Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اجازت چاہی اور آ کر عرض کیا کہ آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیجئیے کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ معاف کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ایک درہم بھی نہ چھوڑو۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم بن عقبة، عن موسى، عن ابن شهاب، قال حدثني انس رضى الله عنه ان رجالا، من الانصار استاذنوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا ايذن فلنترك لابن اختنا عباس فداءه، فقال " لا تدعون منه درهما
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنے کفر کے زمانے میں سو غلام آزاد کیے تھے اور سو اونٹ لوگوں کی سواری کے لیے دیے تھے۔ پھر جب اسلام لائے تو سو اونٹ لوگوں کی سواری کے لیے دیے اور سو غلام آزاد کیے۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ یا رسول اللہ! بعض ان نیک اعمال کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جنہیں میں بہ نیت ثواب کفر کے زمانہ میں کیا کرتا تھا ( ہشام بن عروہ نے کہا کہ ) «أتحنث بها» کے معنی «أتبرر بها» کے ہیں ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ”جو نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو وہ سب قائم رہیں گی۔“
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، اخبرني ابي ان حكيم بن حزام رضى الله عنه اعتق في الجاهلية ماية رقبة، وحمل على ماية بعير، فلما اسلم حمل على ماية بعير واعتق ماية رقبة، قال فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله، ارايت اشياء كنت اصنعها في الجاهلية، كنت اتحنث بها، يعني اتبرر بها، قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسلمت على ما سلف لك من خير
حدثنا ابن ابي مريم، قال اخبرني الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، ذكر عروة ان مروان، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان النبي صلى الله عليه وسلم قام حين جاءه وفد هوازن، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم فقال " ان معي من ترون، واحب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما المال، واما السبى، وقد كنت استانيت بهم ". وكان النبي صلى الله عليه وسلم انتظرهم بضع عشرة ليلة حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان النبي صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين قالوا فانا نختار سبينا. فقام النبي صلى الله عليه وسلم في الناس، فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال " اما بعد فان اخوانكم جاءونا تايبين، واني رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا فليفعل ". فقال الناس طيبنا ذلك. قال " انا لا ندري من اذن منكم ممن لم ياذن فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس، فكلمهم عرفاوهم، ثم رجعوا الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم طيبوا واذنوا، فهذا الذي بلغنا عن سبى هوازن. وقال انس قال عباس للنبي صلى الله عليه وسلم فاديت نفسي، وفاديت عقيلا
حدثنا ابن ابي مريم، قال اخبرني الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، ذكر عروة ان مروان، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان النبي صلى الله عليه وسلم قام حين جاءه وفد هوازن، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم فقال " ان معي من ترون، واحب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما المال، واما السبى، وقد كنت استانيت بهم ". وكان النبي صلى الله عليه وسلم انتظرهم بضع عشرة ليلة حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان النبي صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين قالوا فانا نختار سبينا. فقام النبي صلى الله عليه وسلم في الناس، فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال " اما بعد فان اخوانكم جاءونا تايبين، واني رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا فليفعل ". فقال الناس طيبنا ذلك. قال " انا لا ندري من اذن منكم ممن لم ياذن فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس، فكلمهم عرفاوهم، ثم رجعوا الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم طيبوا واذنوا، فهذا الذي بلغنا عن سبى هوازن. وقال انس قال عباس للنبي صلى الله عليه وسلم فاديت نفسي، وفاديت عقيلا
ہم سے علی بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کو لکھا تو انہوں نے مجھے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر جب حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا گیا، عورتوں بچوں کو قید کر لیا گیا۔ انہیں قیدیوں میں جویریہ رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) بھی تھیں۔ ( نافع رحمہ اللہ نے لکھا تھا کہ ) یہ حدیث مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی تھی، وہ خود بھی اسلامی فوج کے ہمراہ تھے۔
حدثنا علي بن الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ابن عون، قال كتبت الى نافع فكتب الى ان النبي صلى الله عليه وسلم اغار على بني المصطلق وهم غارون وانعامهم تسقى على الماء، فقتل مقاتلتهم، وسبى ذراريهم، واصاب يوميذ جويرية. حدثني به عبد الله بن عمر، وكان في ذلك الجيش
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، انہیں محمد بن یحییٰ بن حبان نے، ان سے ابن محیریز نے کہ میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان سے ایک سوال کیا، آپ نے جواب میں کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق کے لیے نکلے۔ اس غزوے میں ہمیں ( قبیلہ بنی مصطلق کے ) عرب قیدی ہاتھ آئے ( راستے ہی میں ) ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورت سے الگ رہنا ہم کو مشکل ہو گیا۔ ہم نے چاہا کہ عزل کر لیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم عزل کر سکتے ہو، اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن جن روحوں کی بھی قیامت تک کے لیے پیدائش مقدر ہو چکی ہے وہ تو ضرور پیدا ہو کر رہیں گی ( لہٰذا تمہارا عزل کرنا بیکار ہے ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، قال رايت ابا سعيد رضى الله عنه فسالته فقال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة بني المصطلق فاصبنا سبيا من سبى العرب، فاشتهينا النساء فاشتدت علينا العزبة واحببنا العزل، فسالنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما عليكم ان لا تفعلوا، ما من نسمة كاينة الى يوم القيامة الا وهى كاينة
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا رہا ہوں ( دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ) مجھ سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر بن عبدالحمید نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں حارث نے، انہیں ابوزرعہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، ( تیسری سند ) اور مغیرہ نے عمارہ سے روایت کی، انہوں نے ابوزرعہ سے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، تین باتوں کی وجہ سے جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت مخالف ثابت ہوں گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) بنو تمیم کے یہاں سے زکوٰۃ ( وصول ہو کر آئی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہماری قوم کی زکوٰۃ ہے۔ بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے آزاد کر دے کہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال لا ازال احب بني تميم. وحدثني ابن سلام اخبرنا جرير بن عبد الحميد عن المغيرة عن الحارث عن ابي زرعة عن ابي هريرة. وعن عمارة عن ابي زرعة عن ابي هريرة قال ما زلت احب بني تميم منذ ثلاث سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فيهم، سمعته يقول " هم اشد امتي على الدجال ". قال وجاءت صدقاتهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذه صدقات قومنا ". وكانت سبية منهم عند عايشة. فقال " اعتقيها فانها من ولد اسماعيل
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، سمع محمد بن فضيل، عن مطرف، عن الشعبي، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له جارية فعالها، فاحسن اليها ثم اعتقها وتزوجها، كان له اجران
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ہم سے واصل بن حیان نے جو کبڑے تھے، بیان کیا، کہا کہ میں نے معرور بن سوید سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بدن پر بھی ایک جوڑا تھا اور ان کے غلام کے بدن پر بھی اسی قسم کا ایک جوڑا تھا۔ ہم نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ایک دفعہ میری ایک صاحب ( یعنی بلال رضی اللہ عنہ سے ) سے کچھ گالی گلوچ ہو گئی تھی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے انہیں ان کی ماں کی طرف سے عار دلائی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا واصل الاحدب، قال سمعت المعرور بن سويد، قال رايت ابا ذر الغفاري رضى الله عنه وعليه حلة وعلى غلامه حلة فسالناه عن ذلك فقال اني ساببت رجلا فشكاني الى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اعيرته بامه ". ثم قال " ان اخوانكم خولكم جعلهم الله تحت ايديكم، فمن كان اخوه تحت يده فليطعمه مما ياكل، وليلبسه مما يلبس، ولا تكلفوهم ما يغلبهم، فان كلفتموهم ما يغلبهم فاعينوهم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غلام جو اپنے آقا کا خیرخواہ بھی ہو اور اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرتا ہو تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العبد اذا نصح سيده واحسن عبادة ربه كان له اجره مرتين
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی صالح سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی کے پاس بھی کوئی باندی ہو اور وہ اسے پورے حسن و خوبی کے ساتھ ادب سکھائے، پھر آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرے اور اپنے آقاؤں کے بھی تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے۔“
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن صالح، عن الشعبي، عن ابي بردة، عن ابي موسى الاشعري رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم " ايما رجل كانت له جارية فادبها فاحسن تاديبها، واعتقها وتزوجها، فله اجران، وايما عبد ادى حق الله وحق مواليه، فله اجران
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو اور نیکو کار ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، حج اور والدہ کی خدمت ( کی روک ) نہ ہوتی تو میں پسند کرتا کہ غلام رہ کر مروں۔
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، سمعت سعيد بن المسيب، يقول قال ابو هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " للعبد المملوك الصالح اجران، والذي نفسي بيده لولا الجهاد في سبيل الله والحج وبر امي، لاحببت ان اموت وانا مملوك
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کتنا اچھا ہے کسی کا وہ غلام جو اپنے رب کی عبادت تمام حسن و خوبی کے ساتھ بجا لائے اور اپنے مالک کی خیر خواہی بھی کرتا رہے۔“
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا ابو اسامة، عن الاعمش، حدثنا ابو صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم ما لاحدهم يحسن عبادة ربه وينصح لسيده
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے کہا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت تمام حسن و خوبی کے ساتھ بجا لائے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا نصح العبد سيده، واحسن عبادة ربه، كان له اجره مرتين
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے برید بن عبداللہ سے، وہ ابوبردہ سے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غلام جو اپنے رب کی عبادت احسن طریق کے ساتھ بجا لائے اور اپنے آقا کے جو اس پر خیر خواہی اور فرماں برداری ( کے حقوق ہیں ) انہیں بھی ادا کرتا رہے، تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔“
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المملوك الذي يحسن عبادة ربه، ويودي الى سيده الذي له عليه من الحق والنصيحة والطاعة، له اجران
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص ( کسی غلام یا کسی بھی شخص سے ) یہ نہ کہے۔ اپنے رب ( مراد آقا ) کو کھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کو پانی پلا“۔ بلکہ صرف میرے سردار، میرے آقا کے الفاظ کہنا چاہئے۔ اسی طرح کوئی شخص یہ نہ کہے۔ ”میرا بندہ، میری بندی، بلکہ یوں کہنا چاہئے میرا چھوکرا، میری چھوکری، میرا غلام۔“
حدثنا محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يقل احدكم اطعم ربك، وضي ربك، اسق ربك. وليقل سيدي مولاى. ولا يقل احدكم عبدي امتي. وليقل فتاى وفتاتي وغلامي
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا، اور اس کے پاس اتنا مال بھی ہو جس سے غلام کی واجبی قیمت ادا کی جا سکے تو اسی کے مال سے پورا غلام آزاد کیا جائے گا ورنہ جتنا آزاد ہو گیا ہو گیا۔“
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اعتق نصيبا له من العبد، فكان له من المال ما يبلغ قيمته، يقوم عليه قيمة عدل، واعتق من ماله، والا فقد عتق منه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ پس لوگوں کا واقعی امیر ایک حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ اور ہر آدمی اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ اور غلام اپنے آقا ( سید ) کے مال کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ پس جان لو کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں ( قیامت کے دن ) پوچھ ہو گی۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن عبد الله رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كلكم راع فمسيول عن رعيته، فالامير الذي على الناس راع وهو مسيول عنهم، والرجل راع على اهل بيته وهو مسيول عنهم، والمراة راعية على بيت بعلها وولده وهى مسيولة عنهم، والعبد راع على مال سيده وهو مسيول عنه، الا فكلكم راع وكلكم مسيول عن رعيته
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن الزهري، حدثني عبيد الله، سمعت ابا هريرة، وزيد بن خالد، رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زنت الامة فاجلدوها، ثم اذا زنت فاجلدوها، ثم اذا زنت فاجلدوها، في الثالثة او الرابعة بيعوها ولو بضفير
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن الزهري، حدثني عبيد الله، سمعت ابا هريرة، وزيد بن خالد، رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زنت الامة فاجلدوها، ثم اذا زنت فاجلدوها، ثم اذا زنت فاجلدوها، في الثالثة او الرابعة بيعوها ولو بضفير