Loading...

Loading...
کتب
۱۶۳ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن، حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مثلي ومثل الناس كمثل رجل استوقد نارا، فجعل الفراش وهذه الدواب تقع في النار ". وقال " كانت امراتان معهما ابناهما جاء الذيب فذهب بابن احداهما، فقالت صاحبتها انما ذهب بابنك. وقالت الاخرى انما ذهب بابنك. فتحاكمتا الى داود، فقضى به للكبرى فخرجتا على سليمان بن داود فاخبرتاه. فقال ايتوني بالسكين اشقه بينهما. فقالت الصغرى لا تفعل يرحمك الله، هو ابنها. فقضى به للصغرى ". قال ابو هريرة والله ان سمعت بالسكين الا يوميذ، وما كنا نقول الا المدية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن، حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مثلي ومثل الناس كمثل رجل استوقد نارا، فجعل الفراش وهذه الدواب تقع في النار ". وقال " كانت امراتان معهما ابناهما جاء الذيب فذهب بابن احداهما، فقالت صاحبتها انما ذهب بابنك. وقالت الاخرى انما ذهب بابنك. فتحاكمتا الى داود، فقضى به للكبرى فخرجتا على سليمان بن داود فاخبرتاه. فقال ايتوني بالسكين اشقه بينهما. فقالت الصغرى لا تفعل يرحمك الله، هو ابنها. فقضى به للصغرى ". قال ابو هريرة والله ان سمعت بالسكين الا يوميذ، وما كنا نقول الا المدية
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال لما نزلت {الذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم} قال اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اينا لم يلبس ايمانه بظلم فنزلت {لا تشرك بالله ان الشرك لظلم عظيم}
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
حدثني اسحاق، اخبرنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه قال لما نزلت {الذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم} شق ذلك على المسلمين، فقالوا يا رسول الله، اينا لا يظلم نفسه قال " ليس ذلك، انما هو الشرك، الم تسمعوا ما قال لقمان لابنه وهو يعظه {يا بنى لا تشرك بالله ان الشرك لظلم عظيم}
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کے متعلق بیان فرمایا کہ پھر آپ اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے۔ پھر دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ پوچھا گیا: کون ہیں؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں لانے کے لیے بھیجا، کہا کہ جی ہاں۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام وہاں موجود تھے۔ یہ دونوں نبی آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا، دونوں نے جواب دیا اور کہا خوش آمدید نیک بھائی اور نیک نبی۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام بن يحيى، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، عن مالك بن صعصعة، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم حدثهم عن ليلة اسري " ثم صعد حتى اتى السماء الثانية فاستفتح، قيل من هذا قال جبريل. قيل ومن معك قال محمد. قيل وقد ارسل اليه قال نعم. فلما خلصت، فاذا يحيى وعيسى وهما ابنا خالة. قال هذا يحيى وعيسى فسلم عليهما. فسلمت فردا ثم قالا مرحبا بالاخ الصالح والنبي الصالح
ہم سے ابولیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر ایک بنی آدم جب پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور بچہ شیطان کے چھونے سے زور سے چیختا ہے۔ سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہما السلام کے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( اس کی وجہ مریم علیہما السلام کی والدہ کی دعا ہے کہ اے اللہ! ) میں اسے ( مریم کو ) اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سعيد بن المسيب، قال قال ابو هريرة رضى الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من بني ادم مولود الا يمسه الشيطان حين يولد، فيستهل صارخا من مس الشيطان، غير مريم وابنها ". ثم يقول ابو هريرة {واني اعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم}
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، ان سے ہشام، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا، کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مریم بنت عمران ( اپنے زمانہ میں ) سب سے بہترین خاتون تھیں اور اس امت کی سب سے بہترین خاتون خدیجہ ہیں ( رضی اللہ عنہا ) ۔
حدثني احمد بن ابي رجاء، حدثنا النضر، عن هشام، قال اخبرني ابي قال، سمعت عبد الله بن جعفر، قال سمعت عليا رضى الله عنه يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " خير نسايها مريم ابنة عمران، وخير نسايها خديجة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، انہوں نے کہا ہم کہ میں نے مرہ ہمدانی سے سنا۔ وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی۔ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت مرة الهمداني، يحدث عن ابي موسى الاشعري رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام، كمل من الرجال كثير، ولم يكمل من النساء الا مريم بنت عمران واسية امراة فرعون
اور ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والیوں ( عربی خواتین ) میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں۔ اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگراں و محافظ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو زہری کے بھتیجے اور اسحاق کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
وقال ابن وهب اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نساء قريش خير نساء ركبن الابل، احناه على طفل، وارعاه على زوج في ذات يده ". يقول ابو هريرة على اثر ذلك ولم تركب مريم بنت عمران بعيرا قط. تابعه ابن اخي الزهري واسحاق الكلبي عن الزهري
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لا شریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس نے جو بھی عمل کیا ہو گا ( آخر ) اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ ولید نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے عمیر نے اور جنادہ نے اور اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ( ایسا شخص ) جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے ( داخل ہو گا ) ۔
حدثنا صدقة بن الفضل، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، قال حدثني عمير بن هاني، قال حدثني جنادة بن ابي امية، عن عبادة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من شهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له، وان محمدا عبده ورسوله، وان عيسى عبد الله ورسوله وكلمته، القاها الى مريم، وروح منه، والجنة حق والنار حق، ادخله الله الجنة على ما كان من العمل ". قال الوليد حدثني ابن جابر عن عمير عن جنادة وزاد " من ابواب الجنة الثمانية، ايها شاء
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گود میں تین بچوں کے سوا اور کسی نے بات نہیں کی۔ اول عیسیٰ علیہ السلام ( دوسرے کا واقعہ یہ ہے کہ ) بنی اسرائیل میں ایک بزرگ تھے، نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی ماں نے انہیں پکارا۔ انہوں نے۔ ( اپنے دل میں ) کہا کہ میں والدہ کا جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں؟ اس پر ان کی والدہ نے ( غصہ ہو کر ) بددعا کی: اے اللہ! اس وقت تک اسے موت نہ آئے جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے سامنے ایک فاحشہ عورت آئی اور ان سے بدکاری چاہی لیکن انہوں نے ( اس کی خواہش پوری کرنے سے ) انکار کیا۔ پھر ایک چرواہے کے پاس آئی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ اور اس نے ان پر یہ تہمت دھری کہ یہ جریج کا بچہ ہے۔ ان کی قوم کے لوگ آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا، انہیں نیچے اتار کر لائے اور انہیں گالیاں دیں۔ پھر انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی، اس کے بعد بچے کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے؟ بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ چرواہا ہے اس پر ( ان کی قوم شرمندہ ہوئی اور ) کہا ہم آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنائیں گے۔ لیکن انہوں نے کہا ہرگز نہیں، مٹی ہی کا بنے گا ( تیسرا واقعہ ) اور ایک بنی اسرائیل کی عورت تھی، اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ قریب سے ایک سوار نہایت عزت والا اور خوش پوش گزرا۔ اس عورت نے دعا کی: اے اللہ! میرے بچے کو بھی اسی جیسا بنا دے لیکن بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر اس کے سینے سے لگ کر دودھ پینے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی چوس رہے ہیں ( بچے کے دودھ پینے کی کیفیت بتلاتے وقت ) پھر ایک باندی اس کے قریب سے لے جائی گئی ( جسے اس کے مالک مار رہے تھے ) تو اس عورت نے دعا کی کہ اے اللہ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا۔ بچے نے پھر اس کا پستان چھوڑ دیا اور کہا کہ اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنا دے۔ اس عورت نے پوچھا۔ ایسا تو کیوں کہہ رہا ہے؟ بچے نے کہا کہ وہ سوار ظالموں میں سے ایک ظالم شخص تھا اور اس باندی سے لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے چوری کی اور زنا کیا حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا جرير بن حازم، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لم يتكلم في المهد الا ثلاثة عيسى، وكان في بني اسراييل رجل يقال له جريج، كان يصلي، فجاءته امه فدعته، فقال اجيبها او اصلي. فقالت اللهم لا تمته حتى تريه وجوه المومسات. وكان جريج في صومعته، فتعرضت له امراة وكلمته فابى، فاتت راعيا، فامكنته من نفسها فولدت غلاما، فقالت من جريج. فاتوه فكسروا صومعته، وانزلوه وسبوه، فتوضا وصلى ثم اتى الغلام فقال من ابوك يا غلام قال الراعي. قالوا نبني صومعتك من ذهب. قال لا الا من طين. وكانت امراة ترضع ابنا لها من بني اسراييل، فمر بها رجل راكب ذو شارة، فقالت اللهم اجعل ابني مثله. فترك ثديها، واقبل على الراكب فقال اللهم لا تجعلني مثله. ثم اقبل على ثديها يمصه قال ابو هريرة كاني انظر الى النبي صلى الله عليه وسلم يمص اصبعه ثم مر بامة فقالت اللهم لا تجعل ابني مثل هذه. فترك ثديها فقال اللهم اجعلني مثلها. فقالت لم ذاك فقال الراكب جبار من الجبابرة، وهذه الامة يقولون سرقت زنيت. ولم تفعل
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے (دوسری سند) مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس رات میری معراج ہوئی، میں نے موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا وہ…. میرا خیال ہے کہ معمر نے کہا…. دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ نے بیان کیا کہ میں نے عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حلیہ بیان فرمایا کہ درمیانہ قد اور سرخ و سپید تھے، جیسے ابھی ابھی غسل خانے سے باہر آئے ہوں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملاقات کی تھی اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا کہ جو آپ کا جی چاہے لے لو۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا اور پی لیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ فطرت کی آپ نے راہ پا لی، یا فطرت کو آپ نے پا لیا۔ اس کے بجائے اگر آپ شراب کا برتن لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر،. حدثني محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليلة اسري به لقيت موسى قال فنعته فاذا رجل حسبته قال مضطرب رجل الراس، كانه من رجال شنوءة قال ولقيت عيسى فنعته النبي صلى الله عليه وسلم فقال ربعة احمر كانما خرج من ديماس يعني الحمام ورايت ابراهيم، وانا اشبه ولده به قال واتيت باناءين احدهما لبن والاخر فيه خمر، فقيل لي خذ ايهما شيت. فاخذت اللبن فشربته، فقيل لي هديت الفطرة، او اصبت الفطرة، اما انك لو اخذت الخمر غوت امتك
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، کہا ہم کو عثمان بن مغیرہ نے خبر دی، انہیں مجاہد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نہایت سرخ گھونگھریالے بال والے اور چوڑے سینے والے تھے اور موسیٰ علیہ السلام گندم گوں دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے کوئی قبیلہ زط کا آدمی ہو۔“
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، اخبرنا عثمان بن المغيرة، عن مجاهد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " رايت عيسى وموسى وابراهيم، فاما عيسى فاحمر جعد عريض الصدر، واما موسى فادم جسيم سبط كانه من رجال الزط
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى، عن نافع، قال عبد الله ذكر النبي صلى الله عليه وسلم يوما بين ظهرى الناس المسيح الدجال، فقال " ان الله ليس باعور، الا ان المسيح الدجال اعور العين اليمنى، كان عينه عنبة طافية ". " واراني الليلة عند الكعبة في المنام، فاذا رجل ادم كاحسن ما يرى من ادم الرجال، تضرب لمته بين منكبيه، رجل الشعر، يقطر راسه ماء، واضعا يديه على منكبى رجلين وهو يطوف بالبيت. فقلت من هذا فقالوا هذا المسيح ابن مريم. ثم رايت رجلا وراءه جعدا قططا اعور عين اليمنى كاشبه من رايت بابن قطن، واضعا يديه على منكبى رجل، يطوف بالبيت، فقلت من هذا قالوا المسيح الدجال ". تابعه عبيد الله عن نافع
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى، عن نافع، قال عبد الله ذكر النبي صلى الله عليه وسلم يوما بين ظهرى الناس المسيح الدجال، فقال " ان الله ليس باعور، الا ان المسيح الدجال اعور العين اليمنى، كان عينه عنبة طافية ". " واراني الليلة عند الكعبة في المنام، فاذا رجل ادم كاحسن ما يرى من ادم الرجال، تضرب لمته بين منكبيه، رجل الشعر، يقطر راسه ماء، واضعا يديه على منكبى رجلين وهو يطوف بالبيت. فقلت من هذا فقالوا هذا المسيح ابن مريم. ثم رايت رجلا وراءه جعدا قططا اعور عين اليمنى كاشبه من رايت بابن قطن، واضعا يديه على منكبى رجل، يطوف بالبيت، فقلت من هذا قالوا المسيح الدجال ". تابعه عبيد الله عن نافع
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا، کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ سرخ تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنے کو دیکھا، اس وقت مجھے ایک صاحب نظر آئے جو گندمی رنگ لٹکے ہوئے بال والے تھے، دو آدمیوں کے درمیان ان کا سہارا لیے ہوئے اور سر سے پانی صاف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ اس پر میں نے انہیں غور سے دیکھا تو مجھے ایک اور شخص بھی دکھائی دیا جو سرخ، موٹا، سر کے بال مڑے ہوئے اور داہنی آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے اٹھا ہوا انار ہو، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس سے شکل و صورت میں ابن قطن بہت زیادہ مشابہ تھا۔ زہری نے کہا کہ یہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مر گیا تھا۔
حدثنا احمد بن محمد المكي، قال سمعت ابراهيم بن سعد، قال حدثني الزهري، عن سالم، عن ابيه،، قال لا والله ما قال النبي صلى الله عليه وسلم لعيسى احمر، ولكن قال " بينما انا نايم اطوف بالكعبة، فاذا رجل ادم سبط الشعر، يهادى بين رجلين، ينطف راسه ماء او يهراق راسه ماء فقلت من هذا قالوا ابن مريم، فذهبت التفت، فاذا رجل احمر جسيم، جعد الراس، اعور عينه اليمنى، كان عينه عنبة طافية. قلت من هذا قالوا هذا الدجال. واقرب الناس به شبها ابن قطن ". قال الزهري رجل من خزاعة هلك في الجاهلية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں ابن مریم علیہما السلام سے دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انا اولى الناس بابن مريم، والانبياء اولاد علات، ليس بيني وبينه نبي
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں ( کی طرح ) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے۔“ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح بن سليمان، حدثنا هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا اولى الناس بعيسى ابن مريم في الدنيا والاخرة، والانبياء اخوة لعلات، امهاتهم شتى، ودينهم واحد ". وقال ابراهيم بن طهمان عن موسى بن عقبة، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا پھر اس سے دریافت فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا۔“
وحدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " راى عيسى ابن مريم رجلا يسرق، فقال له اسرقت قال كلا والله الذي لا اله الا هو. فقال عيسى امنت بالله وكذبت عيني
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا تھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، يقول اخبرني عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، سمع عمر رضى الله عنه يقول على المنبر سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تطروني كما اطرت النصارى ابن مريم، فانما انا عبده، فقولوا عبد الله ورسوله