Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی نے خبر دی، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ آپ کے کاندھے مبارک پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ”اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت رکھ۔“
حدثنا حجاج بن المنهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عدي، قال سمعت البراء رضى الله عنه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم والحسن على عاتقه يقول " اللهم اني احبه فاحبه
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: میرے باپ ان پر فدا ہوں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہیں، علی سے نہیں اور علی رضی اللہ عنہ مسکرا رہے تھے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، قال اخبرني عمر بن سعيد بن ابي حسين، عن ابن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث، قال رايت ابا بكر رضى الله عنه وحمل الحسن وهو يقول بابي شبيه بالنبي، ليس شبيه بعلي. وعلي يضحك
مجھ سے یحییٰ بن معین اور صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں واقد بن محمد نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی خوشنودی ) کو آپ کے اہل بیت کے ساتھ ( محبت و خدمت کے ذریعہ ) تلاش کرو۔
حدثني يحيى بن معين، وصدقة، قالا اخبرنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن واقد بن محمد، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال ابو بكر ارقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم في اهل بيته
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے، اور عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن الزهري، عن انس،. وقال عبد الرزاق اخبرنا معمر، عن الزهري، اخبرني انس، قال لم يكن احد اشبه بالنبي صلى الله عليه وسلم من الحسن بن علي
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، انہوں نے ابن ابی نعم سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص ( احرام کی حالت میں ) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کر چکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دونوں ( نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن محمد بن ابي يعقوب، سمعت ابن ابي نعم، سمعت عبد الله بن عمر، وساله، عن المحرم،، قال شعبة احسبه يقتل الذباب فقال اهل العراق يسالون عن الذباب وقد قتلوا ابن ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال النبي صلى الله عليه وسلم " هما ريحانتاى من الدنيا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا ہم کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کو انہوں نے آزاد کیا ہے، ان کی مراد بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے تھی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، عن محمد بن المنكدر، اخبرنا جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كان عمر يقول ابو بكر سيدنا، واعتق سيدنا. يعني بلالا
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبید نے کہا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، اور ان سے قیس نے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیجئیے۔
حدثنا ابن نمير، عن محمد بن عبيد، حدثنا اسماعيل، عن قيس، ان بلالا، قال لابي بكر ان كنت انما اشتريتني لنفسك فامسكني، وان كنت انما اشتريتني لله فدعني وعمل الله
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا ”اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔“
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس،، قال ضمني النبي صلى الله عليه وسلم الى صدره وقال " اللهم علمه الحكمة
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، وقال، " علمه الكتاب ". حدثنا موسى، حدثنا وهيب، عن خالد، مثله. والحكمة الاصابة في غير النبوة
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم کو زید ( رضی اللہ عنہ ) لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کر دیئے گئے، اب جعفر ( رضی اللہ عنہ ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، اب ابن رواحہ ( رضی اللہ عنہ ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ( خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ) نے عَلم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔
حدثنا احمد بن واقد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم نعى زيدا وجعفرا وابن رواحة للناس قبل ان ياتيهم خبرهم، فقال " اخذ الراية زيد فاصيب، ثم اخذ جعفر فاصيب، ثم اخذ ابن رواحة فاصيب وعيناه تذرفان حتى اخذ سيف من سيوف الله حتى فتح الله عليهم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے اور ان سے مسروق نے کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے یہاں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی کی اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ابی بن کعب کا ذکر کیا یا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابراهيم، عن مسروق، قال ذكر عبد الله عند عبد الله بن عمرو، فقال ذاك رجل لا ازال احبه بعد ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " استقريوا القران من اربعة من عبد الله بن مسعود، فبدا به، وسالم مولى ابي حذيفة، وابى بن كعب، ومعاذ بن جبل ". قال لا ادري بدا بابى او بمعاذ
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن سليمان، قال سمعت ابا وايل، قال سمعت مسروقا، قال قال عبد الله بن عمرو ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن فاحشا ولا متفحشا وقال " ان من احبكم الى احسنكم اخلاقا ". وقال " استقريوا القران من اربعة من عبد الله بن مسعود، وسالم مولى ابي حذيفة، وابى بن كعب، ومعاذ بن جبل
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن سليمان، قال سمعت ابا وايل، قال سمعت مسروقا، قال قال عبد الله بن عمرو ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن فاحشا ولا متفحشا وقال " ان من احبكم الى احسنكم اخلاقا ". وقال " استقريوا القران من اربعة من عبد الله بن مسعود، وسالم مولى ابي حذيفة، وابى بن كعب، ومعاذ بن جبل
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے کہ میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی ( نیک ) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں، جب وہ قریب آ گئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہو گئی ہے۔ انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے یہاں «صاحب النعلين والوساد والمطهرة» ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے ( اللہ کی ) پناہ مل چکی ہے۔ ( یعنی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ) کیا تمہارے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ( پھر دریافت فرمایا ) ابن ام عبد ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) آیت «والليل» کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
حدثنا موسى، عن ابي عوانة، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن علقمة، دخلت الشام فصليت ركعتين، فقلت اللهم يسر لي جليسا. فرايت شيخا مقبلا، فلما دنا قلت ارجو ان يكون استجاب. قال من اين انت قلت من اهل الكوفة. قال افلم يكن فيكم صاحب النعلين والوساد والمطهرة اولم يكن فيكم الذي اجير من الشيطان اولم يكن فيكم صاحب السر الذي لا يعلمه غيره كيف قرا ابن ام عبد {والليل} فقرات {والليل اذا يغشى * والنهار اذا تجلى * والذكر والانثى}. قال اقرانيها النبي صلى الله عليه وسلم فاه الى في، فما زال هولاء حتى كادوا يردوني
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صحابہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عادات و اخلاق اور طور طریق میں سب سے زیادہ قریب کون سے صحابی تھے؟ تاکہ ہم ان سے سیکھیں، انہوں نے کہا اخلاق، طور طریق اور سیرت و عادت میں ابن ام عبد سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور کسی کو میں نہیں سمجھتا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد،، قال سالنا حذيفة عن رجل، قريب السمت والهدى من النبي صلى الله عليه وسلم حتى ناخذ عنه فقال ما اعرف احدا اقرب سمتا وهديا ودلا بالنبي صلى الله عليه وسلم من ابن ام عبد
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحٰق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، کہا کہ مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے ( مدینہ طیبہ ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا ( بکثرت ) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا ابراهيم بن يوسف بن ابي اسحاق، قال حدثني ابي، عن ابي اسحاق، قال حدثني الاسود بن يزيد، قال سمعت ابا موسى الاشعري رضى الله عنه يقول قدمت انا واخي من اليمن، فمكثنا حينا ما نرى الا ان عبد الله بن مسعود رجل من اهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم، لما نرى من دخوله ودخول امه على النبي صلى الله عليه وسلم
کہا ہم سے حسن بن بشیر نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے اور ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ ( کریب ) بھی موجود تھے، جب وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ( امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا ) اس پر انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے۔
حدثنا الحسن بن بشر، حدثنا المعافى، عن عثمان بن الاسود، عن ابن ابي مليكة، قال اوتر معاوية بعد العشاء بركعة وعنده مولى لابن عباس، فاتى ابن عباس فقال دعه، فانه صحب رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا نافع بن عمر، حدثني ابن ابي مليكة، قيل لابن عباس هل لك في امير المومنين معاوية، فانه ما اوتر الا بواحدة. قال انه فقيه
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے حمران بن ابان سے سنا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم لوگ ایک خاص نماز پڑھتے ہو، ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعت نماز سے تھی ( جسے اس زمانے میں بعض لوگ پڑھتے تھے ) ۔
حدثني عمرو بن عباس، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت حمران بن ابان، عن معاوية رضى الله عنه قال انكم لتصلون صلاة لقد صحبنا النبي صلى الله عليه وسلم فما رايناه يصليها، ولقد نهى عنهما، يعني الركعتين بعد العصر
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فاطمة بضعة مني، فمن اغضبها اغضبني