Loading...

Loading...
کتب
۱۱۳ احادیث
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابن ابی السفر کے واسطے سے بیان کیا، وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں، وہ عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کتے کے شکار کے متعلق ) دریافت کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کر لے تو، تو اس ( شکار ) کو کھا اور اگر وہ کتا اس شکار میں سے خود ( کچھ ) کھا لے تو، تو ( اس کو ) نہ کھائیو۔ کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے۔ میں نے کہا کہ بعض دفعہ میں ( شکار کے لیے ) اپنے کتے چھوڑتا ہوں، پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر مت کھا۔ کیونکہ تم نے «بسم الله» اپنے کتے پر پڑھی تھی۔ دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، عن ابن ابي السفر، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اذا ارسلت كلبك المعلم فقتل فكل، واذا اكل فلا تاكل، فانما امسكه على نفسه ". قلت ارسل كلبي فاجد معه كلبا اخر قال " فلا تاكل، فانما سميت على كلبك، ولم تسم على كلب اخر
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید المقبری نے بیان کیا، وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے۔ تاوقیتکہ وہ حدث نہ کرے۔ ایک عجمی آدمی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ! حدث کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہوا جو پیچھے سے خارج ہو۔ ( جسے عرف عام میں گوز مارنا کہتے ہیں ) ۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يزال العبد في صلاة ما كان في المسجد ينتظر الصلاة، ما لم يحدث ". فقال رجل اعجمي ما الحدث يا ابا هريرة قال الصوت. يعني الضرطة
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے، وہ زہری سے، وہ عباد بن تمیم سے، وہ اپنے چچا سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نمازی نماز سے ) اس وقت تک نہ پھرے جب تک ( ریح کی ) آواز نہ سن لے یا اس کی بو نہ پا لے۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينصرف حتى يسمع صوتا او يجد ريحا
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، وہ منذر سے، وہ ابویعلیٰ ثوری سے، وہ محمد ابن الحنفیہ سے نقل کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایسا آدمی تھا جس کو سیلان مذی کی شکایت تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے مجھے شرم آئی۔ تو میں نے ابن الاسود کو حکم دیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو کرنا فرض ہے۔ اس روایت کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن منذر ابي يعلى الثوري، عن محمد ابن الحنفية، قال قال علي كنت رجلا مذاء، فاستحييت ان اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرت المقداد بن الاسود فساله فقال " فيه الوضوء ". ورواه شعبة عن الاعمش
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ عطاء بن یسار سے نقل کرتے ہیں، انہیں زید بن خالد نے خبر دی کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے۔ فرمایا کہ وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور اپنے عضو کو دھولے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( یہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ( زید بن خالد کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے اس کے بارے میں علی، زبیر، طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا۔ سب نے اس شخص کے بارے میں یہی حکم دیا۔
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، ان عطاء بن يسار، اخبره ان زيد بن خالد اخبره انه، سال عثمان بن عفان رضى الله عنه قلت ارايت اذا جامع فلم يمن قال عثمان يتوضا كما يتوضا للصلاة، ويغسل ذكره. قال عثمان سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم. فسالت عن ذلك عليا، والزبير، وطلحة، وابى بن كعب رضى الله عنهم فامروه بذلك
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہمیں نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے حکم کے واسطے سے بتلایا، وہ ذکوان سے، وہ ابوصالح سے، وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا، جی ہاں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی ( کا کام ) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے ( غسل ضروری نہیں ) ۔
حدثنا اسحاق، قال اخبرنا النضر، قال اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن ذكوان ابي صالح، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسل الى رجل من الانصار فجاء وراسه يقطر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لعلنا اعجلناك ". فقال نعم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اعجلت او قحطت، فعليك الوضوء ". تابعه وهب قال حدثنا شعبة. قال ابو عبد الله ولم يقل غندر ويحيى عن شعبة الوضوء
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے یحییٰ سے خبر دی، وہ موسیٰ بن عقبہ سے، وہ کریب ابن عباس کے آزاد کردہ غلام سے، وہ اسامہ بن زید سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے، تو ( پہاڑ کی ) گھاٹی کی جانب مڑ گئے، اور رفع حاجت کی۔ اسامہ کہتے ہیں کہ پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( اعضاء ) پر پانی ڈالنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے رہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ ( اب ) نماز پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا مقام تمہارے سامنے ( یعنی مزدلفہ میں ) ہے۔ وہاں نماز پڑھی جائے گی۔
حدثني محمد بن سلام، قال اخبرنا يزيد بن هارون، عن يحيى، عن موسى بن عقبة، عن كريب، مولى ابن عباس عن اسامة بن زيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما افاض من عرفة عدل الى الشعب، فقضى حاجته. قال اسامة بن زيد فجعلت اصب عليه ويتوضا فقلت يا رسول الله اتصلي فقال " المصلى امامك
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے کہا مجھے سعد بن ابراہیم نے نافع بن جبیر بن مطعم سے بتلایا۔ انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ( وہاں ) آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( جب آپ واپس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو شروع کیا ) تو مغیرہ بن شعبہ آپ کے ( اعضاء وضو ) پر پانی ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے آپ نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو دھویا، سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حدثنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى بن سعيد، قال اخبرني سعد بن ابراهيم، ان نافع بن جبير بن مطعم، اخبره انه، سمع عروة بن المغيرة بن شعبة، يحدث عن المغيرة بن شعبة، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، وانه ذهب لحاجة له، وان مغيرة جعل يصب الماء عليه، وهو يتوضا، فغسل وجهه ويديه ومسح براسه ومسح على الخفين
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان کے واسطے سے نقل کیا، وہ کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری۔ ( وہ فرماتے ہیں کہ ) میں تکیہ کے عرض ( یعنی گوشہ ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے ( معمول کے مطابق ) تکیہ کی لمبائی پر ( سر رکھ کر ) آرام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے آنکھیں ملنے لگے۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر ایک مشکیزہ کے پاس جو ( چھت میں ) لٹکا ہوا تھا آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا، خوب اچھی طرح، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا۔ پھر جا کر میں بھی آپ کے پہلوئے مبارک میں کھڑا ہو گیا۔ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پڑھ کر اس کے بعد آپ نے وتر پڑھا اور لیٹ گئے، پھر جب مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اٹھ کر دو رکعت معمولی ( طور پر ) پڑھیں۔ پھر باہر تشریف لا کر صبح کی نماز پڑھی۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، مولى ابن عباس ان عبد الله بن عباس، اخبره انه، بات ليلة عند ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وهي خالته فاضطجعت في عرض الوسادة، واضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله في طولها، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا انتصف الليل، او قبله بقليل او بعده بقليل، استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس يمسح النوم عن وجهه بيده، ثم قرا العشر الايات الخواتم من سورة ال عمران، ثم قام الى شن معلقة، فتوضا منها فاحسن وضوءه، ثم قام يصلي. قال ابن عباس فقمت فصنعت مثل ما صنع، ثم ذهبت، فقمت الى جنبه، فوضع يده اليمنى على راسي، واخذ باذني اليمنى، يفتلها، فصلى ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم اوتر، ثم اضطجع، حتى اتاه الموذن، فقام، فصلى ركعتين خفيفتين، ثم خرج فصلى الصبح
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ اپنی بیوی فاطمہ سے، وہ اپنی دادی اسماء بنت ابی بکر سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایسے وقت آئی جب کہ سورج کو گہن لگ رہا تھا اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، کیا دیکھتی ہوں وہ بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا، سبحان اللہ! میں نے کہا ( کیا یہ ) کوئی ( خاص ) نشانی ہے؟ تو انہوں نے اشارے سے کہا کہ ہاں۔ تو میں بھی آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہو گئی۔ ( آپ نے اتنا فرمایا کہ ) مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا، آج کوئی چیز ایسی نہیں رہی جس کو میں نے اپنی اسی جگہ نہ دیکھ لیا ہو حتیٰ کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا۔ اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا۔ دجال جیسی آزمائش یا اس کے قریب قریب۔ ( راوی کا بیان ہے کہ ) میں نہیں جانتی کہ اسماء نے کون سا لفظ کہا۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس ( اللہ کے فرشتے ) بھیجے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تمہارا اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ پھر اسماء نے لفظ ایماندار کہا یا یقین رکھنے والا کہا۔ مجھے یاد نہیں۔ ( بہرحال وہ شخص ) کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وہ ہمارے پاس نشانیاں اور ہدایت کی روشنی لے کر آئے۔ ہم نے ( اسے ) قبول کیا، ایمان لائے، اور ( آپ کا ) اتباع کیا۔ پھر ( اس سے ) کہہ دیا جائے گا تو سو جا درحالیکہ تو مرد صالح ہے اور ہم جانتے تھے کہ تو مومن ہے۔ اور بہرحال منافق یا شکی آدمی، اسماء نے کون سا لفظ کہا مجھے یاد نہیں۔ ( جب اس سے پوچھا جائے گا ) کہے گا کہ میں ( کچھ ) نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا، وہی میں نے بھی کہہ دیا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن امراته، فاطمة عن جدتها، اسماء بنت ابي بكر انها قالت اتيت عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين خسفت الشمس، فاذا الناس قيام يصلون، واذا هي قايمة تصلي فقلت ما للناس فاشارت بيدها نحو السماء وقالت سبحان الله. فقلت اية فاشارت اى نعم. فقمت حتى تجلاني الغشى، وجعلت اصب فوق راسي ماء، فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم حمد الله واثنى عليه، ثم قال " ما من شىء كنت لم اره الا قد رايته في مقامي هذا حتى الجنة والنار، ولقد اوحي الى انكم تفتنون في القبور مثل او قريبا من فتنة الدجال لا ادري اى ذلك قالت اسماء يوتى احدكم فيقال ما علمك بهذا الرجل فاما المومن او الموقن لا ادري اى ذلك قالت اسماء فيقول هو محمد رسول الله، جاءنا بالبينات والهدى، فاجبنا وامنا واتبعنا، فيقال نم صالحا، فقد علمنا ان كنت لمومنا، واما المنافق او المرتاب لا ادري اى ذلك قالت اسماء فيقول لا ادري، سمعت الناس يقولون شييا فقلته
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں، سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں! پھر انہوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے۔ پھر تین مرتبہ کلی کی، تین بار ناک صاف کی، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ اس طور پر اپنے ہاتھ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے۔ ( مسح ) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے ( مسح ) شروع کیا تھا، پھر اپنے پیر دھوئے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، ان رجلا، قال لعبد الله بن زيد وهو جد عمرو بن يحيى اتستطيع ان تريني، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا فقال عبد الله بن زيد نعم. فدعا بماء، فافرغ على يديه فغسل يده مرتين، ثم مضمض واستنثر ثلاثا، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يديه مرتين مرتين الى المرفقين، ثم مسح راسه بيديه، فاقبل بهما وادبر، بدا بمقدم راسه، حتى ذهب بهما الى قفاه، ثم ردهما الى المكان الذي بدا منه، ثم غسل رجليه
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے اپنے باپ (یحییٰ) سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میری موجودگی میں عمرو بن حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پانی کا طشت منگوایا اور ان ( پوچھنے والوں ) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا وضو کیا۔ ( پہلے طشت سے ) اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا۔ پھر تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا ( اور پانی لیا ) پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ناک صاف کی، تین چلوؤں سے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور تین مرتبہ منہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور سر کا مسح کیا۔ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے، ایک بار۔ پھر ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
حدثنا موسى، قال حدثنا وهيب، عن عمرو، عن ابيه، شهدت عمرو بن ابي حسن سال عبد الله بن زيد عن وضوء النبي، صلى الله عليه وسلم فدعا بتور من ماء، فتوضا لهم وضوء النبي صلى الله عليه وسلم فاكفا على يده من التور، فغسل يديه ثلاثا، ثم ادخل يده في التور، فمضمض واستنشق واستنثر ثلاث غرفات، ثم ادخل يده فغسل وجهه ثلاثا، ثم ادخل يده فغسل يديه مرتين الى المرفقين مرتين، ثم ادخل يده فمسح راسه، فاقبل بهما وادبر مرة واحدة، ثم غسل رجليه الى الكعبين
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر اسے ( اپنے بدن پر ) پھیرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( آڑ کے لیے ) ایک نیزہ تھا۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا الحكم، قال سمعت ابا جحيفة، يقول خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهاجرة، فاتي بوضوء فتوضا، فجعل الناس ياخذون من فضل وضويه فيتمسحون به، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر ركعتين والعصر ركعتين، وبين يديه عنزة
(اور ایک دوسری حدیث میں) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا۔ جس میں پانی تھا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر فرمایا، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔
وقال ابو موسى دعا النبي صلى الله عليه وسلم بقدح فيه ماء، فغسل يديه ووجهه فيه، ومج فيه ثم قال لهما اشربا منه، وافرغا على وجوهكما ونحوركما
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے میرے باپ نے، انہوں نے صالح سے سنا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، کہا انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی، ابن شہاب کہتے ہیں محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں ( کے پانی ) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک ( راوی ) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني محمود بن الربيع، قال وهو الذي مج رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجهه وهو غلام من بيرهم. وقال عروة عن المسور وغيره يصدق كل واحد منهما صاحبه واذا توضا النبي صلى الله عليه وسلم كادوا يقتتلون على وضويه
ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے جعد کے واسطے سے بیان کیا، کہا انہوں نے سائب بن یزید سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میری خالہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی۔ ( یا کبوتر کا انڈا ) ۔
حدثنا عبد الرحمن بن يونس، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن الجعد، قال سمعت السايب بن يزيد، يقول ذهبت بي خالتي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله، ان ابن اختي وجع. فمسح راسي ودعا لي بالبركة، ثم توضا فشربت من وضويه، ثم قمت خلف ظهره، فنظرت الى خاتم النبوة بين كتفيه مثل زر الحجلة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ (یحییٰ) کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ( وضو کرتے وقت ) انہوں نے برتن سے ( پہلے ) اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہیں دھویا۔ پھر دھویا۔ ( یا یوں کہا کہ ) کلی کی اور ناک میں ایک چلو سے پانی ڈالا۔ اور تین مرتبہ اسی طرح کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۔ پھر سر کا مسح کیا۔ اگلی جانب اور پچھلی جانب کا اور ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح ہوا کرتا تھا۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا خالد بن عبد الله، قال حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، انه افرغ من الاناء على يديه فغسلهما، ثم غسل او مضمض، واستنشق من كفة واحدة، ففعل ذلك ثلاثا، فغسل يديه الى المرفقين مرتين مرتين، ومسح براسه ما اقبل وما ادبر، وغسل رجليه الى الكعبين، ثم قال هكذا وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ (یحییٰ) کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں عمرو بن حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا۔ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پانی کا ایک طشت منگوایا، پھر ان ( لوگوں ) کے دکھانے کے لیے وضو ( شروع ) کیا۔ ( پہلے ) طشت سے اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا۔ پھر انہیں تین بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کی، تین چلوؤں سے تین دفعہ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا اور اپنے منہ کو تین بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ( پھر ) سر پر مسح کیا اس طرح کہ ( پہلے ) آگے کی طرف اپنا ہاتھ لائے پھر پیچھے کی طرف لے گئے۔ پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ( دوسری روایت میں ) ہم سے موسیٰ نے، ان سے وہیب نے بیان کیا کہ آپ نے سر کا مسح ایک دفعہ کیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، قال شهدت عمرو بن ابي حسن سال عبد الله بن زيد عن وضوء النبي، صلى الله عليه وسلم فدعا بتور من ماء، فتوضا لهم، فكفا على يديه فغسلهما ثلاثا، ثم ادخل يده في الاناء، فمضمض واستنشق، واستنثر ثلاثا بثلاث غرفات من ماء، ثم ادخل يده في الاناء، فغسل وجهه ثلاثا، ثم ادخل يده في الاناء، فغسل يديه الى المرفقين مرتين مرتين، ثم ادخل يده في الاناء، فمسح براسه فاقبل بيديه وادبر بهما، ثم ادخل يده في الاناء فغسل رجليه. وحدثنا موسى قال حدثنا وهيب قال مسح راسه مرة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے نافع سے خبر دی، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورت اور مرد سب ایک ساتھ ( ایک ہی برتن سے ) وضو کیا کرتے تھے۔ ( یعنی وہ مرد اور عورتیں جو ایک دوسرے کے محرم ہوتے ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، انه قال كان الرجال والنساء يتوضيون في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم جميعا
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے محمد بن المنکدر کے واسطے سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں بیمار تھا ایسا کہ مجھے ہوش تک نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا وارث کون ہو گا؟ میرا تو صرف ایک کلالہ وارث ہے۔ اس پر آیت میراث نازل ہوئی۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن محمد بن المنكدر، قال سمعت جابرا، يقول جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني، وانا مريض لا اعقل، فتوضا وصب على من وضويه، فعقلت فقلت يا رسول الله لمن الميراث انما يرثني كلالة. فنزلت اية الفرايض