Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ہم سے ابولیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے علی بن حسین نے بیان کیا اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کو ( جو مسلمان تھیں ) پیغام نکاح دیا، اس کی اطلاع جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر ( جب انہیں کوئی تکلیف دے ) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھئیے یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ پڑھتے سنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امابعد: میں نے ابوالعاص بن ربیع سے ( زینب رضی اللہ عنہا کی، آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی ) شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے ( جسم کا ) ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ابن شہاب سے یہ اضافہ کیا ہے، انہوں نے علی بن حسین سے اور انہوں نے مسور رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے بنی عبدشمس کے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور حقوق دامادی کی ادائیگی کی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات بھی کہی سچی کہی اور جو وعدہ بھی کیا پورا کر دکھایا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني علي بن حسين، ان المسور بن مخرمة، قال ان عليا خطب بنت ابي جهل، فسمعت بذلك، فاطمة، فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يزعم قومك انك لا تغضب لبناتك، هذا علي ناكح بنت ابي جهل، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعته حين تشهد يقول " اما بعد انكحت ابا العاص بن الربيع، فحدثني وصدقني، وان فاطمة بضعة مني، واني اكره ان يسوءها، والله لا تجتمع بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبنت عدو الله عند رجل واحد ". فترك علي الخطبة. وزاد محمد بن عمرو بن حلحلة عن ابن شهاب عن علي عن مسور، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وذكر صهرا له من بني عبد شمس فاثنى عليه في مصاهرته اياه فاحسن قال " حدثني فصدقني، ووعدني فوفى لي
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ ان کے امیر بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آج تم اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے اس کے باپ کے امیر بنائے جانے پر بھی تم نے اعتراض کیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ ( زید رضی اللہ عنہ ) امارت کے مستحق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔ اور یہ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) اب ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان، قال حدثني عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم بعثا، وامر عليهم اسامة بن زيد، فطعن بعض الناس في امارته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان تطعنوا في امارته فقد كنتم تطعنون في امارة ابيه من قبل، وايم الله، ان كان لخليقا للامارة، وان كان لمن احب الناس الى، وان هذا لمن احب الناس الى بعده
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک قیافہ شناس میرے یہاں آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وہیں تشریف رکھتے تھے اور اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ ( ایک چادر میں ) لیٹے ہوئے تھے۔ ( منہ اور جسم کا سارا حصہ قدموں کے سوا چھپا ہوا تھا ) اس قیافہ شناس نے کہا کہ یہ پاؤں بعض، بعض سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ( یعنی باپ بیٹے کے ہیں ) قیافہ شناس نے پھر بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اس اندازہ پر بہت خوش ہوئے اور پھر آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہ واقعہ بیان فرمایا۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت دخل على قايف والنبي صلى الله عليه وسلم شاهد، واسامة بن زيد وزيد بن حارثة مضطجعان، فقال ان هذه الاقدام بعضها من بعض. قال فسر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم واعجبه، فاخبر به عايشة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ قریش مخزومیہ عورت کے معاملے کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ آپس میں کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں ( اس عورت کی سفارش کے لیے ) اور کون جرات کر سکتا ہے
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان قريشا، اهمهم شان المخزومية، فقالوا من يجتري عليه الا اسامة بن زيد، حب رسول الله صلى الله عليه وسلم
(دوسری سند) اور ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے مخزومیہ کی حدیث پوچھی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہو گئے۔ میں نے اس پر سفیان سے پوچھا کہ پھر آپ نے کسی اور ذریعہ سے اس حدیث کی روایت نہیں کی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایوب بن موسیٰ کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں، میں نے یہ حدیث دیکھی۔ وہ زہری سے روایت کرتے تھے، وہ عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تھی۔ قریش نے ( اپنی مجلس میں ) سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے؟ کوئی اس کی جرات نہیں کر سکا، آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ اگر آج فاطمہ ( رضی اللہ عنہا ) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال ذهبت اسال الزهري عن حديث المخزومية، فصاح بي، قلت لسفيان فلم تحتمله عن احد قال وجدته في كتاب كان كتبه ايوب بن موسى عن الزهري عن عروة عن عايشة رضى الله عنها ان امراة من بني مخزوم سرقت، فقال��ا من يكلم فيها النبي صلى الله عليه وسلم فلم يجتري احد ان يكلمه، فكلمه اسامة بن زيد، فقال " ان بني اسراييل كان اذا سرق فيهم الشريف تركوه، واذا سرق الضعيف قطعوه، لو كانت فاطمة لقطعت يدها
مجھ سے حسن بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعباد یحییٰ بن عباد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن ایک صاحب کو مسجد میں دیکھا کہ اپنا کپڑا ایک کونے میں پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ کون صاحب ہیں؟ کاش! یہ میرے قریب ہوتے۔ ایک شخص نے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ انہیں نہیں پہچانتے؟ یہ محمد بن اسامہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابن دینار نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر بولے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے تو یقیناً آپ ان سے محبت فرماتے۔
حدثني الحسن بن محمد، حدثنا ابو عباد، يحيى بن عباد حدثنا الماجشون، اخبرنا عبد الله بن دينار، قال نظر ابن عمر يوما وهو في المسجد الى رجل يسحب ثيابه في ناحية من المسجد فقال انظر من هذا ليت هذا عندي. قال له انسان اما تعرف هذا يا ابا عبد الرحمن هذا محمد بن اسامة، قال فطاطا ابن عمر راسه، ونقر بيديه في الارض، ثم قال لو راه رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحبه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، کہا ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا، اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیتے اور فرماتے: اے اللہ! تو انہیں اپنا محبوب بنا کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي، حدثنا ابو عثمان، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما حدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان ياخذه والحسن فيقول " اللهم احبهما فاني احبهما
اور نعیم نے کہا ان سے ابن مبارک نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ایک مولیٰ (حرملہ) نے خبر دی کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا ( نماز میں ) انہوں نے رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں ادا کیا، ( ایمن ابن ام ایمن، اسامہ رضی اللہ عنہ کی ماں کی طرف سے بھائی تھے، ایمن رضی اللہ عنہ قبیلہ انصار کے ایک فرد تھے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ( نماز ) دوبارہ پڑھ لو۔
وقال نعيم عن ابن المبارك، اخبرنا معمر، عن الزهري، اخبرني مولى، لاسامة بن زيد. ان الحجاج بن ايمن ابن ام ايمن،، وكان، ايمن ابن ام ايمن اخا اسامة لامه، وهو رجل من الانصار، فراه ابن عمر لم يتم ركوعه ولا سجوده فقال اعد
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مولیٰ حرملہ نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے کہ حجاج بن ایمن ( مسجد کے ) اندر آئے نہ انہوں نے رکوع پوری طرح ادا کیا تھا اور نہ سجدہ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ نماز دوبارہ پڑھ لو۔ پھر جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا حجاج بن ایمن ابن ام ایمن ہیں۔ اس پر آپ نے کہا اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو بہت عزیز رکھتے، پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسامہ رضی اللہ عنہ اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد سے محبت کا ذکر کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا اور ان سے سلیمان نے کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود لیا تھا۔
قال ابو عبد الله وحدثني سليمان بن عبد الرحمن، حدثنا الوليد، حدثنا عبد الرحمن بن نمر، عن الزهري، حدثني حرملة، مولى اسامة بن زيد انه بينما هو مع عبد الله بن عمر اذ دخل الحجاج بن ايمن فلم يتم ركوعه ولا سجوده، فقال اعد. فلما ولى قال لي ابن عمر من هذا قلت الحجاج بن ايمن ابن ام ايمن. فقال ابن عمر لو راى هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحبه، فذكر حبه وما ولدته ام ايمن. قال وحدثني بعض اصحابي عن سليمان وكانت حاضنة النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان الرجل في حياة النبي صلى الله عليه وسلم اذا راى رويا قصها على النبي صلى الله عليه وسلم، فتمنيت ان ارى رويا اقصها على النبي صلى الله عليه وسلم، وكنت غلاما اعزب، وكنت انام في المسجد على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فرايت في المنام كان ملكين اخذاني فذهبا بي الى النار، فاذا هي مطوية كطى البير، فاذا لها قرنان كقرنى البير، واذا فيها ناس قد عرفتهم، فجعلت اقول اعوذ بالله من النار، اعوذ بالله من النار. فلقيهما ملك اخر فقال لي لن تراع. فقصصتها على حفصة. فقصتها حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " نعم الرجل عبد الله، لو كان يصلي بالليل ". قال سالم فكان عبد الله لا ينام من الليل الا قليلا
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان الرجل في حياة النبي صلى الله عليه وسلم اذا راى رويا قصها على النبي صلى الله عليه وسلم، فتمنيت ان ارى رويا اقصها على النبي صلى الله عليه وسلم، وكنت غلاما اعزب، وكنت انام في المسجد على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فرايت في المنام كان ملكين اخذاني فذهبا بي الى النار، فاذا هي مطوية كطى البير، فاذا لها قرنان كقرنى البير، واذا فيها ناس قد عرفتهم، فجعلت اقول اعوذ بالله من النار، اعوذ بالله من النار. فلقيهما ملك اخر فقال لي لن تراع. فقصصتها على حفصة. فقصتها حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " نعم الرجل عبد الله، لو كان يصلي بالليل ". قال سالم فكان عبد الله لا ينام من الليل الا قليلا
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، عن اخته، حفصة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " ان عبد الله رجل صالح
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، عن اخته، حفصة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " ان عبد الله رجل صالح
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں جب شام آیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔ پھر میں ایک قوم کے پاس آیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ کوئی نیک ساتھی مجھے عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عنایت فرمایا۔ انہوں نے دریافت کیا، تمہارا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کوفہ ہے۔ انہوں نے کہا کیا تمہارے یہاں «ابن أم عبد صاحب النعلين والوساد والمطهرة» ( یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا۔ ( مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی ) کیا تم میں وہ نہیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے بہت سے بھیدوں کے حامل ہیں جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ( یعنی حذیفہ رضی اللہ عنہ ) اس کے بعد انہوں نے دریافت فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى» کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے انہیں پڑھ کر سنائی کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے مجھے بھی اسی طرح یاد کرایا تھا۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا اسراييل، عن المغيرة، عن ابراهيم، عن علقمة،، قال قدمت الشام فصليت ركعتين، ثم قلت اللهم يسر لي جليسا صالحا، فاتيت قوما فجلست اليهم، فاذا شيخ قد جاء حتى جلس الى جنبي، قلت من هذا قالوا ابو الدرداء. فقلت اني دعوت الله ان ييسر لي جليسا صالحا فيسرك لي، قال ممن انت قلت من اهل الكوفة. قال اوليس عندكم ابن ام عبد صاحب النعلين والوساد والمطهرة وفيكم الذي اجاره الله من الشيطان على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم اوليس فيكم صاحب سر النبي صلى الله عليه وسلم الذي لا يعلم احد غيره ثم قال كيف يقرا عبد الله {والليل اذا يغشى}، فقرات عليه {والليل اذا يغشى * والنهار اذا تجلى * والذكر والانثى}. قال والله لقد اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم من فيه الى في
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ شام میں تشریف لے گئے اور مسجد میں جا کر یہ دعا کی۔ اے اللہ! مجھے ایک نیک ساتھی عطا فرما، چنانچہ آپ کو ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ عرض کیا کہ کوفہ سے، اس پر انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دار نہیں ہیں کہ ان رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا؟ ( ان کی مراد ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ سے تھی ) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں موجود ہیں، پھر انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ دی تھی۔ ان کی مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی۔ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں وہ بھی موجود ہیں، اس کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى» کی قرآت کس طرح کرتے تھے؟ میں نے کہا کہ وہ ( «وما خلق» کے حذف کے ساتھ ) «والذكر والأنثى» پڑھا کرتے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا یہ شام والے ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ اس آیت کی تلاوت کو جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا اس سے مجھے ہٹا دیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن مغيرة، عن ابراهيم، قال ذهب علقمة الى الشام، فلما دخل المسجد قال اللهم يسر لي جليسا صالحا. فجلس الى ابي الدرداء فقال ابو الدرداء ممن انت قال من اهل الكوفة. قال اليس فيكم او منكم صاحب السر الذي لا يعلمه غيره يعني حذيفة. قال قلت بلى. قال اليس فيكم او منكم الذي اجاره الله على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم يعني من الشيطان، يعني عمارا. قلت بلى. قال اليس فيكم او منكم صاحب السواك او السرار قال بلى. قال كيف كان عبد الله يقرا {والليل اذا يغشى * والنهار اذا تجلى} قلت {والذكر والانثى}. قال ما زال بي هولاء حتى كادوا يستنزلوني عن شىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا خالد، عن ابي قلابة، قال حدثني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان لكل امة امينا، وان اميننا ايتها الامة ابو عبيدة بن الجراح
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے صلہ نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے یہاں ایک امین کو بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہو گا۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شوق ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن صلة، عن حذيفة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لاهل نجران " لابعثن يعني عليكم يعني امينا حق امين ". فاشرف اصحابه، فبعث ابا عبيدة رضى الله عنه
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوموسیٰ نے بیان کیا، ان سے حسن نے، انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔
حدثنا صدقة، حدثنا ابن عيينة، حدثنا ابو موسى، عن الحسن، سمع ابا بكرة، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر والحسن الى جنبه، ينظر الى الناس مرة واليه مرة، ويقول " ابني هذا سيد، ولعل الله ان يصلح به بين فيتين من المسلمين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت رکھ۔“ «أو كما قال.» ۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال سمعت ابي قال، حدثنا ابو عثمان، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان ياخذه والحسن ويقول " اللهم اني احبهما فاحبهما ". او كما قال
مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسین بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا ( کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا ) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ انہوں نے «وسمة.» کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔
حدثني محمد بن الحسين بن ابراهيم، قال حدثني حسين بن محمد، حدثنا جرير، عن محمد، عن انس بن مالك رضى الله عنه اتي عبيد الله بن زياد براس الحسين عليه السلام فجعل في طست، فجعل ينكت، وقال في حسنه شييا. فقال انس كان اشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان مخضوبا بالوسمة