Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، انہیں شعبی نے خبر دی کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جعفر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سلام کرتے تو یوں کہا کرتے «السلام عليك يا ابن ذي الجناحين.» اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے تم پر سلام ہو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں جو «جناحين.» کا لفظ ہے اس سے مراد دو گوشے ( کونے ) ہیں۔
حدثني عمرو بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا اسماعيل بن ابي خالد، عن الشعبي، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان اذا سلم على ابن جعفر قال السلام عليك يا ابن ذي الجناحين
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے ابوعبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی۔
حدثنا الحسن بن محمد، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثني ابي عبد الله بن المثنى، عن ثمامة بن عبد الله بن انس، عن انس رضى الله عنه ان عمر بن الخطاب، كان اذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال اللهم انا كنا نتوسل اليك بنبينا صلى الله عليه وسلم فتسقينا، وانا نتوسل اليك بعم نبينا فاسقنا. قال فيسقون
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عروة بن الزبير، عن عايشة، ان فاطمة عليها السلام ارسلت الى ابي بكر تساله ميراثها من النبي صلى الله عليه وسلم فيما افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم، تطلب صدقة النبي صلى الله عليه وسلم التي بالمدينة وفدك وما بقي من خمس خيبر. فقال ابو بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث، ما تركنا فهو صدقة، انما ياكل ال محمد من هذا المال يعني مال الله ليس لهم ان يزيدوا على الماكل ". واني والله لا اغير شييا من صدقات النبي صلى الله عليه وسلم التي كانت عليها في عهد النبي صلى الله عليه وسلم، ولاعملن فيها بما عمل فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم. فتشهد علي، ثم قال انا قد عرفنا يا ابا بكر فضيلتك. وذكر قرابتهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم وحقهم. فتكلم ابو بكر فقال والذي نفسي بيده، لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم احب الى ان اصل من قرابتي
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عروة بن الزبير، عن عايشة، ان فاطمة عليها السلام ارسلت الى ابي بكر تساله ميراثها من النبي صلى الله عليه وسلم فيما افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم، تطلب صدقة النبي صلى الله عليه وسلم التي بالمدينة وفدك وما بقي من خمس خيبر. فقال ابو بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث، ما تركنا فهو صدقة، انما ياكل ال محمد من هذا المال يعني مال الله ليس لهم ان يزيدوا على الماكل ". واني والله لا اغير شييا من صدقات النبي صلى الله عليه وسلم التي كانت عليها في عهد النبي صلى الله عليه وسلم، ولاعملن فيها بما عمل فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم. فتشهد علي، ثم قال انا قد عرفنا يا ابا بكر فضيلتك. وذكر قرابتهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم وحقهم. فتكلم ابو بكر فقال والذي نفسي بيده، لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم احب الى ان اصل من قرابتي
مجھے عبداللہ بن عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آپ کے اہل بیت میں رکھو۔
اخبرني عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا خالد، حدثنا شعبة، عن واقد، قال سمعت ابي يحدث، عن ابن عمر، عن ابي بكر رضى الله عنهم قال ارقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم في اهل بيته
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، اس لیے جس نے اسے ناحق ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فاطمة بضعة مني، فمن اغضبها اغضبني
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة ابنته في شكواه الذي قبض فيها، فسارها بشىء فبكت، ثم دعاها فسارها فضحكت، قالت فسالتها عن ذلك. فقالت سارني النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرني انه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت، ثم سارني فاخبرني اني اول اهل بيته اتبعه فضحكت
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة ابنته في شكواه الذي قبض فيها، فسارها بشىء فبكت، ثم دعاها فسارها فضحكت، قالت فسالتها عن ذلك. فقالت سارني النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرني انه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت، ثم سارني فاخبرني اني اول اهل بيته اتبعه فضحكت
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور ( زندگی سے مایوس ہو کر ) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال اخبرني مروان بن الحكم، قال اصاب عثمان بن عفان رعاف شديد سنة الرعاف، حتى حبسه عن الحج واوصى، فدخل عليه رجل من قريش قال استخلف. قال وقالوه قال نعم. قال ومن فسكت، فدخل عليه رجل اخر احسبه الحارث فقال استخلف. فقال عثمان وقالوا فقال نعم. قال ومن هو فسكت قال فلعلهم قالوا الزبير قال نعم. قال اما والذي نفسي بيده انه لخيرهم ما علمت، وان كان لاحبهم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ میں نے مروان سے سنا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے،۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں، زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے، آپ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے، تم کو بھی معلوم ہے کہ وہ تم میں بہتر ہیں، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، اخبرني ابي، سمعت مروان، كنت عند عثمان، اتاه رجل فقال استخلف. قال وقيل ذاك قال نعم، الزبير. قال اما والله انكم لتعلمون انه خيركم. ثلاثا
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا جو ابوسلمہ کے صاحبزادے تھے، ان سے محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ( رضی اللہ عنہ ) ہیں۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز هو ابن ابي سلمة عن محمد بن المنكدر، عن جابر رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لكل نبي حواريا، وان حواري الزبير بن العوام
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا ( کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے ) میں نے اچانک دیکھا کہ زبیر رضی اللہ عنہ ( آپ کے والد ) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ ( یہودیوں کے ایک قبیلہ کی ) طرف آ جا رہے ہیں۔ دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میں نے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جا کر ان کی ( نقل و حرکت کے متعلق ) اطلاع میرے پاس لا سکے۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں ( خبر لے کر ) واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرط مسرت میں ) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا {عبد الله} اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن الزبير، قال كنت يوم الاحزاب جعلت انا وعمر بن ابي سلمة، في النساء، فنظرت فاذا انا بالزبير، على فرسه، يختلف الى بني قريظة مرتين او ثلاثا، فلما رجعت قلت يا ابت، رايتك تختلف. قال اوهل رايتني يا بنى قلت نعم. قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يات بني قريظة فياتيني بخبرهم ". فانطلقت، فلما رجعت جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ابويه فقال " فداك ابي وامي
ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ جنگ یرموک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے ان ( رومیوں ) پر حملہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ( رومیوں نے ) آپ کے دو کاری زخم شانے پر لگائے۔ درمیان میں وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا۔ عروہ نے کہا کہ ( یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اچھے ہو جانے کے بعد ) میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔
حدثنا علي بن حفص، حدثنا ابن المبارك، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، ان اصحاب النبي، صلى الله عليه وسلم قالوا للزبير يوم اليرموك الا تشد فنشد معك فحمل عليهم، فضربوه ضربتين على عاتقه، بينهما ضربة ضربها يوم بدر. قال عروة فكنت ادخل اصابعي في تلك الضربات العب وانا صغير
حدثني محمد بن ابي بكر المقدمي، حدثنا معتمر، عن ابيه، عن ابي عثمان، قال لم يبق مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض تلك الايام التي قاتل فيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم غير طلحة وسعد. عن حديثهما
حدثني محمد بن ابي بكر المقدمي، حدثنا معتمر، عن ابيه، عن ابي عثمان، قال لم يبق مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض تلك الايام التي قاتل فيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم غير طلحة وسعد. عن حديثهما
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( جنگ احد میں ) حفاظت کی تھی وہ بالکل بیکار ہو چکا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا ابن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم،، قال رايت يد طلحة التي وقى بها النبي صلى الله عليه وسلم قد شلت
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے یحییٰ سے سنا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جنگ احد کے موقع پر میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کر کے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى، قال سمعت سعيد بن المسيب، قال سمعت سعدا، يقول جمع لي النبي صلى الله عليه وسلم ابويه يوم احد
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ مجھے خوب یاد ہے۔ میں نے ایک زمانے میں مسلمانوں کا تیسرا حصہ اپنے آپ کو دیکھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اسلام کے تیسرے حصے سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین مسلمان تھے جن میں تیسرا مسلمان میں تھا۔
حدثنا مكي بن ابراهيم، حدثنا هاشم بن هاشم، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال لقد رايتني وانا ثلث الاسلام،
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص سے سنا، انہوں نے کہا کہ جس دن میں اسلام لایا، اسی دن دوسرے ( سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والے حضرات صحابہ ) بھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور میں سات دن تک اسی طور پر رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا۔ ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ نے بھی روایت کیا۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا ابن ابي زايدة، حدثنا هاشم بن هاشم بن عتبة بن ابي وقاص، قال سمعت سعيد بن المسيب، يقول سمعت سعد بن ابي وقاص، يقول ما اسلم احد الا في اليوم الذي اسلمت فيه، ولقد مكثت سبعة ايام واني لثلث الاسلام. تابعه ابو اسامة حدثنا هاشم
ہم سے ہاشم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عرب میں سب سے پہلے اللہ کے راستے میں، میں نے تیر اندازی کی تھی ( ابتداء اسلام میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کے ساتھ اس طرح غزوات میں شرکت کرتے تھے کہ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا، اس سے ہمیں اونٹ اور بکریوں کی طرح اجابت ہوتی تھی۔ یعنی ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اب بنی اسد کا یہ حال ہے کہ اسلامی احکام پر عمل میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں ( اگر ) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہو گئے۔ ہوا یہ تھا کہ بنی اسد نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی چغلی کھائی تھی۔ یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھتے۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد بن عبد الله، عن اسماعيل، عن قيس، قال سمعت سعدا رضى الله عنه يقول اني لاول العرب رمى بسهم في سبيل الله، وكنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم وما لنا طعام الا ورق الشجر، حتى ان احدنا ليضع كما يضع البعير او الشاة، ما له خلط، ثم اصبحت بنو اسد تعزرني على الاسلام، لقد خبت اذا وضل عملي. وكانوا وشوا به الى عمر، قالوا لا يحسن يصلي