Loading...

Loading...
کتب
۱۶۳ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ‘ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ‘ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے ‘ اے اللہ تمام ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کو سخت گرفت میں پکڑ لے۔ اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی ان ( ظالموں ) پر نازل فرما۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم انج عياش بن ابي ربيعة، اللهم انج سلمة بن هشام، اللهم انج الوليد بن الوليد اللهم انج المستضعفين من المومنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاہ کا آدمی ) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء ابن اخي جويرية حدثنا جويرية بن اسماء، عن مالك، عن الزهري، ان سعيد بن المسيب، وابا، عبيد اخبراه عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرحم الله لوطا، لقد كان ياوي الى ركن شديد، ولو لبثت في السجن ما لبث يوسف ثم اتاني الداعي لاجبته
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن فضیل نے خبر دی ‘ کہا ہم سے حصین نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو بہتان تراشا گیا تھا اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک انصاریہ عورت ہمارے یہاں آئی اور کہا کہ اللہ فلاں ( مسطح بن اثاثہ ) کو تباہ کر دے اور وہ اسے تباہ کر بھی چکا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں انہوں نے بتایا کہ اسی نے تو یہ جھوٹ مشہور کیا ہے۔ پھر انصاریہ عورت نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا سارا ) واقعہ بیان کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنی والدہ سے ) پوچھا کہ کون سا واقعہ؟ تو ان کی والدہ نے انہیں واقعہ کی تفصیل بتائی۔ عائشہ نے پوچھا کہ کیا یہ قصہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معلوم ہو گیا ہے؟ ان کی والدہ نے بتایا کہ ہاں۔ یہ سنتے ہی عائشہ رضی اللہ عنہا بیہوش ہو کر گر پڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ ایک بات ان سے ایسی کہی گئی تھی اور اسی کے صدمے سے ان کو بخار آ گیا ہے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا اٹھ کر بیٹھ گئیں اور کہا اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں جب بھی آپ لوگ میری بات نہیں مان سکتے اور اگر کوئی عذر بیان کروں تو اسے بھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ بس میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی سی ہے ( کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کی من گھڑت کہانی سن کر فرمایا تھا کہ ) ”جو کچھ تم کہہ رہے ہو میں اس پر اللہ ہی کی مدد چاہتا ہوں۔“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا وہ نازل فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کسی اور کا نہیں۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا ابن فضيل، حدثنا حصين، عن شقيق، عن مسروق، قال سالت ام رومان، وهى ام عايشة، عما قيل فيها ما قيل قالت بينما انا مع عايشة جالستان، اذ ولجت علينا امراة من الانصار، وهى تقول فعل الله بفلان وفعل. قالت فقلت لم قالت انه نما ذكر الحديث. فقالت عايشة اى حديث فاخبرتها. قالت فسمعه ابو بكر ورسول الله صلى الله عليه وسلم قالت نعم. فخرت مغشيا عليها، فما افاقت الا وعليها حمى بنافض، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما لهذه ". قلت حمى اخذتها من اجل حديث تحدث به، فقعدت فقالت والله لين حلفت لا تصدقوني، ولين اعتذرت لا تعذروني، فمثلي ومثلكم كمثل يعقوب وبنيه، فالله المستعان على ما تصفون. فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله ما انزل، فاخبرها فقالت بحمد الله لا بحمد احد
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کے متعلق پوچھا «حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا» ( تشدید کے ساتھ ) ہے یا «كذبوا» ( بغیر تشدید کے ) یعنی یہاں تک کہ جب انبیاء ناامید ہو گئے اور انہیں خیال گزرنے لگا کہ انہیں جھٹلا دیا گیا تو اللہ کی مدد پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ( یہ تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر معنی کیسے بنیں گے ‘ پیغمبروں کو یقین تھا ہی کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر قرآن میں لفظ «ظن.» گمان اور خیال کے معنی میں استعمال کیوں کیا گیا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے چھوٹے سے عروہ! بیشک ان کو تو یقین تھا میں نے کہا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے «كذبوا» ہو گا یعنی پیغمبر یہ سمجھے کہ اللہ نے جو ان کی مدد کا وعدہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذاللہ! انبیاء اپنے رب کے ساتھ بھلا ایسا گمان کر سکتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کے تابعدار لوگ جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی ان پر جب مدت تک اللہ کی آزمائش رہی اور مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر لوگ اپنی قوم کے جھٹلانے والوں سے ناامید ہو گئے ( سمجھے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیں گے ) اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ ان کے تابعدار بنے ہیں وہ بھی ان کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے ‘ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ «استيأسوا»، «افتعلوا» کے وزن پر ہے جو «يئست. منه» سے نکلا ہے۔ «اى من يوسف.» ( سورۃ یوسف کی آیت کا ایک جملہ ہے یعنی زلیخا یوسف علیہ السلام سے ناامید ہو گئی۔ ) «لا تيأسوا من روح الله» » ( سورۃ یوسف: 87 ) یعنی اللہ سے امید رکھو ناامید نہ ہو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة، انه سال عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ارايت قوله {حتى اذا استياس الرسل وظنوا انهم قد كذبوا} او كذبوا. قالت بل كذبهم قومهم. فقلت والله لقد استيقنوا ان قومهم كذبوهم وما هو بالظن. فقالت يا عرية، لقد استيقنوا بذلك. قلت فلعلها او كذبوا. قالت معاذ الله، لم تكن الرسل تظن ذلك بربها واما هذه الاية قالت هم اتباع الرسل الذين امنوا بربهم وصدقوهم، وطال عليهم البلاء، واستاخر عنهم النصر حتى اذا استياست ممن كذبهم من قومهم، وظنوا ان اتباعهم كذبوهم جاءهم نصر الله. قال ابو عبد الله {استياسوا} افتعلوا من ييست. {منه} من يوسف. {لا تياسوا من روح الله} معناه الرجاء
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔“
اخبرني عبدة، حدثنا عبد الصمد، عن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن اسحاق بن ابراهيم عليهم السلام
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
حدثني عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينما ايوب يغتسل عريانا خر عليه رجل جراد من ذهب، فجعل يحثي في ثوبه، فنادى ربه يا ايوب، الم اكن اغنيتك عما ترى قال بلى يا رب، ولكن لا غنى لي عن بركتك
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غار حراء سے ) ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھڑک رہا تھا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے۔ ورقہ نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ آپ نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہی ہیں وہ «ناموس» جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمہارے زمانے تک زندہ رہا تو میں تمہاری پوری مدد کروں گا۔ «ناموس» محرم راز کو کہتے ہیں جو ایسے راز سے بھی آگاہ ہو جو آدمی دوسروں سے چھپائے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، سمعت عروة، قال قالت عايشة رضى الله عنها فرجع النبي صلى الله عليه وسلم الى خديجة يرجف فواده، فانطلقت به الى ورقة بن نوفل، وكان رجلا تنصر يقرا الانجيل بالعربية. فقال ورقة ماذا ترى فاخبره. فقال ورقة هذا الناموس الذي انزل الله على موسى، وان ادركني يومك انصرك نصرا موزرا. الناموس صاحب السر الذي يطلعه بما يستره عن غيره
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ جب آپ پانچویں آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں ہارون علیہ السلام سے ملے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں ‘ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: خوش آمدید ‘ صالح بھائی اور صالح نبی۔ اس حدیث کو قتادہ کے ساتھ ثابت بنانی اور عباد بن ابی علی نے بھی انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، عن مالك بن صعصعة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثهم عن ليلة اسري به حتى اتى السماء الخامسة، فاذا هارون قال هذا هارون فسلم عليه. فسلمت عليه، فرد ثم قال مرحبا بالاخ الصالح والنبي الصالح. تابعه ثابت وعباد بن ابي علي عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے۔ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا ( دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے ) اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به " رايت موسى واذا رجل ضرب رجل، كانه من رجال شنوءة، ورايت عيسى، فاذا هو رجل ربعة احمر كانما خرج من ديماس، وانا اشبه ولد ابراهيم صلى الله عليه وسلم به، ثم اتيت باناءين، في احدهما لبن، وفي الاخر خمر فقال اشرب ايهما شيت. فاخذت اللبن فشربته فقيل اخذت الفطرة، اما انك لو اخذت الخمر غوت امتك
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت ابا العالية، حدثنا ابن عم، نبيكم يعني ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينبغي لعبد ان يقول انا خير من يونس بن متى ". ونسبه الى ابيه. وذكر النبي صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به فقال " موسى ادم طوال كانه من رجال شنوءة ". وقال " عيسى جعد مربوع ". وذكر مالكا خازن النار، وذكر الدجال
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت ابا العالية، حدثنا ابن عم، نبيكم يعني ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينبغي لعبد ان يقول انا خير من يونس بن متى ". ونسبه الى ابيه. وذكر النبي صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به فقال " موسى ادم طوال كانه من رجال شنوءة ". وقال " عيسى جعد مربوع ". وذكر مالكا خازن النار، وذكر الدجال
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر کے صاحبزادے (عبداللہ) نے اپنے والد سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں ( یہودیوں ) نے بتایا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے شکر میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ايوب السختياني، عن ابن سعيد بن جبير، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة وجدهم يصومون يوما، يعني عاشوراء، فقالوا هذا يوم عظيم، وهو يوم نجى الله فيه موسى، واغرق ال فرعون، فصام موسى شكرا لله. فقال " انا اولى بموسى منهم ". فصامه وامر بصيامه
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے ‘ ان سے ان کے والد یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے ‘ پھر سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا ( بیہوش ہی نہیں کئے گئے ہوں گے بلکہ ) انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہو گا۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الناس يصعقون يوم القيامة، فاكون اول من يفيق، فاذا انا بموسى اخذ بقايمة من قوايم العرش، فلا ادري افاق قبلي، ام جوزي بصعقة الطور
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے ( سلویٰ کا گوشت جمع کر کے نہ رکھتے ) تو گوشت کبھی نہ سڑتا۔ اور اگر حوا نہ ہوتیں ( یعنی آدم علیہ السلام سے دغا نہ کرتیں ) تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی۔“
حدثني عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لولا بنو اسراييل لم يخنز اللحم، ولولا حواء لم تخن انثى زوجها الدهر
ہم سے عمر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ سے صاحب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا اختلاف ہوا۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اپنے ان ساتھی سے صاحب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے جن سے ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا ‘ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے ان کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں ‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا ‘ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اس تمام زمین پر آپ سے زیادہ علم رکھنے والا ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ کیوں نہیں ‘ ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا تو انہیں مچھلی کو اس کی نشانی کے طور پر بتایا گیا اور کہا گیا کہ جب مچھلی گم ہو جائے ( تو جہاں گم ہوئی ہو وہاں ) واپس آ جانا وہیں ان سے ملاقات ہو گی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام دریا میں ( سفر کے دوران ) مچھلی کی برابر نگرانی کرتے رہے۔ پھر ان سے ان کے رفیق سفر نے کہا کہ آپ نے خیال نہیں کیا جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے اسے یاد رکھنے سے غافل رکھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی کی تو ہمیں تلاش ہے چنانچہ یہ بزرگ اسی راستے سے پیچھے کی طرف لوٹے اور خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ان دونوں کے ہی وہ حالات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔
حدثنا عمرو بن محمد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثني ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره عن ابن عباس، انه تمارى هو والحر بن قيس الفزاري في صاحب موسى، قال ابن عباس هو خضر، فمر بهما ابى بن كعب، فدعاه ابن عباس، فقال اني تماريت انا وصاحبي، هذا في صاحب موسى الذي سال السبيل الى لقيه، هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر شانه قال نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينما موسى في ملا من بني اسراييل جاءه رجل، فقال هل تعلم احدا اعلم منك قال لا. فاوحى الله الى موسى بلى عبدنا خضر. فسال موسى السبيل اليه، فجعل له الحوت اية، وقيل له اذا فقدت الحوت فارجع، فانك ستلقاه. فكان يتبع الحوت في البحر، فقال لموسى فتاه ارايت اذ اوينا الى الصخرة، فاني نسيت الحوت، وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره. فقال موسى ذلك ما كنا نبغ. فارتدا على اثارهما قصصا فوجدا خضرا، فكان من شانهما الذي قص الله في كتابه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ موسیٰ ‘ صاحب خضر بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ دوسرے موسیٰ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دشمن اللہ نے بالکل غلط بات کہی ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا کون سا شخص سب سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ کیوں نہیں میرا ایک بندہ ہے جہاں دو دریا آ کر ملتے ہیں وہاں رہتا ہے اور تم سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے رب العالمین! میں ان سے کس طرح مل سکوں گا؟ سفیان نے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے کہ ”اے رب! «وكيف لي به» “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی پکڑ کر اسے اپنے تھیلے میں رکھ لینا ‘ جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے بس میرا بندہ وہیں تم کو ملے گا۔ بعض دفعہ راوی نے ( بجائے «فهو ثم» کے ) «فهو ثمه» کہا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لے لی اور اسے ایک تھیلے میں رکھ لیا۔ پھر وہ اور ایک ان کے رفیق سفر یوشع بن نون روانہ ہوئے ‘ جب یہ چٹان پر پہنچے تو سر سے ٹیک لگالی ‘ موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی اور مچھلی تڑپ کر نکلی اور دریا کے اندر چلی گئی اور اس نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ محراب کی طرح ہو گئی ‘ انہوں نے واضح کیا کہ یوں محراب کی طرح۔ پھر یہ دونوں اس دن اور رات کے باقی حصے میں چلتے رہے ‘ جب دوسرا دن آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر سے فرمایا کہ اب ہمارا کھانا لاؤ کیونکہ ہم اپنے سفر میں بہت تھک گئے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکان محسوس نہیں کی تھی جب تک وہ اس مقررہ جگہ سے آگے نہ بڑھ گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے رفیق نے کہا کہ دیکھئیے تو سہی جب چٹان پر اترے تھے تو میں مچھلی ( کے متعلق کہنا ) آپ سے بھول گیا اور مجھے اس کی یاد سے شیطان نے غافل رکھا اور اس مچھلی نے تو وہیں ( چٹان کے قریب ) دریا میں اپنا راستہ عجیب طور پر بنا لیا تھا۔ مچھلی کو تو راستہ مل گیا اور یہ دونوں حیران تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں اسی راستے سے پیچھے کی طرف واپس ہوئے اور جب اس چٹان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ اپنا سارا جسم ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے موجود تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا پھر کہا کہ تمہارے خطے میں سلام کا رواج کہاں سے آ گیا؟ موسیٰ علیہ اسلام نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا ‘ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا کہ جی ہاں۔ میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم نافع سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے اور آپ اس کو نہیں جانتے۔ اسی طرح آپ کے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اسے نہیں جانتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے اور واقعی آپ ان کاموں کے بارے میں صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إمرا» تک آخر موسیٰ اور خضر علیہم السلام دریا کے کنارے کنارے چلے۔ پھر ان کے قریب سے ایک کشتی گزری۔ ان حضرات نے کہا کہ انہیں بھی کشتی والے کشتی پر سوار کر لیں۔ کشتی والوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کوئی مزدوری لیے بغیر ان کو سوار کر لیا۔ جب یہ حضرات اس پر سوار ہو گئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ کر اس نے پانی میں اپنی چونچ کو ایک یا دو مرتبہ ڈالا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے اور آپ کے علم کی وجہ سے اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں ہوئی جتنی اس چڑیا کے دریا میں چونچ مارنے سے دریا کے پانی میں کمی ہوئی ہو گی۔ اتنے میں خضر علیہ السلام نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کشتی میں سے ایک تختہ نکال لیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو نظر اٹھائی تو وہ اپنی کلہاڑی سے تختہ نکال چکے تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ یہ آپ نے کیا کیا؟ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا انہیں کی کشتی پر آپ نے بری نظر ڈالی اور اسے چیر دیا کہ سارے کشتی والے ڈوب جائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ نے نہایت ناگوار کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ( یہ بے صبری اپنے وعدہ کو بھول جانے کی وجہ سے ہوئی ‘ اس لیے ) آپ اس چیز کا مجھ سے مواخذہ نہ کریں جو میں بھول گیا تھا اور میرے معاملے میں تنگی نہ فرمائیں۔ یہ پہلی بات موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوئی تھی پھر جب دریائی سفر ختم ہوا تو ان کا گزر ایک بچے کے پاس سے ہوا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے ( دھڑ سے ) جدا کر دیا۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے ( جدا کرنے کی کیفیت بتانے کے لیے ) اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑ رہے ہوں۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے ایک جان کو ضائع کر دیا۔ کسی دوسری جان کے بدلے میں بھی یہ نہیں تھا۔ بلاشبہ آپ نے ایک برا کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اچھا اس کے بعد اگر میں نے آپ سے کوئی بات پوچھی تو پھر آپ مجھے ساتھ نہ لے چلئے گا، بیشک آپ میرے بارے میں حد عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ پھر یہ دونوں آگے بڑھے اور جب ایک بستی میں پہنچے تو بستی والوں سے کہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنا لیں ‘ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ سفیان نے ( کیفیت بتانے کے لیے ) اس طرح اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز اوپر کی طرف پھیر رہے ہوں۔ میں نے سفیان سے «مائلا» کا لفظ صرف ایک مرتبہ سنا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ تو ایسے تھے کہ ہم ان کے یہاں آئے اور انہوں نے ہماری میزبانی سے بھی انکار کیا۔ پھر ان کی دیوار آپ نے ٹھیک کر دی ‘ اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت ان سے لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس یہاں سے میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہو گئی جن باتوں پر آپ صبر نہیں کر سکتے ‘ میں ان کی تاویل و توجیہ اب تم پر واضح کر دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری تو خواہش یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ تکوینی واقعات ہمارے لیے بیان کرتا۔ سفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ‘ اگر انہوں نے صبر کیا ہوتا تو ان کے ( مزید واقعات ) ہمیں معلوم ہوتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ( جمہور کی قرآت «ودرائهم» کے بجائے ) «أمامهم ملك يأخذ كل سفينة صالحة غصبا» پڑھا ہے۔ اور وہ بچہ ( جس کی خضر علیہ السلام نے جان لی تھی ) کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے۔ پھر مجھ سے سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی اور انہیں سے ( سن کر ) یاد کی تھی۔ سفیان نے کسی سے پوچھا تھا کہ کیا یہ حدیث آپ نے عمرو بن دینار سے سننے سے پہلے ہی کسی دوسرے شخص سے سن کر ( جس نے عمرو بن دینار سے سنی ہو ) یاد کی تھی؟ یا ( اس کے بجائے یہ جملہ کہا ) «تحفظته من إنسان» دو مرتبہ ( شک علی بن عبداللہ کو تھا ) تو سفیان نے کہا کہ دوسرے کسی شخص سے سن کر میں یاد کرتا ‘ کیا اس حدیث کو عمرو بن دینار سے میرے سوا کسی اور نے بھی روایت کیا ہے؟ میں نے ان سے یہ حدیث دو یا تین مرتبہ سنی اور انہیں سے سن کر یاد کی۔
ہم سے محمد بن سعید اصبہانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خضر علیہ السلام کا یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ وہ ایک سوکھی زمین ( جہاں سبزی کا نام بھی نہ تھا ) پر بیٹھے۔ لیکن جوں ہی وہ وہاں سے اٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔“
حدثنا محمد بن سعيد الاصبهاني، اخبرنا ابن المبارك، عن معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما سمي الخضر انه جلس على فروة بيضاء فاذا هي تهتز من خلفه خضراء
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے ‘ ان سے ہمام بن منبہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ بیت المقدس میں سجدہ و رکوع کرتے ہوئے داخل ہوں اور یہ کہتے ہوئے کہ یا اللہ! ہم کو بخش دے۔ لیکن انہوں نے اس کو الٹا کیا اور اپنے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہتے ہوئے «حبة في شعرة» ( یعنی بالیوں میں دانے خوب ہوں ) داخل ہوئے۔“
حدثني اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام بن منبه، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قيل لبني اسراييل ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة. فبدلوا فدخلوا يزحفون على استاههم، وقالوا حبة في شعرة
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے عوف بن ابوجمیلہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام حسن بصری اور محمد بن سیرین اور خلاس بن عمرو نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے ہی شرم والے اور بدن ڈھانپنے والے تھے۔ ان کی حیاء کی وجہ سے ان کے بدن کو کوئی حصہ بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے جو لوگ انہیں اذیت پہنچانے کے درپے تھے ‘ وہ کیوں باز رہ سکتے تھے ‘ ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس درجہ بدن چھپانے کا اہتمام صرف اس لیے ہے کہ ان کے جسم میں عیب ہے یا کوڑھ ہے یا ان کے خصیتین بڑھے ہوئے ہیں یا پھر کوئی اور بیماری ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ان کی ہفوات سے پاکی دکھلائے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرنے کے لیے آئے ایک پتھر پر اپنے کپڑے ( اتار کر ) رکھ دیئے۔ پھر غسل شروع کیا۔ جب فارغ ہوئے تو کپڑے اٹھانے کے لیے بڑھے لیکن پتھر ان کے کپڑوں سمیت بھاگنے لگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا اٹھایا اور پتھر کے پیچھے دوڑے۔ یہ کہتے ہوئے کہ پتھر! میرا کپڑا دیدے۔ آخر بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے اور ان سب نے آپ کو ننگا دیکھ لیا ‘ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر حالت میں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی تہمت سے ان کی برات کر دی۔ اب پتھر بھی رک گیا اور آپ نے کپڑا اٹھا کر پہنا۔ پھر پتھر کو اپنے عصا سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم اس پتھر پر موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے تین یا چار یا پانچ جگہ نشان پڑ گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» ”تم ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی تھی ‘ پھر ان کی تہمت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری قرار دیا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں بڑی شان والے اور عزت والے تھے۔“ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا عوف، عن الحسن، ومحمد، وخلاس، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان موسى كان رجلا حييا ستيرا، لا يرى من جلده شىء، استحياء منه، فاذاه من اذاه من بني اسراييل، فقالوا ما يستتر هذا التستر الا من عيب بجلده، اما برص واما ادرة واما افة. وان الله اراد ان يبريه مما قالوا لموسى فخلا يوما وحده فوضع ثيابه على الحجر ثم اغتسل، فلما فرغ اقبل الى ثيابه لياخذها، وان الحجر عدا بثوبه، فاخذ موسى عصاه وطلب الحجر، فجعل يقول ثوبي حجر، ثوبي حجر، حتى انتهى الى ملا من بني اسراييل، فراوه عريانا احسن ما خلق الله، وابراه مما يقولون، وقام الحجر فاخذ ثوبه فلبسه، وطفق بالحجر ضربا بعصاه، فوالله ان بالحجر لندبا من اثر ضربه ثلاثا او اربعا او خمسا، فذلك قوله {يا ايها الذين امنوا لا تكونوا كالذين اذوا موسى فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها}
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابووائل سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مال تقسیم کیا ‘ ایک شخص نے کہا کہ یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا جوئی کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دیکھے۔ پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ‘ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی تھی مگر انہوں نے صبر کیا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابا وايل، قال سمعت عبد الله رضى الله عنه قال قسم النبي صلى الله عليه وسلم قسما، فقال رجل ان هذه لقسمة ما اريد بها وجه الله. فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته، فغضب حتى رايت الغضب في وجهه، ثم قال " يرحم الله موسى قد اوذي باكثر من هذا فصبر
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، قال اخبرني سعيد بن جبير، قال قلت لابن عباس ان نوفا البكالي يزعم ان موسى صاحب الخضر ليس هو موسى بني اسراييل، انما هو موسى اخر. فقال كذب عدو الله حدثنا ابى بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان موسى قام خطيبا في بني اسراييل، فسيل اى الناس اعلم فقال انا. فعتب الله عليه اذ لم يرد العلم اليه. فقال له بلى، لي عبد بمجمع البحرين هو اعلم منك. قال اى رب ومن لي به وربما قال سفيان اى رب وكيف لي به قال تاخذ حوتا، فتجعله في مكتل، حيثما فقدت الحوت فهو ثم وربما قال فهو ثمه واخذ حوتا، فجعله في مكتل، ثم انطلق هو وفتاه يوشع بن نون، حتى اتيا الصخرة، وضعا رءوسهما فرقد موسى، واضطرب الحوت فخرج فسقط في البحر، فاتخذ سبيله في البحر سربا، فامسك الله عن الحوت جرية الماء، فصار مثل الطاق، فقال هكذا مثل الطاق. فانطلقا يمشيان بقية ليلتهما ويومهما، حتى اذا كان من الغد قال لفتاه اتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هذا نصبا. ولم يجد موسى النصب حتى جاوز حيث امره الله. قال له فتاه ارايت اذ اوينا الى الصخرة فاني نسيت الحوت، وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره، واتخذ سبيله في البحر عجبا، فكان للحوت سربا ولهما عجبا. قال له موسى ذلك ما كنا نبغي، فارتدا على اثارهما قصصا، رجعا يقصان اثارهما حتى انتهيا الى الصخرة، فاذا رجل مسجى بثوب، فسلم موسى، فرد عليه. فقال وانى بارضك السلام. قال انا موسى. قال موسى بني اسراييل قال نعم، اتيتك لتعلمني مما علمت رشدا. قال يا موسى اني على علم من علم الله، علمنيه الله لا تعلمه وانت على علم من علم الله علمكه الله لا اعلمه. قال هل اتبعك قال {انك لن تستطيع معي صبرا * وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا} الى قوله {امرا} فانطلقا يمشيان على ساحل البحر، فمرت بهما سفينة، كلموهم ان يحملوهم، فعرفوا الخضر، فحملوه بغير نول، فلما ركبا في السفينة جاء عصفور، فوقع على حرف السفينة، فنقر في البحر نقرة او نقرتين، قال له الخضر يا موسى، ما نقص علمي وعلمك من علم الله الا مثل ما نقص هذا العصفور بمنقاره من البحر. اذ اخذ الفاس فنزع لوحا، قال فلم يفجا موسى الا وقد قلع لوحا بالقدوم. فقال له موسى ما صنعت قوم حملونا بغير نول، عمدت الى سفينتهم فخرقتها لتغرق اهلها، لقد جيت شييا امرا. قال الم اقل انك لن تستطيع معي صبرا. قال لا تواخذني بما نسيت ولا ترهقني من امري عسرا، فكانت الاولى من موسى نسيانا. فلما خرجا من البحر مروا بغلام يلعب مع الصبيان، فاخذ الخضر براسه فقلعه بيده هكذا واوما سفيان باطراف اصابعه كانه يقطف شييا فقال له موسى اقتلت نفسا زكية بغير نفس لقد جيت شييا نكرا. قال الم اقل لك انك لن تستطيع معي صبرا. قال ان سالتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني، قد بلغت من لدني عذرا. فانطلقا حتى اذا اتيا اهل قرية استطعما اهلها فابوا ان يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد ان ينقض مايلا اوما بيده هكذا واشار سفيان كانه يمسح شييا الى فوق، فلم اسمع سفيان يذكر مايلا الا مرة قال قوم اتيناهم فلم يطعمونا ولم يضيفونا عمدت الى حايطهم لو شيت لاتخذت عليه اجرا. قال هذا فراق بيني وبينك، سانبيك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا". قال النبي صلى الله عليه وسلم " وددنا ان موسى كان صبر، فقص الله علينا من خبرهما ". قال سفيان قال النبي صلى الله عليه وسلم " يرحم الله موسى، لو كان صبر يقص علينا من امرهما ". وقرا ابن عباس امامهم ملك ياخذ كل سفينة صالحة غصبا، واما الغلام فكان كافرا وكان ابواه مومنين. ثم قال لي سفيان سمعته منه مرتين وحفظته منه. قيل لسفيان حفظته قبل ان تسمعه من عمرو، او تحفظته من انسان فقال ممن اتحفظه ورواه احد عن عمرو غيري سمعته منه مرتين او ثلاثا وحفظته منه