Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے واقد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے علی بن حسین کے ساتھی سعید بن مرجانہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی کسی مسلمان ( غلام ) کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے جسم کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے اس شخص کے جسم کے بھی ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کرے گا۔ سعید بن مرجانہ نے بیان کیا کہ پھر میں علی بن حسین ( زین العابدین رحمہ اللہ ) کے یہاں گیا ( اور ان سے حدیث بیان کی ) وہ اپنے ایک غلام کی طرف متوجہ ہوئے۔ جس کی عبداللہ بن جعفر دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار قیمت دے رہے تھے اور آپ نے اسے آزاد کر دیا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عاصم بن محمد، قال حدثني واقد بن محمد، قال حدثني سعيد ابن مرجانة، صاحب علي بن حسين قال لي ابو هريرة رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم " ايما رجل اعتق امرا مسلما استنقذ الله بكل عضو منه عضوا منه من النار ". قال سعيد ابن مرجانة فانطلقت الى علي بن حسين فعمد علي بن حسين رضى الله عنهما الى عبد له قد اعطاه به عبد الله بن جعفر عشرة الاف درهم او الف دينار فاعتقه
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابومرواح نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے پوچھا اور کس طرح کا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں جو بہت زیادہ پسندیدہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ اگر مجھ سے یہ نہ ہو سکا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ پھر کسی مسلمان کاریگر کی مدد کر یا کسی بے ہنر کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ بھی نہ کر سکا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابي مراوح، عن ابي ذر رضى الله عنه قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم اى العمل افضل، قال " ايمان بالله، وجهاد في سبيله ". قلت فاى الرقاب افضل قال " اغلاها ثمنا، وانفسها عند اهلها ". قلت فان لم افعل. قال " تعين صانعا او تصنع لاخرق ". قال فان لم افعل. قال " تدع الناس من الشر، فانها صدقة تصدق بها على نفسك
ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدۃ بن قدامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بن منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو علی بن مدینی نے بھی عبدالعزیز دراوردی سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے ہشام سے۔
حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا زايدة بن قدامة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما قالت امر النبي صلى الله عليه وسلم بالعتاقة في كسوف الشمس. تابعه علي عن الدراوردي عن هشام
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہمیں سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا عثام، حدثنا هشام، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما قالت كنا نومر عند الخسوف بالعتاقة
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ساجھیوں کے درمیان ساجھے کے غلام کو اگر کسی ایک ساجھی نے آزاد کیا، تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو باقی حصوں کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا۔ پھر ( اسی کی طرف سے ) پورے غلام کو آزاد کر دیا جائے گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن سالم، عن ابيه رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق عبدا بين اثنين، فان كان موسرا قوم عليه ثم يعتق
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی مشترک غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے کہ غلام کی پوری قیمت ادا ہو سکے تو اس کی قیمت انصاف کے ساتھ لگائی جائے گی اور باقی ساجھیوں کو ان کے حصے کی قیمت ( اسی کے مال سے ) دے کر غلام کو اسی کی طرف سے آزاد کر دیا جائے گا۔ ورنہ غلام کا جو حصہ آزاد ہو چکا وہ ہو چکا۔ باقی حصوں کی آزادی کے لیے غلام کو خود کوشش کر کے قیمت ادا کرنی ہو گی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق شركا له في عبد، فكان له مال يبلغ ثمن العبد قوم العبد قيمة عدل، فاعطى شركاءه حصصهم وعتق عليه، والا فقد عتق منه ما عتق
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی مشترک غلام کے اپنے حصے کو آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی پوری قیمت ادا کرنے کے لیے مال بھی ہے تو پورا غلام اسے آزاد کرانا لازم ہے لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے پورے غلام کی صحیح قیمت ادا کی جا سکے۔ تو پھر غلام کا جو حصہ آزاد ہو گیا وہی آزاد ہوا۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر نے بیان کیا اور ان سے عبیداللہ نے اختصار کے ساتھ۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق شركا له في مملوك فعليه عتقه كله، ان كان له مال يبلغ ثمنه، فان لم يكن له يقوم عليه قيمة عدل، فاعتق منه ما اعتق ". حدثنا مسدد، حدثنا بشر، عن عبيد الله، اختصره
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ( ساجھے ) غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) یہ الفاظ فرمائے «شركا له في عبد» ( شک راوی حدیث ایوب سختیانی کو ہوا ) اور اس کے پاس اتنا مال بھی تھا جس سے پورے غلام کی مناسب قیمت ادا کی جا سکتی تھی تو وہ غلام پوری طرح آزاد سمجھا جائے گا۔ ( باقی حصوں کی قیمت اس کو دینی ہو گی ) نافع نے بیان کیا ورنہ اس کا جو حصہ آزاد ہو گیا بس وہ آزاد ہو گیا۔ ایوب نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں یہ ( آخری ٹکڑا ) خود نافع نے اپنی طرف سے کہا تھا یا یہ بھی حدیث میں شامل ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق نصيبا له في مملوك او شركا له في عبد، وكان له من المال ما يبلغ قيمته بقيمة العدل، فهو عتيق ". قال نافع والا فقد عتق منه ما عتق. قال ايوب لا ادري اشىء قاله نافع، او شىء في الحديث
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو نافع نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما غلام یا باندی کے بارے میں یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ اگر وہ کئی ساجھیوں کے درمیان مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اس شخص پر پورے غلام کے آزاد کرانے کی ذمہ داری ہو گی لیکن یہ اس صورت میں جب شخص مذکور کے پاس اتنا مال ہو جس سے پورے غلام کی قیمت ادا کی جا سکے۔ غلام کی مناسب قیمت لگا کر دوسرے ساجھیوں کو ان کے حصوں کے مطابق ادائیگی کر دی جائے گی اور غلام کو آزاد کر دیا جائے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے اور لیث بن ابی ذئب، ابن اسحاق، جویریہ، یحییٰ بن سعید اور اسماعیل بن امیہ بھی نافع سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصر طور پر۔
حدثنا احمد بن مقدام، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، اخبرني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه كان يفتي في العبد او الامة يكون بين شركاء، فيعتق احدهم نصيبه منه، يقول قد وجب عليه عتقه كله، اذا كان للذي اعتق من المال ما يبلغ، يقوم من ماله قيمة العدل، ويدفع الى الشركاء انصباوهم، ويخلى سبيل المعتق. يخبر ذلك ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم. ورواه الليث وابن ابي ذيب وابن اسحاق وجويرية ويحيى بن سعيد واسماعيل بن امية عن نافع عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم مختصرا
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا میں نے قتادہ سے سنا، کہا کہ مجھ سے نضر بن انس بن مالک نے بیان کیا، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی غلام کا ایک حصہ آزاد کیا۔“
حدثنا احمد بن ابي رجاء، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا جرير بن حازم، سمعت قتادة، قال حدثني النضر بن انس بن مالك، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم {من اعتق شقيصا من عبد}
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے ان سے نضر بن انس نے، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی ساجھے کے غلام کا اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کی پوری آزادی اسی کے ذمہ ہے۔ بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو۔ ورنہ غلام کی قیمت لگائی جائے گی اور ( اس سے اپنے بقیہ حصوں کی قیمت ادا کرنے کی ) کوشش کے لیے کہا جائے گا۔ لیکن اس پر کوئی سختی نہ کی جائے گی۔“ سعید کے ساتھ اس حدیث کو حجاج بن حجاج، ابان اور موسیٰ بن خلف نے بھی قتادہ سے روایت کیا۔ شعبہ نے اسے مختصر کر دیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق نصيبا او شقيصا في مملوك، فخلاصه عليه في ماله ان كان له مال، والا قوم عليه، فاستسعي به غير مشقوق عليه ". تابعه حجاج بن حجاج وابان وموسى بن خلف عن قتادة. اختصره شعبة
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے زرارہ بن اوفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک وہ انہیں عمل یا زبان پر نہ لائیں۔“
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا مسعر، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله تجاوز لي عن امتي ما وسوست به صدورها، ما لم تعمل او تكلم
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے، ان سے علقمہ بن وقاص لیثی نے، کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق پھل ملتا ہے۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو، وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے تو یہ ہجرت محض اسی کے لیے ہو گی جس کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔“
حدثنا محمد بن كثير، عن سفيان، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن علقمة بن وقاص الليثي، قال سمعت عمر بن الخطاب رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الاعمال بالنية، ولامري ما نوى، فمن كانت هجرته الى الله ورسوله، فهجرته الى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، او امراة يتزوجها، فهجرته الى ما هاجر اليه
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن بشر نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جب وہ اسلام قبول کرنے کے ارادے سے ( مدینہ کے لیے ) نکلے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ ( راستے میں ) وہ دونوں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ پھر جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( مدینہ پہنچنے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان کا غلام بھی اچانک آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہریرہ! یہ لو تمہارا غلام بھی آ گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ غلام اب آزاد ہے۔ راوی نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ پہنچ کر یہ شعر کہے تھے۔ ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات، پر دلائی اس نے دالکفر سے مجھ کو نجات۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، عن محمد بن بشر، عن اسماعيل، عن قيس، عن ابي هريرة رضى الله عنه انه لما اقبل يريد الاسلام ومعه غلامه، ضل كل واحد منهما من صاحبه، فاقبل بعد ذلك وابو هريرة جالس مع النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا هريرة، هذا غلامك قد اتاك ". فقال اما اني اشهدك انه حر. قال فهو حين يقول يا ليلة من طولها وعنايها على انها من دارة الكفر نجت
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آتے ہوئے راستے میں یہ شعر کہا تھا: ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات، پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں میرا غلام مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام پر قائم رہنے کے لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ میں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہریرہ! یہ دیکھ تیرا غلام بھی آ گیا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! وہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ پھر میں نے اسے آزاد کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکریب نے ( اپنی روایت میں ) ابواسامہ سے یہ لفظ نہیں روایت کیا کہ وہ آزاد ہے۔
حدثنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا ابو اسامة، حدثنا اسماعيل، عن قيس، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال لما قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم قلت في الطريق يا ليلة من طولها وعنايها على انها من دارة الكفر نجت قال وابق مني غلام لي في الطريق قال فلما قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم بايعته، فبينا انا عنده اذ طلع الغلام، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا هريرة، هذا غلامك ". فقلت هو حر لوجه الله. فاعتقته. لم يقل ابو كريب عن ابي اسامة حر
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آ رہے تھے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا، آپ اسلام کے ارادے سے آ رہے تھے۔ اچانک راستے میں وہ غلام بھول کر الگ ہو گیا ( پھر یہی حدیث بیان کی ) اس میں یوں ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔
حدثنا شهاب بن عباد، حدثنا ابراهيم بن حميد، عن اسماعيل، عن قيس، قال لما اقبل ابو هريرة رضى الله عنه ومعه غلامه وهو يطلب الاسلام، فاضل احدهما صاحبه بهذا، وقال اما اني اشهدك انه لله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کے بچے کو اپنے قبضے میں لے لیں۔ اس نے کہا تھا کہ وہ لڑکا میرا ہے۔ پھر جب فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) تشریف لائے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی باندی کے لڑکے کو لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد بن زمعہ بھی ساتھ تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ انہیں کا لڑکا ہے۔ لیکن عبد بن زمعہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے۔ جو زمعہ ( میرے والد ) کی باندی کا لڑکا ہے۔ انہیں کے ”فراش“ پر پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی باندی کے لڑکے کو دیکھا تو واقعی وہ عتبہ کی صورت پر تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے عبد بن زمعہ! یہ تمہاری پرورش میں رہے گا۔ کیونکہ بچہ تمہارے والد ہی کے ”فرش“ پر پیدا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ ”اے سودہ بن زمعہ! اس سے پردہ کیا کر“ یہ ہدایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے کی تھی کہ بچے میں عتبہ کی شباہت دیکھ لی تھی۔ سودہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها قالت ان عتبة بن ابي وقاص عهد الى اخيه سعد بن ابي وقاص ان يقبض اليه ابن وليدة زمعة، قال عتبة انه ابني. فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الفتح اخذ سعد ابن وليدة زمعة. فاقبل به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم واقبل معه بعبد بن زمعة. فقال سعد يا رسول الله هذا ابن اخي عهد الى انه ابنه. فقال عبد بن زمعة يا رسول الله هذا اخي ابن وليدة زمعة، ولد على فراشه. فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ابن وليدة زمعة، فاذا هو اشبه الناس به، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد بن زمعة ". من اجل انه ولد على فراش ابيه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احتجبي منه يا سودة بنت زمعة ". مما راى من شبهه بعتبة. وكانت سودة زوج النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم میں سے ایک شخص نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کی آزادی کے لیے کہا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بلایا اور اسے بیچ دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر وہ غلام اپنی آزادی کے پہلے ہی سال مر گیا تھا۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن دينار، سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال اعتق رجل منا عبدا له عن دبر، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم به فباعه. قال جابر مات الغلام عام اول
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال اخبرني عبد الله بن دينار، سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الولاء، وعن هبته
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو میں نے خریدا تو ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی ( کہ آزادی کے بعد وہ انہیں کے حق میں قائم رہے گی ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں آزاد کر دو، ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو قیمت دے کر کسی غلام کو آزاد کر دے۔ پھر میں نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے شوہر کے سلسلے میں انہیں اختیار دیا۔ بریرہ نے کہا کہ اگر وہ مجھے فلاں فلاں چیز بھی دیں تب بھی میں اس کے پاس نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ اپنے شوہر سے جدا ہو گئیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت اشتريت بريرة فاشترط اهلها ولاءها، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اعتقيها، فان الولاء لمن اعطى الورق ". فاعتقتها، فدعاها النبي صلى الله عليه وسلم فخيرها من زوجها فقالت لو اعطاني كذا وكذا ما ثبت عنده. فاختارت نفسها