Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا، اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال ما صام النبي صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا قط غير رمضان، ويصوم حتى يقول القايل لا والله لا يفطر، ويفطر حتى يقول القايل لا والله لا يصوم
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں بے روزہ کے رہتے تو ہمیں خیال ہوتا کہ اس مہینہ میں آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اسی طرح کسی مہینہ میں نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم خیال کرتے کہ اب اس مہینہ کا ایک دن بھی بے روزے کے نہیں گزرے گا۔ جو جب بھی چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھ سکتا تھا اور جب بھی چاہتا سوتا ہوا بھی دیکھ سکتا تھا۔ سلیمان نے حمید طویل سے یوں بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روزہ کے متعلق پوچھا تھا۔
حدثني عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني محمد بن جعفر، عن حميد، انه سمع انسا رضى الله عنه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر من الشهر، حتى نظن ان لا يصوم منه، ويصوم حتى نظن ان لا يفطر منه شييا، وكان لا تشاء تراه من الليل مصليا الا رايته، ولا نايما الا رايته. وقال سليمان عن حميد انه سال انسا في الصوم
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوخالد احمر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے ( نماز پڑھتے ) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم و نازک ریشم کے کپڑوں کو بھی نہیں دیکھا۔ اور نہ مشک و عنبر کو آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔
حدثني محمد، اخبرنا ابو خالد الاحمر، اخبرنا حميد، قال سالت انسا رضى الله عنه عن صيام النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما كنت احب ان اراه من الشهر صايما الا رايته ولا مفطرا الا رايته، ولا من الليل قايما الا رايته، ولا نايما الا رايته، ولا مسست خزة ولا حريرة الين من كف رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا شممت مسكة ولا عبيرة اطيب رايحة من رايحة رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہارون بن اسماعیل نے خبر دی، کہا کہ ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، یعنی تمہارے ملاقاتیوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ اس پر میں نے پوچھا اور داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن بے روزہ رہنا صوم داؤدی ہے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا هارون بن اسماعيل، حدثنا علي، حدثنا يحيى، قال حدثني ابو سلمة، قال حدثني عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما قال دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث يعني " ان لزورك عليك حقا، وان لزوجك عليك حقا ". فقلت وما صوم داود قال " نصف الدهر
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی صحیح ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا، کہ ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ۔ نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ، میں نے پوچھا اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ رہا کرتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو کہا کرتے تھے کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لیتا۔
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا الاوزاعي، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال حدثني عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عبد الله الم اخبر انك تصوم النهار وتقوم الليل ". فقلت بلى يا رسول الله. قال " فلا تفعل، صم وافطر، وقم ونم، فان لجسدك عليك حقا، وان لعينك عليك حقا، وان لزوجك عليك حقا، وان لزورك عليك حقا، وان بحسبك ان تصوم كل شهر ثلاثة ايام، فان لك بكل حسنة عشر امثالها، فان ذلك صيام الدهر كله ". فشددت، فشدد على، قلت يا رسول الله، اني اجد قوة. قال " فصم صيام نبي الله داود عليه السلام ولا تزد عليه ". قلت وما كان صيام نبي الله داود عليه السلام قال " نصف الدهر ". فكان عبد الله يقول بعد ما كبر يا ليتني قبلت رخصة النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میری یہ بات پہنچا گئی کہ ”اللہ کی قسم! زندگی بھر میں دن میں تو روزے رکھوں گا۔ اور ساری رات عبادت کروں گا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ۔ عبادت بھی کر لیکن سوؤ بھی اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر۔ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے، اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، میں نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ کے رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا۔ اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان عبد الله بن عمرو، قال اخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اقول والله لاصومن النهار، ولاقومن الليل، ما عشت. فقلت له قد قلته بابي انت وامي. قال " فانك لا تستطيع ذلك، فصم وافطر، وقم ونم، وصم من الشهر ثلاثة ايام، فان الحسنة بعشر امثالها، وذلك مثل صيام الدهر ". قلت اني اطيق افضل من ذلك. قال " فصم يوما وافطر يومين ". قلت اني اطيق افضل من ذلك. قال " فصم يوما وافطر يوما، فذلك صيام داود عليه السلام وهو افضل الصيام ". فقلت اني اطيق افضل من ذلك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا افضل من ذلك
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوعاصم نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہوں نے عطاء سے سنا، انہیں ابوعباس شاعر نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں۔ اب یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور ( رات بھر ) نماز پڑھتا رہتا ہے؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ، عبادت بھی کر اور سوؤ بھی کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر۔ انہوں نے کہا اور وہ کس طرح؟ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیر جاؤں۔ عطاء نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ( اس حدیث میں ) صوم دہر کا کس طرح ذکر ہوا! ( البتہ انہیں اتنا دیا تھا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو صوم دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں، دو مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ) ۔
حدثنا عمرو بن علي، اخبرنا ابو عاصم، عن ابن جريج، سمعت عطاء، ان ابا العباس الشاعر، اخبره انه، سمع عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما بلغ النبي صلى الله عليه وسلم اني اسرد الصوم واصلي الليل، فاما ارسل الى، واما لقيته، فقال " الم اخبر انك تصوم ولا تفطر، وتصلي ولا تنام، فصم وافطر، وقم ونم، فان لعينك عليك حظا، وان لنفسك واهلك عليك حظا ". قال اني لاقوى لذلك. قال " فصم صيام داود عليه السلام ". قال وكيف قال " كان يصوم يوما ويفطر يوما، ولا يفر اذا لاقى ". قال من لي بهذه يا نبي الله قال عطاء لا ادري كيف ذكر صيام الابد، قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا صام من صام الابد ". مرتين
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مہینہ میں صرف تین دن کے روزے رکھا کر۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ اسی طرح وہ برابر کہتے رہے ( کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ) یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ مہینہ میں ایک قرآن مجید ختم کیا کر۔ انہوں نے اس پر بھی کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اور برابر یہی کہتے رہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن میں ( ایک قرآن ختم کیا کر ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن مغيرة، قال سمعت مجاهدا، عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صم من الشهر ثلاثة ايام ". قال اطيق اكثر من ذلك. فما زال حتى قال " صم يوما وافطر يوما " فقال " اقرا القران في شهر ". قال اني اطيق اكثر. فما زال حتى قال في ثلاث
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوعباس مکی سے سنا، وہ شاعر تھے لیکن روایت حدیث میں ان پر کسی قسم کا اتہام نہیں تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تو متواتر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تو یونہی کرتا رہا تو آنکھیں دھنس جائیں گی، اور تو بےحد کمزور ہو جائے گا یہ کوئی روزہ نہیں کہ کوئی زندگی بھر ( بلاناغہ ہر روز ) روزہ رکھے۔ تین دن کا ( ہر مہینہ میں ) روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے۔ میں نے اس پر کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھا کر۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تو پیٹھ نہیں دکھلایا کرتے تھے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا حبيب بن ابي ثابت، قال سمعت ابا العباس المكي وكان شاعرا وكان لا يتهم في حديثه قال سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " انك لتصوم الدهر، وتقوم الليل ". فقلت نعم. قال " انك اذا فعلت ذلك هجمت له العين ونفهت له النفس، لا صام من صام الدهر، صوم ثلاثة ايام صوم الدهر كله ". قلت فاني اطيق اكثر من ذلك. قال " فصم صوم داود عليه السلام كان يصوم يوما ويفطر يوما، ولا يفر اذا لاقى
ہم سے اسحٰق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے اور ان سے ابوقلابہ نے کہ مجھے ابوملیح نے خبر دی، کہا کہ میں آپ کے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے روزے کے متعلق خبر ہو گئی۔ ( کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور میں نے ایک گدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھا دیا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے۔ اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہارے لیے ہر مہینہ میں تین دن کے روزے کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا، اچھا پانچ دن کے روزے ( رکھ لے ) میں نے عرض کی، یا رسول اللہ کچھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو چھ دن، میں نے عرض کی یا رسول اللہ! ( کچھ اور بڑھائیے، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اچھا نو دن، میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! کچھ اور فرمایا، اچھا گیارہ دن۔ آخر آپ نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزے کے طریقے کے سوا اور کوئی طریقہ ( شریعت میں ) جائز نہیں۔ یعنی زندگی کے آدھے دنوں میں ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
حدثنا اسحاق الواسطي، حدثنا خالد، عن خالد، عن ابي قلابة، قال اخبرني ابو المليح، قال دخلت مع ابيك على عبد الله بن عمرو فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر له صومي فدخل على، فالقيت له وسادة من ادم، حشوها ليف، فجلس على الارض، وصارت الوسادة بيني وبينه. فقال " اما يكفيك من كل شهر ثلاثة ايام ". قال قلت يا رسول الله. قال " خمسا ". قلت يا رسول الله. قال " سبعا ". قلت يا رسول الله. قال " تسعا ". قلت يا رسول الله. قال " احدى عشرة ". ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا صوم فوق صوم داود عليه السلام شطر الدهر، صم يوما، وافطر يوما
ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ابو التياح، قال حدثني ابو عثمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث صيام ثلاثة ايام من كل شهر، وركعتى الضحى، وان اوتر قبل ان انام
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد نے (جو حارث کے بیٹے ہیں) بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے ( اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے ) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس ( رضی اللہ عنہ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر ( انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کے ساتھ۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثني خالد هو ابن الحارث حدثنا حميد، عن انس رضى الله عنه دخل النبي صلى الله عليه وسلم على ام سليم، فاتته بتمر وسمن، قال " اعيدوا سمنكم في سقايه، وتمركم في وعايه، فاني صايم ". ثم قام الى ناحية من البيت، فصلى غير المكتوبة، فدعا لام سليم، واهل بيتها، فقالت ام سليم يا رسول الله، ان لي خويصة، قال " ما هي ". قالت خادمك انس. فما ترك خير اخرة ولا دنيا الا دعا لي به قال " اللهم ارزقه مالا وولدا وبارك له ". فاني لمن اكثر الانصار مالا. وحدثتني ابنتي امينة انه دفن لصلبي مقدم حجاج البصرة بضع وعشرون وماية. حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا يحيى، قال حدثني حميد، سمع انسا رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے مطرف نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ( مطرف نے یہ کہا کہ ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا، ان سے مطرف نے، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رمضان کے آخر کے بجائے ) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا ( یہی صحیح ہے ) ۔
حدثنا الصلت بن محمد، حدثنا مهدي، عن غيلان،. وحدثنا ابو النعمان، حدثنا مهدي بن ميمون، حدثنا غيلان بن جرير، عن مطرف، عن عمران بن حصين رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. انه ساله او سال رجلا وعمران يسمع فقال " يا ابا فلان اما صمت سرر هذا الشهر ". قال اظنه قال يعني رمضان. قال الرجل لا يا رسول الله. قال " فاذا افطرت فصم يومين ". لم يقل الصلت اظنه يعني رمضان. قال ابو عبد الله وقال ثابث عن مطرف عن عمران عن النبي صلى الله عليه وسلم " من سرر شعبان
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عبدالحمید بن جبیر نے اور ان سے محمد بن عباد نے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ابوعاصم کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ خالی ( ایک جمعہ ہی کے دن ) روزہ رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن عبد الحميد بن جبير، عن محمد بن عباد، قال سالت جابرا رضى الله عنه نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الجمعة قال نعم. زاد غير ابي عاصم ان ينفرد بصوم
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص جمعہ کے دن اس وقت تک روزہ نہ رکھے جب تک اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک بعد روزہ نہ رکھتا ہو۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا ابو صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يصومن احدكم يوم الجمعة، الا يوما قبله او بعده
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوایوب نے اور ان سے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، ( اتفاق سے ) وہ روزہ سے تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، ح. وحدثني محمد، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي ايوب، عن جويرية بنت الحارث رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوم الجمعة وهى صايمة فقال " اصمت امس ". قالت لا. قال " تريدين ان تصومي غدا ". قالت لا. قال " فافطري ". وقال حماد بن الجعد سمع قتادة حدثني ابو ايوب ان جويرية حدثته فامرها فافطرت
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( روزہ وغیرہ عبادات کے لیے ) کچھ دن خاص طور پر مقرر کر رکھے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ بلکہ آپ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور دوسرا کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی طاقت رکھتا ہو؟
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، قلت لعايشة رضى الله عنها هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يختص من الايام شييا قالت لا، كان عمله ديمة، وايكم يطيق ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يطيق
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام فضل رضی اللہ عنہا کے مولی عمیر نے بیان کیا اور ان سے ام فضل رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن عبداللہ کے غلام ابونضر نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ ان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ روزہ سے نہیں ہیں۔ اس پر ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا ( تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے ) آپ اپنے اونٹ پر سوار تھے، آپ نے دودھ پی لیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن مالك، قال حدثني سالم، قال حدثني عمير، مولى ام الفضل ان ام، الفضل حدثته ح وحدثنا عبد الله بن يوسف اخبرنا مالك عن ابي النضر مولى عمر بن عبيد الله عن عمير مولى عبد الله بن العباس عن ام الفضل بنت الحارث ان ناسا تماروا عندها يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم فقال بعضهم هو صايم. وقال بعضهم ليس بصايم. فارسلت اليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره فشربه
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، (یا ان کے سامنے حدیث کی قرآت کی گئی) ۔ کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں کریب نے اور انہیں میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہ عرفہ کے دن کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا۔ اس لیے انہوں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا۔ آپ اس وقت عرفات میں وقوف فرما تھے۔ آپ نے دودھ پی لیا اور سب لوگ دیکھ رہے تھے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثنا ابن وهب او قري عليه قال اخبرني عمرو، عن بكير، عن كريب، عن ميمونة رضى الله عنها ان الناس، شكوا في صيام النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة، فارسلت اليه بحلاب وهو واقف في الموقف، فشرب منه، والناس ينظرون
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ازہر کے غلام ابوعبید نے بیان کیا کہ عید کے دن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عیدالفطر ) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ( یعنی عید الاضحی کا دن ) ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سفیان بن عیینہ نے کہا، جس نے ابوعبداللہ کو ابن ازہر کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا، اور جس نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا۔ ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ازہر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دونوں اس غلام میں شریک تھے ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي عبيد، مولى ابن ازهر قال شهدت العيد مع عمر بن الخطاب رضى الله عنه فقال هذان يومان نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيامهما يوم فطركم من صيامكم، واليوم الاخر تاكلون فيه من نسككم. قال ابو عبد الله قال ابن عيينة من قال مولى ابن ازهر فقد اصاب ومن قال مولى عبد الرحمن بن عوف فقد اصاب