Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند رضی اللہ عنہا حاضر خدمت ہوئیں اور عرض کیا، یا رسول اللہ! ابوسفیان ( جو ان کے شوہر ہیں وہ ) بخیل ہیں۔ تو کیا اس میں کوئی حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے لے کر اپنے بال بچوں کو کھلایا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دستور کے مطابق ان کے مال سے لے کر کھلاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثني عروة، ان عايشة رضى الله عنها قالت جاءت هند بنت عتبة بن ربيعة، فقالت يا رسول الله ان ابا سفيان رجل مسيك، فهل على حرج ان اطعم من الذي له عيالنا فقال " لا حرج عليك ان تطعميهم بالمعروف
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ ہمیں مختلف ملک والوں کے پاس بھیجتے ہیں اور ( بعض دفعہ ) ہمیں ایسے لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے کہ وہ ہماری ضیافت تک نہیں کرتے۔ آپ کی ایسے مواقع پر کیا ہدایت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا، اگر تمہارا قیام کسی قبیلے میں ہو اور تم سے ایسا برتاؤ کیا جائے جو کسی مہمان کے لیے مناسب ہے تو تم اسے قبول کر لو، لیکن اگر وہ نہ کریں تو تم خود مہمانی کا حق ان سے وصول کر لو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني يزيد، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، قال قلنا للنبي صلى الله عليه وسلم انك تبعثنا فننزل بقوم لا يقرونا فما ترى فيه فقال لنا " ان نزلتم بقوم، فامر لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا، فان لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ کو یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب نے کہا، مجھ کو خبر دی عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، جب اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وفات دے دی تو انصار بنو ساعدہ کے «سقيفة» چوپال میں جمع ہوئے۔ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں بھی وہیں لے چلئے۔ چنانچہ ہم انصار کے یہاں سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني مالك،. واخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان ابن عباس، اخبره عن عمر رضى الله عنهم قال حين توفى الله نبيه صلى الله عليه وسلم ان الانصار اجتمعوا في سقيفة بني ساعدة، فقلت لابي بكر انطلق بنا. فجيناهم في سقيفة بني ساعدة
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے اعرج نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے نہ روکے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے، یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیرنے والا پاتا ہوں۔ قسم اللہ! اس کھونٹی کو تمہارے کندھوں کے درمیان گاڑ دوں گا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يمنع جار جاره ان يغرز خشبه في جداره ". ثم يقول ابو هريرة ما لي اراكم عنها معرضين والله لارمين بها بين اكتافكم
ہم سے ابویحییٰ محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ ان دنوں کھجور ہی کی شراب پیا کرتے تھے۔ ( پھر جونہی شراب کی حرمت پر آیت قرآنی اتری ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا ( یہ سنتے ہی ) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دے۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہا دی۔ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، تو بعض لوگوں نے کہا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حالت میں قتل کر دیئے گئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے، ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو پہلے کھا چکے ہیں ( آخر آیت تک ) ۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم ابو يحيى، اخبرنا عفان، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ثابت، عن انس رضى الله عنه كنت ساقي القوم في منزل ابي طلحة، وكان خمرهم يوميذ الفضيخ، فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم مناديا ينادي " الا ان الخمر قد حرمت ". قال فقال لي ابو طلحة اخرج فاهرقها، فخرجت فهرقتها، فجرت في سكك المدينة فقال بعض القوم قد قتل قوم وهى في بطونهم. فانزل الله {ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا} الاية
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمر حفص بن میسرہ نے بیان کیا، اور ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا، اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا ابو عمر، حفص بن ميسرة عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والجلوس على الطرقات ". فقالوا ما لنا بد، انما هي مجالسنا نتحدث فيها. قال " فاذا ابيتم الا المجالس فاعطوا الطريق حقها " قالوا وما حق الطريق قال " غض البصر، وكف الاذى، ورد السلام، وامر بالمعروف، ونهى عن المنكر
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر کے غلام سمی نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص راستے میں سفر کر رہا تھا کہ اسے پیاس لگی۔ پھر اسے راستے میں ایک کنواں ملا اور وہ اس کے اندر اتر گیا اور پانی پیا۔ جب باہر آیا تو اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی سختی سے کیچڑ چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے سوچا کہ اس وقت یہ کتا بھی پیاس کی اتنی ہی شدت میں مبتلا ہے جس میں میں تھا۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کر اس نے کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا یہ عمل مقبول ہوا۔ اور اس کی مغفرت کر دی گئی۔ صحابہ نے پوچھا، یا رسول اللہ کیا جانوروں کے سلسلہ میں بھی ہمیں اجر ملتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، ہر جاندار مخلوق کے سلسلے میں اجر ملتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينا رجل بطريق، اشتد عليه العطش فوجد بيرا فنزل فيها فشرب، ثم خرج، فاذا كلب يلهث ياكل الثرى من العطش، فقال الرجل لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي كان بلغ مني، فنزل البير، فملا خفه ماء، فسقى الكلب، فشكر الله له، فغفر له ". قالوا يا رسول الله وان لنا في البهايم لاجرا فقال " في كل ذات كبد رطبة اجر
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک بلند مکان پر چڑھے۔ پھر فرمایا، کیا تم لوگ بھی دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں کہ ( عنقریب ) تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے جیسے بارش برستی ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما قال اشرف النبي صلى الله عليه وسلم على اطم من اطام المدينة ثم قال " هل ترون ما ارى اني ارى مواقع الفتن خلال بيوتكم كمواقع القطر
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے اور ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ہمیشہ اس بات کا آروز مند رہتا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے نام پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ التحریم میں ) فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو ( تو بہتر ہے ) کہ تمہارے دل بگڑ گئے ہیں۔“ پھر میں ان کے ساتھ حج کو گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ راستے سے قضائے حاجت کے لیے ہٹے تو میں بھی ان کے ساتھ ( پانی کا ایک ) چھاگل لے کر گیا۔ پھر وہ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے۔ اور جب واپس آئے تو میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر چھاگل سے پانی ڈالا۔ اور انہوں نے وضو کیا، پھر میں نے پوچھا، یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ دو خواتین کون سی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله» ”تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو“ انہوں نے فرمایا، ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہا ) ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہو کر پورا واقعہ بیان کرنے لگے۔ آپ نے بتلایا کہ بنوامیہ بن زید کے قبیلے میں جو مدینہ سے ملا ہوا تھا۔ میں اپنے ایک انصاری پڑوسی کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضر ہوتے اور ایک دن میں۔ جب میں حاضری دیتا تو اس دن کی تمام خبریں وغیرہ لاتا۔ ( اور ان کو سناتا ) اور جب وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی اسی طرح کرتے۔ ہم قریش کے لوگ ( مکہ میں ) اپنی عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ لیکن جب ہم ( ہجرت کر کے ) انصار کے یہاں آئے تو انہیں دیکھا کہ ان کی عورتیں خود ان پر غالب تھیں۔ ہماری عورتوں نے بھی ان کا طریقہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک دن اپنی بیوی کو ڈانٹا تو انہوں نے بھی اس کا جواب دیا۔ ان کا یہ جواب مجھے ناگوار معلوم ہوا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اگر جواب دیتی ہوں تو تمہیں ناگواری کیوں ہوتی ہے۔ قسم اللہ کی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تک آپ کو جواب دے دیتی ہیں اور بعض بیویاں تو آپ سے پورے دن اور پوری رات خفا رہتی ہیں۔ اس بات سے میں بہت گھبرایا اور میں نے کہا کہ ان میں سے جس نے بھی ایسا کیا ہو گا وہ بہت بڑے نقصان اور خسارے میں ہے۔ اس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور حفصہ رضی اللہ عنہا ( عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین ) کے پاس پہنچا اور کہا اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے دن رات تک ناراض رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! میں بول اٹھا کہ پھر تو وہ تباہی اور نقصان میں رہیں۔ کیا تمہیں اس سے امن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی وجہ سے ( تم پر ) غصہ ہو جائے اور تم ہلاک ہو جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ چیزوں کا مطالبہ ہرگز نہ کیا کرو، نہ کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا جواب دو اور نہ آپ پر خفگی کا اظہار ہونے دو، البتہ جس چیز کی تمہیں ضرورت ہو، وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، کسی خود فریبی میں مبتلا نہ رہنا، تمہاری یہ پڑوسن تم سے زیادہ جمیل اور نظیف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پیاری بھی ہیں۔ آپ کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ان دنوں یہ چرچا ہو رہا تھا کہ غسان کے فوجی ہم سے لڑنے کے لیے گھوڑوں کو سم لگا رہے ہیں۔ میرے پڑوسی ایک دن اپنی باری پر مدینہ گئے ہوئے تھے۔ پھر عشاء کے وقت واپس لوٹے۔ آ کر میرا دروازہ انہوں نے بڑی زور سے کھٹکھٹایا، اور کہا کیا آپ سو گئے ہیں؟ میں بہت گھبرایا ہوا باہر آیا انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا حادثہ پیش آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کیا غسان کا لشکر آ گیا؟ انہوں نے کہا بلکہ اس سے بھی بڑا اور سنگین حادثہ، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، حفصہ تو تباہ و برباد ہو گئی۔ مجھے تو پہلے ہی کھٹکا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے ( عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ) پھر میں نے کپڑے پہنے۔ صبح کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ( نماز پڑھتے ہی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف لے گئے اور وہیں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے یہاں گیا، دیکھا تو وہ رو رہی تھیں، میں نے کہا، رو کیوں رہی ہو؟ کیا پہلے ہی میں نے تمہیں نہیں کہہ دیا تھا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں تشریف رکھتے ہیں۔ پھر میں باہر نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ وہاں کچھ لوگ موجود تھے اور بعض رو بھی رہے تھے۔ تھوڑی دیر تو میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ لیکن مجھ پر رنج کا غلبہ ہوا، اور میں بالاخانے کے پاس پہنچا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سیاہ غلام سے کہا، ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو ) کہ عمر اجازت چاہتا ہے۔ وہ غلام اندر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آیا اور کہا کہ میں نے آپ کی بات پہنچا دی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، چنانچہ میں واپس آ کر انہیں لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ پھر مجھ پر رنج غالب آیا اور میں دوبارہ آیا۔ لیکن اس دفعہ بھی وہی ہوا۔ پھر آ کر انہیں لوگوں میں بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے۔ لیکن اس مرتبہ پھر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں نے غلام سے آ کر کہا، کہ عمر کے لیے اجازت چاہو۔ لیکن بات جوں کی توں رہی۔ جب میں واپس ہو رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جس پر کوئی بستر بھی نہیں تھا۔ اس لیے چٹائی کے ابھرے ہوئے حصوں کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں پڑ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جس کے اندر کھجور کی چھال بھری گئی تھی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کی، کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ میری طرف کر کے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کی اور کہنے لگا…. اب بھی میں کھڑا ہی تھا…. یا رسول اللہ! آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے، لیکن جب ہم ایک ایسی قوم میں آ گئے جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل ذکر کی۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ پھر میں نے کہا میں حفصہ کے یہاں بھی گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ کہیں کسی خود فریبی میں نہ مبتلا رہنا۔ یہ تمہاری پڑوسن تم سے زیادہ خوبصورت اور پاک ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب بھی ہیں۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا، تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) بیٹھ گیا۔ اور آپ کے گھر میں چاروں طرف دیکھنے لگا۔ بخدا! سوائے تین کھالوں کے اور کوئی چیز وہاں نظر نہ آئی۔ میں نے کہا۔ یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ آپ کی امت کو کشادگی عطا فرما دے۔ فارس اور روم کے لوگ تو پوری فراخی کے ساتھ رہتے ہیں۔ دنیا انہیں خوب ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے خطاب کے بیٹے! کیا تمہیں ابھی کچھ شبہ ہے؟ ( تو دنیا کی دولت کو اچھی سمجھتا ہے ) یہ تو ایسے لوگ ہیں کہ ان کے اچھے اعمال ( جو وہ معاملات کی حد تک کرتے ہیں ان کی جزا ) اسی دنیا میں ان کو دے دی گئی ہے۔ ( یہ سن کر ) میں بول اٹھا۔ یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی ازواج سے ) اس بات پر علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حفصہ رضی اللہ عنہ نے پوشیدہ بات کہہ دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انتہائی خفگی کی وجہ سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تھی، فرمایا تھا کہ میں اب ان کے پاس ایک مہینے تک نہیں جاؤں گا۔ اور یہی موقعہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متنبہ کیا تھا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ نے تو عہد کیا تھا کہ ہمارے یہاں ایک مہینے تک نہیں تشریف لائیں گے۔ اور آج ابھی انتیسویں کی صبح ہے۔ میں تو دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ مہینہ انتیس دن کا ہے اور وہ مہینہ انتیس ہی دن کا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر وہ آیت نازل ہوئی جس میں ( ازواج النبی کو ) اختیار دیا گیا تھا۔ اس کی بھی ابتداء آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ ہی سے کی اور فرمایا کہ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، اور یہ ضروری نہیں کہ جواب فوراً دو، بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ کو یہ معلوم تھا کہ میرے ماں باپ کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو“ اللہ تعالیٰ کے قول عظیما تک۔ میں نے عرض کیا کیا اب اس معاملے میں بھی میں اپنے والدین سے مشورہ کرنے جاؤں گی! اس میں تو کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو پسند کرتی ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیویوں کو بھی اختیار دیا اور انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے پاس ایک مہینہ تک نہ جانے کی قسم کھائی تھی، اور ( ایلاء کے واقعہ سے پہلے 5 ھ میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک میں موچ آ گئی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں قیام پذیر ہوئے تھے۔ ( ایلاء کے موقع پر ) عمر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ ایک مہینے کے لیے ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک بیویوں کے پاس نہیں گئے ( اور انتیس تاریخ کو ہی چاند ہو گیا تھا ) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے سے اترے اور بیویوں کے پاس گئے۔
حدثنا ابن سلام، حدثنا الفزاري، عن حميد الطويل، عن انس رضى الله عنه قال الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من نسايه شهرا، وكانت انفكت قدمه فجلس في علية له، فجاء عمر، فقال اطلقت نساءك قال " لا، ولكني اليت منهن شهرا ". فمكث تسعا وعشرين، ثم نزل، فدخل على نسايه
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعقیل نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے بیان کیا کہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ اس لیے میں بھی مسجد کے اندر چلا گیا۔ البتہ اونٹ بلاط کے ایک کنارے پر باندھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا اونٹ حاضر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کے چاروں طرف ٹہلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ قیمت بھی لے اور اونٹ بھی لے جا۔
حدثنا مسلم، حدثنا ابو عقيل، حدثنا ابو المتوكل الناجي، قال اتيت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد، فدخلت اليه، وعقلت الجمل في ناحية البلاط فقلت هذا جملك. فخرج فجعل يطيف بالجمل قال " الثمن والجمل لك
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، یا یہ کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی کوڑی پر تشریف لائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، عن شعبة، عن منصور، عن ابي وايل، عن حذيفة رضى الله عنه قال لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم، او قال لقد اتى النبي صلى الله عليه وسلم سباطة قوم فبال قايما
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص راستے پر چل رہا تھا کہ اس نے وہاں کانٹے دار ڈالی دیکھی۔ اس نے اسے اٹھا لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی۔
حدثنا عبد الله، اخبرنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينما رجل يمشي بطريق، وجد غصن شوك فاخذه، فشكر الله له، فغفر له
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے زبیر بن خریت نے اور ان سے عکرمہ نے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا جب کہ راستے ( کی زمین ) کے بارے میں جھگڑا ہو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دینا چاہئے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، عن الزبير بن خريت، عن عكرمة، سمعت ابا هريرة رضى الله عنه قال قضى النبي صلى الله عليه وسلم اذا تشاجروا في الطريق بسبعة اذرع
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، جو عدی بن ثابت کے نانا تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا عدي بن ثابت، سمعت عبد الله بن يزيد الانصاري وهو جده ابو امه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن النهبى والمثلة
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زانی مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کر سکتا۔ شراب خوار مومن رہتے ہوئے شراب نہیں پی سکتا۔ چور مومن رہتے ہوئے چوری نہیں کر سکتا۔ اور کوئی شخص مومن رہتے ہوئے لوٹ اور غارت گری نہیں کر سکتا کہ لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھی ہوئی ہوں اور وہ لوٹ رہا ہو، سعید اور ابوسلمہ کی بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روایت ہے۔ البتہ ان کی روایت میں لوٹ کا تذکرہ نہیں ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، حدثنا عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مومن، ولا يسرق حين يسرق وهو مومن، ولا ينتهب نهبة يرفع الناس اليه فيها ابصارهم حين ينتهبها وهو مومن ". وعن سعيد وابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله الا النهبة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک ابن مریم کا نزول ایک عادل حکمران کی حیثیت سے تم میں نہ ہو جائے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سوروں کو قتل کر دیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گے۔ ( اس دور میں ) مال و دولت کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی قبول نہیں کرے گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، سمع ابا هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله احد
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر دیکھا کہ آگ جلائی جا رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ آگ کس لیے جلائی جا رہی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ گدھے ( کا گوشت پکانے ) کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ برتن ( جس میں گدھے کا گوشت ہو ) توڑ دو اور گوشت پھینک دو۔ اس پر صحابہ بولے ایسا کیوں نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور برتن دھو لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ برتن دھو لو۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں ابن ابی اویس «الحمر الأنسية» کو الف اور نون کو نصب کے ساتھ کہا کرتے تھے۔
حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نيرانا توقد يوم خيبر. قال " على ما توقد هذه النيران ". قالوا على الحمر الانسية. قال " اكسروها، واهرقوها ". قالوا الا نهريقها ونغسلها قال " اغسلوا ". قال ابو عبد الله كان ابن ابي اويس يقول الحمر الانسية بنصب الالف والنون
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، ان سے ابومعمر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ دن جب ) مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں پر مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ «جاء الحق وزهق الباطل» ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا“۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم مكة، وحول الكعبة ثلاثماية وستون نصبا فجعل يطعنها بعود في يده وجعل يقول {جاء الحق وزهق الباطل} الاية
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے اپنے حجرے کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب دیکھا تو ) اسے اتار کر پھاڑ ڈالا۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے اس پردے سے دو گدے بنا ڈالے۔ وہ دونوں گدے گھر میں رہتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بیٹھا کرتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه القاسم، عن عايشة رضى الله عنها انها كانت اتخذت على سهوة لها سترا فيه تماثيل، فهتكه النبي صلى الله عليه وسلم، فاتخذت منه نمرقتين، فكانتا في البيت يجلس عليهما
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال لم ازل حريصا على ان اسال عمر رضى الله عنه عن المراتين من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتين قال الله لهما {ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما} فحججت معه فعدل وعدلت معه بالاداوة، فتبرز حتى جاء، فسكبت على يديه من الاداوة، فتوضا فقلت يا امير المومنين من المراتان من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتان قال لهما {ان تتوبا الى الله} فقال واعجبي لك يا ابن عباس عايشة وحفصة، ثم استقبل عمر الحديث يسوقه، فقال اني كنت وجار لي من الانصار في بني امية بن زيد، وهى من عوالي المدينة، وكنا نتناوب النزول على النبي صلى الله عليه وسلم فينزل يوما وانزل يوما، فاذا نزلت جيته من خبر ذلك اليوم من الامر وغيره، واذا نزل فعل مثله، وكنا معشر قريش نغلب النساء، فلما قدمنا على الانصار اذا هم قوم تغلبهم نساوهم، فطفق نساونا ياخذن من ادب نساء الانصار، فصحت على امراتي، فراجعتني، فانكرت ان تراجعني، فقالت ولم تنكر ان اراجعك فوالله ان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه، وان احداهن لتهجره اليوم حتى الليل. فافزعني، فقلت خابت من فعل منهن بعظيم. ثم جمعت على ثيابي، فدخلت على حفصة فقلت اى حفصة، اتغاضب احداكن رسول الله صلى الله عليه وسلم اليوم حتى الليل فقالت نعم. فقلت خابت وخسرت، افتامن ان يغضب الله لغضب رسوله صلى الله عليه وسلم فتهلكين لا تستكثري على رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تراجعيه في شىء ولا تهجريه، واساليني ما بدا لك، ولا يغرنك ان كانت جارتك هي اوضا منك واحب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد عايشة وكنا تحدثنا ان غسان تنعل النعال لغزونا، فنزل صاحبي يوم نوبته فرجع عشاء، فضرب بابي ضربا شديدا، وقال انايم هو ففزعت فخرجت اليه. وقال حدث امر عظيم. قلت ما هو اجاءت غسان قال لا، بل اعظم منه واطول، طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه. قال قد خابت حفصة وخسرت، كنت اظن ان هذا يوشك ان يكون، فجمعت على ثيابي، فصليت صلاة الفجر مع النبي صلى الله عليه وسلم فدخل مشربة له فاعتزل فيها، فدخلت على حفصة، فاذا هي تبكي. قلت ما يبكيك اولم اكن حذرتك اطلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت لا ادري هو ذا في المشربة. فخرجت، فجيت المنبر، فاذا حوله رهط يبكي بعضهم، فجلست معهم قليلا ثم غلبني ما اجد، فجيت المشربة التي هو فيها فقلت لغلام له اسود استاذن لعمر. فدخل، فكلم النبي صلى الله عليه وسلم ثم خرج، فقال ذكرتك له، فصمت، فانصرفت حتى جلست مع الرهط الذين عند المنبر، ثم غلبني ما اجد فجيت، فذكر مثله، فجلست مع الرهط الذين عند المنبر، ثم غلبني ما اجد فجيت الغلام. فقلت استاذن لعمر. فذكر مثله، فلما وليت منصرفا، فاذا الغلام يدعوني قال اذن لك رسول الله صلى الله عليه وسلم. فدخلت عليه، فاذا هو مضطجع على رمال حصير ليس بينه وبينه فراش، قد اثر الرمال بجنبه، متكي على وسادة من ادم حشوها ليف، فسلمت عليه، ثم قلت وانا قايم طلقت نساءك فرفع بصره الى، فقال " لا ". ثم قلت وانا قايم استانس يا رسول الله، لو رايتني، وكنا معشر قريش نغلب النساء، فلما قدمنا على قوم تغلبهم نساوهم، فذكره، فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قلت لو رايتني، ودخلت على حفصة، فقلت لا يغرنك ان كانت جارتك هي اوضا منك واحب الى النبي صلى الله عليه وسلم يريد عايشة فتبسم اخرى، فجلست حين رايته تبسم، ثم رفعت بصري في بيته، فوالله ما رايت فيه شييا يرد البصر غير اهبة ثلاثة. فقلت ادع الله فليوسع على امتك، فان فارس والروم وسع عليهم واعطوا الدنيا، وهم لا يعبدون الله، وكان متكيا. فقال " اوفي شك انت يا ابن الخطاب اوليك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا ". فقلت يا رسول الله استغفر لي. فاعتزل النبي صلى الله عليه وسلم من اجل ذلك الحديث حين افشته حفصة الى عايشة، وكان قد قال " ما انا بداخل عليهن شهرا ". من شدة موجدته عليهن حين عاتبه الله. فلما مضت تسع وعشرون دخل على عايشة فبدا بها، فقالت له عايشة انك اقسمت ان لا تدخل علينا شهرا، وانا اصبحنا لتسع وعشرين ليلة، اعدها عدا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الشهر تسع وعشرون ". وكان ذلك الشهر تسع وعشرون. قالت عايشة فانزلت اية التخيير فبدا بي اول امراة، فقال " اني ذاكر لك امرا، ولا عليك ان لا تعجلي حتى تستامري ابويك ". قالت قد اعلم ان ابوى لم يكونا يامراني بفراقك. ثم قال " ان الله قال {يا ايها النبي قل لازواجك} الى قوله { عظيما} ". قلت افي هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله والدار الاخرة. ثم خير نساءه، فقلن مثل ما قالت عايشة