Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن ابی الجعد کے واسطے سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عروة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان ينام وهو جنب، غسل فرجه، وتوضا للصلاة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے نافع سے، وہ عبداللہ بن عمر سے، کہا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ہم جنابت کی حالت میں سو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن وضو کر کے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله، قال استفتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم اينام احدنا وهو جنب قال " نعم، اذا توضا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ رات میں انہیں غسل کی ضرورت ہو جایا کرتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر لیا کر اور شرمگاہ کو دھو کر سو جا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، انه قال ذكر عمر بن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم انه تصيبه الجنابة من الليل، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " توضا واغسل ذكرك ثم نم
(دوسری سند سے) امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، وہ ہشام سے، وہ قتادہ سے، وہ امام حسن بصری سے، وہ ابورافع سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لیے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا، اس حدیث کی متابعت عمرو نے شعبہ کے واسطہ سے کی ہے اور موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بصری نے بیان کیا۔ اسی حدیث کی طرح۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا یہ حدیث اس باب کی تمام احادیث میں عمدہ اور بہتر ہے اور ہم نے دوسری حدیث ( عثمان اور ابن ابی کعب کی ) صحابہ کے اختلاف کے پیش نظر بیان کی اور غسل میں اختیاط زیادہ ہے۔
حدثنا معاذ بن فضالة، قال حدثنا هشام، ح وحدثنا ابو نعيم، عن هشام، عن قتادة، عن الحسن، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا جلس بين شعبها الاربع ثم جهدها، فقد وجب الغسل ". تابعه عمرو بن مرزوق عن شعبة مثله. وقال موسى حدثنا ابان قال حدثنا قتادة اخبرنا الحسن مثله
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے حسین بن ذکوان معلم کے واسطہ سے، ان کو یحییٰ نے کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی، ان کو عطا بن یسار نے خبر دی، انہیں زید بن خالد جہنی نے بتایا کہ انھوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مرد اپنی بیوی سے ہمبستر ہوا لیکن انزال نہیں ہوا تو وہ کیا کرے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی طرح وضو کر لے اور ذکر کو دھو لے اور عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے۔ میں نے اس کے متعلق علی بن ابی طالب، زبیر بن العوام، طلحہ بن عبیداللہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا یحییٰ نے کہا اور ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ یہ بات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، قال يحيى واخبرني ابو سلمة، ان عطاء بن يسار، اخبره ان زيد بن خالد الجهني اخبره انه، سال عثمان بن عفان فقال ارايت اذا جامع الرجل امراته فلم يمن. قال عثمان يتوضا كما يتوضا للصلاة، ويغسل ذكره. قال عثمان سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم. فسالت عن ذلك علي بن ابي طالب والزبير بن العوام وطلحة بن عبيد الله وابى بن كعب رضى الله عنهم فامروه بذلك. قال يحيى واخبرني ابو سلمة ان عروة بن الزبير اخبره ان ابا ايوب اخبره انه سمع ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام بن عروہ سے، کہا مجھے خبر دی میرے والد نے، کہا مجھے خبر دی ابوایوب نے، کہا مجھے خبر دی ابی بن کعب نے کہ انھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا غسل میں زیادہ احتیاط ہے اور یہ آخری احادیث ہم نے اس لیے بیان کر دیں ( تاکہ معلوم ہو جائے کہ ) اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور پانی ( سے غسل کر لینا ہی ) زیادہ پاک کرنے والا ہے۔ ( نوٹ: یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام بن عروة، قال اخبرني ابي قال، اخبرني ابو ايوب، قال اخبرني ابى بن كعب، انه قال يا رسول الله اذا جامع الرجل المراة فلم ينزل قال " يغسل ما مس المراة منه، ثم يتوضا ويصلي ". قال ابو عبد الله الغسل احوط، وذاك الاخر، وانما بينا لاختلافهم