Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
ہم سے یحییٰ بن یعلیٰ محاربی نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ وہ اصحاب شجرہ میں سے تھے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوئے تو دیواروں کا سایہ ابھی اتنا نہیں ہوا تھا کہ ہم اس میں آرام کر سکیں۔
حدثنا يحيى بن يعلى المحاربي، قال حدثني ابي، حدثنا اياس بن سلمة بن الاكوع، قال حدثني ابي وكان، من اصحاب الشجرة قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الجمعة ثم ننصرف، وليس للحيطان ظل نستظل فيه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم، عن يزيد بن ابي عبيد، قال قلت لسلمة بن الاكوع على اى شىء بايعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية. قال على الموت
مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر ( درخت ) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔
حدثني احمد بن اشكاب، حدثنا محمد بن فضيل، عن العلاء بن المسيب، عن ابيه، قال لقيت البراء بن عازب رضى الله عنهما فقلت طوبى لك صحبت النبي صلى الله عليه وسلم وبايعته تحت الشجرة. فقال يا ابن اخي انك لا تدري ما احدثنا بعده
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔
حدثنا اسحاق، حدثنا يحيى بن صالح، قال حدثنا معاوية هو ابن سلام عن يحيى، عن ابي قلابة، ان ثابت بن الضحاك، اخبره انه، بايع النبي صلى الله عليه وسلم تحت الشجرة
مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ( آیت ) «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔“ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے ( کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہو چکی ہیں ) لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات» ”اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔“ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ «إنا فتحنا لك» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔“ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد «هنيئا مريئا» ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے ) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔
حدثني احمد بن اسحاق، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه {انا فتحنا لك فتحا مبينا} قال الحديبية. قال اصحابه هنييا مرييا فما لنا فانزل الله {ليدخل المومنين والمومنات جنات} قال شعبة فقدمت الكوفة فحدثت بهذا كله عن قتادة ثم رجعت فذكرت له فقال اما {انا فتحنا لك} فعن انس، واما هنييا مرييا فعن عكرمة
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے مجزاۃ بن زاہر اسلمی نے اور ان سے ان کے والد زاہر بن اسود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں ہانڈی میں گدھے کا گوشت ابال رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گدھے کے گوشت کے کھانے سے منع فرماتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا اسراييل، عن مجزاة بن زاهر الاسلمي، عن ابيه وكان ممن شهد الشجرة قال اني لاوقد تحت القدر بلحوم الحمر اذ نادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهاكم عن لحوم الحمر
اور مجزاۃ نے اپنے ہی قبیلہ کے ایک صحابی کے متعلق جو بیعت رضوان میں شریک تھے اور جن کا نام اہبان بن اوس رضی اللہ عنہ تھا ‘ نقل کیا کہ ان کے ایک گھٹنے میں تکلیف تھی ‘ اس لیے جب وہ سجدہ کرتے تو اس گھٹنے کے نیچے کوئی نرم تکیہ رکھ لیتے تھے۔
وعن مجزاة، عن رجل، منهم من اصحاب الشجرة اسمه اهبان بن اوس وكان اشتكى ركبته، وكان اذا سجد جعل تحت ركبته وسادة
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سويد بن النعمان وكان من اصحاب الشجرة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه اتوا بسويق فلاكوه. تابعه معاذ عن شعبة
ہم سے محمد بن حاتم بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شاذان (اسود بن عامر) نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا کہ انہوں نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور بیعت رضوان میں شریک تھے کہ کیا وتر کی نماز ( ایک رکعت اور پڑھ کر ) توڑی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر شروع رات میں تو نے وتر پڑھ لیا ہو تو آخر رات میں نہ پڑھو۔
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا شاذان، عن شعبة، عن ابي جمرة، قال سالت عايذ بن عمرو رضى الله عنه وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم من اصحاب الشجرة هل ينقض الوتر قال اذا اوترت من اوله، فلا توتر من اخره
مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور انہیں ان کے والد اسلم نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر یعنی ( سفر حدیبیہ ) میں تھے، رات کا وقت تھا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کچھ پوچھا لیکن ( اس وقت آپ وحی میں مشغول تھے ‘ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر نہ تھی ) آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے دل میں ) کہا: عمر! تیری ماں تجھ پر روئے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم نے تین مرتبہ سوال کیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور مسلمانوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہ نازل ہو جائے۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ میں نے سنا ‘ ایک شخص مجھے آواز دے رہا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سوچا کہ میں تو پہلے ہی ڈر رہا تھا کہ میرے بارے میں کہیں کوئی وحی نازل نہ ہو جائے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور وہ مجھے اس تمام کائنات سے زیادہ عزیز ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ”بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے۔“ کی تلاوت فرمائی۔
حدثني عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسير في بعض اسفاره، وعمر بن الخطاب يسير معه ليلا، فساله عمر بن الخطاب عن شىء فلم يجبه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ساله فلم يجبه، ثم ساله فلم يجبه وقال عمر بن الخطاب ثكلتك امك يا عمر، نزرت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرات، كل ذلك لا يجيبك. قال عمر فحركت بعيري ثم تقدمت امام المسلمين، وخشيت ان ينزل في قران، فما نشبت ان سمعت صارخا يصرخ بي قال فقلت لقد خشيت ان يكون نزل في قران. وجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فقال " لقد انزلت على الليلة سورة لهي احب الى مما طلعت عليه الشمس، ثم قرا {انا فتحنا لك فتحا مبينا}
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، حين حدث هذا الحديث،، حفظت بعضه، وثبتني معمر عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، ومروان بن الحكم، يزيد احدهما على صاحبه قالا خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه، فلما اتى ذا الحليفة قلد الهدى، واشعره، واحرم منها بعمرة، وبعث عينا له من خزاعة، وسار النبي صلى الله عليه وسلم حتى كان بغدير الاشطاط، اتاه عينه قال ان قريشا جمعوا لك جموعا، وقد جمعوا لك الاحابيش، وهم مقاتلوك وصادوك عن البيت ومانعوك. فقال " اشيروا ايها الناس على، اترون ان اميل الى عيالهم وذراري هولاء الذين يريدون ان يصدونا عن البيت، فان ياتونا كان الله عز وجل قد قطع عينا من المشركين، والا تركناهم محروبين ". قال ابو بكر يا رسول الله، خرجت عامدا لهذا البيت، لا تريد قتل احد ولا حرب احد، فتوجه له، فمن صدنا عنه قاتلناه. قال " امضوا على اسم الله
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، حين حدث هذا الحديث،، حفظت بعضه، وثبتني معمر عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، ومروان بن الحكم، يزيد احدهما على صاحبه قالا خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه، فلما اتى ذا الحليفة قلد الهدى، واشعره، واحرم منها بعمرة، وبعث عينا له من خزاعة، وسار النبي صلى الله عليه وسلم حتى كان بغدير الاشطاط، اتاه عينه قال ان قريشا جمعوا لك جموعا، وقد جمعوا لك الاحابيش، وهم مقاتلوك وصادوك عن البيت ومانعوك. فقال " اشيروا ايها الناس على، اترون ان اميل الى عيالهم وذراري هولاء الذين يريدون ان يصدونا عن البيت، فان ياتونا كان الله عز وجل قد قطع عينا من المشركين، والا تركناهم محروبين ". قال ابو بكر يا رسول الله، خرجت عامدا لهذا البيت، لا تريد قتل احد ولا حرب احد، فتوجه له، فمن صدنا عنه قاتلناه. قال " امضوا على اسم الله
حدثني اسحاق، اخبرنا يعقوب، حدثني ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، اخبرني عروة بن الزبير، انه سمع مروان بن الحكم، والمسور بن مخرمة، يخبران خبرا من خبر رسول الله صلى الله عليه وسلم في عمرة الحديبية فكان فيما اخبرني عروة عنهما انه لما كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم سهيل بن عمرو، يوم الحديبية على قضية المدة، وكان فيما اشترط سهيل بن عمرو انه قال لا ياتيك منا احد وان كان على دينك الا رددته الينا، وخليت بيننا وبينه. وابى سهيل ان يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم الا على ذلك، فكره المومنون ذلك وامعضوا، فتكلموا فيه، فلما ابى سهيل ان يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم الا على ذلك، كاتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا جندل بن سهيل يوميذ الى ابيه سهيل بن عمرو، ولم يات رسول الله صلى الله عليه وسلم احد من الرجال الا رده في تلك المدة، وان كان مسلما، وجاءت المومنات مهاجرات، فكانت ام كلثوم بنت عقبة بن معيط ممن خرج الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهى عاتق، فجاء اهلها يسالون رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يرجعها اليهم، حتى انزل الله تعالى في المومنات ما انزل
حدثني اسحاق، اخبرنا يعقوب، حدثني ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، اخبرني عروة بن الزبير، انه سمع مروان بن الحكم، والمسور بن مخرمة، يخبران خبرا من خبر رسول الله صلى الله عليه وسلم في عمرة الحديبية فكان فيما اخبرني عروة عنهما انه لما كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم سهيل بن عمرو، يوم الحديبية على قضية المدة، وكان فيما اشترط سهيل بن عمرو انه قال لا ياتيك منا احد وان كان على دينك الا رددته الينا، وخليت بيننا وبينه. وابى سهيل ان يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم الا على ذلك، فكره المومنون ذلك وامعضوا، فتكلموا فيه، فلما ابى سهيل ان يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم الا على ذلك، كاتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا جندل بن سهيل يوميذ الى ابيه سهيل بن عمرو، ولم يات رسول الله صلى الله عليه وسلم احد من الرجال الا رده في تلك المدة، وان كان مسلما، وجاءت المومنات مهاجرات، فكانت ام كلثوم بنت عقبة بن معيط ممن خرج الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهى عاتق، فجاء اهلها يسالون رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يرجعها اليهم، حتى انزل الله تعالى في المومنات ما انزل
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آیت «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات» کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کو پہلے آزماتے تھے اور ان کے چچا سے روایت ہے کہ ہمیں وہ حدیث بھی معلوم ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے چلی آتی ہیں ان کے شوہروں کو وہ سب کچھ واپس کر دیا جائے جو اپنی ان بیویوں کو وہ دے چکے ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابوبصیر ‘ پھر انہوں نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کی۔
قال ابن شهاب واخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمتحن من هاجر من المومنات بهذه الاية {يا ايها النبي اذا جاءك المومنات}. وعن عمه قال بلغنا حين امر الله رسوله صلى الله عليه وسلم ان يرد الى المشركين ما انفقوا على من هاجر من ازواجهم، وبلغنا ان ابا بصير. فذكره بطوله
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کے ارادہ سے نکلے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر بیت اللہ جانے سے مجھے روک دیا گیا تو میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ آپ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صلح حدیبیہ کے موقع پر صرف عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما خرج معتمرا في الفتنة فقال ان صددت عن البيت، صنعنا كما صنعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. فاهل بعمرة من اجل ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اهل بعمرة عام الحديبية
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے ‘ ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احرام باندھا اور کہا کہ اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روکا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ جب آپ کو کفار قریش نے بیت اللہ جانے سے روکا تو اس آیت کی تلاوت کی کہ «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ”یقیناً تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، انه اهل وقال ان حيل بيني وبينه لفعلت كما فعل النبي صلى الله عليه وسلم حين حالت كفار قريش بينه. وتلا {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے ‘ ان کو عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی لڑکے نے ان سے کہا ‘ اگر اس سال آپ ( عمرہ کرنے ) نہ جاتے تو بہتر تھا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے تو کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور وہیں ( حدیبیہ میں ) ذبح کر دیئے اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بال چھوٹے کروا لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر ایک عمرہ واجب کر لیا ہے ( اور اسی طرح تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی وہ واجب ہو گیا ) اگر آج مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کر لوں گا اور اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر تھوڑی دور چلے اور کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج کو بھی ضروری قرار دے لیا ہے اور کہا میری نظر میں تو حج اور عمرہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں ‘ پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور ایک سعی کی ( جس دن مکہ پہنچے ) اور دونوں ہی کو پورا کیا۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية، عن نافع، ان عبيد الله بن عبد الله، وسالم بن عبد الله، اخبراه انهما، كلما عبد الله بن عمر. وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، ان بعض بني عبد الله، قال له لو اقمت العام، فاني اخاف ان لا تصل الى البيت. قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فحال كفار قريش دون البيت، فنحر النبي صلى الله عليه وسلم هداياه، وحلق وقصر اصحابه، وقال " اشهدكم اني اوجبت عمرة ". فان خلي بيني وبين البيت طفت، وان حيل بيني وبين البيت صنعت كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسار ساعة ثم قال ما ارى شانهما الا واحدا، اشهدكم اني قد اوجبت حجة مع عمرتي. فطاف طوافا واحدا وسعيا واحدا، حتى حل منهما جميعا
مجھ سے شجاع بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے نضر بن محمد سے سنا ‘ کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عبداللہ، عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنا ایک گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا ‘ جو ایک انصاری صحابی کے پاس تھا تاکہ اسی پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوں۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لے رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ابھی اس کی اطلاع نہیں ہوئی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے بیعت کی پھر گھوڑا لینے گئے۔ جس وقت وہ اسے لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ جنگ کے لیے اپنی زرہ پہن رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ اپنے لڑکے کو ساتھ لے گئے اور بیعت کی۔ اتنی سی بات تھی جس پر لوگ اب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسلام لائے تھے۔
حدثني شجاع بن الوليد، سمع النضر بن محمد، حدثنا صخر، عن نافع، قال ان الناس يتحدثون ان ابن عمر، اسلم قبل عمر، وليس كذلك، ولكن عمر يوم الحديبية ارسل عبد الله الى فرس له عند رجل من الانصار ياتي به ليقاتل عليه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يبايع عند الشجرة، وعمر لا يدري بذلك، فبايعه عبد الله، ثم ذهب الى الفرس، فجاء به الى عمر، وعمر يستليم للقتال، فاخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبايع تحت الشجرة قال فانطلق فذهب معه حتى بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهي التي يتحدث الناس ان ابن عمر اسلم قبل عمر
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا ‘ ان سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ ان سے عمر بن عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ مختلف درختوں کے سائے میں پھیل گئے تھے۔ پھر اچانک بہت سے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف جمع ہو گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹا عبداللہ! دیکھو تو سہی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کیوں ہو گئے ہیں؟ انہوں نے دیکھا تو صحابہ بیعت کر رہے تھے۔ چنانچہ پہلے انہوں نے خود بیعت کر لی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو آ کر خبر دی پھر وہ بھی گئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔
وقال هشام بن عمار حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عمر بن محمد العمري، اخبرني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان الناس، كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية، تفرقوا في ظلال الشجر، فاذا الناس محدقون بالنبي صلى الله عليه وسلم فقال يا عبد الله، انظر ما شان الناس قد احدقوا برسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدهم يبايعون، فبايع ثم رجع الى عمر فخرج فبايع