Loading...

Loading...
کتب
۴۶ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں مالک نے ہشام سے خبر دی، وہ اپنے والد سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اسی طرح وضو کرتے جیسا نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ پھر پانی میں اپنی انگلیاں داخل فرماتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔ پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو سر پر ڈالتے پھر تمام بدن پر پانی بہا لیتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اغتسل من الجنابة بدا فغسل يديه، ثم يتوضا كما يتوضا للصلاة، ثم يدخل اصابعه في الماء، فيخلل بها اصول شعره ثم يصب على راسه ثلاث غرف بيديه، ثم يفيض الماء على جلده كله
ہم سے محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا اعمش سے روایت کر کے، وہ سالم ابن ابی الجعد سے، وہ کریب سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح ایک مرتبہ وضو کیا، البتہ پاؤں نہیں دھوئے۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جہاں کہیں بھی نجاست لگ گئی تھی، اس کو دھویا۔ پھر اپنے اوپر پانی بہا لیا۔ پھر پہلی جگہ سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں کو دھویا۔ آپ کا غسل جنابت اسی طرح ہوا کرتا تھا۔
حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم وضوءه للصلاة غير رجليه، وغسل فرجه، وما اصابه من الاذى، ثم افاض عليه الماء، ثم نحى رجليه فغسلهما، هذه غسله من الجنابة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے بتلایا کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے اس برتن کو فرق کہا جاتا تھا۔ ( نوٹ: فرق کے اندر 6.298 کلو گرام ہوتا ہے۔)
حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا والنبي، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد من قدح يقال له الفرق
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں ( ابوسلمہ ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ ( نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔)
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثني عبد الصمد، قال حدثني شعبة، قال حدثني ابو بكر بن حفص، قال سمعت ابا سلمة، يقول دخلت انا واخو، عايشة على عايشة فسالها اخوها عن غسل النبي، صلى الله عليه وسلم فدعت باناء نحوا من صاع، فاغتسلت وافاضت على راسها، وبيننا وبينها حجاب. قال ابو عبد الله قال يزيد بن هارون وبهز والجدي عن شعبة قدر صاع
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے کہا ہم سے ابوجعفر (محمد باقر) نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے والد ( جناب زین العابدین ) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے۔ اس پر ایک شخص بولا یہ مجھے تو کافی نہ ہو گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔ ( نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔)
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، قال حدثنا ابو جعفر، انه كان عند جابر بن عبد الله هو وابوه، وعنده قوم فسالوه عن الغسل،. فقال يكفيك صاع. فقال رجل ما يكفيني. فقال جابر كان يكفي من هو اوفى منك شعرا، وخير منك، ثم امنا في ثوب
ہم سے ابونعیم نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو کے واسطہ سے بیان کیا، وہ جابر بن زید سے، وہ عبداللہ بن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں غسل کر لیتے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ اخیر عمر میں اس حدیث کو یوں روایت کرتے تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے اور صحیح وہی روایت ہے جو ابونعیم نے کی ہے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا ابن عيينة، عن عمرو، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم وميمونة كانا يغتسلان من اناء واحد. قال ابو عبد الله كان ابن عيينة يقول اخيرا عن ابن عباس عن ميمونة، والصحيح ما روى ابو نعيم
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہیر نے روایت کی ابواسحاق سے، انہوں نے کہا کہ ہم سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، قال حدثني سليمان بن صرد، قال حدثني جبير بن مطعم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انا فافيض على راسي ثلاثا ". واشار بيديه كلتيهما
محمد بن بشار نے ہم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مخول بن راشد کے واسطے سے، وہ محمد ابن علی سے، وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، عن مخول بن راشد، عن محمد بن علي، عن جابر بن عبد الله، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يفرغ على راسه ثلاثا
ہم سے ابونعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر بن یحییٰ بن سام نے روایت کیا، کہا کہ ہم سے ابوجعفر (محمد باقر) نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر نے بیان کیا کہ میرے پاس تمہارے چچا کے بیٹے ( ان کی مراد حسن بن محمد ابن حنفیہ سے تھی ) آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ جنابت کے غسل کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین چلو پانی لیتے اور ان کو اپنے سر پر بہاتے تھے۔ پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہاتے تھے۔ حسن نے اس پر کہا کہ میں تو بہت بالوں والا آدمی ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا معمر بن يحيى بن سام، حدثني ابو جعفر، قال قال لي جابر اتاني ابن عمك يعرض بالحسن بن محمد ابن الحنفية قال كيف الغسل من الجنابة فقلت كان النبي صلى الله عليه وسلم ياخذ ثلاثة اكف ويفيضها على راسه، ثم يفيض على ساير جسده. فقال لي الحسن اني رجل كثير الشعر. فقلت كان النبي صلى الله عليه وسلم اكثر منك شعرا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے۔ پھر پانی اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر زمین پر ہاتھ رگڑا۔ اس کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے۔
حدثنا موسى، قال حدثنا عبد الواحد، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، قال قالت ميمونة وضعت للنبي صلى الله عليه وسلم ماء للغسل، فغسل يديه مرتين او ثلاثا، ثم افرغ على شماله فغسل مذاكيره، ثم مسح يده بالارض، ثم مضمض واستنشق وغسل وجهه ويديه، ثم افاض على جسده، ثم تحول من مكانه فغسل قدميه
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم (ضحاک بن مخلد) نے بیان کیا، وہ حنظلہ بن ابی سفیان سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرنا چاہتے تو حلاب کی طرح ایک چیز منگاتے۔ پھر ( پانی کا چلو ) اپنے ہاتھ میں لیتے اور سر کے داہنے حصے سے غسل کی ابتداء کرتے۔ پھر بائیں حصہ کا غسل کرتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے بیچ میں لگاتے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابو عاصم، عن حنظلة، عن القاسم، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة دعا بشىء نحو الحلاب، فاخذ بكفه، فبدا بشق راسه الايمن ثم الايسر، فقال بهما على راسه
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے، کہا مجھ سے سالم نے کریب کے واسطہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہا ہم سے میمونہ نے بیان فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر گرایا۔ اس طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر اسے مٹی سے ملا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرہ کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومال دیا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، قال حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني سالم، عن كريب، عن ابن عباس، قال حدثتنا ميمونة، قالت صببت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا، فافرغ بيمينه على يساره فغسلهما، ثم غسل فرجه، ثم قال بيده الارض فمسحها بالتراب، ثم غسلها، ثم تمضمض واستنشق، ثم غسل وجهه، وافاض على راسه، ثم تنحى فغسل قدميه، ثم اتي بمنديل، فلم ينفض بها
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا سالم بن ابی الجعد کے واسطہ سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا تو پہلے اپنی شرمگاہ کو اپنے ہاتھ سے دھویا۔ پھر ہاتھ کو دیوار پر رگڑ کر دھویا۔ پھر نماز کی طرح وضو کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غسل سے فارغ ہو گئے تو دونوں پاؤں دھوئے۔
حدثنا الحميدي، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اغتسل من الجنابة، فغسل فرجه بيده، ثم دلك بها الحايط ثم غسلها، ثم توضا وضوءه للصلاة، فلما فرغ من غسله غسل رجليه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا قاسم سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں اس طرح غسل کرتے تھے کہ ہمارے ہاتھ باری باری اس میں پڑتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، اخبرنا افلح، عن القاسم، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا والنبي، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد تختلف ايدينا فيه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، وہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے تو ( پہلے ) اپنا ہاتھ دھوتے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا حماد، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة غسل يده
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا۔ کہا ہم سے شعبہ نے ابوبکر بن حفص کے واسطے سے بیان کیا، وہ عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( دونوں مل کر ) ایک ہی برتن میں غسل جنابت کرتے تھے۔ اور شعبہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ) سے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن ابي بكر بن حفص، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا والنبي، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد من جنابة. وعن عبد الرحمن بن القاسم عن ابيه عن عايشة مثله
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر سے انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی کوئی زوجہ مطہرہ ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔ اس حدیث میں مسلم بن ابراہیم اور وہب بن جریر کی روایت میں شعبہ سے «من الجنابة» کا لفظ ( زیادہ ) ہے۔ ( یعنی یہ جنابت کا غسل ہوتا تھا ) ۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن عبد الله بن عبد الله بن جبر، قال سمعت انس بن مالك، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم والمراة من نسايه يغتسلان من اناء واحد. زاد مسلم ووهب عن شعبة من الجنابة
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے سالم بن ابی الجعد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر گرا کر انہیں دو یا تین بار دھویا۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں پر گرا کر اپنی شرمگاہوں کو دھویا۔ پھر ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنے سر کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہایا، پھر آپ اپنی غسل کی جگہ سے الگ ہو گئے۔ پھر اپنے قدموں کو دھویا۔
حدثنا محمد بن محبوب، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، قال قالت ميمونة وضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ماء يغتسل به، فافرغ على يديه، فغسلهما مرتين مرتين او ثلاثا، ثم افرغ بيمينه على شماله، فغسل مذاكيره، ثم دلك يده بالارض، ثم مضمض واستنشق، ثم غسل وجهه ويديه ثم غسل راسه ثلاثا، ثم افرغ على جسده، ثم تنحى من مقامه فغسل قدميه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے سالم بن ابی الجعد کے واسطہ سے بیان کیا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( غسل کا ) پانی رکھا اور پردہ کر دیا، آپ نے ( پہلے غسل میں ) اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے ایک یا دو بار دھویا۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں راوی ( سالم بن ابی الجعد ) نے تیسری بار کا بھی ذکر کیا یا نہیں۔ پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالا۔ اور شرمگاہ دھوئی، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔ اور سر کو دھویا۔ پھر سارے بدن پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف سرک کر دونوں پاؤں دھوئے۔ بعد میں میں نے ایک کپڑا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ اسے ہٹاؤ اور آپ نے اس کپڑے کا ارادہ نہیں فرمایا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا ابو عوانة، حدثنا الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، عن ميمونة بنت الحارث، قالت وضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم غسلا وسترته، فصب على يده، فغسلها مرة او مرتين قال سليمان لا ادري اذكر الثالثة ام لا ثم افرغ بيمينه على شماله، فغسل فرجه، ثم دلك يده بالارض او بالحايط، ثم تمضمض واستنشق، وغسل وجهه ويديه، وغسل راسه، ثم صب على جسده، ثم تنحى فغسل قدميه، فناولته خرقة، فقال بيده هكذا، ولم يردها
ہم سے محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، کہا ہم سے ابن ابی عدی اور یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے، وہ ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا، اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج ( مطہرات ) کے پاس تشریف لے گئے اور صبح کو احرام اس حالت میں باندھا کہ خوشبو سے بدن مہک رہا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابن ابي عدي، ويحيى بن سعيد، عن شعبة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، قال ذكرته لعايشة فقالت يرحم الله ابا عبد الرحمن، كنت اطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فيطوف على نسايه، ثم يصبح محرما ينضخ طيبا