Loading...

Loading...
کتب
۳۳ احادیث
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سمعت عمرا، قال كنت جالسا مع جابر بن زيد وعمرو بن اوس، فحدثهما بجالة، سنة سبعين عام حج مصعب بن الزبير باهل البصرة عند درج زمزم قال كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الاحنف، فاتانا كتاب عمر بن الخطاب قبل موته بسنة فرقوا بين كل ذي محرم من المجوس. ولم يكن عمر اخذ الجزية من المجوس. حتى شهد عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها من مجوس هجر
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سمعت عمرا، قال كنت جالسا مع جابر بن زيد وعمرو بن اوس، فحدثهما بجالة، سنة سبعين عام حج مصعب بن الزبير باهل البصرة عند درج زمزم قال كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الاحنف، فاتانا كتاب عمر بن الخطاب قبل موته بسنة فرقوا بين كل ذي محرم من المجوس. ولم يكن عمر اخذ الجزية من المجوس. حتى شهد عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها من مجوس هجر
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے اور انہیں عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نے خبر دی وہ بنی عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے۔ انہوں نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے لوگوں سے صلح کی تھی اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو حاکم بنایا تھا۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار کو معلوم ہو گیا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں۔ چنانچہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہیں خوشخبری ہو، اور اس چیز کے لیے تم پرامید رہو۔ جس سے تمہیں خوشی ہو گی، لیکن اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا کچھ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دئیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دئیے گئے تھے، تو ایسا نہ ہو کہ تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سے جلنے لگو اور یہ جلنا تم کو بھی اسی طرح تباہ کر دے جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، انه اخبره ان عمرو بن عوف الانصاري وهو حليف لبني عامر بن لوى وكان شهد بدرا اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث ابا عبيدة بن الجراح الى البحرين ياتي بجزيتها، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو صالح اهل البحرين وامر عليهم العلاء بن الحضرمي، فقدم ابو عبيدة بمال من البحرين، فسمعت الانصار بقدوم ابي عبيدة فوافت صلاة الصبح مع النبي صلى الله عليه وسلم، فلما صلى بهم الفجر انصرف، فتعرضوا له، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين راهم وقال " اظنكم قد سمعتم ان ابا عبيدة قد جاء بشىء ". قالوا اجل يا رسول الله. قال " فابشروا واملوا ما يسركم، فوالله لا الفقر اخشى عليكم، ولكن اخشى عليكم ان تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من كان قبلكم، فتنافسوها كما تنافسوها وتهلككم كما اهلكتهم
حدثنا الفضل بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، حدثنا المعتمر بن سليمان، حدثنا سعيد بن عبيد الله الثقفي، حدثنا بكر بن عبد الله المزني، وزياد بن جبير، عن جبير بن حية، قال بعث عمر الناس في افناء الامصار يقاتلون المشركين، فاسلم الهرمزان فقال اني مستشيرك في مغازي هذه. قال نعم، مثلها ومثل من فيها من الناس من عدو المسلمين مثل طاير له راس وله جناحان وله رجلان، فان كسر احد الجناحين نهضت الرجلان بجناح والراس، فان كسر الجناح الاخر نهضت الرجلان والراس، وان شدخ الراس ذهبت الرجلان والجناحان والراس، فالراس كسرى، والجناح قيصر، والجناح الاخر فارس، فمر المسلمين فلينفروا الى كسرى. وقال بكر وزياد جميعا عن جبير بن حية قال فندبنا عمر واستعمل علينا النعمان بن مقرن، حتى اذا كنا بارض العدو، وخرج علينا عامل كسرى في اربعين الفا، فقام ترجمان فقال ليكلمني رجل منكم. فقال المغيرة سل عما شيت. قال ما انتم قال نحن اناس من العرب كنا في شقاء شديد وبلاء شديد، نمص الجلد والنوى من الجوع، ونلبس الوبر والشعر، ونعبد الشجر والحجر، فبينا نحن كذلك، اذ بعث رب السموات ورب الارضين تعالى ذكره وجلت عظمته الينا نبيا من انفسنا، نعرف اباه وامه، فامرنا نبينا رسول ربنا صلى الله عليه وسلم ان نقاتلكم حتى تعبدوا الله وحده او تودوا الجزية، واخبرنا نبينا صلى الله عليه وسلم عن رسالة ربنا انه من قتل منا صار الى الجنة في نعيم لم ير مثلها قط، ومن بقي منا ملك رقابكم. فقال النعمان ربما اشهدك الله مثلها مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يندمك ولم يخزك، ولكني شهدت القتال مع رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا لم يقاتل في اول النهار انتظر حتى تهب الارواح وتحضر الصلوات
حدثنا الفضل بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، حدثنا المعتمر بن سليمان، حدثنا سعيد بن عبيد الله الثقفي، حدثنا بكر بن عبد الله المزني، وزياد بن جبير، عن جبير بن حية، قال بعث عمر الناس في افناء الامصار يقاتلون المشركين، فاسلم الهرمزان فقال اني مستشيرك في مغازي هذه. قال نعم، مثلها ومثل من فيها من الناس من عدو المسلمين مثل طاير له راس وله جناحان وله رجلان، فان كسر احد الجناحين نهضت الرجلان بجناح والراس، فان كسر الجناح الاخر نهضت الرجلان والراس، وان شدخ الراس ذهبت الرجلان والجناحان والراس، فالراس كسرى، والجناح قيصر، والجناح الاخر فارس، فمر المسلمين فلينفروا الى كسرى. وقال بكر وزياد جميعا عن جبير بن حية قال فندبنا عمر واستعمل علينا النعمان بن مقرن، حتى اذا كنا بارض العدو، وخرج علينا عامل كسرى في اربعين الفا، فقام ترجمان فقال ليكلمني رجل منكم. فقال المغيرة سل عما شيت. قال ما انتم قال نحن اناس من العرب كنا في شقاء شديد وبلاء شديد، نمص الجلد والنوى من الجوع، ونلبس الوبر والشعر، ونعبد الشجر والحجر، فبينا نحن كذلك، اذ بعث رب السموات ورب الارضين تعالى ذكره وجلت عظمته الينا نبيا من انفسنا، نعرف اباه وامه، فامرنا نبينا رسول ربنا صلى الله عليه وسلم ان نقاتلكم حتى تعبدوا الله وحده او تودوا الجزية، واخبرنا نبينا صلى الله عليه وسلم عن رسالة ربنا انه من قتل منا صار الى الجنة في نعيم لم ير مثلها قط، ومن بقي منا ملك رقابكم. فقال النعمان ربما اشهدك الله مثلها مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يندمك ولم يخزك، ولكني شهدت القتال مع رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا لم يقاتل في اول النهار انتظر حتى تهب الارواح وتحضر الصلوات
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباس ساعدی نے اور ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک میں شریک تھے۔ ایلہ کے حاکم ( یوحنا بن روبہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر بطور خلعت کے اور ایک تحریر کے ذریعہ اس کے ملک پر اسے ہی حاکم باقی رکھا۔
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا وهيب، عن عمرو بن يحيى، عن عباس الساعدي، عن ابي حميد الساعدي، قال غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم تبوك، واهدى ملك ايلة للنبي صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء، وكساه بردا، وكتب له ببحرهم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، ( جب وہ زخمی ہوئے ) آپ سے ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے! تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عہد کی ( جو تم نے ذمیوں سے کیا ہے ) وصیت کرتا ہوں ( کہ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرنا ) کیونکہ وہ تمہارے نبی کا ذمہ ہے اور تمہارے گھر والوں کی روزی ہے ( کہ جزیہ کے روپیہ سے تمہارے بال بچوں کی گزران ہوتی ہے ) ۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا ابو جمرة، قال سمعت جويرية بن قدامة التميمي، قال سمعت عمر بن الخطاب رضى الله عنه قلنا اوصنا يا امير المومنين. قال اوصيكم بذمة الله، فانه ذمة نبيكم، ورزق عيالكم
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا، تاکہ بحرین میں ان کے لیے کچھ زمین لکھ دیں۔ لیکن انہوں نے عرض کیا کہ نہیں! اللہ کی قسم! ( ہمیں اسی وقت وہاں زمین عنایت فرمائیے ) جب اتنی زمین ہمارے بھائی قریش ( مہاجرین ) کے لیے بھی آپ لکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تک اللہ کو منظور ہے یہ معاش ان کو بھی ( یعنی قریش والوں کو ) ملتی رہے گی۔“ لیکن انصار یہی اصرار کرتے رہے کہ قریش والوں کے لیے بھی سندیں لکھ دیجئیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، لیکن تم صبر سے کام لینا، تاآنکہ تم آخر میں مجھ سے آ کر ملو ( جنگ اور فساد نہ کرنا ) ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن يحيى بن سعيد، قال سمعت انسا رضى الله عنه قال دعا النبي صلى الله عليه وسلم الانصار ليكتب لهم بالبحرين فقالوا لا والله حتى تكتب لاخواننا من قريش بمثلها. فقال ذاك لهم ما شاء الله على ذلك يقولون له قال " فانكم سترون بعدي اثرة، فاصبروا حتى تلقوني على الحوض
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے روح بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن منکدر نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر ہمارے پاس بحرین سے روپیہ آیا، تو میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا ( تین لپ ) دوں گا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس کے بعد بحرین کا روپیہ آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کسی سے کوئی دینے کا وعدہ کیا ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا روپیہ ہمارے یہاں آیا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اچھا ایک لپ بھرو، میں نے ایک لپ بھری، تو انہوں نے فرمایا کہ اسے شمار کرو، میں نے شمار کیا تو پانچ سو تھا، پھر انہوں نے مجھے ڈیڑھ ہزار عنایت فرمایا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، قال اخبرني روح بن القاسم، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي " لو قد جاءنا مال البحرين قد اعطيتك هكذا وهكذا وهكذا ". فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاء مال البحرين قال ابو بكر من كانت له عند رسول الله صلى الله عليه وسلم عدة فلياتني. فاتيته فقلت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كان قال لي " لو قد جاءنا مال البحرين لاعطيتك هكذا وهكذا وهكذا ". فقال لي احثه. فحثوت حثية فقال لي عدها. فعددتها فاذا هي خمسماية، فاعطاني الفا وخمسماية. وقال ابراهيم بن طهمان عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، اتي النبي صلى الله عليه وسلم بمال من البحرين فقال " انثروه في المسجد " فكان اكثر مال اتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاءه العباس فقال يا رسول الله، اعطني اني فاديت نفسي وفاديت عقيلا. قال " خذ ". فحثا في ثوبه، ثم ذهب يقله، فلم يستطع. فقال امر بعضهم يرفعه الى. قال " لا ". قال فارفعه انت على. قال " لا ". فنثر منه، ثم ذهب يقله فلم يرفعه. فقال امر بعضهم يرفعه على. قال " لا ". قال فارفعه انت على. قال " لا ". فنثر ثم احتمله على كاهله ثم انطلق، فما زال يتبعه بصره حتى خفي علينا عجبا من حرصه، فما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وثم منها درهم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے روح بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن منکدر نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر ہمارے پاس بحرین سے روپیہ آیا، تو میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا ( تین لپ ) دوں گا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس کے بعد بحرین کا روپیہ آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کسی سے کوئی دینے کا وعدہ کیا ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا روپیہ ہمارے یہاں آیا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اچھا ایک لپ بھرو، میں نے ایک لپ بھری، تو انہوں نے فرمایا کہ اسے شمار کرو، میں نے شمار کیا تو پانچ سو تھا، پھر انہوں نے مجھے ڈیڑھ ہزار عنایت فرمایا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، قال اخبرني روح بن القاسم، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي " لو قد جاءنا مال البحرين قد اعطيتك هكذا وهكذا وهكذا ". فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاء مال البحرين قال ابو بكر من كانت له عند رسول الله صلى الله عليه وسلم عدة فلياتني. فاتيته فقلت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كان قال لي " لو قد جاءنا مال البحرين لاعطيتك هكذا وهكذا وهكذا ". فقال لي احثه. فحثوت حثية فقال لي عدها. فعددتها فاذا هي خمسماية، فاعطاني الفا وخمسماية. وقال ابراهيم بن طهمان عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، اتي النبي صلى الله عليه وسلم بمال من البحرين فقال " انثروه في المسجد " فكان اكثر مال اتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاءه العباس فقال يا رسول الله، اعطني اني فاديت نفسي وفاديت عقيلا. قال " خذ ". فحثا في ثوبه، ثم ذهب يقله، فلم يستطع. فقال امر بعضهم يرفعه الى. قال " لا ". قال فارفعه انت على. قال " لا ". فنثر منه، ثم ذهب يقله فلم يرفعه. فقال امر بعضهم يرفعه على. قال " لا ". قال فارفعه انت على. قال " لا ". فنثر ثم احتمله على كاهله ثم انطلق، فما زال يتبعه بصره حتى خفي علينا عجبا من حرصه، فما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وثم منها درهم
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسن بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی ذمی کو ( ناحق ) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“
حدثنا قيس بن حفص، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الحسن بن عمرو، حدثنا مجاهد، عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل معاهدا لم يرح رايحة الجنة، وان ريحها توجد من مسيرة اربعين عاما
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعد مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابوسعید) نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم ابھی مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور فرمایا کہ یہودیوں کی طرف چلو۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے اور جب بیت المدراس ( یہودیوں کا مدرسہ ) پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بينما نحن في المسجد خرج النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انطلقوا الى يهود ". فخرجنا حتى جينا بيت المدراس فقال " اسلموا تسلموا، واعلموا ان الارض لله ورسوله، واني اريد ان اجليكم من هذه الارض، فمن يجد منكم بماله شييا فليبعه، والا فاعلموا ان الارض لله ورسوله
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا آپ نے جمعرات کے دن کا ذکر کرتے ہوئے کہا، تمہیں معلوم ہے کہ جمعرات کا دن، ہائے! یہ کون سا دن ہے؟ اس کے بعد وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسووں سے کنکریاں تر ہو گئیں۔ سعید نے کہا میں نے عرض کیا، یا ابوعباس! جمعرات کے دن سے کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف ( مرض الموت ) میں شدت پیدا ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے ( لکھنے کا ) ایک کاغذ دے دو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھ جاؤں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ نبی کی موجودگی میں جھگڑنا غیر مناسب ہے، دوسرے لوگ کہنے لگے، بھلا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےکار باتیں فرمائیں گے اچھا، پھر پوچھ لو، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میری حالت پر چھوڑ دو، کیونکہ اس وقت میں جس عالم میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کا حکم فرمایا، کہ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور وفود کے ساتھ اسی طرح خاطر تواضع کا معاملہ کرنا، جس طرح میں کیا کرتا تھا۔ تیسری بات کچھ بھلی سی تھی، یا تو سعید نے اس کو بیان نہ کیا، یا میں بھول گیا۔ سفیان نے کہا یہ جملہ ( تیسری بات کچھ بھلی سی تھی ) سلیمان احول کا کلام ہے۔
حدثنا محمد، حدثنا ابن عيينة، عن سليمان الاحول، سمع سعيد بن جبير، سمع ابن عباس رضى الله عنهما يقول يوم الخميس، وما يوم الخميس ثم بكى حتى بل دمعه الحصى. قلت يا ابا عباس، ما يوم الخميس قال اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه فقال " ايتوني بكتف اكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده ابدا ". فتنازعوا ولا ينبغي عند نبي تنازع فقالوا ما له اهجر استفهموه. فقال " ذروني، فالذي انا فيه خير مما تدعوني اليه فامرهم بثلاث قال اخرجوا المشركين من جزيرة العرب، واجيزوا الوفد بنحو ما كنت اجيزهم ". والثالثة خير، اما ان سكت عنها، واما ان قالها فنسيتها. قال سفيان هذا من قول سليمان
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو ( یہودیوں کی طرف سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا یا ایسے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنے یہودی یہاں موجود ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو، چنانچہ وہ سب آ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو، میں تم سے ایک بات پوچھوں گا۔ کیا تم لوگ صحیح صحیح جواب دو گے؟ سب نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے باپ کون تھے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہارے باپ تو فلاں تھے۔ سب نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میں تم سے ایک اور بات پوچھوں تو تم صحیح واقعہ بیان کر دو گے؟ سب نے کہا جی ہاں، اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بھی بولیں گے تو آپ ہماری جھوٹ کو اسی طرح پکڑ لیں گے جس طرح آپ نے ابھی ہمارے باپ کے بارے میں ہمارے جھوٹ کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد دریافت فرمایا کہ دوزخ میں جانے والے کون لوگ ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں کے لیے تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے لیکن پھر آپ لوگ ہماری جگہ داخل کر دئیے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس میں برباد رہو، اللہ گواہ ہے کہ ہم تمہاری جگہ اس میں کبھی داخل نہیں کئے جائیں گے۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو کیا تم مجھ سے صحیح واقعہ بتا دو گے؟ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ ہاں! اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس بکری کے گوشت میں زہر ملایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں ( نبوت میں ) تو ہمیں آرام مل جائے گا اور اگر آپ واقعی نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال لما فتحت خيبر اهديت للنبي صلى الله عليه وسلم شاة فيها سم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اجمعوا الى من كان ها هنا من يهود ". فجمعوا له فقال " اني سايلكم عن شىء فهل انتم صادقي عنه ". فقالوا نعم. قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم " من ابوكم ". قالوا فلان. فقال " كذبتم، بل ابوكم فلان ". قالوا صدقت. قال " فهل انتم صادقي عن شىء ان سالت عنه " فقالوا نعم يا ابا القاسم، وان كذبنا عرفت كذبنا كما عرفته في ابينا. فقال لهم " من اهل النار ". قالوا نكون فيها يسيرا ثم تخلفونا فيها. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اخسيوا فيها، والله لا نخلفكم فيها ابدا ثم قال هل انتم صادقي عن شىء ان سالتكم عنه ". فقالوا نعم يا ابا القاسم. قال " هل جعلتم في هذه الشاة سما ". قالوا نعم. قال " ما حملكم على ذلك ". قالوا اردنا ان كنت كاذبا نستريح، وان كنت نبيا لم يضرك
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ہم سے عاصم احول نے، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہئے، میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب ( محمد بن سیرین ) تو کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ رکوع کے بعد ہوتی ہے، انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا تھا کہ انہوں نے غلط کہا ہے۔ پھر انہوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعا قنوت کی تھی۔ اور آپ نے اس میں بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت، راوی کو شک تھا، مشرکین کے پاس بھیجی تھی، لیکن بنو سلیم کے لوگ ( جن کا سردار عامر بن طفیل تھا ) ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ تھا۔ ( لیکن انہوں نے دغا دی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا عاصم، قال سالت انسا رضى الله عنه عن القنوت. قال قبل الركوع. فقلت ان فلانا يزعم انك قلت بعد الركوع، فقال كذب. ثم حدثنا عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قنت شهرا بعد الركوع يدعو على احياء من بني سليم قال بعث اربعين او سبعين يشك فيه من القراء الى اناس من المشركين، فعرض لهم هولاء فقتلوهم، وكان بينهم وبين النبي صلى الله عليه وسلم عهد، فما رايته وجد على احد ما وجد عليهم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عمرو بن عبداللہ کے غلام ابوالنضر نے، انہیں ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ نے خبر دی، انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ( مکہ میں ) میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی صاحبزادی پردہ کئے ہوئے تھیں۔ میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کون صاحبہ ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آؤ اچھی آئیں، ام ہانی! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک کپڑا جسم اطہر پر لپیٹے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شخص کو جسے میں پناہ دے چکی ہوں، قتل کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ یہ شخص ہبیرہ کا فلاں لڑکا ( جعدہ ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی، اسے ہماری طرف سے بھی پناہ ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ وقت چاشت کا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله ان ابا مرة، مولى ام هاني ابنة ابي طالب اخبره انه، سمع ام هاني ابنة ابي طالب، تقول ذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح فوجدته يغتسل، وفاطمة ابنته تستره، فسلمت عليه فقال " من هذه ". فقلت انا ام هاني بنت ابي طالب. فقال " مرحبا بام هاني ". فلما فرغ من غسله قام، فصلى ثمان ركعات ملتحفا في ثوب واحد، فقلت يا رسول الله، زعم ابن امي علي انه قاتل رجلا قد اجرته فلان بن هبيرة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد اجرنا من اجرت يا ام هاني ". قالت ام هاني وذلك ضحى
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیا، جس میں فرمایا کہ کتاب اللہ اور اس ورق میں جو کچھ ہے، اس کے سوا اور کوئی کتاب ( احکام شریعت کی ) ایسی ہمارے پاس نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں، پھر آپ نے فرمایا کہ اس میں زخموں کے قصاص کے احکام ہیں اور دیت میں دئیے جانے والے کی عمر کے احکام ہیں اور یہ کہ مدینہ حرم ہے عیر پہاڑی سے فلاں ( احد پہاڑی ) تک۔ اس لیے جس شخص نے کوئی نئی بات ( شریعت کے اندر داخل کی ) یا کسی ایسے شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل۔ اور یہ بیان ہے جو لونڈی غلام اپنے مالک کے سوا کسی دوسرے کو مالک بنائے اس پر بھی اس طرح ( لعنت ) ہے۔ اور مسلمان مسلمان سب برابر ہیں ہر ایک کا ذمہ یکساں ہے۔ پس جس شخص نے کسی مسلمان کی پناہ میں ( جو کسی کافر کو دی گئی ہو ) دخل اندازی کی تو اس پر بھی اسی طرح لعنت ہے۔
حدثنا محمد، اخبرنا وكيع، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، قال خطبنا علي فقال ما عندنا كتاب نقروه الا كتاب الله، وما في هذه الصحيفة فقال فيها الجراحات واسنان الابل، والمدينة حرم ما بين عير الى كذا، فمن احدث فيها حدثا او اوى فيها محدثا، فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل، ومن تولى غير مواليه فعليه مثل ذلك، وذمة المسلمين واحدة، فمن اخفر مسلما فعليه مثل ذلك
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ ان دنوں ( خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ) صلح تھی۔ پھر دونوں حضرات ( خیبر پہنچ کر اپنے اپنے کام کے لیے ) جدا ہو گئے۔ اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ خون میں لوٹ رہے ہیں۔ کسی نے ان کو قتل کر ڈالا، خیر محیصہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا۔ پھر مدینہ آئے، اس کے بعد عبدالرحمٰن بن سہل ( عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ) اور مسعود کے دونوں صاحبزادے محیصہ اور حویصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، گفتگو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے شروع کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جو تم لوگوں میں عمر میں بڑے ہوں وہ بات کریں۔ عبدالرحمٰن سب سے کم عمر تھے، وہ چپ ہو گئے۔ اور محیصہ اور حویصہ نے بات شروع کی۔ آپ نے دریافت کیا، کیا تم لوگ اس پر قسم کھا سکتے ہو، کہ جس شخص کو تم قاتل کہہ رہے ہو اس پر تمہارا حق ثابت ہو سکے۔ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ایک ایسے معاملے میں کس طرح قسم کھا سکتے ہیں جس کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا یہود تمہارے دعوے سے اپنی برات اپنی طرف سے پچاس قسمیں کھا کر کے کر دیں؟ ان لوگوں نے عرض کیا کہ کفار کی قسموں کا ہم کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کو دیت ادا کر دی۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر هو ابن المفضل حدثنا يحيى، عن بشير بن يسار، عن سهل بن ابي حثمة، قال انطلق عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود بن زيد الى خيبر، وهى يوميذ صلح، فتفرقا، فاتى محيصة الى عبد الله بن سهل وهو يتشحط في دم قتيلا، فدفنه ثم قدم المدينة، فانطلق عبد الرحمن بن سهل ومحيصة وحويصة ابنا مسعود الى النبي صلى الله عليه وسلم، فذهب عبد الرحمن يتكلم فقال " كبر كبر ". وهو احدث القوم، فسكت فتكلما فقال " اتحلفون وتستحقون قاتلكم او صاحبكم ". قالوا وكيف نحلف ولم نشهد ولم نر قال " فتبريكم يهود بخمسين ". فقالوا كيف ناخذ ايمان قوم كفار فعقله النبي صلى الله عليه وسلم من عنده
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل ( فرمانروائے روم ) نے انہیں قریش کے قافلے کے ساتھ بلا بھیجا ( یہ لوگ شام اس زمانے میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان سے ( صلح حدیبیہ میں ) قریش کے کافروں کے مقدمہ میں صلح کی تھی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، اخبره ان عبد الله بن عباس اخبره ان ابا سفيان بن حرب اخبره ان هرقل ارسل اليه في ركب من قريش كانوا تجارا بالشام في المدة التي ماد فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا سفيان في كفار قريش
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ سمجھتے کہ میں نے فلاں کام کر لیا ہے۔ حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، قال حدثني ابي، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم سحر حتى كان يخيل اليه انه صنع شييا ولم يصنعه