Loading...

Loading...
کتب
۱۶۰ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ( انصار کی ) دو لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا ”ابوبکر! انہیں چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه دخل عليها وعندها جاريتان في ايام منى تدففان وتضربان، والنبي صلى الله عليه وسلم متغش بثوبه، فانتهرهما ابو بكر، فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن وجهه، فقال " دعهما يا ابا بكر، فانها ايام عيد، وتلك الايام ايام منى ". وقالت عايشة رايت النبي صلى الله عليه وسلم يسترني، وانا انظر الى الحبشة، وهم يلعبون في المسجد فزجرهم {عمر} فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعهم امنا بني ارفدة ". يعني من الامن
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ( انصار کی ) دو لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا ”ابوبکر! انہیں چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه دخل عليها وعندها جاريتان في ايام منى تدففان وتضربان، والنبي صلى الله عليه وسلم متغش بثوبه، فانتهرهما ابو بكر، فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن وجهه، فقال " دعهما يا ابا بكر، فانها ايام عيد، وتلك الايام ايام منى ". وقالت عايشة رايت النبي صلى الله عليه وسلم يسترني، وانا انظر الى الحبشة، وهم يلعبون في المسجد فزجرهم {عمر} فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعهم امنا بني ارفدة ". يعني من الامن
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین ( قریش ) کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں بھی تو ان ہی کے خاندان سے ہوں۔ اس پر حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں آپ کو ( شعر میں ) اس طرح صاف نکال لے جاؤں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور ( ہشام نے ) اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا، عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں میں حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا، انہیں برا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے۔
حدثني عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت استاذن حسان النبي صلى الله عليه وسلم في هجاء المشركين، قال " كيف بنسبي ". فقال حسان لاسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين. وعن ابيه قال ذهبت اسب حسان عند عايشة فقالت لا تسبه فانه كان ينافح عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معن نے کہا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے محمد بن جیبر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد (جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد، احمد اور ماحی ہوں ( یعنی مٹانے والا ہوں ) کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا ( قیامت کے دن ) میرے بعد حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں یعنی خاتم النبین ہوں۔ میرے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا۔“
حدثني ابراهيم بن المنذر، قال حدثني معن، عن مالك، عن ابن شهاب، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لي خمسة اسماء انا محمد، واحمد، وانا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وانا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وانا العاقب
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور لعنت ملامت کو کس طرح دور کرتا ہے۔ مجھے وہ «مذمم» کہہ کر برا کہتے، اس پر لعنت کرتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم يشتمون مذمما ويلعنون مذمما وانا محمد
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی کسی شخص نے کوئی گھر بنایا، اسے خوب آراستہ پیراستہ کر کے مکمل کر دیا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔“
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا سليم، حدثنا سعيد بن ميناء، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " مثلي ومثل الانبياء كرجل بنى دارا فاكملها واحسنها، الا موضع لبنة، فجعل الناس يدخلونها ويتعجبون، ويقولون لولا موضع اللبنة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان مثلي ومثل الانبياء من قبلي كمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله، الا موضع لبنة من زاوية، فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له، ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة، وانا خاتم النبيين
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے اسی طرح بیان کیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم توفي وهو ابن ثلاث وستين. وقال ابن شهاب واخبرني سعيد بن المسيب مثله
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک صاحب کی آواز آئی۔ یا اباالقاسم! آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے ( معلوم ہوا کہ انہوں نے کسی اور کو پکارا ہے ) اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت مت رکھو۔“
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن حميد، عن انس رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم في السوق فقال رجل يا ابا القاسم. فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " سموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔“
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن منصور، عن سالم، عن جابر رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تسموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن ابن سيرين، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " سموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو فضل بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ خاصے قوی و توانا تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے کانوں اور آنکھوں سے جو میں نفع حاصل کر رہا ہوں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے۔ میری خالہ مجھے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں۔ اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے، آپ اس کے لیے دعا فرما دیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔
حدثني اسحاق، اخبرنا الفضل بن موسى، عن الجعيد بن عبد الرحمن، رايت السايب بن يزيد ابن اربع وتسعين جلدا معتدلا فقال قد علمت ما متعت به سمعي وبصري الا بدعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، ان خالتي ذهبت بي اليه فقالت يا رسول الله ان ابن اختي شاك فادع الله. قال فدعا لي
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا بھانجا بیمار ہو گیا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی پیا، پھر آپ کی پیٹھ کی طرف جا کے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت کو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان دیکھا۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ «حجلة»، «حجل الفرس» سے مشتق ہے جو گھوڑے کی اس سفیدی کو کہتے ہیں جو اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ہوتی ہے۔ ابراہیم بن حمزہ نے کہا: «مثل زر الحجلة» یعنی رائے مہملہ پہلے پھر زائے معجمہ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ رائے مہملہ پہلے ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد الله، حدثنا حاتم، عن الجعيد بن عبد الرحمن، قال سمعت السايب بن يزيد، قال ذهبت بي خالتي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابن اختي. وقع فمسح راسي ودعا لي بالبركة، وتوضا فشربت من وضويه، ثم قمت خلف ظهره فنظرت الى خاتم بين كتفيه. قال ابن عبيد الله الحجلة من حجل الفرس الذي بين عينيه. قال ابراهيم بن حمزة مثل زر الحجلة
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شباہت ہے۔ علی کی نہیں۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ ہنس رہے تھے ( خوش ہو رہے تھے ) ۔
حدثنا ابو عاصم، عن عمر بن سعيد بن ابي حسين، عن ابن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث، قال صلى ابو بكر رضى الله عنه العصر، ثم خرج يمشي فراى الحسن يلعب مع الصبيان، فحمله على عاتقه وقال بابي شبيه بالنبي لا شبيه بعلي. وعلي يضحك
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زبیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور ان سے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا تھا۔ حسن رضی اللہ عنہ میں آپ کی پوری شباہت موجود تھی۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا اسماعيل، عن ابي جحيفة رضى الله عنه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وكان الحسن يشبهه
مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، حسن بن علی رضی اللہ عنہما میں آپ کی شباہت پوری طرح موجود تھی۔ اسماعیل بن ابی خالد نے کہا، میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کریں۔ انہوں نے کہا آپ سفید رنگ کے تھے، کچھ بال سفید ہو گئے تھے اور آپ نے ہمیں تیرہ اونٹنیوں کے دیئے جانے کا حکم کیا تھا۔ لیکن ابھی ہم نے ان اونٹنیوں کو اپنے قبضہ میں بھی نہیں لیا تھا کہ آپ کی وفات ہو گئی۔
حدثني عمرو بن علي، حدثنا ابن فضيل، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، قال سمعت ابا جحيفة رضى الله عنه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وكان الحسن بن علي عليهما السلام يشبهه قلت لابي جحيفة صفه لي. قال كان ابيض قد شمط. وامر لنا النبي صلى الله عليه وسلم بثلاث عشرة قلوصا قال فقبض النبي صلى الله عليه وسلم قبل ان نقبضها
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے وہب نے، ان سے ابوجحیفہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ مبارک کے نیچے ٹھوڑی کے کچھ بال سفید تھے۔
حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن وهب ابي جحيفة السوايي، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم ورايت بياضا من تحت شفته السفلى العنفقة
ہم سے عصام بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حریز بن عثمان نے بیان کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہو گئے تھے۔
حدثنا عصام بن خالد، حدثنا حريز بن عثمان، انه سال عبد الله بن بسر صاحب النبي صلى الله عليه وسلم قال ارايت النبي صلى الله عليه وسلم كان شيخا قال كان في عنفقته شعرات بيض
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف مبارکہ بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے۔ نہ بہت لمبے اور نہ چھوٹے قد والے۔ رنگ کھلتا ہوا تھا ( سرخ و سفید ) نہ خالی سفید تھے اور نہ بالکل گندم گوں۔ آپ کے بال نہ بالکل مڑے ہوئے سخت قسم کے تھے اور نہ سیدھے لٹکے ہوئے ہی تھے۔ نزول وحی کے وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی۔ مکہ میں آپ نے دس سال تک قیام فرمایا اور اس پورے عرصہ میں آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی آپ کا قیام دس سال تک رہا۔ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے۔ ربیعہ ( راوی حدیث ) نے بیان کیا کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال دیکھا تو وہ لال تھا میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ خوشبو لگاتے لگاتے لال ہو گیا ہے۔
حدثني ابن بكير، قال حدثني الليث، عن خالد، عن سعيد بن ابي هلال، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، قال سمعت انس بن مالك، يصف النبي صلى الله عليه وسلم قال كان ربعة من القوم، ليس بالطويل ولا بالقصير، ازهر اللون ليس بابيض امهق ولا ادم، ليس بجعد قطط ولا سبط رجل، انزل عليه وهو ابن اربعين، فلبث بمكة عشر سنين ينزل عليه وبالمدينة عشر سنين، وليس في راسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء. قال ربيعة فرايت شعرا من شعره، فاذا هو احمر فسالت فقيل احمر من الطيب
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دس سال تک قیام کیا اور مدینہ میں دس سال تک قیام کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی تو آپ کے سر اور داڑھی کے بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك بن انس، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بالطويل الباين ولا بالقصير، ولا بالابيض الامهق، وليس بالادم وليس بالجعد القطط ولا بالسبط، بعثه الله على راس اربعين سنة، فاقام بمكة عشر سنين، وبالمدينة عشر سنين، فتوفاه الله، وليس في راسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء