلمة غير استرجاعه، وهوى حتى اناخ راحلته، فوطي على يدها، فقمت اليها فركبتها، فانطلق يقود بي الراحلة حتى اتينا الجيش موغرين في نحر الظهيرة، وهم نزول قالت فهلك {في} من هلك، وكان الذي تولى كبر الافك عبد الله بن ابى ابن سلول. قال عروة اخبرت انه كان يشاع ويتحدث به عنده، فيقره ويستمعه ويستوشيه. وقال عروة ايضا لم يسم من اهل الافك ايضا الا حسان بن ثابت، ومسطح بن اثاثة، وحمنة بنت جحش في ناس اخرين، لا علم لي بهم، غير انهم عصبة كما قال الله تعالى وان كبر ذلك يقال عبد الله بن ابى ابن سلول. قال عروة كانت عايشة تكره ان يسب عندها حسان، وتقول انه الذي قال: فان ابي ووالده وعرضي لعرض محمد منكم وقاء قالت عايشة فقدمنا المدينة فاشتكيت حين قدمت شهرا، والناس يفيضون في قول اصحاب الافك، لا اشعر بشىء من ذلك، وهو يريبني في وجعي اني لا اعرف من رسول الله صلى الله عليه وسلم اللطف الذي كنت ارى منه حين اشتكي، انما يدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فيسلم ثم يقول " كيف تيكم " ثم ينصرف، فذلك يريبني ولا اشعر بالشر، حتى خرجت حين نقهت، فخرجت مع ام مسطح قبل المناصع، وكان متبرزنا، وكنا لا نخرج الا ليلا الى ليل، وذلك قبل ان نتخذ الكنف قريبا من بيوتنا. قالت وامرنا امر العرب الاول في البرية قبل الغايط، وكنا نتاذى بالكنف ان نتخذها عند بيوتنا، قالت فانطلقت انا وام مسطح وهى ابنة ابي رهم بن المطلب بن عبد مناف، وامها بنت صخر بن عامر خالة ابي بكر الصديق، وابنها مسطح بن اثاثة بن عباد بن المطلب، فاقبلت انا وام مسطح قبل بيتي، حين فرغنا من شاننا، فعثرت ام مسطح في مرطها فقالت تعس مسطح. فقلت لها بيس ما قلت، اتسبين رجلا شهد بدرا فقالت اى هنتاه ولم تسمعي ما قال قالت وقلت ما قال فاخبرتني بقول اهل الافك قالت فازددت مرضا على مرضي، فلما رجعت الى بيتي دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم ثم قال " كيف تيكم ". فقلت له اتاذن لي ان اتي ابوى قالت واريد ان استيقن الخبر من قبلهما، قالت فاذن لي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت لامي يا امتاه ماذا يتحدث الناس قالت يا بنية هوني عليك، فوالله لقلما كانت امراة قط وضيية عند رجل يحبها لها ضراير الا كثرن عليها. قالت فقلت سبحان الله اولقد تحدث الناس بهذا قالت فبكيت تلك الليلة، حتى اصبحت لا يرقا لي دمع، ولا اكتحل بنوم، ثم اصبحت ابكي قالت ودعا رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن ابي طالب واسامة بن زيد حين استلبث الوحى يسالهما ويستشيرهما في فراق اهله قالت فاما اسامة فاشار على رسول الله صلى الله عليه وسلم بالذي يعلم من براءة اهله، وبالذي يعلم لهم في نفسه، فقال اسامة اهلك ولا نعلم الا خيرا. واما علي فقال يا رسول الله لم يضيق الله عليك، والنساء سواها كثير، وسل الجارية تصدقك. قالت فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بريرة فقال " اى بريرة هل رايت من شىء يريبك ". قالت له بريرة والذي بعثك بالحق ما رايت عليها امرا قط اغمصه، غير انها جارية حديثة السن تنام عن عجين اهلها، فتاتي الداجن فتاكله قالت فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من يومه، فاستعذر من عبد الله بن ابى وهو على المنبر فقال " يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل قد بلغني عنه اذاه في اهلي، والله ما علمت على اهلي الا خيرا، ولقد ذكروا رجلا ما علمت عليه الا خيرا، وما يدخل على اهلي الا معي ". قالت فقام سعد بن معاذ اخو بني عبد الاشهل فقال انا يا رسول الله اعذرك، فان كان من الاوس ضربت عنقه، وان كان من اخواننا من الخزرج امرتنا ففعلنا امرك. قالت فقام رجل من الخزرج، وكانت ام حسان بنت عمه من فخذه، وهو سعد بن عبادة، وهو سيد الخزرج قالت وكان قبل ذلك رجلا صالحا، ولكن احتملته الحمية فقال لسعد كذبت لعمر الله لا تقتله، ولا تقدر على قتله، ولو كان من رهطك ما احببت ان يقتل. فقام اسيد بن حضير وهو ابن عم سعد فقال لسعد بن عبادة كذبت لعمر الله لنقتلنه، فانك منافق تجادل عن المنافقين. قالت فثار الحيان الاوس والخزرج حتى هموا ان يقتتلوا، ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم على المنبر قالت فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يخفضهم حتى سكتوا وسكت قالت فبكيت يومي ذلك كله، لا يرقا لي دمع، ولا اكتحل بنوم قالت واصبح ابواى عندي، وقد بكيت ليلتين ويوما، لا يرقا لي دمع، ولا اكتحل بنوم، حتى اني لاظن ان البكاء فالق كبدي، فبينا ابواى جالسان عندي وانا ابكي فاستاذنت على امراة من الانصار، فاذنت لها، فجلست تبكي معي قالت فبينا نحن على ذلك دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم علينا، فسلم ثم جلس قالت ولم يجلس عندي منذ قيل ما قيل قبلها، وقد لبث شهرا لا يوحى اليه في شاني بشىء قالت فتشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم حين جلس ثم قال " اما بعد، يا عايشة انه بلغني عنك كذا وكذا، فان كنت بريية، فسيبريك الله، وان كنت الممت بذنب، فاستغفري الله وتوبي اليه، فان العبد اذا اعترف ثم تاب تاب الله عليه ". قالت فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم مقالته قلص دمعي حتى ما احس منه قطرة، فقلت لابي اجب رسول الله صلى الله عليه وسلم عني فيما قال. فقال ابي والله ما ادري ما اقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم. فقلت لامي اجيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما قال. قالت امي والله ما ادري ما اقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم. فقلت وانا جارية حديثة السن لا اقرا من القران كثيرا اني والله لقد علمت لقد سمعتم هذا الحديث حتى استقر في انفسكم وصدقتم به، فلين قلت لكم اني بريية لا تصدقوني، ولين اعترفت لكم بامر، والله يعلم اني منه بريية لتصدقني، فوالله لا اجد لي ولكم مثلا الا ابا يوسف حين قال {فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون} ثم تحولت واضطجعت على فراشي، والله يعلم اني حينيذ بريية، وان الله مبريي ببراءتي ولكن والله ما كنت اظن ان الله منزل في شاني وحيا يتلى، لشاني في نفسي كان احقر من ان يتكلم الله في بامر، ولكن كنت ارجو ان يرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في النوم رويا يبريني الله بها، فوالله ما رام رسول الله صلى الله عليه وسلم مجلسه، ولا خرج احد من اهل البيت، حتى انزل عليه، فاخذه ما كان ياخذه من البرحاء، حتى انه ليتحدر منه من العرق مثل الجمان وهو في يوم شات، من ثقل القول الذي انزل عليه قالت فسري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يضحك، فكانت اول كلمة تكلم بها ان قال " يا عايشة اما الله فقد براك ". قالت فقالت لي امي قومي اليه. فقلت والله لا اقوم اليه، فاني لا احمد الا الله عز وجل قالت وانزل الله تعالى {ان الذين جاءوا بالافك} العشر الايات، ثم انزل الله هذا في براءتي. قال ابو بكر الصديق وكان ينفق على مسطح بن اثاثة لقرابته منه وفقره والله لا انفق على مسطح شييا ابدا بعد الذي قال لعايشة ما قال. فانزل الله { ولا ياتل اولو الفضل منكم} الى قوله {غفور رحيم} قال ابو بكر الصديق بلى والله اني لاحب ان يغفر الله لي فرجع الى مسطح النفقة التي كان ينفق عليه وقال والله لا انزعها منه ابدا قالت عايشة وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم سال زينب بنت جحش عن امري فقال لزينب ماذا علمت او رايت فقالت يا رسول الله احمي سمعي وبصري والله ما علمت الا خيرا قالت عايشة وهي التي كانت تساميني من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فعصمها الله بالورع قالت وطفقت اختها حمنة تحارب لها فهلكت فيمن هلك قال ابن شهاب فهذا الذي بلغني من حديث هولاء الرهط ثم قال عروة قالت عايشة والله ان الرجل الذي قيل له ما قيل ليقول سبحان الله فوالذي نفسي بيده ما كشفت من كنف انثى قط قالت ثم قتل بعد ذلك في سبيل الله