Loading...

Loading...
کتب
۴۰ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، کہا میں نے قاسم سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ فرماتی تھیں کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی اور اس رنج میں رونے لگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کیا ہو گیا۔ کیا حائضہ ہو گئی ہو۔ میں نے کہا، ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو۔ البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ ( سرف ایک مقام مکہ سے چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال سمعت عبد الرحمن بن القاسم، قال سمعت القاسم، يقول سمعت عايشة، تقول خرجنا لا نرى الا الحج، فلما كنا بسرف حضت، فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي قال " ما لك انفست ". قلت نعم. قال " ان هذا امر كتبه الله على بنات ادم، فاقضي ما يقضي الحاج، غير ان لا تطوفي بالبيت ". قالت وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسايه بالبقر
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں خبر دی مالک نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو حائضہ ہونے کی حالت میں بھی کنگھا کیا کرتی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت ارجل راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا حايض
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے عروہ کے واسطے سے بتایا کہ ان سے سوال کیا گیا، کیا حائضہ بیوی میری خدمت کر سکتی ہے، یا ناپاکی کی حالت میں عورت مجھ سے نزدیک ہو سکتی ہے؟ عروہ نے فرمایا میرے نزدیک تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح کہ عورتیں میری بھی خدمت کرتی ہیں اور اس میں کسی کے لیے بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حائضہ ہونے کی حالت میں کنگھا کیا کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں معتکف ہوتے۔ آپ اپنا سر مبارک قریب کر دیتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرہ ہی سے کنگھا کر دیتیں، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني هشام، عن عروة، انه سيل اتخدمني الحايض او تدنو مني المراة وهى جنب فقال عروة كل ذلك على هين، وكل ذلك تخدمني، وليس على احد في ذلك باس، اخبرتني عايشة انها كانت ترجل تعني راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي حايض، ورسول الله صلى الله عليه وسلم حينيذ مجاور في المسجد، يدني لها راسه وهى في حجرتها، فترجله وهى حايض
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے زہیر سے سنا، انہوں نے منصور بن صفیہ سے کہ ان کی ماں نے ان سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔
حدثنا ابو نعيم الفضل بن دكين، سمع زهيرا، عن منصور ابن صفية، ان امه، حدثته ان عايشة حدثتها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتكي في حجري وانا حايض، ثم يقرا القران
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے یحییٰ بن کثیر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ سے کہ زینب بنت ام سلمہ نے ان سے بیان کیا اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی، اتنے میں مجھے حیض آ گیا۔ اس لیے میں آہستہ سے باہر نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں نفاس آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا لیا، اور میں چادر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹ گئی۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، قال حدثنا هشام، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، ان زينب ابنة ام سلمة، حدثته ان ام سلمة حدثتها قالت، بينا انا مع النبي، صلى الله عليه وسلم مضطجعة في خميصة اذ حضت، فانسللت فاخذت ثياب حيضتي قال " انفست ". قلت نعم. فدعاني فاضطجعت معه في الخميلة
حدثنا قبيصة، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا والنبي، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد، كلانا جنب. وكان يامرني فاتزر، فيباشرني وانا حايض. وكان يخرج راسه الى وهو معتكف، فاغسله وانا حايض
حدثنا قبيصة، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا والنبي، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد، كلانا جنب. وكان يامرني فاتزر، فيباشرني وانا حايض. وكان يخرج راسه الى وهو معتكف، فاغسله وانا حايض
حدثنا قبيصة، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا والنبي، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد، كلانا جنب. وكان يامرني فاتزر، فيباشرني وانا حايض. وكان يخرج راسه الى وهو معتكف، فاغسله وانا حايض
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ہم سے ابواسحاق سلیمان بن فیروز شیبانی نے عبدالرحمٰن بن اسود کے واسطہ سے، وہ اپنے والد اسود بن یزید سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا ہم ازواج میں سے کوئی جب حائضہ ہوتی، اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مباشرت کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازار باندھنے کا حکم دے دیتے باوجود حیض کی زیادتی کے۔ پھر بدن سے بدن ملاتے، آپ نے کہا تم میں ایسا کون ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنی شہوت پر قابو رکھتا ہو۔ اس حدیث کی متابعت خالد اور جریر نے شیبانی کی روایت سے کی ہے۔ ( یہاں بھی مباشرت سے ساتھ لیٹنا بیٹھنا مراد ہے ) ۔
حدثنا اسماعيل بن خليل، قال اخبرنا علي بن مسهر، قال اخبرنا ابو اسحاق هو الشيباني عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت احدانا اذا كانت حايضا، فاراد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يباشرها، امرها ان تتزر في فور حيضتها ثم يباشرها. قالت وايكم يملك اربه كما كان النبي صلى الله عليه وسلم يملك اربه. تابعه خالد وجرير عن الشيباني
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق شیبانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن شداد نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے میمونہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ حائضہ ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے، وہ پہلے ازار باندھ لیتیں۔ اور سفیان نے شیبانی سے اس کو روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا الشيباني، قال حدثنا عبد الله بن شداد، قال سمعت ميمونة، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يباشر امراة من نسايه امرها فاتزرت وهى حايض. ورواه سفيان عن الشيباني
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے زید نے اور یہ زید اسلم کے بیٹے ہیں، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال اخبرنا محمد بن جعفر، قال اخبرني زيد هو ابن اسلم عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في اضحى او فطر الى المصلى، فمر على النساء فقال " يا معشر النساء تصدقن، فاني اريتكن اكثر اهل النار ". فقلن وبم يا رسول الله قال " تكثرن اللعن، وتكفرن العشير، ما رايت من ناقصات عقل ودين اذهب للب الرجل الحازم من احداكن ". قلن وما نقصان ديننا وعقلنا يا رسول الله قال " اليس شهادة المراة مثل نصف شهادة الرجل ". قلن بلى. قال " فذلك من نقصان عقلها، اليس اذا حاضت لم تصل ولم تصم ". قلن بلى. قال " فذلك من نقصان دينها
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے اس طرح نکلے کہ ہماری زبانوں پر حج کے علاوہ اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ ( اس غم سے ) میں رو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا کاش! میں اس سال حج کا ارادہ ہی نہ کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تمہیں حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس لیے تم جب تک پاک نہ ہو جاؤ طواف بیت اللہ کے علاوہ حاجیوں کی طرح تمام کام انجام دو۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم لا نذكر الا الحج، فلما جينا سرف طمثت، فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال {ما يبكيك}. قلت لوددت والله اني لم احج العام. قال {لعلك نفست}. قلت نعم. قال " فان ذلك شىء كتبه الله على بنات ادم، فافعلي ما يفعل الحاج، غير ان لا تطوفي بالبيت حتى تطهري
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بیان کیا کہ فاطمہ ابی حبیش کی بیٹی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو پاک ہی نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز بالکل چھوڑ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں اس لیے جب حیض کے دن ( جن میں کبھی پہلے تمہیں عادتاً آیا کرتا تھا ) آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب اندازہ کے مطابق وہ دن گزر جائیں، تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت قالت فاطمة بنت ابي حبيش لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله اني لا اطهر، افادع الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق وليس بالحيضة، فاذا اقبلت الحيضة فاتركي الصلاة، فاذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وصلي
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے، انہوں نے اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ ایک ایسی عورت کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس کے کپڑے پر حیض کا خون لگ گیا ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی عورت کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو چاہیے کہ اسے رگڑ ڈالے، اس کے بعد اسے پانی سے دھوئے، پھر اس کپڑے میں نماز پڑھ لے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، انها قالت سالت امراة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله، ارايت احدانا اذا اصاب ثوبها الدم من الحيضة، كيف تصنع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اصاب ثوب احداكن الدم من الحيضة، فلتقرصه ثم لتنضحه بماء، ثم لتصلي فيه
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عمرو بن حارث نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد قاسم بن محمد سے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا تو کپڑے کو پاک کرتے وقت ہم خون کو مل دیتے، پھر اس جگہ کو دھو لیتے اور تمام کپڑے پر پانی بہا دیتے اور اسے پہن کر نماز پڑھتے۔
حدثنا اصبغ، قال اخبرني ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت احدانا تحيض، ثم تقترص الدم من ثوبها عند طهرها فتغسله، وتنضح على سايره، ثم تصلي فيه
ہم سے اسحاق بن شاہین ابوبشر واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے خالد بن مہران سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں اور انہیں خون آتا تھا۔ اس لیے خون کی وجہ سے طشت اکثر اپنے نیچے رکھ لیتیں۔ اور عکرمہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کسم کا پانی دیکھا تو فرمایا یہ تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے فلاں صاحبہ کو استحاضہ کا خون آتا تھا۔
حدثنا اسحاق، قال حدثنا خالد بن عبد الله، عن خالد، عن عكرمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتكف معه بعض نسايه وهى مستحاضة ترى الدم، فربما وضعت الطست تحتها من الدم. وزعم ان عايشة رات ماء العصفر فقالت كان هذا شىء كانت فلانة تجده
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے خالد سے، وہ عکرمہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک نے اعتکاف کیا۔ وہ خون اور زردی ( نکلتے ) دیکھتیں، طشت ان کے نیچے ہوتا اور نماز ادا کرتی تھیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا يزيد بن زريع، عن خالد، عن عكرمة، عن عايشة، قالت اعتكفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم امراة من ازواجه، فكانت ترى الدم والصفرة، والطست تحتها وهى تصلي
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے خالد کے واسطہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بعض امہات المؤمنین نے اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں۔ ( اوپر والی روایت میں ان ہی کا ذکر ہے ) ۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا معتمر، عن خالد، عن عكرمة، عن عايشة، ان بعض، امهات المومنين اعتكفت وهى مستحاضة
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتے تھے۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتے اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا ابراهيم بن نافع، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، قال قالت عايشة ما كان لاحدانا الا ثوب واحد تحيض فيه، فاذا اصابه شىء من دم، قالت بريقها فقصعته بظفرها
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے حفصہ سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب ( یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی ) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں ( عدت کے دنوں میں ) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن حفصة قال ابو عبد الله او هشام بن حسان عن حفصة، عن ام عطية قالت كنا ننهى ان نحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا، ولا نكتحل ولا نتطيب ولا نلبس ثوبا مصبوغا الا ثوب عصب، وقد رخص لنا عند الطهر اذا اغتسلت احدانا من محيضها في نبذة من كست اظفار، وكنا ننهى عن اتباع الجنايز. قال رواه هشام بن حسان عن حفصة عن ام عطية عن النبي صلى الله عليه وسلم