Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے قتادہ کے واسطہ سے، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور یہ گیارہ تھیں۔ ( نو منکوحہ اور دو لونڈیاں ) راوی نے کہا، میں نے انس سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے اور سعید نے کہا قتادہ کے واسطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے ان سے نو ازواج کا ذکر کیا۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، قال حدثنا انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يدور على نسايه في الساعة الواحدة من الليل والنهار، وهن احدى عشرة. قال قلت لانس اوكان يطيقه قال كنا نتحدث انه اعطي قوة ثلاثين. وقال سعيد عن قتادة ان انسا حدثهم تسع نسوة
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے ابوحصین کے واسطہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ مجھے مذی بکثرت آتی تھی، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا ) تھیں۔ اس لیے میں نے ایک شخص ( مقداد بن اسود اپنے شاگرد ) سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو ( یہی کافی ہے ) ۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا زايدة، عن ابي حصين، عن ابي عبد الرحمن، عن علي، قال كنت رجلا مذاء فامرت رجلا ان يسال النبي صلى الله عليه وسلم لمكان ابنته فسال فقال " توضا واغسل ذكرك
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، وہ اپنے والد سے، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کا ذکر کیا کہ میں اسے گوارا نہیں کر سکتا کہ میں احرام باندھوں اور خوشبو میرے جسم سے مہک رہی ہو۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی۔ پھر آپ اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور اس کے بعد احرام باندھا۔
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، قال سالت عايشة فذكرت لها قول ابن عمر ما احب ان اصبح، محرما انضخ طيبا. فقالت عايشة انا طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم طاف في نسايه ثم اصبح محرما
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا ہم سے حکم نے ابراہیم کے واسطہ سے، وہ اسود سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا گویا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے ہیں۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كاني انظر الى وبيص الطيب في مفرق النبي صلى الله عليه وسلم وهو محرم
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة غسل يديه، وتوضا وضوءه للصلاة ثم اغتسل، ثم يخلل بيده شعره، حتى اذا ظن ان قد اروى بشرته، افاض عليه الماء ثلاث مرات، ثم غسل ساير جسده. وقالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد نغرف منه جميعا
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة غسل يديه، وتوضا وضوءه للصلاة ثم اغتسل، ثم يخلل بيده شعره، حتى اذا ظن ان قد اروى بشرته، افاض عليه الماء ثلاث مرات، ثم غسل ساير جسده. وقالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد نغرف منه جميعا
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا انہوں نے سالم کے واسطہ سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو یا تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔ پھر شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر دو یا تین بار رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ پھر اپنی جگہ سے سرک کر پاؤں دھوئے۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں ایک کپڑا لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور ہاتھوں ہی سے پانی جھاڑنے لگے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، قال اخبرنا الفضل بن موسى، قال اخبرنا الاعمش، عن سالم، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، عن ميمونة، قالت وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم وضوءا لجنابة فاكفا بيمينه على شماله مرتين، او ثلاثا، ثم غسل فرجه، ثم ضرب يده بالارض او الحايط مرتين او ثلاثا، ثم مضمض واستنشق، وغسل وجهه وذراعيه، ثم افاض على راسه الماء، ثم غسل جسده، ثم تنحى فغسل رجليه. قالت فاتيته بخرقة، فلم يردها، فجعل ينفض بيده
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی زہری کے واسطے سے، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہو گئیں، لوگ کھڑے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ عثمان بن عمر سے اس روایت کی متابعت کی ہے عبدالاعلیٰ نے معمر سے اور وہ زہری سے۔ اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال اخبرنا يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال اقيمت الصلاة، وعدلت الصفوف قياما، فخرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قام في مصلاه ذكر انه جنب فقال لنا : " مكانكم ". ثم رجع فاغتسل، ثم خرج الينا وراسه يقطر، فكبر فصلينا معه. تابعه عبد الاعلى عن معمر عن الزهري. ورواه الاوزاعي عن الزهري
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ (محمد بن میمون) نے، کہا میں نے اعمش سے سنا، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس سے، آپ نے کہا کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے پردہ کر دیا۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پانی لیا اور شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر مارا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور بازو دھوئے۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام غسل سے ایک طرف ہو گئے۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے۔ اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑا دینا چاہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا ابو حمزة، قال سمعت الاعمش، عن سالم، عن كريب، عن ابن عباس، قال قالت ميمونة وضعت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا، فسترته بثوب، وصب على يديه فغسلهما، ثم صب بيمينه على شماله، فغسل فرجه، فضرب بيده الارض فمسحها، ثم غسلها فمضمض، واستنشق، وغسل وجهه وذراعيه، ثم صب على راسه، وافاض على جسده، ثم تنحى فغسل قدميه، فناولته ثوبا فلم ياخذه، فانطلق وهو ينفض يديه
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے حسن بن مسلم سے روایت کی، وہ صفیہ بنت شیبہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ ہم ازواج ( مطہرات ) میں سے کسی کو اگر جنابت لاحق ہوتی تو وہ ہاتھوں میں پانی لے کر سر پر تین مرتبہ ڈالتیں۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر سر کے داہنے حصے کا غسل کرتیں اور دوسرے ہاتھ سے بائیں حصے کا غسل کرتیں۔
حدثنا خلاد بن يحيى، قال حدثنا ابراهيم بن نافع، عن الحسن بن مسلم، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، قالت كنا اذا اصابت احدانا جنابة، اخذت بيديها ثلاثا فوق راسها، ثم تاخذ بيدها على شقها الايمن، وبيدها الاخرى على شقها الايسر
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے معمر سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے۔ آپ کہتے جاتے تھے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن نصر، قال حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كانت بنو اسراييل يغتسلون عراة، ينظر بعضهم الى بعض، وكان موسى يغتسل وحده، فقالوا والله ما يمنع موسى ان يغتسل معنا الا انه ادر، فذهب مرة يغتسل، فوضع ثوبه على حجر، ففر الحجر بثوبه، فخرج موسى في اثره يقول ثوبي يا حجر. حتى نظرت بنو اسراييل الى موسى، فقالوا والله ما بموسى من باس. واخذ ثوبه، فطفق بالحجر ضربا ". فقال ابو هريرة والله انه لندب بالحجر ستة او سبعة ضربا بالحجر
اور اسی سند کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ( ایک بار ) ایوب علیہ السلام ننگے غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں آپ پر گرنے لگیں۔ ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ اتنے میں ان کے رب نے انہیں پکارا۔ کہ اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بےنیاز نہیں کر دیا، جسے تم دیکھ رہے ہو۔ ایوب علیہ السلام نے جواب دیا ہاں تیری بزرگی کی قسم۔ لیکن تیری برکت سے میرے لیے بے نیازی کیونکر ممکن ہے۔ اور اس حدیث کو ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے، وہ صفوان سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ ابوہریرہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس طرح نقل کرتے ہیں ”جب کہ ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے“ ( آخر تک ) ۔
وعن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينا ايوب يغتسل عريانا فخر عليه جراد من ذهب، فجعل ايوب يحتثي في ثوبه، فناداه ربه يا ايوب، الم اكن اغنيتك عما ترى قال بلى وعزتك ولكن لا غنى بي عن بركتك ". ورواه ابراهيم عن موسى بن عقبة عن صفوان عن عطاء بن يسار عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينا ايوب يغتسل عريانا
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے روایت کی۔ انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر سے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے مولیٰ ابومرہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب کو یہ کہتے سنا کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ غسل فرما رہے ہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر رکھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں۔ میں نے عرض کی کہ میں ام ہانی ہوں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله ان ابا مرة، مولى ام هاني بنت ابي طالب اخبره انه، سمع ام هاني بنت ابي طالب، تقول ذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح، فوجدته يغتسل وفاطمة تستره فقال " من هذه ". فقلت انا ام هاني
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، وہ سالم بن ابی الجعد سے، وہ کریب سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پردہ کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی بہایا اور شرمگاہ دھوئی اور جو کچھ اس میں لگ گیا تھا اسے دھویا پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر ( دھویا ) پھر نماز کی طرح وضو کیا۔ پاؤں کے علاوہ۔ پھر پانی اپنے سارے بدن پر بہایا اور اس جگہ سے ہٹ کر دونوں قدموں کو دھویا۔ اس حدیث میں ابوعوانہ اور محمد بن فضیل نے بھی پردے کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة، قالت سترت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يغتسل من الجنابة، فغسل يديه ثم صب بيمينه على شماله، فغسل فرجه، وما اصابه، ثم مسح بيده على الحايط او الارض، ثم توضا وضوءه للصلاة، غير رجليه، ثم افاض على جسده الماء، ثم تنحى فغسل قدميه. تابعه ابو عوانة وابن فضيل في الستر
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، وہ زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ ام سلیم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا۔ کیا عورت پر بھی جب کہ اسے احتلام ہو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں اگر ( اپنی منی کا ) پانی دیکھے ( تو اسے بھی غسل کرنا ہو گا ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة ام المومنين، انها قالت جاءت ام سليم امراة ابي طلحة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله، ان الله لا يستحيي من الحق، هل على المراة من غسل اذا هي احتلمت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم اذا رات الماء
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے ابورافع کے واسطہ سے، انہوں نے ابوہریرہ سے سنا کہ مدینہ کے کسی راستے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں پیچھے رہ کر لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغیر غسل کے بیٹھنا برا جانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ سبحان اللہ! مومن ہرگز نجس نہیں ہو سکتا۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا حميد، قال حدثنا بكر، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم لقيه في بعض طريق المدينة وهو جنب، فانخنست منه، فذهب فاغتسل، ثم جاء فقال " اين كنت يا ابا هريرة ". قال كنت جنبا، فكرهت ان اجالسك وانا على غير طهارة. فقال " سبحان الله، ان المومن لا ينجس
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں نو بیویاں تھیں۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، ان انس بن مالك، حدثهم ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسايه في الليلة الواحدة، وله يوميذ تسع نسوة
ہم سے عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابورافع سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔
حدثنا عياش، قال حدثنا عبد الاعلى، حدثنا حميد، عن بكر، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، قال لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا جنب، فاخذ بيدي، فمشيت معه حتى قعد فانسللت، فاتيت الرحل، فاغتسلت ثم جيت وهو قاعد فقال " اين كنت يا ابا هر " فقلت له. فقال " سبحان الله يا ابا هر ان المومن لا ينجس
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام اور شیبان نے، وہ یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے؟ کہا ہاں لیکن وضو کر لیتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا هشام، وشيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال سالت عايشة اكان النبي صلى الله عليه وسلم يرقد وهو جنب قالت نعم ويتوضا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ فرمایا ہاں، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، ان عمر بن الخطاب، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم ايرقد احدنا وهو جنب قال " نعم اذا توضا احدكم فليرقد وهو جنب