Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں معمر بن راشد نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔ یقیناً ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کرنے والوں کے لیے ) جنت میں تیار کر رکھی ہیں۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ‘ آفت میں نہیں پڑے۔ محمود نے عبدالرزاق سے ( «نسواتها.» کے بجائے لفظ ) «ونوساتها.» بیان کیا ( جس کے معنی چوٹی کے ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں ) ۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال واخبرني ابن طاوس، عن عكرمة بن خالد، عن ابن عمر، قال دخلت على حفصة ونسواتها تنطف، قلت قد كان من امر الناس ما ترين، فلم يجعل لي من الامر شىء. فقالت الحق فانهم ينتظرونك، واخشى ان يكون في احتباسك عنهم فرقة. فلم تدعه حتى ذهب، فلما تفرق الناس خطب معاوية قال من كان يريد ان يتكلم في هذا الامر فليطلع لنا قرنه، فلنحن احق به منه ومن ابيه. قال حبيب بن مسلمة فهلا اجبته قال عبد الله فحللت حبوتي وهممت ان اقول احق بهذا الامر منك من قاتلك واباك على الاسلام. فخشيت ان اقول كلمة تفرق بين الجمع، وتسفك الدم، ويحمل عني غير ذلك، فذكرت ما اعد الله في الجنان. قال حبيب حفظت وعصمت. قال محمود عن عبد الرزاق ونوساتها
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق سبیعی نے ‘ ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر ( جب کفار کا لشکر ناکام واپس ہو گیا ) فرمایا کہ اب ہم ان سے لڑیں گے۔ آئندہ وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہ آ سکیں گے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن سليمان بن صرد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم الاحزاب " نغزوهم ولا يغزوننا
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابواسحاق سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ جب عرب کے قبائل ( جو غزوہ خندق کے موقع پر مدینہ چڑھ کر آئے تھے ) ناکام واپس ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ہم ان سے جنگ کریں گے ‘ وہ ہم پر چڑھ کر نہ آ سکیں گے بلکہ ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا اسراييل، سمعت ابا اسحاق، يقول سمعت سليمان بن صرد، يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول حين اجلى الاحزاب عنه " الان نغزوهم ولا يغزوننا، نحن نسير اليهم
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے ‘ ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کہ جس طرح ان کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ ( نماز عصر ) نہیں پڑھنے دی اور سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ بھی ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔
حدثنا اسحاق، حدثنا روح، حدثنا هشام، عن محمد، عن عبيدة، عن علي رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال يوم الخندق " ملا الله عليهم بيوتهم وقبورهم نارا كما شغلونا عن صلاة الوسطى حتى غابت الشمس
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد ( لڑ کر ) واپس ہوئے۔ وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سورج غروب ہونے کو ہے اور میں عصر کی نماز اب تک نہیں پڑھ سکا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! نماز تو میں بھی نہ پڑھ سکا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کیا۔ ہم نے بھی وضو کیا ‘ پھر عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه جاء يوم الخندق بعد ما غربت الشمس جعل يسب كفار قريش قال يا رسول الله ما كدت ان اصلي حتى كادت الشمس ان تغرب. قال النبي صلى الله عليه وسلم " والله ما صليتها " فنزلنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بطحان، فتوضا للصلاة وتوضانا لها، فصلى العصر بعد ما غربت الشمس، ثم صلى بعدها المغرب
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابن المنكدر، قال سمعت جابرا، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاحزاب " من ياتينا بخبر القوم ". فقال الزبير انا. ثم قال " من ياتينا بخبر القوم ". فقال الزبير انا. ثم قال " من ياتينا بخبر القوم ". فقال الزبير انا. ثم قال " ان لكل نبي حواريا، وان حواري الزبير
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اپنے بندے کی مدد کی ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) اور احزاب ( یعنی افواج کفار ) کو تنہا بھگا دیا پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہو سکتی۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " لا اله الا الله وحده، اعز جنده، ونصر عبده وغلب الاحزاب وحده، فلا شىء بعده
ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو فزاری اور عبدہ نے خبر دی ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب ( افواج کفار ) کے لیے ( غزوہ خندق کے موقع پر ) بددعا کی ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! جلدی حساب لینے والے! کفار کے لشکر کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے۔ یا اللہ! ان کی طاقت کو متزلزل کر دے۔“
حدثنا محمد، اخبرنا الفزاري، وعبدة، عن اسماعيل بن ابي خالد، قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما يقول دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاحزاب فقال " اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، اهزم الاحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر اور نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوے، حج یا عمرے سے واپس آتے تو سب سے پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر یوں فرماتے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ( یا اللہ! ) ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی فوجوں کو اس نے اکیلے شکست دے دی۔“
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا موسى بن عقبة، عن سالم، ونافع، عن عبد الله رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قفل من الغزو، او الحج، او العمرة، يبدا فيكبر ثلاث مرار ثم يقول " لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، ايبون تايبون عابدون ساجدون، لربنا حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الاحزاب وحده
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جوں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ابھی ہتھیار اتار دیئے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے۔ چلئے ان پر حملہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ ان پر اور انہوں نے ( یہود کے قبیلہ ) بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ پر چڑھائی کی۔
حدثني عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت لما رجع النبي صلى الله عليه وسلم من الخندق ووضع السلاح واغتسل، اتاه جبريل عليه السلام فقال قد وضعت السلاح والله ما وضعناه، فاخرج اليهم. قال " فالى اين ". قال ها هنا، واشار الى بني قريظة، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم اليهم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے اب بھی وہ گردوغبار میں دیکھ رہا ہوں جو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سوار فرشتوں کی وجہ سے قبیلہ بنو غنم کی گلی میں اٹھا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے خلاف چڑھ کر گئے تھے۔
حدثنا موسى، حدثنا جرير بن حازم، عن حميد بن هلال، عن انس رضى الله عنه قال كاني انظر الى الغبار ساطعا في زقاق بني غنم موكب جبريل حين سار رسول الله صلى الله عليه وسلم الى بني قريظة
ہم سے محمد بن عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمان عصر کی نماز بنو قریظہ تک پہنچنے کے بعد ہی ادا کریں۔ بعض حضرات کی عصر کی نماز کا وقت راستے ہی میں ہو گیا۔ ان میں سے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تو کہا کہ ہم راستے میں نماز نہیں پڑھیں گے۔ ( کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ میں نماز عصر پڑھنے کے لیے فرمایا ہے ) اور بعض صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا منشا یہ نہیں تھا۔ ( بلکہ جلدی جانا مقصد تھا ) بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے کسی پر خفگی نہیں فرمائی۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية بن اسماء، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم الاحزاب " لا يصلين احد العصر الا في بني قريظة ". فادرك بعضهم العصر في الطريق، فقال بعضهم لا نصلي حتى ناتيها. وقال بعضهم بل نصلي، لم يرد منا ذلك، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فلم يعنف واحدا منهم
ہم سے عبداللہ ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بطور ہدیہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے باغ میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چند کھجور کے درخت مقرر کر دیئے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہو گئے ( تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایا کو واپس کر دیا ) میرے گھر والوں نے بھی مجھے اس کھجور کو، تمام کی تمام یا اس کا کچھ حصہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی۔ اتنے میں وہ بھی آ گئیں اور کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہنے لگیں ‘ قطعاً نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ پھل تمہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرما چکے ہیں۔ یا اسی طرح کے الفاظ انہوں نے بیان کئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے بدلے میں اتنے لے لو۔ ( اور ان کا مال انہیں واپس کر دو ) لیکن وہ اب بھی یہی کہے جا رہی تھیں کہ قطعاً نہیں، خدا کی قسم! یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کا دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ( پھر انہوں نے مجھے چھوڑا ) یا اسی طرح کے الفاظ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کئے۔
حدثنا ابن ابي الاسود، حدثنا معتمر، وحدثني خليفة، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي، عن انس رضى الله عنه قال كان الرجل يجعل للنبي صلى الله عليه وسلم النخلات حتى افتتح قريظة والنضير، وان اهلي امروني ان اتي النبي صلى الله عليه وسلم فاساله الذين كانوا اعطوه او بعضه. وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد اعطاه ام ايمن، فجاءت ام ايمن فجعلت الثوب في عنقي تقول كلا والذي لا اله الا هو لا يعطيكهم وقد اعطانيها، او كما قالت، والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " لك كذا ". وتقول كلا والله. حتى اعطاها، حسبت انه قال " عشرة امثاله ". او كما قال
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے ابوامامہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بنو قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ ( یعنی اللہ ) کا حکم تھا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن سعد، قال سمعت ابا امامة، قال سمعت ابا سعيد الخدري رضى الله عنه يقول نزل اهل قريظة على حكم سعد بن معاذ، فارسل النبي صلى الله عليه وسلم الى سعد، فاتى على حمار، فلما دنا من المسجد قال للانصار " قوموا الى سيدكم او خيركم ". فقال " هولاء نزلوا على حكمك ". فقال تقتل مقاتلتهم وتسبي ذراريهم. قال " قضيت بحكم الله ". وربما قال " بحكم الملك
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص ‘ حسان بن عرفہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپ غزوہ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے۔ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے۔ اللہ کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ تک پہنچے ( اور انہوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد ) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیئے جائیں ‘ ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔ ہشام نے بیان کیا کہ پھر مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں ان کے وطن سے نکالا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی اب ختم کر دی ہے۔ لیکن اگر قریش سے ہماری لڑائی کا کوئی بھی سلسلہ ابھی باقی ہو تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھنا۔ یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں اور اگر لڑائی کے سلسلے کو تو نے ختم ہی کر دیا ہے تو میرے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ اس دعا کے بعد سینے پر ان کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کے کچھ صحابہ کا بھی ایک خیمہ تھا۔ خون ان کی طرف بہہ کر آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا: اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف بہہ کر آ رہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ‘ ان کی وفات اسی میں ہوئی۔
حدثنا زكرياء بن يحيى، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت اصيب سعد يوم الخندق، رماه رجل من قريش يقال له حبان ابن العرقة، رماه في الاكحل، فضرب النبي صلى الله عليه وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب، فلما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من الخندق وضع السلاح واغتسل، فاتاه جبريل عليه السلام وهو ينفض راسه من الغبار فقال قد وضعت السلاح والله ما وضعته، اخرج اليهم. قال النبي صلى الله عليه وسلم " فاين ". فاشار الى بني قريظة، فاتاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزلوا على حكمه، فرد الحكم الى سعد، قال فاني احكم فيهم ان تقتل المقاتلة، وان تسبى النساء والذرية، وان تقسم اموالهم. قال هشام فاخبرني ابي عن عايشة ان سعدا قال اللهم انك تعلم انه ليس احد احب الى ان اجاهدهم فيك من قوم كذبوا رسولك صلى الله عليه وسلم واخرجوه، اللهم فاني اظن انك قد وضعت الحرب بيننا وبينهم، فان كان بقي من حرب قريش شىء، فابقني له حتى اجاهدهم فيك، وان كنت وضعت الحرب فافجرها، واجعل موتتي فيها. فانفجرت من لبته، فلم يرعهم وفي المسجد خيمة من بني غفار الا الدم يسيل اليهم فقالوا يا اهل الخيمة ما هذا الذي ياتينا من قبلكم فاذا سعد يغذو جرحه دما، فمات منها رضى الله عنه
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو کر یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بجائے ) «هاجهم» فرمایا جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حدثنا الحجاج بن منهال، اخبرنا شعبة، قال اخبرني عدي، انه سمع البراء رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لحسان " اهجهم او هاجهم وجبريل معك
اور ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے یہ زیادہ کیا ہے ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل تمہاری مدد پر ہیں۔
وزاد ابراهيم بن طهمان عن الشيباني، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قريظة لحسان بن ثابت " اهج المشركين، فان جبريل معك
اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ‘ انہیں عمران قطان نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی تھی۔
وقال عبد الله بن رجاء اخبرنا عمران القطان، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى باصحابه في الخوف في غزوة السابعة غزوة ذات الرقاع. قال ابن عباس صلى النبي صلى الله عليه وسلم الخوف بذي قرد
اور بکر بن سوادہ نے بیان کیا ‘ ان سے زیاد بن نافع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوموسیٰ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ محارب اور بنی ثعلبہ میں اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی تھی۔
وقال بكر بن سوادة حدثني زياد بن نافع، عن ابي موسى، ان جابرا، حدثهم صلى النبي، صلى الله عليه وسلم بهم يوم محارب وثعلبة
اور ابن اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ‘ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی اور چونکہ مسلمانوں پر کفار کے ( اچانک حملے کا ) خطرہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اور یزید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذوالقرد میں شریک تھا۔
وقال ابن اسحاق سمعت وهب بن كيسان، سمعت جابرا، خرج النبي صلى الله عليه وسلم الى ذات الرقاع من نخل فلقي جمعا من غطفان، فلم يكن قتال، واخاف الناس بعضهم بعضا فصلى النبي صلى الله عليه وسلم ركعتى الخوف. وقال يزيد عن سلمة غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم القرد