Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب کسی کا غلام کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ ( کھلانے کے لیے ) نہ بٹھا سکے تو اسے ایک یا دو نوالے ضرور کھلا دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لقمة أو لقمتين» کے بدل «أكلة أو أكلتين» فرمایا ( یعنی ایک یا دو لقمے ) کیونکہ اسی نے اس کو تیار کرنے کی تکلیف اٹھائی ہے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني محمد بن زياد، سمعت ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اتى احدكم خادمه بطعامه، فان لم يجلسه معه، فليناوله لقمة او لقمتين او اكلة او اكلتين، فانه ولي علاجه
سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر آدمی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ امام حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر کے معاملات کا افسر ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی افسر ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا ( سید ) کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ باتیں سنی ہیں اور مجھے خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ غرض تم میں سے ہر فرد حاکم ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كلكم راع ومسيول عن رعيته، فالامام راع ومسيول عن رعيته، والرجل في اهله راع وهو مسيول عن رعيته، والمراة في بيت زوجها راعية وهى مسيولة عن رعيتها، والخادم في مال سيده راع وهو مسيول عن رعيته ". قال فسمعت هولاء من النبي صلى الله عليه وسلم واحسب النبي صلى الله عليه وسلم قال " والرجل في مال ابيه راع ومسيول عن رعيته، فكلكم راع وكلكم مسيول عن رعيته
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن فلاں (ابن سمعان) نے خبر دی، انہیں سعید مقبری نے، انہیں ان کے باپ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ہمام سے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی کسی سے جھگڑا کرے تو چہرے ( پر مارنے ) سے پرہیز کرے۔“
حدثنا محمد بن عبيد الله، حدثنا ابن وهب، قال حدثني مالك بن انس، قال واخبرني ابن فلان، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم وحدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قاتل احدكم فليجتنب الوجه