Loading...

Loading...
کتب
۱۶۳ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد الحرام۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے عرض کیا اور اور اس کے بعد؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ ( بیت المقدس ) میں نے عرض کیا، ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر فرمایا اب جہاں بھی تجھ کو نماز کا وقت ہو جائے وہاں نماز پڑھ لے۔ بڑی فضیلت نماز پڑھنا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، حدثنا ابراهيم التيمي، عن ابيه، قال سمعت ابا ذر رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله، اى مسجد وضع في الارض اول قال " المسجد الحرام ". قال قلت ثم اى قال " المسجد الاقصى ". قلت كم كان بينهما قال " اربعون سنة، ثم اينما ادركتك الصلاة بعد فصله، فان الفضل فيه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مطلب کے آزاد کردہ غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں مدینہ کے دو پتھریلے علاقے کے درمیانی علاقے کے حصے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں۔ اس حدیث کو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عمرو بن ابي عمرو، مولى المطلب عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طلع له احد فقال " هذا جبل يحبنا ونحبه، اللهم ان ابراهيم حرم مكة، واني احرم ما بين لابتيها ". رواه عبد الله بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ابن ابی بکر نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہیں معلوم نہیں کہ جب تمہاری قوم نے کعبہ کی ( نئی ) تعمیر کی تو کعبہ کی ابراہیمی بنیاد کو چھوڑ دیا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ابراہیمی بنیادوں کے مطابق دوبارہ اس کی تعمیر کیوں نہیں کر دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا ( تو میں ایسا ہی کرتا ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب کہ یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رکنوں کے، جو حجر اسود کے قریب ہیں، بوسہ لینے کو صرف اسی وجہ سے چھوڑا تھا کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر نہیں بنا ہے ( یہ دونوں رکن آگے ہٹ گئے ہیں ) اسماعیل بن ابی اویس نے اس حدیث میں عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کہا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان ابن ابي بكر، اخبر عبد الله بن عمر، عن عايشة رضى الله عنهم زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الم ترى ان قومك بنوا الكعبة اقتصروا عن قواعد ابراهيم ". فقلت يا رسول الله، الا تردها على قواعد ابراهيم. فقال " لولا حدثان قومك بالكفر ". فقال عبد الله بن عمر لين كانت عايشة سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ارى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك استلام الركنين اللذين يليان الحجر الا ان البيت لم يتمم على قواعد ابراهيم. وقال اسماعيل عبد الله بن محمد بن ابي بكر
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی۔ انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ‘ انہیں ان کے والد نے ‘ انہیں عمرو بن سلیم زرقی نے ‘ انہوں نے کہا مجھ کو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں کہا کرو «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته، كما صليت على آل إبراهيم، وبارك على محمد وأزواجه وذريته، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد .» ”اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جیسا کہ تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور اپنی برکت نازل فرما محمد پر اور ان کی بیویوں اور اولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر۔ بیشک تو انتہائی خوبیوں والا اور عظمت والا ہے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك بن انس، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عمرو بن سليم الزرقي، اخبرني ابو حميد الساعدي رضى الله عنه انهم قالوا يا رسول الله كيف نصلي عليك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قولوا اللهم صل على محمد وازواجه وذريته، كما صليت على ال ابراهيم، وبارك على محمد وازواجه وذريته، كما باركت على ال ابراهيم، انك حميد مجيد
ہم سے قیس بن حفص اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوقرہ مسلم بن سالم ہمدانی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کیوں نہ تمہیں ( حدیث کا ) ایک تحفہ پہنچا دوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں نے عرض کیا جی ہاں مجھے یہ تحفہ ضرور عنایت فرمائیے۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا یا رسول اللہ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ اللہ تعالیٰ نے سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں خود ہی سکھا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں کہا کرو «اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد .» ”اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جیسا کہ تو نے اپنی رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم علیہ السلام پر۔ بیشک تو بڑی خوبیوں والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بیشک تو بڑی خوبیوں والا اور بڑی عظمت والا ہے۔
حدثنا قيس بن حفص، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا ابو قرة، مسلم بن سالم الهمداني قال حدثني عبد الله بن عيسى، سمع عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال لقيني كعب بن عجرة فقال الا اهدي لك هدية سمعتها من النبي، صلى الله عليه وسلم فقلت بلى، فاهدها لي. فقال سالنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله كيف الصلاة عليكم اهل البيت فان الله قد علمنا كيف نسلم. قال " قولوا اللهم صل على محمد، وعلى ال محمد، كما صليت على ابراهيم وعلى ال ابراهيم، انك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد، وعلى ال محمد، كما باركت على ابراهيم، وعلى ال ابراهيم، انك حميد مجيد
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے منہال نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے پناہ طلب کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے بزرگ دادا ( ابراہیم علیہ السلام ) بھی ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ اسماعیل اور اسحاق علیہ السلام کے لیے مانگا کرتے تھے۔ «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔“
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن المنهال، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسين ويقول " ان اباكما كان يعوذ بها اسماعيل واسحاق، اعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے ‘ انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”کہا کیا تم ایمان نہیں لائے ‘ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ‘ لیکن یہ صرف اس لیے تاکہ میرے دل کو اور زیادہ اطمینان ہو جائے۔“ اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کر کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں بلانے والے کے بات ضرور مان لیتا۔“
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وسعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " نحن احق من ابراهيم اذ قال {رب ارني كيف تحيي الموتى قال اولم تومن قال بلى ولكن ليطمين قلبي} ويرحم الله لوطا، لقد كان ياوي الى ركن شديد ولو لبثت في السجن طول ما لبث يوسف لاجبت الداعي
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کی ایک جماعت سے گزرے جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کئے جاؤ کیونکہ تمہارے بزرگ دادا بھی تیرانداز تھے اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔“ راوی نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی دوسرے فریق نے تیر اندازی بند کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا بات ہوئی ‘ تم لوگ تیر کیوں نہیں چلاتے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ فریق مقابل کے ساتھ ہو گئے تو اب ہم کس طرح تیر چلا سکتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مقابلہ جاری رکھو ‘ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع رضى الله عنه قال مر النبي صلى الله عليه وسلم على نفر من اسلم ينتضلون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارموا بني اسماعيل، فان اباكم كان راميا، وانا مع بني فلان ". قال فامسك احد الفريقين بايديهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لكم لا ترمون ". فقالوا يا رسول الله، نرمي وانت معهم قال " ارموا وانا معكم كلكم
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر جاہلیت میں جو لوگ شریف اور اچھے عادات و اخلاق کے تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف اور اچھے سمجھے جائیں گے جب کہ وہ دین کی سمجھ بھی حاصل کریں۔“
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، سمع المعتمر، عن عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم من اكرم الناس قال " اكرمهم اتقاهم ". قالوا يا نبي الله، ليس عن هذا نسالك. قال " فاكرم الناس يوسف نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله ". قالوا ليس عن هذا نسالك. قال " فعن معادن العرب تسالوني ". قالوا نعم. قال " فخياركم في الجاهلية خياركم في الاسلام اذا فقهوا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ ) کی پناہ میں گئے تھے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال {يغفر الله للوط ان كان لياوي الى ركن شديد}
ہم سے محمود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواحمد نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے ‘ ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «فهل من مدكر» پڑھا تھا۔
حدثنا محمود، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله رضى الله عنه قال قرا النبي صلى الله عليه وسلم {فهل من مدكر}
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زمعہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( خطبہ کے دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کا ذکر کیا جنہوں نے اونٹنی کو ذبح کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ کی قسم بھیجی ہوئی ) اس ( اونٹنی ) کو ذبح کرنے والا قوم کا ایک بہت ہی باعزت آدمی ( قیدار نامی ) تھا ‘ جیسے ہمارے زمانے میں ابوزمعہ ( اسود بن مطلب ) ہے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن زمعة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم. وذكر الذي عقر الناقة قال " انتدب لها رجل ذو عز ومنعة في قوة كابي زمعة
ہم سے محمد بن مسکین ابوالحسن نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حسان بن حیان ابوزکریا نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حجر ( ثمود کی بستی ) میں غزوہ تبوک کے لیے جاتے ہوئے پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا کہ یہاں کے کنوؤں کا پانی نہ پینا اور نہ اپنے برتنوں میں ساتھ لینا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم نے تو اس سے اپنا آٹا بھی گوندھ لیا ہے اور پانی اپنے برتنوں میں بھی رکھ لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ گندھا ہوا آٹا پھینک دیا جائے اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ جس نے آٹا اس پانی سے گوندھ لیا ہو ( وہ اسے پھینک دے ) ۔
حدثنا محمد بن مسكين ابو الحسن، حدثنا يحيى بن حسان بن حيان ابو زكرياء، حدثنا سليمان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما نزل الحجر في غزوة تبوك امرهم ان لا يشربوا من بيرها، ولا يستقوا منها فقالوا قد عجنا منها، واستقينا. فامرهم ان يطرحوا ذلك العجين ويهريقوا ذلك الماء. ويروى عن سبرة بن معبد وابي الشموس ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بالقاء الطعام. وقال ابو ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم " من اعتجن بمايه
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ نے ‘ ان سے نافع نے اور اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثمود کی بستی حجر میں پڑاؤ کیا تو وہاں کے کنوؤں کا پانی اپنے برتنوں میں بھر لیا اور آٹا بھی اس پانی سے گوندھ لیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جو پانی انہوں نے اپنے برتنوں میں بھر لیا ہے اسے انڈیل دیں اور گندھا ہوا آٹا جانوروں کو کھلا دیں۔ اس کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی لیں جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما اخبره ان الناس نزلوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ارض ثمود الحجر، فاستقوا من بيرها، واعتجنوا به، فامرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يهريقوا ما استقوا من بيرها، وان يعلفوا الابل العجين، وامرهم ان يستقوا من البير التي كان تردها الناقة. تابعه اسامة عن نافع
ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد (عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام حجر سے گزرے تو فرمایا ”ان لوگوں کی بستی میں جنہوں نے ظلم کیا تھا نہ داخل ہو ‘ لیکن اس صورت میں کہ تم روتے ہوئے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈال لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کجاوے پر تشریف رکھتے تھے۔
حدثني محمد، اخبرنا عبد الله، عن معمر، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، عن ابيه رضى الله عنهم ان النبي صلى الله عليه وسلم لما مر بالحجر قال " لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا الا ان تكونوا باكين، ان يصيبكم ما اصابهم ". ثم تقنع بردايه، وهو على الرحل
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
حدثني عبد الله، حدثنا وهب، حدثنا ابي، سمعت يونس، عن الزهري، عن سالم، ان ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا انفسهم الا ان تكونوا باكين، ان يصيبكم مثل ما اصابهم
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی ‘ کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف ‘ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام تھے۔“
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الصمد، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف ابن يعقوب بن اسحاق بن ابراهيم عليهم السلام
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن ابی سعید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ کا خوف زیادہ رکھتا ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ عرب کے خانوادوں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو۔ دیکھو! لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے ( کسی کان میں سے اچھا مال نکلتا ہے کسی میں سے برا ) جو لوگ تم میں سے زمانہ جاہلیت میں شریف اور بہتر اخلاق کے تھے وہی اسلام کے بعد بھی اچھے اور شریف ہیں بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، قال اخبرني سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم من اكرم الناس قال " اتقاهم لله ". قالوا ليس عن هذا نسالك. قال " فاكرم الناس يوسف نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله ". قالوا ليس عن هذا نسالك. قال " فعن معادن العرب تسالوني، الناس معادن خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا ". حدثني محمد بن سلام اخبرنا عبدة عن عبيد الله عن سعيد عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) ان سے فرمایا ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ وہ بہت نرم دل ہیں ‘ آپ کی جگہ جب کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ یہی حکم دیا۔ لیکن انہوں نے بھی دوبارہ یہی عذر بیان کیا ‘ شعبہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم تو یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو۔ ( ظاہر میں کچھ باطن میں کچھ ) ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو نماز پڑھائیں۔“
حدثنا بدل بن المحبر، اخبرنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، قال سمعت عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " مري ابا بكر يصلي بالناس ". قالت انه رجل اسيف، متى يقم مقامك رق. فعاد فعادت، قال شعبة فقال في الثالثة او الرابعة " انكن صواحب يوسف، مروا ابا بكر
ہم سے ربیع بن یحییٰ بصریٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالملک بن عمیر نے ‘ ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نہایت نرم دل انسان ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی حکم فرمایا اور انہوں نے بھی وہی عذر دہرایا۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو نماز پڑھائیں۔ تم تو یوسف کی ساتھ والیاں ہو۔ ( ظاہر کچھ باطن کچھ ) چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امامت کی اور حسین بن علی جعفی نے زائدہ سے «رجل رقيق.» کے الفاظ نقل کئے کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں۔
حدثنا الربيع بن يحيى البصري، حدثنا زايدة، عن عبد الملك بن عمير، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابيه، قال مرض النبي صلى الله عليه وسلم فقال " مروا ابا بكر فليصل بالناس ". فقالت ان ابا بكر رجل. فقال مثله فقالت مثله. فقال " مروه فانكن صواحب يوسف ". فام ابو بكر في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال حسين عن زايدة رجل رقيق