Loading...

Loading...
کتب
۴۰ احادیث
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی ماں صفیہ بنت شیبہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے پوچھا۔ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اسے خون لگی ہوئی جگہوں پر پھیر لیا کر۔
حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن عيينة، عن منصور ابن صفية، عن امه، عن عايشة، ان امراة، سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن غسلها من المحيض، فامرها كيف تغتسل قال " خذي فرصة من مسك فتطهري بها ". قالت كيف اتطهر قال " تطهري بها ". قالت كيف قال " سبحان الله تطهري ". فاجتبذتها الى فقلت تتبعي بها اثر الدم
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ صفیہ سے، وہ عائشہ سے کہ انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مشک میں بسا ہوا کپڑا لے اور پاکی حاصل کر، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا، یا فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے انہیں پکڑ کر کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کہنی چاہتے تھے وہ میں نے اسے سمجھائی۔
حدثنا مسلم، قال حدثنا وهيب، حدثنا منصور، عن امه، عن عايشة، ان امراة، من الانصار قالت للنبي صلى الله عليه وسلم كيف اغتسل من المحيض قال " خذي فرصة ممسكة، فتوضيي ثلاثا ". ثم ان النبي صلى الله عليه وسلم استحيا فاعرض بوجهه او قال " توضيي بها " فاخذتها فجذبتها فاخبرتها بما يريد النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے عروہ کے واسطہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا، میں تمتع کرنے والوں میں تھی اور ہدی ( یعنی قربانی کا جانور ) اپنے ساتھ نہیں لے گئی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق بتایا کہ پھر وہ حائضہ ہو گئیں اور عرفہ کی رات آ گئی اور ابھی تک وہ پاک نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! آج عرفہ کی رات ہے اور میں عمرہ کی نیت کر چکی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سر کو کھول ڈال اور کنگھا کر اور عمرہ کو چھوڑ دے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے حج پورا کیا۔ اور لیلۃ الحصبہ میں عبدالرحمٰن بن ابوبکر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ وہ مجھے اس عمرہ کے بدلہ میں جس کی نیت میں نے کی تھی تنعیم سے ( دوسرا ) عمرہ کرا لائے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم، حدثنا ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، قالت اهللت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، فكنت ممن تمتع، ولم يسق الهدى، فزعمت انها حاضت، ولم تطهر حتى دخلت ليلة عرفة فقالت يا رسول الله، هذه ليلة عرفة، وانما كنت تمتعت بعمرة. فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " انقضي راسك، وامتشطي، وامسكي عن عمرتك ". ففعلت، فلما قضيت الحج امر عبد الرحمن ليلة الحصبة فاعمرني من التنعيم مكان عمرتي التي نسكت
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ حماد نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے فرمایا ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے تو اسے عمرہ کا احرام باندھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اس پر بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر عرفہ کا دن آ گیا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ اور اپنا سر کھول اور کنگھا کر اور حج کا احرام باندھ لے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا۔ میں تنعیم میں گئی اور وہاں سے اپنے عمرہ کے بدلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا۔ ہشام نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کی وجہ سے بھی نہ ہدی واجب ہوئی اور نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ ( تنعیم حد حرم سے قریب تین میل دور ایک مقام کا نام ہے ) ۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، قال حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا موافين لهلال ذي الحجة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب ان يهل بعمرة فليهلل، فاني لولا اني اهديت لاهللت بعمرة ". فاهل بعضهم بعمرة، واهل بعضهم بحج، وكنت انا ممن اهل بعمرة، فادركني يوم عرفة وانا حايض، فشكوت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " دعي عمرتك، وانقضي راسك وامتشطي، واهلي بحج ". ففعلت حتى اذا كان ليلة الحصبة ارسل معي اخي عبد الرحمن بن ابي بكر، فخرجت الى التنعيم، فاهللت بعمرة مكان عمرتي. قال هشام ولم يكن في شىء من ذلك هدى ولا صوم ولا صدقة
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے عبیداللہ بن ابی بکر کے واسطے سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے رب! اب یہ «نطفة» ہے، اے رب! اب یہ «علقة» ہو گیا ہے، اے رب! اب یہ «مضغة» ہو گیا ہے۔ پھر جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کی خلقت پوری کرے تو کہتا ہے کہ مذکر یا مونث، بدبخت ہے یا نیک بخت، روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی۔ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا حماد، عن عبيد الله بن ابي بكر، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله عز وجل وكل بالرحم ملكا يقول يا رب نطفة، يا رب علقة، يا رب مضغة. فاذا اراد ان يقضي خلقه قال اذكر ام انثى شقي ام سعيد فما الرزق والاجل فيكتب في بطن امه
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سفر میں نکلے، ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، پھر ہم مکہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہو جائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور وہ ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہو گا۔ اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہیے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی اور عرفہ کا دن آ گیا۔ میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول لوں، کنگھا کر لوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں، میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کر لیا۔ پھر میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، فمنا من اهل بعمرة، ومنا من اهل بحج، فقدمنا مكة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احرم بعمرة ولم يهد فليحلل، ومن احرم بعمرة واهدى فلا يحل حتى يحل بنحر هديه، ومن اهل بحج فليتم حجه ". قالت فحضت فلم ازل حايضا حتى كان يوم عرفة، ولم اهلل الا بعمرة، فامرني النبي صلى الله عليه وسلم ان انقض راسي وامتشط، واهل بحج، واترك العمرة، ففعلت ذلك حتى قضيت حجي، فبعث معي عبد الرحمن بن ابي بكر، وامرني ان اعتمر مكان عمرتي من التنعيم
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے باپ سے، وہ عائشہ سے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر۔
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش، كانت تستحاض فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ذلك عرق، وليست بالحيضة، فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، واذا ادبرت فاغتسلي وصلي
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا مجھ سے معاذہ بنت عبداللہ نے کہ ایک عورت نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جس زمانہ میں ہم پاک رہتے ہیں۔ ( حیض سے ) کیا ہمارے لیے اسی زمانہ کی نماز کافی ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم حروریہ ہو؟ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حائضہ ہوتی تھیں اور آپ ہمیں نماز کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یا عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا کہ ہم نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا همام، قال حدثنا قتادة، قال حدثتني معاذة، ان امراة، قالت لعايشة اتجزي احدانا صلاتها اذا طهرت فقالت احرورية انت كنا نحيض مع النبي صلى الله عليه وسلم فلا يامرنا به. او قالت فلا نفعله
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا، اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کر لیا۔ زینب نے کہا کہ مجھ سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لیتے۔ اور میں نے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں جنابت کا غسل کیا۔
حدثنا سعد بن حفص، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن زينب ابنة ابي سلمة، حدثته ان ام سلمة قالت حضت وانا مع النبي، صلى الله عليه وسلم في الخميلة، فانسللت فخرجت منها، فاخذت ثياب حيضتي فلبستها، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " انفست ". قلت نعم، فدعاني فادخلني معه في الخميلة. قالت وحدثتني ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبلها وهو صايم، وكنت اغتسل انا والنبي صلى الله عليه وسلم من اناء واحد من الجنابة
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ ابوسلمہ سے، وہ زینب بنت ابی سلمہ سے، وہ ام سلمہ سے، انہوں نے بتلایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا، میں چپکے سے چلی گئی اور حیض کے کپڑے بدل لیے، آپ نے پوچھا کیا تجھ کو حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا، جی ہاں! پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔
حدثنا معاذ بن فضالة، قال حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن زينب ابنة ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت بينا انا مع النبي، صلى الله عليه وسلم مضطجعة في خميلة حضت، فانسللت فاخذت ثياب حيضتي فقال " انفست ". فقلت نعم. فدعاني فاضطجعت معه في الخميلة
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سختیانی سے، وہ حفصہ بنت سیرین سے، انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنی کنواری جوان بچیوں کو عیدگاہ جانے سے روکتی تھیں، پھر ایک عورت آئی اور بنی خلف کے محل میں اتریں اور انہوں نے اپنی بہن ( ام عطیہ ) کے حوالہ سے بیان کیا، جن کے شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ لڑائیوں میں شریک ہوئے تھے اور خود ان کی اپنی بہن اپنے شوہر کے ساتھ چھ جنگوں میں گئی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں اور مریضوں کی خبرگیری بھی کرتی تھیں۔ میری بہن نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو کیا اس کے لیے اس میں کوئی حرج ہے کہ وہ ( نماز عید کے لیے ) باہر نہ نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی ساتھی عورت کو چاہیے کہ اپنی چادر کا کچھ حصہ اسے بھی اڑھا دے، پھر وہ خیر کے مواقع پر اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں، ( یعنی عیدگاہ جائیں ) پھر جب ام عطیہ رضی اللہ عنہا آئیں تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا، میرا باپ آپ پر فدا ہو، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو یہ ضرور فرماتیں کہ میرا باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہو۔ ( انہوں نے کہا ) میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ جوان لڑکیاں، پردہ والیاں اور حائضہ عورتیں بھی باہر نکلیں اور مواقع خیر میں اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں اور حائضہ عورت جائے نماز سے دور رہے۔ حفصہ کہتی ہیں، میں نے پوچھا کیا حائضہ بھی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتی۔ یعنی جب وہ ان جملہ مقدس مقامات میں جاتی ہیں تو پھر عیدگاہ کیوں نہ جائیں۔
حدثنا محمد هو ابن سلام قال اخبرنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن حفصة، قالت كنا نمنع عواتقنا ان يخرجن في العيدين، فقدمت امراة فنزلت قصر بني خلف، فحدثت عن اختها، وكان زوج اختها غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثنتى عشرة، وكانت اختي معه في ست. قالت كنا نداوي الكلمى، ونقوم على المرضى، فسالت اختي النبي صلى الله عليه وسلم اعلى احدانا باس اذا لم يكن لها جلباب ان لا تخرج قال " لتلبسها صاحبتها من جلبابها، ولتشهد الخير ودعوة المسلمين ". فلما قدمت ام عطية سالتها اسمعت النبي صلى الله عليه وسلم قالت بابي نعم وكانت لا تذكره الا قالت بابي سمعته يقول " يخرج العواتق وذوات الخدور، او العواتق ذوات الخدور والحيض، وليشهدن الخير ودعوة المومنين، ويعتزل الحيض المصلى ". قالت حفصة فقلت الحيض فقالت اليس تشهد عرفة وكذا وكذا
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابواسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے ہشام بن عروہ سے سنا، کہا مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے خبر دی کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ یہ تو ایک رگ کا خون ہے، ہاں اتنے دنوں میں نماز ضرور چھوڑ دیا کر جن میں اس بیماری سے پہلے تمہیں حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھا کرو۔
حدثنا احمد بن ابي رجاء، قال حدثنا ابو اسامة، قال سمعت هشام بن عروة، قال اخبرني ابي، عن عايشة،. ان فاطمة بنت ابي حبيش، سالت النبي صلى الله عليه وسلم قالت اني استحاض فلا اطهر، افادع الصلاة فقال " لا، ان ذلك عرق، ولكن دعي الصلاة قدر الايام التي كنت تحيضين فيها، ثم اغتسلي وصلي
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، وہ محمد بن سیرین سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہم زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن محمد، عن ام عطية، قالت كنا لا نعد الكدرة والصفرة شييا
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب بن ابی ذئب سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ اور عمرہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں ) کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سات سال تک مستحاضہ رہیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ رگ ( کی وجہ سے بیماری ) ہے۔ پس ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، قال حدثنا معن، قال حدثني ابن ابي ذيب، عن ابن شهاب، عن عروة، وعن عمرة، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان ام حبيبة استحيضت سبع سنين، فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فامرها ان تغتسل فقال " هذا عرق ". فكانت تغتسل لكل صلاة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے اپنے باپ ابوبکر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن کی بیٹی عمرہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو ( حج میں ) حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف ( زیارت ) نہیں کیا۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله، ان صفية بنت حيى قد حاضت. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعلها تحبسنا، الم تكن طافت معكن ". فقالوا بلى. قال " فاخرجي
حدثنا معلى بن اسد، قال حدثنا وهيب، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال رخص للحايض ان تنفر، اذا حاضت. وكان ابن عمر يقول في اول امره انها لا تنفر. ثم سمعته يقول تنفر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص لهن
حدثنا معلى بن اسد، قال حدثنا وهيب، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال رخص للحايض ان تنفر، اذا حاضت. وكان ابن عمر يقول في اول امره انها لا تنفر. ثم سمعته يقول تنفر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص لهن
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حیض کا زمانہ آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ زمانہ گزر جائے تو خون کو دھو اور نماز پڑھ۔
حدثنا احمد بن يونس، عن زهير، قال حدثنا هشام، عن عروة، عن عايشة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے، کہا ہم سے شعبہ نے حسین سے۔ وہ عبداللہ بن بریدہ سے، وہ سمرہ بن جندب سے کہ ایک عورت ( ام کعب ) زچگی میں مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ( جسم کے ) وسط میں کھڑے ہو گئے۔
حدثنا احمد بن ابي سريج، قال اخبرنا شبابة، قال اخبرنا شعبة، عن حسين المعلم، عن ابن بريدة، عن سمرة بن جندب، ان امراة، ماتت في بطن، فصلى عليها النبي صلى الله عليه وسلم فقام وسطها
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابوعوانہ وضاح نے اپنی کتاب سے دیکھ کر خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی سلیمان شیبانی نے عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے کہا میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں سنا کہ میں حائضہ ہوتی تو نماز نہیں پڑھتی تھی اور یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( گھر میں ) نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب لیٹی ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اپنی چٹائی پر پڑھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کا کوئی حصہ مجھ سے لگ جاتا تھا۔
حدثنا الحسن بن مدرك، قال حدثنا يحيى بن حماد، قال اخبرنا ابو عوانة اسمه الوضاح من كتابه قال اخبرنا سليمان الشيباني، عن عبد الله بن شداد، قال سمعت خالتي، ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها كانت تكون حايضا لا تصلي، وهى مفترشة بحذاء مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي على خمرته، اذا سجد اصابني بعض ثوبه