Loading...

Loading...
کتب
۱۶۳ احادیث
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو صالح بن حیی نے خبر دی کہ خراسان کے ایک شخص نے شعبی سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبردہ نے خبر دی اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ”اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو اچھی طرح ادب سکھلائے اور پورے طور پر اسے دین کی تعلیم دے۔ پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص جو پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا، پھر مجھ پر ایمان لایا تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے اور وہ غلام جو اپنے رب کا بھی ڈر رکھتا ہے اور اپنے آقا کی بھی اطاعت کرتا ہے تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے۔“
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا صالح بن حى، ان رجلا، من اهل خراسان قال للشعبي. فقال الشعبي اخبرني ابو بردة عن ابي موسى الاشعري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ادب الرجل امته فاحسن تاديبها، وعلمها فاحسن تعليمها ثم اعتقها فتزوجها، كان له اجران، واذا امن بعيسى ثم امن بي، فله اجران، والعبد اذا اتقى ربه واطاع مواليه، فله اجران
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مغیرہ بن نعمان نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قیامت کے دن ) تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ”جس طرح ہم نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے، یہ ہماری جانب سے وعدہ ہے اور بیشک ہم اسے کرنے والے ہیں۔“ پھر سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ پھر میرے اصحاب کو دائیں ( جنت کی ) طرف لے جایا جائے گا۔ لیکن کچھ کو بائیں ( جہنم کی ) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ جب آپ ان سے جدا ہوئے تو اسی وقت انہوں نے ارتداد اختیار کر لیا تھا۔ میں اس وقت وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے کہا تھا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان کی نگرانی کرتا رہا لیکن جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان ہے اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آیت «العزيز الحكيم» تک۔ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ ابوعبداللہ سے روایت ہے اور ان سے قبیصہ نے بیان کیا کہ یہ وہ مرتدین ہیں جنہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کفر اختیار کیا تھا اور جن سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جنگ کی تھی۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تحشرون حفاة عراة غرلا، ثم قرا {كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين} فاول من يكسى ابراهيم، ثم يوخذ برجال من اصحابي ذات اليمين وذات الشمال فاقول اصحابي فيقال انهم لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم، فاقول كما قال العبد الصالح عيسى ابن مريم {وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شىء شهيد} الى قوله {العزيز الحكيم}". قال محمد بن يوسف ذكر عن ابي عبد الله عن قبيصة قال هم المرتدون الذين ارتدوا على عهد ابي بكر، فقاتلهم ابو بكر رضى الله عنه
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ اس وقت کا ایک سجدہ «دنيا وما فيها» سے بڑھ کر ہو گا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا» ”اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘
حدثنا اسحاق، اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان سعيد بن المسيب، سمع ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده، ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله احد، حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ". ثم يقول ابو هريرة واقرءوا ان شيتم {وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا}
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام نافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب عیسیٰ ابن مریم تم میں اتریں گے ( تم نماز پڑھ رہے ہو گے ) اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔“ اس روایت کی متابعت عقیل اور اوزاعی نے کی۔
حدثنا ابن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن نافع، مولى ابي قتادة الانصاري ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم ". تابعه عقيل والاوزاعي
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن ربعي بن حراش، قال قال عقبة بن عمرو لحذيفة الا تحدثنا ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اني سمعته يقول " ان مع الدجال اذا خرج ماء ونارا، فاما الذي يرى الناس انها النار فماء بارد، واما الذي يرى الناس انه ماء بارد فنار تحرق، فمن ادرك منكم فليقع في الذي يرى انها نار، فانه عذب بارد ". قال حذيفة وسمعته يقول " ان رجلا كان فيمن كان قبلكم اتاه الملك ليقبض روحه فقيل له هل عملت من خير قال ما اعلم، قيل له انظر. قال ما اعلم شييا غير اني كنت ابايع الناس في الدنيا واجازيهم، فانظر الموسر، واتجاوز عن المعسر. فادخله الله الجنة ". فقال وسمعته يقول " ان رجلا حضره الموت، فلما ييس من الحياة اوصى اهله اذا انا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا واوقدوا فيه نارا حتى اذا اكلت لحمي، وخلصت الى عظمي، فامتحشت، فخذوها فاطحنوها، ثم انظروا يوما راحا فاذروه في اليم. ففعلوا، فجمعه فقال له لم فعلت ذلك قال من خشيتك. فغفر الله له ". قال عقبة بن عمرو، وانا سمعته يقول ذاك، وكان نباشا
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن ربعي بن حراش، قال قال عقبة بن عمرو لحذيفة الا تحدثنا ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اني سمعته يقول " ان مع الدجال اذا خرج ماء ونارا، فاما الذي يرى الناس انها النار فماء بارد، واما الذي يرى الناس انه ماء بارد فنار تحرق، فمن ادرك منكم فليقع في الذي يرى انها نار، فانه عذب بارد ". قال حذيفة وسمعته يقول " ان رجلا كان فيمن كان قبلكم اتاه الملك ليقبض روحه فقيل له هل عملت من خير قال ما اعلم، قيل له انظر. قال ما اعلم شييا غير اني كنت ابايع الناس في الدنيا واجازيهم، فانظر الموسر، واتجاوز عن المعسر. فادخله الله الجنة ". فقال وسمعته يقول " ان رجلا حضره الموت، فلما ييس من الحياة اوصى اهله اذا انا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا واوقدوا فيه نارا حتى اذا اكلت لحمي، وخلصت الى عظمي، فامتحشت، فخذوها فاطحنوها، ثم انظروا يوما راحا فاذروه في اليم. ففعلوا، فجمعه فقال له لم فعلت ذلك قال من خشيتك. فغفر الله له ". قال عقبة بن عمرو، وانا سمعته يقول ذاك، وكان نباشا
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن ربعي بن حراش، قال قال عقبة بن عمرو لحذيفة الا تحدثنا ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اني سمعته يقول " ان مع الدجال اذا خرج ماء ونارا، فاما الذي يرى الناس انها النار فماء بارد، واما الذي يرى الناس انه ماء بارد فنار تحرق، فمن ادرك منكم فليقع في الذي يرى انها نار، فانه عذب بارد ". قال حذيفة وسمعته يقول " ان رجلا كان فيمن كان قبلكم اتاه الملك ليقبض روحه فقيل له هل عملت من خير قال ما اعلم، قيل له انظر. قال ما اعلم شييا غير اني كنت ابايع الناس في الدنيا واجازيهم، فانظر الموسر، واتجاوز عن المعسر. فادخله الله الجنة ". فقال وسمعته يقول " ان رجلا حضره الموت، فلما ييس من الحياة اوصى اهله اذا انا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا واوقدوا فيه نارا حتى اذا اكلت لحمي، وخلصت الى عظمي، فامتحشت، فخذوها فاطحنوها، ثم انظروا يوما راحا فاذروه في اليم. ففعلوا، فجمعه فقال له لم فعلت ذلك قال من خشيتك. فغفر الله له ". قال عقبة بن عمرو، وانا سمعته يقول ذاك، وكان نباشا
حدثني بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرني معمر، ويونس، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان عايشة، وابن، عباس رضى الله عنهم قالا لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة على وجهه، فاذا اغتم كشفها عن وجهه، فقال وهو كذلك " لعنة الله على اليهود والنصارى، اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". يحذر ما صنعوا
حدثني بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرني معمر، ويونس، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان عايشة، وابن، عباس رضى الله عنهم قالا لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة على وجهه، فاذا اغتم كشفها عن وجهه، فقال وهو كذلك " لعنة الله على اليهود والنصارى، اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". يحذر ما صنعوا
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فرات قزار نے بیان کیا، انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں پانچ سال تک بیٹھا ہوں۔ میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔“
حدثني محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن فرات القزاز، قال سمعت ابا حازم، قال قاعدت ابا هريرة خمس سنين، فسمعته يحدث، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كانت بنو اسراييل تسوسهم الانبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وانه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء فيكثرون. قالوا فما تامرنا قال فوا ببيعة الاول فالاول، اعطوهم حقهم، فان الله سايلهم عما استرعاهم
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی ساہنہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کون ہو سکتا ہے؟“
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لتتبعن سنن من قبلكم شبرا بشبر، وذراعا بذراع، حتى لو سلكوا جحر ضب لسلكتموه ". قلنا يا رسول الله، اليهود والنصارى قال " فمن
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( نماز کے لیے اعلان کے طریقے پر بحث کرتے وقت ) صحابہ نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا، لیکن بعض نے کہا کہ یہ تو یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔ آخر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ اذان میں ( کلمات ) دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر میں ایک ایک دفعہ۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عبد الوارث، حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه قال ذكروا النار والناقوس، فذكروا اليهود والنصارى، فامر بلال ان يشفع الاذان وان يوتر الاقامة
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو ناپسند کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اس طرح یہود کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها كانت تكره ان يجعل {المصلي} يده في خاصرته وتقول ان اليهود تفعله. تابعه شعبة عن الاعمش
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارا زمانہ پچھلی امتوں کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت ہے، تمہاری مثال یہود و نصاریٰ کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کچھ مزدور لیے اور کہا کہ میرا کام آدھے دن تک کون ایک ایک قیراط کی اجرت پر کرے گا؟ یہود نے آدھے دن تک ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کام کرنا طے کر لیا۔ پھر اس شخص نے کہا کہ آدھے دن سے عصر کی نماز تک میرا کام کون شخص ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کرے گا۔ اب نصاریٰ ایک ایک قیراط کی مزدوری پر آدھے دن سے عصر کے وقت تک مزدوری کرنے پر تیار ہو گئے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک دو دو قیراط پر کون شخص میرا کام کرے گا؟ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ تمہیں ہو جو دو دو قیراط کی مزدوری پر عصر سے سورج ڈوبنے تک کام کرو گے۔ تم آگاہ رہو کہ تمہاری مزدوری دگنی ہے۔ یہود و نصاریٰ اس فیصلہ پر غصہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کو کم ملے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کیا میں نے تمہیں تمہارا حق دینے میں کوئی کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں زیادہ دوں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما اجلكم في اجل من خلا من الامم ما بين صلاة العصر الى مغرب الشمس، وانما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كرجل استعمل عمالا فقال من يعمل لي الى نصف النهار على قيراط قيراط فعملت اليهود الى نصف النهار على قيراط قيراط، ثم قال من يعمل لي من نصف النهار الى صلاة العصر على قيراط قيراط فعملت النصارى من نصف النهار الى صلاة العصر، على قيراط قيراط، ثم قال من يعمل لي من صلاة العصر الى مغرب الشمس على قيراطين قيراطين الا فانتم الذين يعملون من صلاة العصر الى مغرب الشمس على قيراطين قيراطين، الا لكم الاجر مرتين، فغضبت اليهود والنصارى، فقالوا نحن اكثر عملا واقل عطاء، قال الله هل ظلمتكم من حقكم شييا قالوا لا. قال فانه فضلي اعطيه من شيت
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے طاؤس نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ فلاں کو تباہ کرے۔ انہیں کیا معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”یہود پر اللہ کی لعنت ہو، ان کے لیے چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔“ اس روایت کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس، قال سمعت عمر رضى الله عنه يقول قاتل الله فلانا، الم يعلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله اليهود، حرمت عليهم الشحوم، فجملوها فباعوها ". تابعه جابر وابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، کہا ہم سے حسان بن عطیہ نے بیان کیا، ان سے ابوکبشہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ! اگرچہ ایک ہی آیت ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات تم بیان کر سکتے ہو، ان میں کوئی حرج نہیں اور جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ باندھا تو اسے اپنے جہنم کے ٹھکانے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔“
حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، اخبرنا الاوزاعي، حدثنا حسان بن عطية، عن ابي كبشة، عن عبد الله بن عمرو، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بلغوا عني ولو اية، وحدثوا عن بني اسراييل ولا حرج، ومن كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہود و نصاریٰ ( ڈاڑھی وغیرہ ) میں خضاب نہیں لگاتے، تم لوگ اس کے خلاف طریقہ اختیار کرو ( یعنی خضاب لگایا کرو ) ۔“
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال قال ابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة رضى الله عنه قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اليهود والنصارى لا يصبغون، فخالفوهم
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا مجھ سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے حسن نے، کہا ہم سے جندب بن عبداللہ نے اسی مسجد میں بیان کیا (حسن نے کہا کہ) انہوں نے جب ہم سے بیان کیا ہم اسے بھولے نہیں اور نہ ہمیں اس کا اندیشہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث کی نسبت غلط کی ہو گی، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پچھلے زمانے میں ایک شخص ( کے ہاتھ میں ) زخم ہو گیا تھا اور اسے اس سے بڑی تکلیف تھی، آخر اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بہنے لگا اور اسی سے وہ مر گیا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی اس لیے میں نے بھی جنت کو اس پر حرام کر دیا۔“
حدثني محمد، قال حدثني حجاج، حدثنا جرير، عن الحسن، حدثنا جندب بن عبد الله، في هذا المسجد، وما نسينا منذ حدثنا، وما نخشى ان يكون جندب كذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كان فيمن كان قبلكم رجل به جرح، فجزع فاخذ سكينا فحز بها يده، فما رقا الدم حتى مات، قال الله تعالى بادرني عبدي بنفسه، حرمت عليه الجنة
مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی حمزہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (دوسری سند) اور مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہیں ہمام نے خبر دی، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ اور اچھی چمڑی کیونکہ مجھ سے لوگ پرہیز کرتے ہیں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کا رنگ بھی خوبصورت ہو گیا اور چمڑی بھی اچھی ہو گئی۔ فرشتے نے پوچھا کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اونٹ! یا اس نے گائے کہی، اسحاق بن عبداللہ کو اس سلسلے میں شک تھا کہ کوڑھی اور گنجے دونوں میں سے ایک نے اونٹ کی خواہش کی تھی اور دوسرے نے گائے کی۔ چنانچہ اسے حاملہ اونٹنی دی گئی اور کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا، پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ عمدہ بال اور موجودہ عیب میرا ختم ہو جائے کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے مجھ سے پرہیز کرتے ہیں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے بجائے عمدہ بال آ گئے۔ فرشتے نے پوچھا، کس طرح کا مال پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ گائے! بیان کیا کہ فرشتے نے اسے حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔ پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دیدے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی۔ پھر پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ بکریاں! فرشتے نے اسے حاملہ بکری دے دی۔ پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے، یہاں تک کہ کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی، گنجے کی گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی۔ پھر دوبارہ فرشتہ اپنی اسی پہلی شکل میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین و فقیر آدمی ہوں، سفر کا تمام سامان و اسباب ختم ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے حاجت پوری ہونے کی امید نہیں، لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے سفر کو پورا کر سکوں۔ اس نے فرشتے سے کہا کہ میرے ذمہ حقوق اور بہت سے ہیں۔ فرشتہ نے کہا، غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کھاتے تھے۔ تم ایک فقیر اور قلاش تھے۔ پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں؟ اس نے کہا کہ یہ ساری دولت تو میرے باپ دادا سے چلی آ رہی ہے۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی اسی پہلی صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا، اپنی اسی پہلی صورت میں اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان ختم ہو چکے ہیں اور سوا اللہ تعالیٰ کے کسی سے حاجت پوری ہونے کی توقع نہیں۔ میں تم سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے، ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں۔ اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر و محتاج تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مالدار بنایا۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو، اللہ کی قسم جب تم نے اللہ کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے جاؤ، میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا۔ فرشتے نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس رکھو، یہ تو صرف امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر نے، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پچھلے زمانے میں ( بنی اسرائیل میں سے ) تین آدمی کہیں راستے میں جا رہے تھے کہ اچانک بارش نے انہیں آ لیا۔ وہ تینوں پہاڑ کے ایک کھوہ ( غار ) میں گھس گئے ( جب وہ اندر چلے گئے ) تو غار کا منہ بند ہو گیا۔ اب تینوں آپس میں یوں کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ہمیں اس مصیبت سے اب تو صرف سچائی ہی نجات دلائے گی۔ بہتر یہ ہے کہ اب ہر شخص اپنے کسی ایسے عمل کو بیان کر کے دعا کرے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے کیا تھا۔ چنانچہ ایک نے اس طرح دعا کی۔ اے اللہ! تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے ایک مزدور رکھا تھا جس نے ایک فرق ( تین صاع ) چاول کی مزدوری پر میرا کام کیا تھا لیکن وہ شخص ( غصہ میں آ کر ) چلا گیا اور اپنے چاول چھوڑ گیا۔ پھر میں نے اس ایک فرق چاول کو لیا اور اس کی کاشت کی۔ اس سے اتنا کچھ ہو گیا کہ میں نے پیداوار میں سے گائے بیل خرید لیے۔ اس کے بہت دن بعد وہی شخص مجھ سے اپنی مزدوری مانگنے آیا۔ میں نے کہا کہ یہ گائے بیل کھڑے ہیں ان کو لے جا۔ اس نے کہا کہ میرا تو صرف ایک فرق چاول تم پر ہونا چاہیے تھا۔ میں نے اس سے کہا یہ سب گائے بیل لے جا کیونکہ اسی ایک فرق کی آمدنی ہے۔ آخر وہ گائے بیل لے کر چلا گیا۔ پس اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ ایمانداری میں نے صرف تیرے ڈر سے کی تھی تو، تو غار کا منہ کھول دے۔ چنانچہ اسی وقت وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ پھر دوسرے نے اس طرح دعا کی۔ اے اللہ! تجھے خوب معلوم ہے کہ میرے ماں باپ جب بوڑھے ہو گئے تو میں ان کی خدمت میں روزانہ رات میں اپنی بکریوں کا دودھ لا کر پلایا کرتا تھا۔ ایک دن اتفاق سے میں دیر سے آیا تو وہ سو چکے تھے۔ ادھر میرے بیوی اور بچے بھوک سے بلبلا رہے تھے لیکن میری عادت تھی کہ جب تک والدین کو دودھ نہ پلا لوں، بیوی بچوں کو نہیں دیتا تھا مجھے انہیں بیدار کرنا بھی پسند نہیں تھا اور چھوڑنا بھی پسند نہ تھا ( کیونکہ یہی ان کا شام کا کھانا تھا اور اس کے نہ پینے کی وجہ سے وہ کمزور ہو جاتے ) پس میں ان کا وہیں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو تو ہماری مشکل دور کر دے۔ اس وقت وہ پتھر کچھ اور ہٹ گیا اور اب آسمان نظر آنے لگا۔ پھر تیسرے شخص نے یوں دعا کی۔ اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے ایک بار اس سے صحبت کرنی چاہی، اس نے انکار کیا مگر اس شرط پر تیار ہوئی کہ میں اسے سو اشرفی لا کر دے دوں۔ میں نے یہ رقم حاصل کرنے کے لیے کوشش کی۔ آخر وہ مجھے مل گئی تو میں اس کے پاس آیا اور وہ رقم اس کے حوالے کر دی۔ اس نے مجھے اپنے نفس پر قدرت دے دی۔ جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھ چکا تو اس نے کہا کہ اللہ سے ڈر اور مہر کو بغیر حق کے نہ توڑ۔ میں ( یہ سنتے ہی ) کھڑا ہو گیا اور سو اشرفی بھی واپس نہیں لی۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ عمل تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو، تو ہماری مشکل آسان کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مشکل دور کر دی اور وہ تینوں باہر نکل آئے۔
حدثني احمد بن اسحاق، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، حدثنا اسحاق بن عبد الله، قال حدثني عبد الرحمن بن ابي عمرة، ان ابا هريرة، حدثه انه، سمع النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثني محمد، حدثنا عبد الله بن رجاء، اخبرنا همام، عن اسحاق بن عبد الله، قال اخبرني عبد الرحمن بن ابي عمرة، ان ابا هريرة رضى الله عنه حدثه انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان ثلاثة في بني اسراييل ابرص واقرع واعمى بدا لله ان يبتليهم، فبعث اليهم ملكا، فاتى الابرص. فقال اى شىء احب اليك قال لون حسن وجلد حسن، قد قذرني الناس. قال فمسحه، فذهب عنه، فاعطي لونا حسنا وجلدا حسنا. فقال اى المال احب اليك قال الابل او قال البقر هو شك في ذلك، ان الابرص والاقرع، قال احدهما الابل، وقال الاخر البقر فاعطي ناقة عشراء. فقال يبارك لك فيها. واتى الاقرع فقال اى شىء احب اليك قال شعر حسن، ويذهب عني هذا، قد قذرني الناس. قال فمسحه فذهب، واعطي شعرا حسنا. قال فاى المال احب اليك قال البقر. قال فاعطاه بقرة حاملا، وقال يبارك لك فيها. واتى الاعمى فقال اى شىء احب اليك قال يرد الله الى بصري، فابصر به الناس. قال فمسحه، فرد الله اليه بصره. قال فاى المال احب اليك قال الغنم. فاعطاه شاة والدا، فانتج هذان، وولد هذا، فكان لهذا واد من ابل، ولهذا واد من بقر، ولهذا واد من الغنم. ثم انه اتى الابرص في صورته وهييته فقال رجل مسكين، تقطعت بي الحبال في سفري، فلا بلاغ اليوم الا بالله ثم بك، اسالك بالذي اعطاك اللون الحسن والجلد الحسن والمال بعيرا اتبلغ عليه في سفري. فقال له ان الحقوق كثيرة. فقال له كاني اعرفك، الم تكن ابرص يقذرك الناس فقيرا فاعطاك الله فقال لقد ورثت لكابر عن كابر. فقال ان كنت كاذبا فصيرك الله الى ما كنت، واتى الاقرع في صورته وهييته، فقال له مثل ما قال لهذا، فرد عليه مثل ما رد عليه هذا فقال ان كنت كاذبا فصيرك الله الى ما كنت. واتى الاعمى في صورته فقال رجل مسكين وابن سبيل وتقطعت بي الحبال في سفري، فلا بلاغ اليوم الا بالله، ثم بك اسالك بالذي رد عليك بصرك شاة اتبلغ بها في سفري. فقال قد كنت اعمى فرد الله بصري، وفقيرا فقد اغناني، فخذ ما شيت، فوالله لا اجهدك اليوم بشىء اخذته لله. فقال امسك مالك، فانما ابتليتم، فقد رضي الله عنك وسخط على صاحبيك
حدثنا اسماعيل بن خليل، اخبرنا علي بن مسهر، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينما ثلاثة نفر ممن كان قبلكم يمشون اذ اصابهم مطر، فاووا الى غار، فانطبق عليهم، فقال بعضهم لبعض انه والله يا هولاء لا ينجيكم الا الصدق، فليدع كل رجل منكم بما يعلم انه قد صدق فيه. فقال واحد منهم اللهم ان كنت تعلم انه كان لي اجير عمل لي على فرق من ارز، فذهب وتركه، واني عمدت الى ذلك الفرق فزرعته، فصار من امره اني اشتريت منه بقرا، وانه اتاني يطلب اجره فقلت اعمد الى تلك البقر. فسقها، فقال لي انما لي عندك فرق من ارز. فقلت له اعمد الى تلك البقر فانها من ذلك الفرق، فساقها، فان كنت تعلم اني فعلت ذلك من خشيتك، ففرج عنا. فانساحت عنهم الصخرة. فقال الاخر اللهم ان كنت تعلم انه كان لي ابوان شيخان كبيران، فكنت اتيهما كل ليلة بلبن غنم لي، فابطات عليهما ليلة فجيت وقد رقدا واهلي وعيالي يتضاغون من الجوع، فكنت لا اسقيهم حتى يشرب ابواى، فكرهت ان اوقظهما، وكرهت ان ادعهما، فيستكنا لشربتهما، فلم ازل انتظر حتى طلع الفجر، فان كنت تعلم اني فعلت ذلك من خشيتك، ففرج عنا. فانساحت عنهم الصخرة، حتى نظروا الى السماء. فقال الاخر اللهم ان كنت تعلم انه كان لي ابنة عم من احب الناس الى، واني راودتها عن نفسها فابت الا ان اتيها بماية دينار، فطلبتها حتى قدرت، فاتيتها بها فدفعتها اليها، فامكنتني من نفسها، فلما قعدت بين رجليها، فقالت اتق الله ولا تفض الخاتم الا بحقه. فقمت وتركت الماية دينار، فان كنت تعلم اني فعلت ذلك من خشيتك ففرج عنا. ففرج الله عنهم فخرجوا