Loading...

Loading...
کتب
۱۱۳ احادیث
ہم سے احمد بن محمد المکی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو المکی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک مرتبہ ) رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( چلتے وقت ) ادھر ادھر نہیں دیکھا کرتے تھے۔ تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا۔ ( مجھے دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پتھر ڈھونڈ دو، تاکہ میں ان سے پاکی حاصل کروں، یا اسی جیسا ( کوئی لفظ ) فرمایا اور فرمایا کہ ہڈی اور گوبر نہ لانا۔ چنانچہ میں اپنے دامن میں پتھر ( بھر کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رکھ دئیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( قضاء حاجت سے ) فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھروں سے استنجاء کیا۔
حدثنا احمد بن محمد المكي، قال حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو المكي، عن جده، عن ابي هريرة، قال اتبعت النبي صلى الله عليه وسلم وخرج لحاجته، فكان لا يلتفت فدنوت منه فقال " ابغني احجارا استنفض بها او نحوه ولا تاتني بعظم ولا روث ". فاتيته باحجار بطرف ثيابي فوضعتها الى جنبه واعرضت عنه، فلما قضى اتبعه بهن
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے نقل کیا، ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوعبیدہ نے ذکر نہیں کیا۔ لیکن عبدالرحمٰن بن الاسود نے اپنے باپ سے ذکر کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں تین پتھر تلاش کر کے آپ کے پاس لاؤں۔ لیکن مجھے دو پتھر ملے۔ تیسرا ڈھونڈا مگر مل نہ سکا۔ تو میں نے خشک گوبر اٹھا لیا۔ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر ( تو ) لے لیے ( مگر ) گوبر پھینک دیا اور فرمایا یہ خود ناپاک ہے۔ ( اور یہ حدیث ) ابراہم بن یوسف نے اپنے باپ سے بیان کی۔ انہوں نے ابواسحاق سے سنا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، قال ليس ابو عبيدة ذكره ولكن عبد الرحمن بن الاسود عن ابيه، انه سمع عبد الله، يقول اتى النبي صلى الله عليه وسلم الغايط، فامرني ان اتيه بثلاثة احجار، فوجدت حجرين، والتمست الثالث فلم اجده، فاخذت روثة، فاتيته بها، فاخذ الحجرين والقى الروثة وقال " هذا ركس ". وقال ابراهيم بن يوسف عن ابيه عن ابي اسحاق حدثني عبد الرحمن
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے زید بن اسلم کے واسطے سے بیان کیا، وہ عطاء بن یسار سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، قال توضا النبي صلى الله عليه وسلم مرة مرة
ہم سے حسین بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم کے واسطے سے بیان کیا، وہ عباد بن تمیم سے نقل کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء کو دو دو بار دھویا۔
حدثنا حسين بن عيسى، قال حدثنا يونس بن محمد، قال حدثنا فليح بن سليمان، عن عبد الله بن ابي بكر بن عمرو بن حزم، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرتين مرتين
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ الاویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، انہیں عطاء بن یزید نے خبر دی، انہیں حمران عثمان کے مولیٰ نے خبر دی کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ( حمران سے ) پانی کا برتن مانگا۔ ( اور لے کر پہلے ) اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر انہیں دھویا۔ اس کے بعد اپنا داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا۔ اور ( پانی لے کر ) کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر ( پانی لے کر ) ٹخنوں تک تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر دو رکعت پڑھے، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے۔ تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، ان عطاء بن يزيد، اخبره ان حمران مولى عثمان اخبره انه، راى عثمان بن عفان دعا باناء، فافرغ على كفيه ثلاث مرار فغسلهما، ثم ادخل يمينه في الاناء فمضمض، واستنشق، ثم غسل وجهه ثلاثا، ويديه الى المرفقين ثلاث مرار، ثم مسح براسه، ثم غسل رجليه ثلاث مرار الى الكعبين، ثم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا نحو وضويي هذا، ثم صلى ركعتين، لا يحدث فيهما نفسه، غفر له ما تقدم من ذنبه
اور روایت کی عبدالعزیز نے ابراہیم سے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شہاب سے، لیکن عروہ حمران سے روایت کرتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو فرمایا میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، اگر قرآن پاک کی ایک آیت ( نازل ) نہ ہوتی تو میں یہ حدیث تم کو نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب بھی کوئی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے اور ( خلوص کے ساتھ ) نماز پڑھتا ہے تو اس کے ایک نماز سے دوسری نماز کے پڑھنے تک کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ عروہ کہتے ہیں وہ آیت یہ ہے «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات» ( جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ) جو لوگ اللہ کی اس نازل کی ہوئی ہدایت کو چھپاتے ہیں جو اس نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ( دوسرے ) لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔
وعن ابراهيم، قال قال صالح بن كيسان قال ابن شهاب ولكن عروة يحدث عن حمران،، فلما توضا عثمان قال الا احدثكم حديثا لولا اية ما حدثتكموه، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يتوضا رجل فيحسن وضوءه، ويصلي الصلاة الا غفر له ما بينه وبين الصلاة حتى يصليها ". قال عروة الاية {ان الذين يكتمون ما انزلنا من البينات}
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا انہیں یونس نے زہری کے واسطے سے خبر دی، کہا انہیں ابوادریس نے بتایا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد ( یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی ) سے کرے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرني ابو ادريس، انه سمع ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من توضا فليستنثر، ومن استجمر فليوتر
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے ابوالزناد کے واسطے سے خبر دی، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كہ جب تم سے كوئی وضو كرے تو اسے چاہیئے كہ اپنی ناك میں پانی دے (پھر) اسے صاف كرے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء كرے اسے چاہیئے كہ بے جوڑ (یعنی ایك یا تین) سے استنجاء كرے . اور جب تم سے كوئی سو كر اٹھے تو وضو كے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اسے دھولے . كیونكہ تم میں سے كوئی نہیں جانتا كہ رات كو اس كا ہاتھ كہاں رہا ہے
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضا احدكم فليجعل في انفه ثم لينثر، ومن استجمر فليوتر، واذا استيقظ احدكم من نومه فليغسل يده قبل ان يدخلها في وضويه، فان احدكم لا يدري اين باتت يده
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، وہ ابوبشر سے، وہ یوسف بن ماہک سے، وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر ( تھوڑی دیر بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پا لیا اور عصر کا وقت آ پہنچا تھا۔ ہم وضو کرنے لگے اور ( اچھی طرح پاؤں دھونے کی بجائے جلدی میں ) ہم پاؤں پر مسح کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ويل للأعقاب من النار» ”ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے“ دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا۔
حدثنا موسى، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن يوسف بن ماهك، عن عبد الله بن عمرو، قال تخلف النبي صلى الله عليه وسلم عنا في سفرة سافرناها، فادركنا وقد ارهقنا العصر، فجعلنا نتوضا ونمسح على ارجلنا، فنادى باعلى صوته " ويل للاعقاب من النار ". مرتين او ثلاثا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری کے واسطے سے خبر دی، کہا ہم کو عطاء بن یزید نے حمران مولیٰ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی ( لے کر ) ڈالا۔ پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنا داہنا ہاتھ وضو کر کے پانی میں ڈالا۔ پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی دیا، پھر ناک صاف کی۔ پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا اور کہنیوں تک تین دفعہ ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر ہر ایک پاؤں تین دفعہ دھویا۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میرے اس وضو جیسا وضو فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور ( حضور قلب سے ) دو رکعت پڑھے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عطاء بن يزيد، عن حمران، مولى عثمان بن عفان انه راى عثمان دعا بوضوء، فافرغ على يديه من انايه، فغسلهما ثلاث مرات، ثم ادخل يمينه في الوضوء، ثم تمضمض، واستنشق، واستنثر، ثم غسل وجهه ثلاثا ويديه الى المرفقين ثلاثا، ثم مسح براسه، ثم غسل كل رجل ثلاثا، ثم قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا نحو وضويي هذا وقال " من توضا نحو وضويي هذا ثم صلى ركعتين، لا يحدث فيهما نفسه، غفر الله له ما تقدم من ذنبه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ ہمارے پاس سے گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ آپ نے کہا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خشک ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا محمد بن زياد، قال سمعت ابا هريرة وكان يمر بنا والناس يتوضيون من المطهرة قال اسبغوا الوضوء فان ابا القاسم صلى الله عليه وسلم قال " ويل للاعقاب من النار
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے سعید المقبری کے واسطے سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن جریج سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے تمہیں چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جنھیں تمہارے ساتھیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ کہنے لگے، اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا کہ میں نے طواف کے وقت آپ کو دیکھا کہ دو یمانی رکنوں کے سوا کسی اور رکن کو آپ نہیں چھوتے ہو۔ ( دوسرے ) میں نے آپ کو بستی جوتے پہنے ہوئے دیکھا اور ( تیسرے ) میں نے دیکھا کہ آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہو اور ( چوتھی بات ) میں نے یہ دیکھی کہ جب آپ مکہ میں تھے، لوگ ( ذی الحجہ کا ) چاند دیکھ کر لبیک پکارنے لگتے ہیں۔ ( اور ) حج کا احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ ( دوسرے ) ارکان کو تو میں یوں نہیں چھوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور رہے جوتے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا کہ جن کے چمڑے پر بال نہیں تھے اور آپ انہیں کو پہنے پہنے وضو فرمایا کرتے تھے، تو میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ رنگتے ہوئے دیکھا ہے۔ تو میں بھی اسی رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا جب تک آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ چل پڑتی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن سعيد المقبري، عن عبيد بن جريج، انه قال لعبد الله بن عمر يا ابا عبد الرحمن، رايتك تصنع اربعا لم ار احدا من اصحابك يصنعها. قال وما هي يا ابن جريج قال رايتك لا تمس من الاركان الا اليمانيين، ورايتك تلبس النعال السبتية، ورايتك تصبغ بالصفرة، ورايتك اذا كنت بمكة اهل الناس اذا راوا الهلال ولم تهل انت حتى كان يوم التروية. قال عبد الله اما الاركان فاني لم ار رسول الله صلى الله عليه وسلم يمس الا اليمانيين، واما النعال السبتية فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس النعل التي ليس فيها شعر ويتوضا فيها، فانا احب ان البسها، واما الصفرة فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبغ بها، فانا احب ان اصبغ بها، واما الاهلال فاني لم ار رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل حتى تنبعث به راحلته
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے خالد نے حفصہ بنت سیرین کے واسطے سے نقل کیا، وہ ام عطیہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( مرحومہ ) صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کو غسل دینے کے وقت فرمایا تھا کہ غسل داہنی طرف سے دو، اور اعضاء وضو سے غسل کی ابتداء کرو۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا خالد، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم لهن في غسل ابنته " ابدان بميامنها ومواضع الوضوء منها
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں اشعث بن سلیم نے خبر دی، ان کے باپ نے مسروق سے سنا، وہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني اشعث بن سليم، قال سمعت ابي، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه التيمن في تنعله وترجله وطهوره وفي شانه كله
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے خبر دی، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز عصر کا وقت آ گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا، جب انہیں پانی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ایک برتن میں ) وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اسی ( برتن ) سے وضو کریں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ( چشمے کی طرح ) ابل رہا تھا۔ یہاں تک کہ ( قافلے کے ) آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، انه قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت صلاة العصر، فالتمس الناس الوضوء فلم يجدوه، فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بوضوء، فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك الاناء يده، وامر الناس ان يتوضيوا منه. قال فرايت الماء ينبع من تحت اصابعه حتى توضيوا من عند اخرهم
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے عاصم کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن سیرین سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال ( مبارک ) ہیں، جو ہمیں انس رضی اللہ عنہ سے یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں۔ ( یہ سن کر ) عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، قال حدثنا اسراييل، عن عاصم، عن ابن سيرين، قال قلت لعبيدة عندنا من شعر النبي صلى الله عليه وسلم اصبناه من قبل انس، او من قبل اهل انس فقال لان تكون عندي شعرة منه احب الى من الدنيا وما فيها
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی انہوں نے، کہا ہم سے عباد نے ابن عون کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ ابن سیرین سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) جب سر کے بال منڈوائے تو سب سے پہلے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال لیے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، قال اخبرنا سعيد بن سليمان، قال حدثنا عباد، عن ابن عون، عن ابن سيرين، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما حلق راسه كان ابو طلحة اول من اخذ من شعره
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے ( کچھ ) پی لے تو اس کو سات مرتبہ دھو لو ( تو پاک ہو جائے گا ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا شرب الكلب في اناء احدكم فليغسله سبعا
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، وہ ابوصالح سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا عبد الصمد، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، سمعت ابي، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان رجلا راى كلبا ياكل الثرى من العطش، فاخذ الرجل خفه فجعل يغرف له به حتى ارواه، فشكر الله له فادخله الجنة
احمد بن شبیب نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے یونس کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باپ (یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔
وقال احمد بن شبيب حدثنا ابي، عن يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني حمزة بن عبد الله، عن ابيه، قال كانت الكلاب تبول وتقبل وتدبر في المسجد في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يكونوا يرشون شييا من ذلك