Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
ہم سے اسحٰق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو معاذ بن ہشام نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا روک لیا جائے گا اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ جو وہ دنیا میں باہم کرتے تھے۔ پھر جب پاک صاف ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی بہتر طور پر پہچانے گا۔ یونس بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے ابوالمتوکل نے بیان کیا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي المتوكل الناجي، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا خلص المومنون من النار حبسوا بقنطرة بين الجنة والنار، فيتقاصون مظالم كانت بينهم في الدنيا، حتى اذا نقوا وهذبوا اذن لهم بدخول الجنة، فوالذي نفس محمد صلى الله عليه وسلم بيده لاحدهم بمسكنه في الجنة ادل بمنزله كان في الدنيا ". وقال يونس بن محمد حدثنا شيبان عن قتادة حدثنا ابو المتوكل
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی، ان سے صفوان بن محرزمازنی نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے جا رہا تھا۔ کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے ( قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی ) سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ ( ملائکہ، انبیاء، اور تمام جن و انس سب ) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو جاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، قال اخبرني قتادة، عن صفوان بن محرز المازني، قال بينما انا امشي، مع ابن عمر رضى الله عنهما اخذ بيده اذ عرض رجل، فقال كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في النجوى فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله يدني المومن فيضع عليه كنفه، ويستره فيقول اتعرف ذنب كذا اتعرف ذنب كذا فيقول نعم اى رب. حتى اذا قرره بذنوبه وراى في نفسه انه هلك قال سترتها عليك في الدنيا، وانا اغفرها لك اليوم. فيعطى كتاب حسناته، واما الكافر والمنافقون فيقول الاشهاد هولاء الذين كذبوا على ربهم، الا لعنة الله على الظالمين
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، ان سالما، اخبره ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المسلم اخو المسلم، لا يظلمه ولا يسلمه، ومن كان في حاجة اخيه كان الله في حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة، ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن ابی بکر بن انس اور حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، اخبرنا عبيد الله بن ابي بكر بن انس، وحميد الطويل، سمعا انس بن مالك رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انصر اخاك ظالما او مظلوما
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو ( یہی اس کی مدد ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، عن حميد، عن انس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انصر اخاك ظالما او مظلوما ". قالوا يا رسول الله هذا ننصره مظلوما، فكيف ننصره ظالما قال " تاخذ فوق يديه
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اشعث بن سلیم نے بیان کیا، کہ میں نے معاویہ بن سوید سے سنا، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا تھا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم فرمایا تھا اور سات ہی چیزوں سے منع بھی فرمایا تھا ( جن چیزوں کا حکم فرمایا تھا ان میں ) انہوں نے مریض کی عیادت، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، سلام کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت کرنے والے ( کی دعوت ) قبول کرنے، اور قسم پوری کرنے کا ذکر کیا۔
حدثنا سعيد بن الربيع، حدثنا شعبة، عن الاشعث بن سليم، قال سمعت معاوية بن سويد، سمعت البراء بن عازب رضى الله عنهما قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم بسبع، ونهانا عن سبع. فذكر عيادة المريض، واتباع الجنايز، وتشميت العاطس، ورد السلام، ونصر المظلوم، واجابة الداعي، وابرار المقسم
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن للمومن كالبنيان يشد بعضه بعضا ". وشبك بين اصابعه
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز ماجشون نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عبد العزيز الماجشون، اخبرنا عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الظلم ظلمات يوم القيامة
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن اسحاق مکی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ صیفی نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب ( عامل بنا کر ) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس ( دعا ) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا وكيع، حدثنا زكرياء بن اسحاق المكي، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، مولى ابن عباس عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن، فقال " اتق دعوة المظلوم، فانها ليس بينها وبين الله حجاب
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعید مقبری ہی بنی لیث کے غلام ہیں۔ پورا نام سعید بن ابی سعید ہے اور ( ان کے والد ) ابوسعید کا نام کیسان ہے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له مظلمة لاحد من عرضه او شىء فليتحلله منه اليوم، قبل ان لا يكون دينار ولا درهم، ان كان له عمل صالح اخذ منه بقدر مظلمته، وان لم تكن له حسنات اخذ من سييات صاحبه فحمل عليه ". قال ابو عبد الله قال اسماعيل بن ابي اويس انما سمي المقبري لانه كان نزل ناحية المقابر. قال ابو عبد الله وسعيد المقبري هو مولى بني ليث، وهو سعيد بن ابي سعيد، واسم ابي سعيد كيسان
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( قرآن مجید کی آیت ) «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا» ”اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت یا اس کے منہ پھیرنے کا خوف رکھتی ہو“ کے بارے میں فرمایا کہ کسی شخص کی بیوی ہے لیکن شوہر اس کے پاس زیادہ آتا جاتا نہیں بلکہ اسے جدا کرنا چاہتا ہے اس پر اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں اپنا حق تمہیں معاف کرتی ہوں۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها – {وان امراة خافت من بعلها نشوزا او اعراضا} قالت الرجل تكون عنده المراة، ليس بمستكثر منها، يريد ان يفارقها، فتقول اجعلك من شاني في حل. فنزلت هذه الاية في ذلك
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم بن دینار نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ یا پانی پینے کو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر والے تھے۔ لڑکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے اس کی اجازت دو گے کہ ان لوگوں کو یہ ( پیالہ ) دے دوں؟ لڑکے نے کہا، نہیں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! آپ کی طرف سے ملنے والے حصے کا ایثار میں کسی پر نہیں کر سکتا۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اسی لڑکے کو دے دیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد الساعدي رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بشراب، فشرب منه وعن يمينه غلام وعن يساره الاشياخ، فقال للغلام " اتاذن لي ان اعطي هولاء ". فقال الغلام لا والله يا رسول الله لا اوثر بنصيبي منك احدا. قال فتله رسول الله صلى الله عليه وسلم في يده
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل نے خبر دی اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کی زمین ظلم سے لے لی، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني طلحة بن عبد الله، ان عبد الرحمن بن عمرو بن سهل، اخبره ان سعيد بن زيد رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ظلم من الارض شييا طوقه من سبع ارضين
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ان کے اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان ( زمین کا ) جھگڑا تھا۔ اس کا ذکر انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے بتلایا، ابوسلمہ! زمین سے پرہیز کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص نے ایک بالشت بھر زمین بھی کسی دوسرے کی ظلم سے لے لی تو سات زمینوں کا طوق ( قیامت کے دن ) اس کے گردن میں ڈالا جائے گا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا حسين، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني محمد بن ابراهيم، ان ابا سلمة، حدثه انه، كانت بينه وبين اناس خصومة، فذكر لعايشة رضى الله عنها فقالت يا ابا سلمة اجتنب الارض، فان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ظلم قيد شبر من الارض طوقه من سبع ارضين
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا سالم سے اور ان سے ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی اس کتاب میں نہیں ہے جو خراسان میں تھی۔ بلکہ اس میں تھی جسے انہوں نے بصرہ میں اپنے شاگردوں کو املا کرایا تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثنا موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابيه رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اخذ من الارض شييا بغير حقه خسف به يوم القيامة الى سبع ارضين ". قال ابو عبد الله هذا الحديث ليس بخراسان في كتاب ابن المبارك، املاه عليهم بالبصرة
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ ہم بعض اہل عراق کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے۔ وہاں ہمیں قحط میں مبتلا ہونا پڑا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھانے کے لیے ہمارے پاس کھجور بھجوایا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ہماری طرف سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے وقت ) دو کھجور کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن جبلة، كنا بالمدينة في بعض اهل العراق، فاصابنا سنة، فكان ابن الزبير يرزقنا التمر، فكان ابن عمر رضى الله عنهما يمر بنا فيقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الاقران، الا ان يستاذن الرجل منكم اخاه
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ انصار میں ایک صحابی جنہیں ابوشعیب رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، کا ایک قصائی غلام تھا۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دے، کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دیگر اصحاب کے ساتھ دعوت دوں گا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کے آثار دیکھے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے بتلایا۔ ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بن بلائے چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب خانہ سے فرمایا یہ آدمی بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے۔ کیا اس کے لیے تمہاری اجازت ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں اجازت ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن ابي مسعود، ان رجلا، من الانصار يقال له ابو شعيب كان له غلام لحام فقال له ابو شعيب اصنع لي طعام خمسة لعلي ادعو النبي صلى الله عليه وسلم خامس خمسة. وابصر في وجه النبي صلى الله عليه وسلم الجوع فدعاه، فتبعهم رجل لم يدع فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان هذا قد اتبعنا اتاذن له ". قال نعم
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ ناپسند وہ آدمی ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان ابغض الرجال الى الله الالد الخصم
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے اور ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہیں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں۔ اس لیے جب میرے یہاں کوئی جھگڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ( فریقین میں سے ) ایک فریق کی بحث دوسرے فریق سے عمدہ ہو، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سچا ہے۔ اور اس طرح میں اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں، لیکن اگر میں اس کو ( اس کے ظاہری بیان پر بھروسہ کر کے ) کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو دوزخ کا ایک ٹکڑا اس کو دلا رہا ہوں، وہ لے لے یا چھوڑ دے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان زينب بنت ام سلمة، اخبرته ان امها ام سلمة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرتها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه سمع خصومة بباب حجرته، فخرج اليهم، فقال " انما انا بشر وانه ياتيني الخصم، فلعل بعضكم ان يكون ابلغ من بعض، فاحسب انه صدق، فاقضي له بذلك، فمن قضيت له بحق مسلم فانما هي قطعة من النار، فلياخذها او فليتركها
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا ہم کو محمد نے خبر دی شعبہ سے، انہیں سلیمان نے، انہیں عبداللہ بن مرہ نے، انہیں مسروق نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا۔ یا ان چار میں سے اگر ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے، اور جب جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے۔
حدثنا بشر بن خالد، اخبرنا محمد، عن شعبة، عن سليمان، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اربع من كن فيه كان منافقا، او كانت فيه خصلة من اربعة كانت فيه خصلة من النفاق، حتى يدعها اذا حدث كذب، واذا وعد اخلف، واذا عاهد غدر، واذا خاصم فجر