Loading...

Loading...
کتب
۱۱۳ احادیث
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا، کہا ہم کو حمید نے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے انس سے نقل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) نماز کا وقت آ گیا، تو جس شخص کا مکان قریب ہی تھا وہ وضو کرنے اپنے گھر چلا گیا اور کچھ لوگ ( جن کے مکان دور تھے ) رہ گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا۔ جس میں کچھ پانی تھا اور وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے۔ ( مگر ) سب نے اس برتن کے پانی سے وضو کر لیا، ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم کتنے نفر تھے؟ کہا اسی ( 80 ) سے کچھ زیادہ ہی تھے۔
حدثنا عبد الله بن منير، سمع عبد الله بن بكر، قال حدثنا حميد، عن انس، قال حضرت الصلاة، فقام من كان قريب الدار الى اهله، وبقي قوم، فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بمخضب من حجارة فيه ماء، فصغر المخضب ان يبسط فيه كفه، فتوضا القوم كلهم. قلنا كم كنتم قال ثمانين وزيادة
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابوبردہ سے، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا۔ پھر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی کی۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، ان النبي صلى الله عليه وسلم دعا بقدح فيه ماء، فغسل يديه ووجهه فيه ومج فيه
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن زید سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہمارے گھر ) تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تانبے کے برتن میں پانی نکالا۔ ( اس سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ تین بار چہرہ دھویا، دو دو بار ہاتھ دھوئے اور سر کا مسح کیا۔ ( اس طرح کہ ) پہلے آگے کی طرف ( ہاتھ ) لائے۔ پھر پیچھے کی جانب لے گئے اور پیر دھوئے۔
حدثنا احمد بن يونس، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، قال حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخرجنا له ماء في تور من صفر فتوضا، فغسل وجهه ثلاثا ويديه مرتين مرتين، ومسح براسه فاقبل به وادبر، وغسل رجليه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی تحقیق عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( دوسری ) بیویوں سے اس بات کی اجازت لے لی کہ آپ کی تیمارداری میرے ہی گھر کی جائے۔ انہوں نے آپ کو اجازت دے دی، ( ایک روز ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) گھر سے نکلے۔ آپ کے پاؤں ( کمزوری کی وجہ سے ) زمین پر گھسٹتے جاتے تھے، عباس رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی کے درمیان ( آپ باہر ) نکلے تھے۔ عبیداللہ ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی، تو وہ بولے، تم جانتے ہو دوسرا آدمی کون تھا، میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ کہنے لگے وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اوپر ایسی سات مشکوں کا پانی ڈالو، جن کے سربند نہ کھولے گئے ہوں۔ تاکہ میں ( سکون کے بعد ) لوگوں کو کچھ وصیت کروں۔ ( چنانچہ ) آپ کو حفصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( دوسری ) بیوی کے لگن میں ( جو تانبے کا تھا ) بیٹھا دیا گیا اور ہم نے آپ پر ان مشکوں سے پانی بہانا شروع کیا۔ جب آپ ہم کو اشارہ فرمانے لگے کہ بس اب تم نے اپنا کام پورا کر دیا تو اس کے بعد آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عايشة، قالت لما ثقل النبي صلى الله عليه وسلم واشتد به وجعه، استاذن ازواجه في ان يمرض في بيتي، فاذن له، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم بين رجلين تخط رجلاه في الارض بين عباس ورجل اخر. قال عبيد الله فاخبرت عبد الله بن عباس فقال اتدري من الرجل الاخر قلت لا. قال هو علي. وكانت عايشة رضى الله عنها تحدث ان النبي صلى الله عليه وسلم قال بعد ما دخل بيته واشتد وجعه " هريقوا على من سبع قرب، لم تحلل اوكيتهن، لعلي اعهد الى الناس ". واجلس في مخضب لحفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، ثم طفقنا نصب عليه تلك حتى طفق يشير الينا ان قد فعلتن، ثم خرج الى الناس
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے، کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ (یحییٰ) کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میرے چچا بہت زیادہ وضو کیا کرتے تھے ( یا یہ کہ وضو میں بہت پانی بہاتے تھے ) ایک دن انہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے بتلائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا۔ اس کو ( پہلے ) اپنے ہاتھوں پر جھکایا۔ پھر دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈال کر ( پانی لیا اور ) ایک چلو سے کلی کی اور تین مرتبہ ناک صاف کی۔ پھر اپنے ہاتھوں سے ایک چلو ( پانی ) لیا اور تین بار اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر اپنے سر کا مسح کیا۔ تو ( پہلے اپنے ہاتھ ) پیچھے لے گئے، پھر آگے کی طرف لائے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا خالد بن مخلد، قال حدثنا سليمان، قال حدثني عمرو بن يحيى، عن ابيه، قال كان عمي يكثر من الوضوء، قال لعبد الله بن زيد اخبرني كيف رايت النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا فدعا بتور من ماء، فكفا على يديه فغسلهما ثلاث مرار، ثم ادخل يده في التور، فمضمض واستنثر ثلاث مرات من غرفة واحدة، ثم ادخل يده فاغترف بها فغسل وجهه ثلاث مرات، ثم غسل يديه الى المرفقين مرتين مرتين، ثم اخذ بيده ماء، فمسح راسه، فادبر بيديه واقبل ثم غسل رجليه، فقال هكذا رايت النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، وہ ثابت سے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں کچھ تھوڑا پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ( ایک پیالہ ) پانی سے جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستر ( 70 ) سے اسی ( 80 ) تک تھے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم دعا باناء من ماء، فاتي بقدح رحراح فيه شىء من ماء، فوضع اصابعه فيه. قال انس فجعلت انظر الى الماء ينبع من بين اصابعه، قال انس فحزرت من توضا ما بين السبعين الى الثمانين
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، کہا مجھ سے ابن جبیر نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دھوتے یا ( یہ کہا کہ ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک ( پانی استعمال فرماتے تھے ) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد ( پانی ) سے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا مسعر، قال حدثني ابن جبر، قال سمعت انسا، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يغسل او كان يغتسل بالصاع الى خمسة امداد، ويتوضا بالمد
ہم سے اصبغ ابن الفرج نے بیان کیا، وہ ابن وہب سے کرتے ہیں، کہا مجھ سے عمرو نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے نقل کیا، وہ عبداللہ بن عمر سے، وہ سعد بن ابی وقاص سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد ماجد عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ( سچ ہے اور یاد رکھو ) جب تم سے سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیں۔ تو اس کے متعلق ان کے سوا ( کسی ) دوسرے آدمی سے مت پوچھو اور موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوالنضر نے بتلایا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی کہ سعد بن ابی وقاص نے ان سے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ) حدیث بیان کی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے بیٹے ) عبداللہ سے ایسا کہا۔
حدثنا اصبغ بن الفرج المصري، عن ابن وهب، قال حدثني عمرو، حدثني ابو النضر، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمر، عن سعد بن ابي وقاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه مسح على الخفين. وان عبد الله بن عمر سال عمر عن ذلك فقال نعم اذا حدثك شييا سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم فلا تسال عنه غيره. وقال موسى بن عقبة اخبرني ابو النضر ان ابا سلمة اخبره ان سعدا حدثه فقال عمر لعبد الله. نحوه
ہم سے عمرو بن خالد الحرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے نقل کیا، وہ سعد بن ابراہیم سے، وہ نافع بن جبیر سے وہ عروہ ابن المغیرہ سے وہ اپنے باپ مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔ ( ایک دفعہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے باہر گئے تو مغیرہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت سے فارغ ہو گئے تو مغیرہ نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے اعضاء مبارکہ ) پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔
حدثنا عمرو بن خالد الحراني، قال حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن سعد بن ابراهيم، عن نافع بن جبير، عن عروة بن المغيرة، عن ابيه المغيرة بن شعبة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه خرج لحاجته فاتبعه المغيرة باداوة فيها ماء، فصب عليه حين فرغ من حاجته، فتوضا ومسح على الخفين
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری سے نقل کیا، انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ اس حدیث کی متابعت میں حرب اور ابان نے یحییٰ سے حدیث نقل کی ہے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن جعفر بن عمرو بن امية الضمري، ان اباه، اخبره انه، راى النبي صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين. وتابعه حرب بن شداد وابان عن يحيى
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے یحییٰ کے واسطے سے خبر دی، وہ ابوسلمہ سے، وہ جعفر بن عمرو سے، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔ اس کو روایت کیا معمر نے یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے عمرو سے متابعت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ واقعی ایسا ہی کیا کرتے تھے ) ۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا الاوزاعي، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن جعفر بن عمرو، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يمسح على عمامته وخفيه. وتابعه معمر عن يحيى عن ابي سلمة عن عمرو قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ عامر سے وہ عروہ بن مغیرہ سے، وہ اپنے باپ (مغیرہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میں نے چاہا ( کہ وضو کرتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار ڈالوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے۔ ( یعنی میں وضو سے تھا ) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا زكرياء، عن عامر، عن عروة بن المغيرة، عن ابيه، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فاهويت لانزع خفيه فقال " دعهما، فاني ادخلتهما طاهرتين ". فمسح عليهما
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے زید بن اسلم سے خبر دی، وہ عطاء بن یسار سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا۔ پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عباس،. ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل كتف شاة، ثم صلى ولم يتوضا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہمیں لیث نے عقیل سے خبر دی، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ نے اپنے باپ عمرو سے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانہ سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني جعفر بن عمرو بن امية، ان اباه، اخبره انه، راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحتز من كتف شاة، فدعي الى الصلاة فالقى السكين فصلى ولم يتوضا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے خبر دی، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ فتح خیبر والے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صہبا کی طرف، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور ہم نے ( بھی ) کھایا۔ پھر مغرب ( کی نماز ) کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ہم نے ( بھی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، مولى بني حارثة ان سويد بن النعمان، اخبره. انه، خرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام خيبر، حتى اذا كانوا بالصهباء وهي ادنى خيبر فصلى العصر، ثم دعا بالازواد، فلم يوت الا بالسويق، فامر به فثري، فاكل رسول الله صلى الله عليه وسلم واكلنا، ثم قام الى المغرب، فمضمض ومضمضنا، ثم صلى ولم يتوضا
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں ( بکری کا ) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔
وحدثنا اصبغ، قال اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو، عن بكير، عن كريب، عن ميمونة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اكل عندها كتفا، ثم صلى ولم يتوضا
ہم سے یحییٰ بن بکیر اور قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ عقیل سے، وہ ابن شہاب سے، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ اس حدیث میں عقیل کی یونس اور صالح بن کیسان نے زہری سے متابعت کی ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، وقتيبة، قالا حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شرب لبنا، فمضمض وقال " ان له دسما ". تابعه يونس وصالح بن كيسان عن الزهري
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا مجھ کو مالک نے ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ سے خبر دی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے، تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند ( کا اثر ) اس سے ختم ہو جائے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور وہ اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ ( اللہ تعالیٰ سے ) مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا نعس احدكم وهو يصلي فليرقد حتى يذهب عنه النوم، فان احدكم اذا صلى وهو ناعس لا يدري لعله يستغفر فيسب نفسه
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے ابوقلابہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز میں اونگھنے لگو تو سو جانا چاہیے۔ پھر اس وقت نماز پڑھے جب جان لے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا نعس احدكم في الصلاة فلينم حتى يعلم ما يقرا
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو بن عامر کے واسطے سے بیان کیا، کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ (دوسری سند سے) ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں، ان سے عمرو بن عامر نے بیان کیا، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے نیا وضو فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا تم لوگ کس طرح کرتے تھے، کہنے لگے ہم میں سے ہر ایک کو اس کا وضو اس وقت تک کافی ہوتا، جب تک کوئی وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آ جاتی۔ ( یعنی پیشاب، پاخانہ، یا نیند وغیرہ ) ۔
حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن عامر، قال سمعت انسا، ح قال وحدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني عمرو بن عامر، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا عند كل صلاة. قلت كيف كنتم تصنعون قال يجزي احدنا الوضوء ما لم يحدث