Loading...

Loading...
کتب
۱۶۰ احادیث
ہم سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و جمال میں بھی سب سے بڑھ کر تھے اور جسمانی ساخت میں بھی سب سے بہتر تھے۔ آپ کا قد نہ بہت لانبا تھا اور نہ چھوٹا ( بلکہ درمیانہ قد تھا ) ۔
حدثنا احمد بن سعيد ابو عبد الله، حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا ابراهيم بن يوسف، عن ابيه، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم احسن الناس وجها واحسنه خلقا، ليس بالطويل الباين ولا بالقصير
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب بھی استعمال فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا۔ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں کنپٹیوں پر ( سر میں ) چند بال سفید تھے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا همام، عن قتادة، قال سالت انسا هل خضب النبي صلى الله عليه وسلم قال لا، انما كان شىء في صدغيه
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ بہت کشادہ اور کھلا ہوا تھا۔ آپ کے ( سر کے ) بال کانوں کی لو تک لٹکتے رہتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک سرخ جوڑے میں دیکھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ یوسف بن ابی اسحٰق نے اپنے والد کے واسطہ سے «إلى منكبيه.» بیان کیا ( بجائے لفظ «شحمة أذنه» ) یعنی آپ کے بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم مربوعا، بعيد ما بين المنكبين، له شعر يبلغ شحمة اذنه، رايته في حلة حمراء، لم ار شييا قط احسن منه. قال يوسف بن ابي اسحاق عن ابيه الى منكبيه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ کسی نے براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار کی طرح ( لمبا پتلا ) تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، چہرہ مبارک چاند کی طرح ( گول اور خوبصورت ) تھا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، قال سيل البراء اكان وجه النبي صلى الله عليه وسلم مثل السيف قال لا بل مثل القمر
ہم سے ابوعلی حسن بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد الاعور نے مصیصہ (شہر میں) بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت سفر کے ارادہ سے نکلے۔ بطحاء نامی جگہ پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ظہر کی نماز دو رکعت ( قصر ) پڑھی پھر عصر کی بھی دو رکعت ( قصر ) پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھوٹا سا نیزہ ( بطور سترہ ) گڑا ہوا تھا۔ عون نے اپنے والد سے اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نیزہ کے آگے سے آنے جانے والے آ جا رہے تھے۔ پھر صحابہ آپ کے پاس آ گئے اور آپ کے مبارک ہاتھوں کو تھام کر اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے چہرے پر رکھا۔ اس وقت وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔
حدثنا الحسن بن منصور ابو علي، حدثنا حجاج بن محمد الاعور، بالمصيصة حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت ابا جحيفة، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهاجرة الى البطحاء فتوضا ثم صلى الظهر ركعتين، والعصر ركعتين، وبين يديه عنزة. {قال شعبة} وزاد فيه عون عن ابيه ابي جحيفة قال كان يمر من ورايها المراة، وقام الناس فجعلوا ياخذون يديه، فيمسحون بها وجوههم، قال فاخذت بيده، فوضعتها على وجهي، فاذا هي ابرد من الثلج، واطيب رايحة من المسك
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال حدثني عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اجود الناس، واجود ما يكون في رمضان، حين يلقاه جبريل، وكان جبريل عليه السلام يلقاه في كل ليلة من رمضان، فيدارسه القران فلرسول الله صلى الله عليه وسلم اجود بالخير من الريح المرسلة
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں بہت ہی خوش خوش داخل ہوئے، خوشی اور مسرت سے پیشانی کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عائشہ! تم نے سنا نہیں مجزز مدلجی نے زید و اسامہ کے صرف قدم دیکھ کر کیا بات کہی؟ اس نے کہا کہ ایک کے پاؤں دوسرے کے پاؤں سے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔“
حدثنا يحيى، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا ابن جريج، قال اخبرني ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها مسرورا تبرق اسارير وجهه، فقال " الم تسمعي ما قال المدلجي لزيد واسامة وراى اقدامهما ان بعض هذه الاقدام من بعض
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ غزوہ تبوک میں اپنے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے ( توبہ قبول ہونے کے بعد ) حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو چہرہ مبارک مسرت و خوشی سے چمک رہا تھا۔ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر مسرور ہوتے تو چہرہ مبارک چمک اٹھتا، ایسا معلوم ہوتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کو ہم اسی سے پہچان جاتے تھے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حين تخلف عن تبوك، قال فلما سلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يبرق وجهه من السرور، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سر استنار وجهه، حتى كانه قطعة قمر، وكنا نعرف ذلك منه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں ( آدم علیہ السلام سے لے کر ) برابر آدمیوں کے بہتر قرنوں میں ہوتا آیا ہوں ( یعنی شریف اور پاکیزہ نسلوں میں ) یہاں تک کہ وہ قرن آیا جس میں میں پیدا ہوا۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن عمرو، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بعثت من خير قرون بني ادم قرنا فقرنا، حتى كنت من القرن الذي كنت فيه
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سر کے آگے کے بالوں کو پیشانی پر ) پڑا رہنے دیتے تھے اور مشرکین کی یہ عادت تھی کہ وہ آگے کے سر کے بال دو حصوں میں تقسیم کر لیتے تھے ( پیشانی پر پڑا نہیں رہنے دیتے تھے ) اور اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) سر کے آگے کے بال پیشانی پر پڑا رہنے دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات میں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آپ کو نہ ملا ہوتا۔ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے ( اور حکم نازل ہونے کے بعد وحی پر عمل کرتے تھے ) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر میں مانگ نکالنے لگے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسدل شعره، وكان المشركون يفرقون رءوسهم فكان اهل الكتاب يسدلون رءوسهم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب موافقة اهل الكتاب فيما لم يومر فيه بشىء، ثم فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدزبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ( جو لوگوں سے کشادہ پیشانی سے پیش آئے ) ۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما قال لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا وكان يقول " ان من خياركم احسنكم اخلاقا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ کو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔ کیونکہ اگر اس میں گناہ کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ضرور بدلہ لیتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اخذ ايسرهما، ما لم يكن اثما، فان كان اثما كان ابعد الناس منه، وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه، الا ان تنتهك حرمة الله فينتقم لله بها
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک کوئی حریر و دیباج میرے ہاتھوں نے کبھی چھوا اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر سونگھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه قال ما مسست حريرا ولا ديباجا الين من كف النبي صلى الله عليه وسلم، ولا شممت ريحا قط او عرفا قط اطيب من ريح او عرف النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عبداللہ ابن ابی عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشیں کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن قتادة، عن عبد الله بن ابي عتبة، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اشد حياء من العذراء في خدرها
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، وابن، مهدي قالا حدثنا شعبة، مثله واذا كره شييا عرف في وجهه
مجھ علی بن جعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ کو مرغوب ہوتا تو کھاتے ورنہ چھوڑ دیتے۔
حدثني علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال ما عاب النبي صلى الله عليه وسلم طعاما قط، ان اشتهاه اكله، والا تركه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے، ان سے عبداللہ بن مالک بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ پیٹ سے الگ رکھتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلیں ہم لوگ دیکھ لیتے، ابن بکیر نے بکر سے روایت کی اس میں یوں ہے، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بكر بن مضر، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة الاسدي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا سجد فرج بين يديه حتى نرى ابطيه. قال وقال ابن بكير حدثنا بكر بياض ابطيه
ہم سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا استسقاء کے سوا اور کسی دعا میں ( زیادہ اونچا ) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ اس دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا اونچا ہاتھ اٹھاتے کہ بغل مبارک کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، ان انسا رضى الله عنه حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يرفع يديه في شىء من دعايه، الا في الاستسقاء، فانه كان يرفع يديه حتى يرى بياض ابطيه. وقال ابو موسى دعا النبي صلى الله عليه وسلم ورفع يديه ورايت بياض ابطيه
ہم سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عون بن ابی جحیفہ سے سنا، وہ اپنے والد (ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے نقل کرتے تھے کہ میں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں ( محصب میں ) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لیے اذان دی اور اندر آ گئے اور بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے ( سترہ کے لیے ) نیزہ گاڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مغول، قال سمعت عون بن ابي جحيفة، ذكر عن ابيه، قال دفعت الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بالابطح في قبة كان بالهاجرة، خرج بلال فنادى بالصلاة، ثم دخل فاخرج فضل وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوقع الناس عليه ياخذون منه، ثم دخل فاخرج العنزة، وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم كاني انظر الى وبيص ساقيه فركز العنزة، ثم صلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين، يمر بين يديه الحمار والمراة
حدثني الحسن بن صباح البزار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يحدث حديثا لو عده العاد لاحصاه. وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، انه قال اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، انها قالت الا يعجبك ابو فلان جاء فجلس الى جانب حجرتي يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، يسمعني ذلك وكنت اسبح فقام قبل ان اقضي سبحتي، ولو ادركته لرددت عليه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يسرد الحديث كسردكم