Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الفطر والنحر، وعن الصماء، وان يحتبي الرجل في ثوب واحد. وعن صلاة، بعد الصبح والعصر
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الفطر والنحر، وعن الصماء، وان يحتبي الرجل في ثوب واحد. وعن صلاة، بعد الصبح والعصر
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے عطاء بن میناء سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے سے۔ اور ملامست اور منابذت کے ساتھ خرید و فروخت کرنے سے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، عن عطاء بن مينا، قال سمعته يحدث، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال ينهى عن صيامين، وبيعتين الفطر، والنحر،، والملامسة، والمنابذة،
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ عنبری نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کے نذر مانی۔ پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے ( اللہ کے حکم سے ) منع فرمایا ہے۔ ( گویا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں دیا ) ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ، اخبرنا ابن عون، عن زياد بن جبير، قال جاء رجل الى ابن عمر رضى الله عنهما فقال رجل نذر ان يصوم يوما، قال اظنه قال الاثنين، فوافق يوم عيد. فقال ابن عمر امر الله بوفاء النذر، ونهى النبي صلى الله عليه وسلم عن صوم هذا اليوم
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قزعہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہادوں میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت ہی پسند آئیں۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی عورت دو دن ( یا اس سے زیادہ ) کے اندازے کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی اور محرم نہ ہو۔ اور عیدالفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں اور چوتھی بات یہ کہ تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے «شد الرحال» سفر نہ کیا جائے، ”مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری یہ مسجد ( مسجد نبوی ) ۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، حدثنا عبد الملك بن عمير، قال سمعت قزعة، قال سمعت ابا سعيد الخدري رضى الله عنه وكان غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثنتى عشرة غزوة قال سمعت اربعا من النبي صلى الله عليه وسلم فاعجبنني قال " لا تسافر المراة مسيرة يومين الا ومعها زوجها او ذو محرم، ولا صوم في يومين الفطر والاضحى، ولا صلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس، ولا بعد العصر حتى تغرب، ولا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام، ومسجد الاقصى، ومسجدي هذا
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایام منی ( ایام تشریق ) کے روزے رکھتی تھیں اور ہشام کے باپ ( عروہ ) بھی ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔
وقال لي محمد بن المثنى حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي كانت، عايشة رضى الله عنها تصوم ايام منى، وكان ابوها يصومها
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، سمعت عبد الله بن عيسى، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة،. وعن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهم قالا لم يرخص في ايام التشريق ان يصمن، الا لمن لم يجد الهدى
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، سمعت عبد الله بن عيسى، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة،. وعن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهم قالا لم يرخص في ايام التشريق ان يصمن، الا لمن لم يجد الهدى
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو حاجی حج اور عمرہ کے درمیان تمتع کرے اسی کو یوم عرفہ تک روزہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن اگر قربانی کا مقدور نہ ہو اور نہ اس نے روزہ رکھا تو ایام منی ( ایام تشریق ) میں بھی روزہ رکھے۔ اور ابن شہاب نے عروہ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن سعد نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال الصيام لمن تمتع بالعمرة الى الحج، الى يوم عرفة، فان لم يجد هديا ولم يصم صام ايام منى. وعن ابن شهاب عن عروة عن عايشة مثله. تابعه ابراهيم بن سعد عن ابن شهاب
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاشورہ کے دن اگر کوئی چاہے تو روزہ رکھ لے۔
حدثنا ابو عاصم، عن عمر بن محمد، عن سالم، عن ابيه رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء " ان شاء صام
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( شروع اسلام میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو جس کا دل چاہتا اس دن روزہ رکھتا اور جو نہ چاہتا نہیں رکھا کرتا تھا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بصيام يوم عاشوراء، فلما فرض رمضان كان من شاء صام، ومن شاء افطر
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رکھتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کا لوگوں کو بھی حکم دیا۔ لیکن رمضان کی فرضیت کے بعد آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اب جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا چاہے نہ رکھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان يوم عاشوراء تصومه قريش في الجاهلية، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصومه، فلما قدم المدينة صامه، وامر بصيامه، فلما فرض رمضان ترك يوم عاشوراء، فمن شاء صامه، ومن شاء تركه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے عاشوراء کے دن منبر پر سنا، انہوں نے کہا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کدھر گئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ یہ عاشوراء کا دن ہے۔ اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے لیکن میں روزہ سے ہوں اور اب جس کا جی چاہے روزہ سے رہے ( اور میری سنت پر عمل کرے ) اور جس کا جی چاہے نہ رہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، انه سمع معاوية بن ابي سفيان رضى الله عنهما يوم عاشوراء عام حج على المنبر يقول يا اهل المدينة، اين علماوكم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " هذا يوم عاشوراء، ولم يكتب عليكم صيامه، وانا صايم، فمن شاء فليصم ومن شاء فليفطر
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے۔ ( دوسرے سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن ( فرعون ) سے نجات دلائی تھی۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر موسیٰ علیہ السلام کے ( شریک مسرت ہونے میں ) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، حدثنا عبد الله بن سعيد بن جبير، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة، فراى اليهود تصوم يوم عاشوراء، فقال " ما هذا ". قالوا هذا يوم صالح، هذا يوم نجى الله بني اسراييل من عدوهم، فصامه موسى. قال " فانا احق بموسى منكم ". فصامه وامر بصيامه
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمیس نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن کو یہودی عید کا دن سمجھتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی اس دن روزہ رکھا کرو۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ابو اسامة، عن ابي عميس، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي موسى رضى الله عنه قال كان يوم عاشوراء تعده اليهود عيدا، قال النبي صلى الله عليه وسلم " فصوموه انتم
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوا عاشوراء کے دن کے اور اس رمضان کے مہینے کے اور کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل جان کر خاص طور سے قصد کر کے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن ابن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى صيام يوم فضله على غيره، الا هذا اليوم يوم عاشوراء وهذا الشهر. يعني شهر رمضان
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسلم کے ایک شخص کو لوگوں میں اس بات کے اعلان کا حکم دیا تھا کہ جو کھا چکا ہو وہ دن کے باقی حصے میں بھی کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے نہ کھایا ہو اسے روزہ رکھ لینا چاہئے کیونکہ یہ عاشوراء کا دن ہے۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، حدثنا يزيد، عن سلمة بن الاكوع رضى الله عنه قال امر النبي صلى الله عليه وسلم رجلا من اسلم ان اذن في الناس " ان من كان اكل فليصم بقية يومه، ومن لم يكن اكل فليصم، فان اليوم يوم عاشوراء