Loading...

Loading...
کتب
۱۶۳ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر میں ) پیلو کے پھل توڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سیاہ ہوں انہیں توڑو ‘ کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: کیا آپ نے کبھی بکریاں چرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نجني الكباث، وان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " عليكم بالاسود منه، فانه اطيبه ". قالوا اكنت ترعى الغنم قال " وهل من نبي الا وقد رعاها
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت کو بھیجا۔ جب ملک الموت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں چانٹا مارا ( کیونکہ وہ انسان کی صورت میں آیا تھا ) ملک الموت ‘ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں واپس ہوئے اور عرض کیا کہ تو نے اپنے ایک ایسے بندے کے پاس مجھے بھیجا جو موت کے لیے تیار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، ان کے ہاتھ میں جتنے بال اس کے آ جائیں ان میں سے ہر بال کے بدلے ایک سال کی عمر انہیں دی جائے گی ( ملک الموت دوبارہ آئے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سنایا ) موسیٰ علیہ السلام بولے: اے رب! پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر موت ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پھر ابھی کیوں نہ آ جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ بیت المقدس سے مجھے اتنا قریب کر دیا جائے کہ ( جہاں ان کی قبر ہو وہاں سے ) اگر کوئی پتھر پھینکے تو وہ بیت المقدس تک پہنچ سکے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں وہاں موجود ہوتا تو بیت المقدس میں ‘ میں تمہیں ان کی قبر دکھاتا جو راستے کے کنارے پر ہے ‘ ریت کے سرخ ٹیلے سے نیچے۔ عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال ارسل ملك الموت الى موسى عليهما السلام فلما جاءه صكه، فرجع الى ربه، فقال ارسلتني الى عبد لا يريد الموت. قال ارجع اليه، فقل له يضع يده على متن ثور، فله بما غطت يده بكل شعرة سنة. قال اى رب، ثم ماذا قال ثم الموت. قال فالان. قال فسال الله ان يدنيه من الارض المقدسة رمية بحجر. قال ابو هريرة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت ثم لاريتكم قبره الى جانب الطريق تحت الكثيب الاحمر ". قال واخبرنا معمر عن همام حدثنا ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مسلمانوں کی جماعت کے ایک آدمی اور یہودیوں میں سے ایک شخص کا جھگڑا ہوا۔ مسلمان نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا میں برگذیدہ بنایا ‘ قسم کھاتے ہوئے انہوں نے یہ کہا۔ اس پر یہودی نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو ساری دنیا میں برگزیدہ بنایا۔ اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کو تھپڑ مار دیا۔ وہ یہودی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اپنے اور مسلمان کے جھگڑے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دیا کرو۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دئیے جائیں گے اور سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا پھر دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ پکڑے ہوئے کھڑے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں تھے اور مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے یا انہیں اللہ تعالیٰ نے بیہوش ہونے والوں میں ہی نہیں رکھا تھا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وسعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال استب رجل من المسلمين ورجل من اليهود. فقال المسلم والذي اصطفى محمدا صلى الله عليه وسلم على العالمين. في قسم يقسم به. فقال اليهودي والذي اصطفى موسى على العالمين. فرفع المسلم عند ذلك يده، فلطم اليهودي، فذهب اليهودي الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره الذي كان من امره وامر المسلم فقال " لا تخيروني على موسى، فان الناس يصعقون فاكون اول من يفيق، فاذا موسى باطش بجانب العرش، فلا ادري اكان فيمن صعق فافاق قبلي او كان ممن استثنى الله
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”موسیٰ اور آدم علیہم السلام نے آپس میں بحث کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہیں ان کی لغزش نے جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام بولے اور آپ موسیٰ علیہ السلام ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے نوازا ‘ پھر بھی آپ مجھے ایک ایسے معاملے پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے مقدر کر دیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چنانچہ آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احتج ادم وموسى فقال له موسى انت ادم الذي اخرجتك خطييتك من الجنة. فقال له ادم انت موسى الذي اصطفاك الله برسالاته وبكلامه، ثم تلومني على امر قدر على قبل ان اخلق ". فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فحج ادم موسى " مرتين
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ”میرے سامنے تمام امتیں لائی گئیں اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت آسمان کے کناروں پر چھائی ہوئی ہے۔ پھر بتایا گیا کہ یہ اپنی قوم کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا حصين بن نمير، عن حصين بن عبد الرحمن، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال خرج علينا النبي صلى الله عليه وسلم يوما قال " عرضت على الامم، ورايت سوادا كثيرا سد الافق فقيل هذا موسى في قومه
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے مرہ ہمدانی نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل لوگ اٹھے لیکن عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران علیہما السلام کے سوا اور کوئی کامل نہیں پیدا ہوئی ‘ ہاں عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن مرة الهمداني، عن ابي موسى رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كمل من الرجال كثير، ولم يكمل من النساء الا اسية امراة فرعون، ومريم بنت عمران، وان فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا (دوسری سند) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص میرے متعلق یہ نہ کہے کہ میں یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ مسدد نے یونس بن متی علیہ السلام کے لفظ بڑھا کر روایت کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني الاعمش،. حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم اني خير من يونس ". زاد مسدد " يونس بن متى
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر قرار دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد کی طرف منسوب کر کے ان کا نام لیا تھا۔“
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما ينبغي لعبد ان يقول اني خير من يونس بن متى ". ونسبه الى ابيه
حدثنا يحيى بن بكير، عن الليث، عن عبد العزيز بن ابي سلمة، عن عبد الله بن الفضل، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بينما يهودي يعرض سلعته اعطي بها شييا كرهه. فقال لا والذي اصطفى موسى على البشر، فسمعه رجل من الانصار فقام، فلطم وجهه، وقال تقول والذي اصطفى موسى على البشر، والنبي صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا فذهب اليه، فقال ابا القاسم، ان لي ذمة وعهدا، فما بال فلان لطم وجهي. فقال " لم لطمت وجهه ". فذكره، فغضب النبي صلى الله عليه وسلم حتى ريي في وجهه، ثم قال " لا تفضلوا بين انبياء الله، فانه ينفخ في الصور، فيصعق من في السموات ومن في الارض، الا من شاء الله، ثم ينفخ فيه اخرى، فاكون اول من بعث فاذا موسى اخذ بالعرش، فلا ادري احوسب بصعقته يوم الطور ام بعث قبلي - ولا اقول ان احدا افضل من يونس بن متى
حدثنا يحيى بن بكير، عن الليث، عن عبد العزيز بن ابي سلمة، عن عبد الله بن الفضل، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بينما يهودي يعرض سلعته اعطي بها شييا كرهه. فقال لا والذي اصطفى موسى على البشر، فسمعه رجل من الانصار فقام، فلطم وجهه، وقال تقول والذي اصطفى موسى على البشر، والنبي صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا فذهب اليه، فقال ابا القاسم، ان لي ذمة وعهدا، فما بال فلان لطم وجهي. فقال " لم لطمت وجهه ". فذكره، فغضب النبي صلى الله عليه وسلم حتى ريي في وجهه، ثم قال " لا تفضلوا بين انبياء الله، فانه ينفخ في الصور، فيصعق من في السموات ومن في الارض، الا من شاء الله، ثم ينفخ فيه اخرى، فاكون اول من بعث فاذا موسى اخذ بالعرش، فلا ادري احوسب بصعقته يوم الطور ام بعث قبلي - ولا اقول ان احدا افضل من يونس بن متى
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے یہ کہنا لائق نہیں کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، سمعت حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينبغي لعبد ان يقول انا خير من يونس بن متى
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ انہیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”داؤد علیہ السلام کے لیے قرآن ( یعنی زبور ) کی قرآت بہت آسان کر دی گئی تھی۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسی جانے سے پہلے ہی پوری زبور پڑھ لیتے تھے اور آپ صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے۔“ اس کی روایت موسیٰ بن عقبہ نے کی ‘ ان سے صفوان نے ‘ ان سے عطاء بن یسار نے ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خفف على داود عليه السلام القران، فكان يامر بدوابه فتسرج، فيقرا القران قبل ان تسرج دوابه، ولا ياكل الا من عمل يده ". رواه موسى بن عقبة عن صفوان، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ کی قسم ‘ جب تک میں زندہ رہوں گا ‘ دن میں روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کیا کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی قسم جب تک زندہ رہوں گا دن بھر روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کروں گا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میں نے یہ جملہ کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے نبھا نہیں سکو گے ‘ اس لیے روزہ بھی رکھا کرو اور بغیر روزے کے بھی رہا کرو اور رات میں عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو۔ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو ‘ کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اس طرح روزہ کا یہ طریقہ بھی ( ثواب کے اعتبار سے ) زندگی بھر کے روزے جیسا ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں اس سے افضل طریقہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور دو دن بغیر روزے کے رہا کرو۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا کرو۔ داؤد علیہ السلام کے روزے کا طریقہ بھی یہی تھا اور یہی سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل اور کوئی طریقہ نہیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، ان سعيد بن المسيب، اخبره وابا، سلمة بن عبد الرحمن ان عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما قال اخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اقول والله لاصومن النهار ولاقومن الليل ما عشت. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " انت الذي تقول والله لاصومن النهار ولاقومن الليل ما عشت " قلت قد قلته. قال " انك لا تستطيع ذلك، فصم وافطر، وقم ونم، وصم من الشهر ثلاثة ايام، فان الحسنة بعشر امثالها، وذلك مثل صيام الدهر ". فقلت اني اطيق افضل من ذلك يا رسول الله. قال " فصم يوما وافطر يومين ". قال قلت اني اطيق افضل من ذلك. قال " فصم يوما وافطر يوما، وذلك صيام داود، وهو عدل الصيام ". قلت اني اطيق افضل منه يا رسول الله. قال " لا افضل من ذلك
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابو العباس نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کیا میری یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن بھر ( روزانہ ) روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم اسی طرح کرتے رہے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہو جائیں گی اور تمہارا جی اکتا جائے گا۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو کہ یہی ( ثواب کے اعتبار سے ) زندگی بھر کا روزہ ہے ‘ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) زندگی بھر کے روزے کی طرح ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں اپنے میں محسوس کرتا ہوں ‘ مسعر نے بیان کیا کہ آپ کی مراد قوت سے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھا کرو۔ وہ ایک دن روزے رکھا کرتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے اور دشمن سے مقابلہ کرتے تو میدان سے بھاگا نہیں کرتے تھے۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا مسعر، حدثنا حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الم انبا انك تقوم الليل وتصوم ". فقلت نعم. فقال " فانك اذا فعلت ذلك هجمت العين ونفهت النفس، صم من كل شهر ثلاثة ايام، فذلك صوم الدهر او كصوم الدهر ". قلت اني اجد بي قال مسعر يعني قوة. قال " فصم صوم داود عليه السلام وكان يصوم يوما، ويفطر يوما، ولا يفر اذا لاقى
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے عمرو بن اوس ثقفی نے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے کا سب سے پسندیدہ طریقہ داؤد علیہ السلام کا طریقہ تھا۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ داؤد علیہ السلام کی نماز کا طریقہ تھا ‘ آپ آدھی رات تک سوتے اور ایک تہائی حصے میں عبادت کیا کرتے تھے ‘ پھر بقیہ چھٹے حصے میں بھی سوتے تھے۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن اوس الثقفي، سمع عبد الله بن عمرو، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الصيام الى الله صيام داود، كان يصوم يوما ويفطر يوما، واحب الصلاة الى الله صلاة داود، كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، کہا میں نے عوام سے سنا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا میں سورۃ ص میں سجدہ کیا کروں؟ تو انہوں نے آیت «ومن ذريته داود وسليمان» تلاوت کی «فبهداهم اقتده» تک نیز انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء علیہم السلام کی اقتداء کا حکم تھا۔
حدثنا محمد، حدثنا سهل بن يوسف، قال سمعت العوام، عن مجاهد، قال قلت لابن عباس اسجد في {ص} فقرا {ومن ذريته داود وسليمان} حتى اتى {فبهداهم اقتده} فقال نبيكم صلى الله عليه وسلم ممن امر ان يقتدي بهم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سورۃ ص کا سجدہ ضروری نہیں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال ليس {ص} من عزايم السجود، ورايت النبي صلى الله عليه وسلم يسجد فيها
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک سرکش جن کل رات میرے سامنے آ گیا تاکہ میری نماز خراب کر دے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں کہ تم سب لوگ بھی دیکھ سکو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی کہ یا اللہ! مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو۔ اس لیے میں نے اسے نامراد واپس کر دیا۔ «عفريت» سرکش کے معنی میں ہے، خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔“
حدثني محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان عفريتا من الجن تفلت البارحة ليقطع على صلاتي، فامكنني الله منه، فاخذته، فاردت ان اربطه على سارية من سواري المسجد حتى تنظروا اليه كلكم فذكرت دعوة اخي سليمان رب هب لي ملكا لا ينبغي لاحد من بعدي. فرددته خاسيا ". عفريت متمرد من انس او جان، مثل زبنية جماعتها الزبانية
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا ان شاءاللہ، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ چنانچہ کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ پیدا نہیں ہوا، صرف ایک کے یہاں ہوا اور اس کی بھی ایک جانب بیکار تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سلیمان علیہ السلام ان شاءاللہ کہہ لیتے ( تو سب کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔ شعیب اور ابن ابی الزناد نے بجائے ستر کے ) نوے کہا ہے اور یہی بیان زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا مغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قال سليمان بن داود لاطوفن الليلة على سبعين امراة تحمل كل امراة فارسا يجاهد في سبيل الله، فقال له صاحبه ان شاء الله. فلم يقل، ولم تحمل شييا الا واحدا ساقطا احدى شقيه ". فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو قالها لجاهدوا في سبيل الله ". قال شعيب وابن ابي الزناد " تسعين ". وهو اصح
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجد الحرام! میں نے سوال کیا، اس کے بعد کون سی؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ۔ میں نے سوال کیا اور ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی فاصلہ کتنا تھا؟ فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کا وقت ہو جائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔
حدثني عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله. اى مسجد وضع اول قال " المسجد الحرام ". قلت ثم اى قال " ثم المسجد الاقصى ". قلت كم كان بينهما قال " اربعون ". ثم قال " حيثما ادركتك الصلاة فصل، والارض لك مسجد